Monday, 28 September 2026

! ملک آزاد ۔عوام محکوم


پاکستان کو آزاد ہوئے تقریباً اسی برس ہونے کو ہیں۔ انگریز چلا گیا، پرچم بدل گیا، حکمران بدل گئے۔ مگر ایک سوال آج بھی ہمارے سامنے ہے:
کیا ریاست اور شہری کے درمیان تعلق بھی بدلہ کہ نہیں ؟
پاکستان میں آج بھی کئی قوانین ایسے ہیں جن کی بنیاد برطانوی دور میں رکھی گئی تھی۔ ان میں Code of Criminal Procedure, 1898 بھی شامل ہے، جس کی دفعہ 144 بعض حالات میں انتظامیہ کو اجتماعات اور دیگر سرگرمیوں پر پابندی عائد کرنے کا اختیار دیتی ہے۔

صرف کسی قانون کا پرانا ہونا مسئلہ نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ  ایک آزاد اور جمہوری ریاست میں اس اختیار کو کون اور کس طرح استعمال کیا جاتا ہے .پاکستان کا آئین شہریوں کو پُرامن اور غیر مسلح اجتماع کا بنیادی حق دیتا ہے، اگرچہ عوامی نظم و ضبط کے مفاد میں معقول پابندیوں کی اجازت بھی دیتا ہے۔

لہٰذا ریاست کو امن و امان برقرار رکھنے کا اختیار بھی ہے اور شہری کو پُرامن احتجاج کا حق بھی۔ اصل امتحان ان دونوں کے درمیان توازن کا ہے۔

اگر کسی علاقے میں تشدد یا فساد کا حقیقی خطرہ ہو تو ریاست کا مداخلت کرنا ضروری ہو سکتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے:کہ خطرہ کتنا حقیقی ہے ؟ پابندی کتنی ضروری ہے اور کیا اس  سے کم بھی کوئی راستہ موجود ہے ؟

دفعہ 144 کسی افسر کی ذاتی مرضی کا لامحدود اختیار نہیں۔ اس کے استعمال کے لیے قانونی بنیاد موجود ہے اور ایسے احکامات عدالتی جانچ سے بالاتر نہیں۔  لیکن پاکستان میں وطیرہ یہ ہے کہ کسی ضلح کا ایک انتظامی آفسر عوامی احتجاج کو حکومت کے خلاف ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے انتظامی اختیار کیلئے بھی خطرہ سمجھنے لگتا ہے . اور شاہ سے زیادہ شاہ کا وفادار بنتے ہوۓ . عوام کے بنیادی آئینی حق کو سلب کر لیتا ہے .

پاکستان میں جب عوام کے سیاسی اجتماعات اور احتجاج کو ایک انتظامی ہنگامی اختیار کو استعمال کرتے ہوۓ روکا جاتا ہے تو پھریہ سوال  ضرور پیدا ہوتا ہےکہ کیا پاکستان میں اشرافیہ نے نہ صرف نوآبادیاتی قوانین ،بلکہ ریاست اور شہری کے درمیان تعلق کی نو آبادیاتی سوچ بھی برقرار رکھی ہوئی ہے      ۔برطانوی راج میں ریاست کا بنیادی مسئلہ عوام کی آزادی نہیں بلکہ ریاستی نظم اور اقتدار کا تحفظ تھا۔حکمران اوپر تھا، عوام نیچے۔حکومت حکم دیتی تھی اور   ڈنڈے کے زور پر عوام سے  اس پر عمل  کروایا جاتا تھا  ۔آج پاکستان کا آئین ایک بالکل مختلف تصور پیش کرتا ہے۔

آج شہری رعایا نہیں۔ وہ آئینی حقوق رکھنے والا ایک آزاد ملک کا شہری ہے ۔

جمہوریت میں پُرامن احتجاج ریاست کے خلاف جنگ نہیں؛ یہ شہری کے اختلاف کے اظہار کا حق ہے۔

ہم یہ  مطالبہ نہیں کر رہے کہ دفعہ 144  کو ختم کیا جاۓ .بلکہ  اس کے استعمال کے واضح اصول ہوں، پابندی حقیقی خطرے کی بنیاد پر ہو، مدت محدود ہو، وجوہات واضح ہوں اور شہری کو فوری عدالتی تحفظ حاصل ہو۔

کیونکہ ایک مضبوط جمہوری ریاست کی طاقت صرف اس میں نہیں کہ وہ کتنے لوگوں کو روک سکتی ہے۔ اسکی اصل طاقت اس میں ہے کہ وہ کتنے اختلاف کو برداشت کر سکتی ہے۔  ریاست اور عوام دونوں کےدرمیان  تعلق ایسا ہو کہ  ریاست عوام سے خوفزدہ نہ ہو، اور عوام کو ریاست سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہ ہو۔ جبکہ یہاں معاملہ یہ ہے کہ ملک تو  1947,میں آزاد ہو گیا تھا ۔ لیکن آج بھی سوال یہ ہے کہ : کیا ہم اس ملک کے شہری بھی آزاد ہوۓ ؟

Saturday, 13 June 2026

بندوق مسائل کا حل نہیں



پاکستان میں ہمیشہ سے حکومتوں کا وطیرہ یہ رہا ہے کہ عوام کے احتجاج کو کبھی اہمیت نہیں دینی .جب بھی عوام اپنی مشکلات کے حل کیلئے سڑکوں پر آتے ہیں .انکی بات سننے کی بجاۓ انھیں ملک دشمن ، بھارت کا  ایجنٹ ،دہشت گرد قرار دے کر سختی سے نپٹا جاتا ہے . پچھلے چار سالوں میں اس حکومت اور فوجی اسٹیبلشمنٹ نے ظلم کی ہر حد پار کر دی ہے . جس طرح سیاسی کارکنوں کا قتل عام کیا گیا . انکے گھروں کا تقدس پا مال کیا گیا . عورتوں ،بچوں کو جس طرح ہراساں کیا گیا .پاکستان کی تاریخ میں ایسا ظلم پہلے کبھی نہیں ہوا .کیا وجہ ہے کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ اس درجہ ظلم پر اتری ہوئی ہے .عوام کو دبانے سے کیا ملک ترقی کر جاۓ گا . عوام کی آواز دبانے سے کیا ملک میں امن ہو جاۓ گا ؟خبیر پختون خوا ، بلوچستان اور اب کشمیر میں طاقت کے بے جا استعمال سے ملک کے سارے مسائل حل ہو جائیں گے ؟کیا فوجی اسٹیبلشمنٹ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتی، یا طاقت کے استعمال کے علاوہ انھیں کچھ اور آتا ہی نہیں ؟
پاکستان کی تاریخ کا شاید سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ یہاں مسائل کو سمجھنے کے بجائے انہیں دبانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ حکمران بدلتے رہے، حکومتیں آتی جاتی رہیں، لیکن ریاست کا رویہ کم و بیش ایک جیسا ہی رہا۔ جب عوام اپنے مسائل کے حل کے لیے آواز بلند کرتے ہیں، جب نوجوان اپنے مستقبل کے بارے میں سوال کرتے ہیں، جب سیاسی کارکن اپنے حقوق کا مطالبہ کرتے ہیں، تو ان کی بات سننے کے بجائے انہیں مشکوک نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے۔ کبھی انہیں ملک دشمن کہا جاتا ہے، کبھی غیر ملکی ایجنٹ اور کبھی امن و امان کے لیے خطرہ قرار دے دیا جاتا ہے۔
تاریخ کا ایک سبق یہ بھی ہے کہ بندوق لوگوں کو خاموش تو کر سکتی ہے، مطمئن نہیں کر سکتی۔ طاقت خوف پیدا کر سکتی ہے، وفاداری نہیں۔ اگر مسائل کا حل صرف طاقت کے استعمال میں ہوتا تو دنیا کی کوئی ریاست کبھی بحران کا شکار نہ ہوتی۔ لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ جن معاشروں نے اپنے شہریوں کی آواز کو دبایا، وہاں بے چینی مزید بڑھی۔ اور جنہوں نے مکالمے، انصاف اور سیاسی شمولیت کا راستہ اختیار کیا، وہ زیادہ مستحکم اور ترقی یافتہ بنے۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں اب بھی یہ تصور غالب دکھائی دیتا ہے کہ عوام کو دبانے سے استحکام آ جائے گا اور اختلاف کو ختم کرنے سے امن قائم ہو جائے گا۔ لیکن استحکام اور امن قبرستان کی خاموشی کا نام نہیں۔ حقیقی امن وہ ہوتا ہے جہاں شہری خود کو محفوظ، باعزت اور بااختیار محسوس کریں۔ جہاں اختلافِ رائے کو برداشت کیا جائے اور جہاں ریاست اپنے عوام کی آواز سننے کا حوصلہ رکھتی ہو۔

پاکستان آج جن مشکلات کا شکار ہے، ان کا حل مزید گرفتاریوں، مزید پابندیوں اور مزید طاقت کے استعمال میں نہیں۔ ان کا حل سیاسی بصیرت، جمہوری رویوں اور انصاف پر مبنی نظام میں ہے۔ ریاستوں کی طاقت ان کے ہتھیاروں سے نہیں بلکہ ان کے شہریوں کے اعتماد سے ناپی جاتی ہے۔ اور اعتماد وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں خوف نہیں، انصاف حکمرانی کرتا ہو۔

شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم خود سے ایک بنیادی سوال پوچھیں: کیا ہم مسائل کا حل تلاش کرنا چاہتے ہیں یا صرف عوام   کی آواز کو دبانا چاہتے ہیں؟ کیونکہ تاریخ بتاتی ہے کہ دبائی ہوئی آوازیں خاموش نہیں ہوتیں، وہ  زیادہ گہری اور زیادہ طاقتور ہو  کر ابھرتی  ہیں۔

قومیں خوف سے نہیں، اعتماد سے بنتی ہیں



پاکستان اس وقت ایک گہرے سیاسی، معاشی اور سماجی بحران سے گزر رہا ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری، گرتی ہوئی معیشت، کمزور ہوتے ادارے اور عوامی بے چینی ملک کے ہر حصے میں محسوس کی جا سکتی ہے۔ ایسے حالات میں ریاست اور حکومت کی اولین ذمہ داری یہ ہونی چاہیے کہ وہ عوام کی آواز سنے، ان کے مسائل کو سمجھے اور ان کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کرے۔ لیکن افسوس کہ پاکستان میں ہمیشہ سے ایک مختلف روایت رہی ہے۔ جب بھی عوام اپنے حقوق کے لیے سڑکوں پر نکلتے ہیں، ان کے مطالبات پر غور کرنے کے بجائے اکثر انہیں ریاست مخالف، غیر ملکی ایجنٹ یا امن و امان کے لیے خطرہ قرار دے کر دبانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

گزشتہ چند برسوں کے دوران یہ رویہ پہلے سے کہیں زیادہ نمایاں ہوا ہے۔ سیاسی کارکنوں کی گرفتاریاں، سیاسی سرگرمیوں پر پابندیاں، گھروں پر چھاپے، خاندانوں کو ہراساں کرنا اور اختلافی آوازوں کو خاموش کرنے کی کوششیں ایک معمول بنتی چلی گئی ہیں۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں شاید ہی کبھی ریاستی طاقت کا استعمال اس شدت کے ساتھ دیکھنے میں آیا ہو جس کا مشاہدہ حالیہ برسوں میں کیا گیا ہے۔

سوال یہ ہے کہ آخر فوجی اسٹیبلشمنٹ اور ریاستی ادارے اس حد تک سخت رویہ کیوں اختیار کرتے ہیں؟ اس کی ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ وہ سیاسی مسائل کو سیاسی نقطۂ نظر سے دیکھنے کے بجائے سکیورٹی کے مسئلے کے طور پر دیکھتے ہیں۔ جب اختلافِ رائے کو جمہوری حق کے بجائے ریاست کے لیے خطرہ سمجھا جائے تو پھر مکالمے اور مفاہمت کی جگہ طاقت اور جبر لے لیتے ہیں۔ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ طاقت وقتی طور پر خاموشی تو پیدا کر سکتی ہے، دلوں اور ذہنوں کو فتح نہیں کر سکتی۔

دنیا کے بے شمار ممالک کے تجربات یہ ثابت کرتے ہیں کہ ترقی صرف سڑکیں بنانے، عمارتیں کھڑی کرنے یا معاشی اعداد و شمار بہتر کرنے کا نام نہیں۔ حقیقی ترقی اس وقت ممکن ہوتی ہے جب عوام کو انصاف ملے، ان کی رائے کا احترام کیا جائے، قانون سب کے لیے برابر ہو اور ریاست اپنے شہریوں کے اعتماد پر کھڑی ہو۔ جس معاشرے میں خوف حکمرانی کرے، وہاں استحکام عارضی اور کمزور ہوتا ہے۔

یہی حقیقت پاکستان کے مختلف خطوں پر بھی لاگو ہوتی ہے۔ خیبر پختونخوا، بلوچستان اور کشمیر جیسے حساس علاقوں میں اگر عوام کے سیاسی، معاشی اور سماجی تحفظات کو نظر انداز کر کے صرف طاقت کے ذریعے مسائل حل کرنے کی کوشش کی جائے تو اس سے وقتی کنٹرول تو حاصل کیا جا سکتا ہے، لیکن پائیدار امن قائم نہیں کیا جا سکتا۔ امن صرف بندوق کی طاقت سے نہیں بلکہ انصاف، شمولیت اور عوامی اعتماد سے قائم ہوتا ہے۔

تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ریاستیں اس وقت مضبوط بنتی ہیں جب وہ اپنے شہریوں کی آواز سننے کا حوصلہ رکھتی ہیں۔ اختلافِ رائے کو دشمنی سمجھنے کے بجائے اسے اصلاح اور بہتری کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ جو ریاستیں اپنے عوام سے خوفزدہ ہو جاتی ہیں، وہ طاقت کے استعمال میں اضافہ تو کر سکتی ہیں، لیکن اس کے نتیجے میں عوام اور ریاست کے درمیان فاصلہ بڑھتا جاتا ہے۔

پاکستان کو آج جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ مزید جبر نہیں بلکہ زیادہ مکالمہ ہے؛ مزید طاقت کا استعمال نہیں بلکہ زیادہ سیاسی بصیرت ہے؛ مزید خاموشی نہیں بلکہ عوام کی آواز سننے کا حوصلہ ہے۔ کیونکہ قومیں طاقت سے نہیں، اعتماد سے متحد رہتی ہیں۔ اور اعتماد وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں انصاف، قانون کی حکمرانی اور عوام کے بنیادی حقوق کا احترام موجود ہو۔

Saturday, 6 June 2026

!وہ سبق جو ہم نے نہیں سیکھا



پاکستان کی تاریخ کا شاید سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ یہاں مسائل سے زیادہ غلط حل پیدا کیے گئے ہیں۔ ہر دور میں قوم کو یہ یقین دلایا گیا کہ بس ایک طاقتور ہاتھ آ جائے، ایک مضبوط ادارہ آگے بڑھ کر معاملات سنبھال لے، تو تمام بحران ختم ہو جائیں گے۔ لیکن سات دہائیوں سے زیادہ کا تجربہ بتاتا ہے کہ مسائل حل ہونے کے بجائے مزید پیچیدہ ہوتے گئے ہیں۔
آج پاکستان جن سیاسی، معاشی اور سماجی بحرانوں میں گھرا ہوا ہے، ان کی ذمہ داری کسی ایک فرد یا ایک ادارے پر نہیں ڈالی جا سکتی۔ تاہم یہ حقیقت نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ فوج، سول بیوروکریسی، جاگیردار اشرافیہ ،سرمایہ دار طبقے  اور مذہبی گروہوں کے درمیان قائم طاقت کا غیر اعلانیہ اتحاد اس نظام کا سب سے طاقتور ستون رہا ہے۔ یہی وہ طبقہ ہے جس نے ریاستی وسائل، پالیسی سازی اور اقتدار کے مراکز پر اپنی گرفت برقرار رکھی، جبکہ عام شہری مسلسل دیوار کے ساتھ  لگایا جاتا رہا۔
مشرقی پاکستان کی علیحدگی بھی اسی طرزِ فکر کا نتیجہ تھی۔ وہاں کے عوام کے سیاسی اور جمہوری مطالبات کو سمجھنے اور ان کا سیاسی حل تلاش کرنے کے بجائے طاقت کے استعمال کو ترجیح دی گئی۔ نوآبادیاتی ذہنیت اور مرکزیت پسند سوچ نے حالات کو اس نہج تک پہنچایا جہاں ملک دو حصوں میں تقسیم ہو گیا۔ تاریخ نے ثابت کیا کہ سیاسی مسائل کا عسکری حل تلاش کرنے کی کوشش بعض اوقات ریاستوں کے لیے ناقابلِ تلافی نقصان کا سبب بنتی ہے۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ بھی اس حقیقت کی گواہ ہے کہ فوج کی بار بار مداخلت نے جمہوری اداروں اور سیاسی جماعتوں کو مضبوط ہونے کا موقع نہیں دیا۔ جب بھی سیاسی عمل اپنی فطری سمت میں آگے بڑھنے لگا، اسے مختلف طریقوں سے روک دیا گیا۔ نتیجتاً سیاسی نظام کمزور اور غیر مستحکم رہا جبکہ غیر منتخب قوتیں زیادہ طاقتور ہوتی گئیں۔
پاکستان میں طاقت کے مراکز آج بھی اکثر سیاسی مسائل کو سیاسی نہیں بلکہ سکیورٹی کے زاویے سے دیکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خیبر پختونخوا کے قبائلی علاقوں سے لے کر بلوچستان تک، کئی پیچیدہ مسائل کا سامنا کرنے کے باوجود ریاست کی اولین ترجیح اکثر طاقت کا استعمال ہی دکھائی دیتی ہے۔ حالانکہ تاریخ گواہ ہے کہ بندوق خوف پیدا کر سکتی ہے،  وقتی اطاعت حاصل کر سکتی ہے، لیکن پائیدار سیاسی اتفاقِ رائے پیدا نہیں کر سکتی۔
آج آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی جو سیاسی فضا تشکیل دی جا رہی ہے اور جس انداز سے عوامی رائے اور اختلافی آوازوں کو محدود کرنے کی کوششیں نظر آتی ہیں، وہ تشویش کا باعث ہیں۔ تاریخ بار بار یہ سبق دیتی ہے کہ عوامی خواہشات اور سیاسی حقائق کو محض انتظامی یا عسکری اقدامات کے ذریعے ہمیشہ کے لیے دبایا نہیں جا سکتا۔ ریاستیں صرف جغرافیہ سے نہیں بلکہ لوگوں کی رضامندی اور اعتماد سے قائم رہتی ہیں۔ جب یہ اعتماد کمزور ہونے لگے تو طاقت کے تمام مظاہر بھی غیر مؤثر ہو جاتے ہیں۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ فوج بحیثیت ادارہ قومی دفاع کے لیے تربیت یافتہ ہوتی ہے۔ اس کی مہارت سرحدوں کے تحفظ اور عسکری امور میں ہوتی ہے، نہ کہ سیاست، معیشت، سماجی نظم و نسق یا ریاستی حکمرانی کے پیچیدہ معاملات میں۔ لیکن جب یہ تصور پیدا ہو جائے کہ ہر سیاسی، مذہبی، معاشی، انتظامی، علاقائی یا بین الاقوامی مسئلے کا حل فوج ہی فراہم کرے گی، تو ادارہ اپنی فطری حدود سے تجاوز کرنے لگتا ہے۔ یہی سوچ ماضی میں بھی پاکستان کو نقصان پہنچا چکی ہے، آج بھی نقصانات کا سبب بن رہی ہے، اور اگر اس میں تبدیلی نہ آئی تو مستقبل میں بھی نتائج مختلف نہیں ہوں گے۔
پاکستان کا تجربہ یہی بتاتا ہے کہ جب بھی کسی ایک ادارے نے اپنی آئینی حدود سے آگے بڑھ کر پورے نظام کو اپنے زیرِ اثر لانے کی کوشش کی، اس کا نقصان ریاست اور عوام دونوں کو اٹھانا پڑا۔ سیاسی جماعتیں کمزور ہوئیں، جمہوری روایات پنپ نہ سکیں، ادارے اپنی اصل ذمہ داریوں سے دور ہوتے گئے اور ملک  ایک بحران سے  دوسرے بحران کی طرف بڑھتا چلا گیا۔
شاید اب وقت آ گیا ہے کہ ہم ایک سادہ مگر بنیادی حقیقت کو تسلیم کریں۔ سیاسی مسائل کا حل سیاست میں، معاشی مسائل کا حل معیشت میں اور انتظامی مسائل کا حل مؤثر حکمرانی میں تلاش کرنا ہوگا۔ کوئی بھی ادارہ، خواہ وہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، تنہا پورے معاشرے کی پیچیدگیوں کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا۔
آخرکار ایک پرانی کہاوت اپنی پوری معنویت کے ساتھ ہمارے سامنے آتی ہے:
"جس کا کام، اسی کو ساجھے۔"
ریاستیں اسی وقت مضبوط ہوتی ہیں جب ان کے ادارے اپنے اپنے دائرۂ اختیار میں رہ کر کام کریں، نہ کہ ایک ادارہ تمام اختیارات اور ذمہ داریوں کو اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کرے۔اور اختلاف راۓ کو ملک دشمنی قرار دے ۔

Friday, 29 May 2026

پاکستان: کیا تبدیلی ممکن ہے؟


پاکستان جس نازک صورت حال سے اس وقت گزر رہا ہے .اس میں قصور وار ، فوجی اسٹیبلشمنٹ ، سول بیورو کریسی ، خاندانی سیاسی جماعتیں ، مذہبی جماعتیں اور وہ  طاقتور گروہ ہیں . جن کے معاشی مفادات غیر جمہوری نظام سے وابستہ ہیں . یہ سب مل کر عوام کو مذہبی ، لسانی اور صوبائی بنیادوں پر تقسیم رکھتے ہیں . تاکہ عوام اکھٹے نہ ہو سکیں . اور انکی اس نظام پر گرفت مضبوط رہے .سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان اسی طرح چلتا رہے گا .یا اس میں کسی تبدیلی کا امکان ہے اور پاکستان کے عوام اس غیر نمائندہ ،ظالم نظام سے چھٹکارا پانے کیلئے کیا کر سکتے ہیں ؟
عوام کے ذہنوں میں بے شمار سوالات جنم لے رہے ہیں۔ مہنگائی، بے روزگاری، سیاسی عدم استحکام، اداروں کے درمیان کشمکش، اظہارِ رائے پر قدغنیں، اور عوامی بے بسی نے ایک ایسی فضا پیدا کر دی ہے جہاں عام آدمی یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ آخر اس صورتِ حال کا ذمہ دار کون ہے؟ اور کیا اس ملک میں کبھی حقیقی تبدیلی آ سکے گی؟
 پاکستان کے موجودہ بحران  کے ذمہ دار، فوجی اسٹیبلشمنٹ، سول بیوروکریسی، خاندانی سیاسی جماعتیں، بعض مذہبی جماعتیں، اور وہ طاقتور معاشی طبقات شامل ہیں جن کے مفادات ایک کمزور اور غیر نمائندہ نظام سے وابستہ رہے ہیں۔ یہ طبقات مختلف ادوار میں ایک دوسرے کے مخالف بھی دکھائی دیے، مگر نظامِ اقتدار کے تحفظ کے معاملے میں اکثر ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے نظر آئے۔
پاکستان کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو محسوس ہوتا ہے کہ عوام کو مذہبی، لسانی، فرقہ وارانہ اور صوبائی بنیادوں پر تقسیم رکھنا اس سیاسی کلچر کا اہم حصہ رہا ہے۔ جب عوام چھوٹے چھوٹے دائروں میں بٹ جائیں تو وہ ایک مشترکہ قومی اور شہری شعور پیدا نہیں کر پاتے۔ نتیجتاً طاقت کا توازن ہمیشہ انہی طبقات کے ہاتھ میں رہتا ہے جو ریاستی اور معاشی وسائل پر پہلے سے قابض ہوتے ہیں۔

لیکن یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے:
کیا پاکستان ہمیشہ اسی طرح چلتا رہے گا؟

تاریخ کا مطالعہ ہمیں یہ بتاتا ہے کہ دنیا میں کوئی بھی سیاسی یا سماجی نظام ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتا۔ طاقت کے بڑے بڑے ڈھانچے وقت کے ساتھ تبدیل ہوئے ہیں۔ آمریتیں ختم ہوئی ہیں، نوآبادیاتی نظام ٹوٹے ہیں، اور عوامی شعور نے کئی معاشروں کی سمت بدل دی ہے۔ اس لیے یہ کہنا درست نہیں کہ پاکستان میں تبدیلی ناممکن ہے۔ 

حقیقی تبدیلی اس وقت جنم لیتی ہے جب معاشرے میں سیاسی شعور بیدار ہونا شروع ہوتا ہے۔ جب لوگ شخصیات کے بجائے اصولوں کی بنیاد پر سوچتے ہیں۔ جب عوام یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ جمہوریت صرف ووٹ ڈالنے کا نام نہیں بلکہ آزاد عدلیہ، آزاد میڈیا، آئین کی بالادستی، شفاف احتساب، اور مضبوط عوامی اداروں کا مجموعہ ہے۔

پاکستان میں ایک بڑی کمزوری یہ بھی رہی ہے کہ عوام کی بڑی تعداد اپنی شناخت کو قومیت، فرقے، زبان یا سیاسی وابستگی تک محدود رکھتی  رہی ہے۔ یہی تقسیم طاقتور طبقات کیلئے فائدہ مند ثابت ہوتی ہے۔ اگر عوام ایک مشترکہ شہری شعور کے تحت متحد ہوں — جہاں انصاف، قانون کی برتری، انسانی حقوق اور معاشی مساوات بنیادی مطالبات بن جائیں — تو طاقت کے موجودہ توازن میں تبدیلی آ سکتی ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ یہ حقیقت بھی اہم ہے کہ پائیدار تبدیلی ہمیشہ پرامن اور آئینی جدوجہد سے آتی ہے۔ دنیا کی تاریخ میں وہی تحریکیں دیرپا ثابت ہوئیں جنہوں نے شعور، تنظیم، مکالمے، اور مسلسل سیاسی جدوجہد کا راستہ اپنایا۔ تشدد، انتشار اور نفرت وقتی غصے کا اظہار تو بن سکتے ہیں، مگر وہ مضبوط اور منصفانہ نظام کی بنیاد نہیں بناتے۔

پاکستان کے عوام اگر اس غیر نمائندہ اور ظالمانہ نظام سے نجات چاہتے ہیں تو انہیں صرف حکمران چہروں کی تبدیلی پر اکتفا نہیں کرنا ہوگا، بلکہ سوچ، سیاسی کلچر اور ادارہ جاتی ڈھانچے کی تبدیلی کیلئے بھی جدوجہد کرنا ہوگی۔ تعلیم، سیاسی آگاہی، شہری حقوق کا شعور، اور اجتماعی اتحاد ہی وہ راستے ہیں جو کسی بھی معاشرے کو مضبوط بناتے ہیں۔

مایوسی کے باوجود امید کی گنجائش ہمیشہ باقی رہتی ہے۔ قومیں صرف طاقتور طبقات کے فیصلوں سے نہیں بلکہ عوامی شعور سے بھی اپنا مستقبل بدلتی ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ تبدیلی ممکن ہے یا نہیں؛ اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستانی عوام ایک ایسی اجتماعی بیداری پیدا کر سکتے ہیں جو ذاتی، جماعتی اور فرقہ وارانہ مفادات سے بالاتر ہو؟

Thursday, 28 May 2026

طاقت کے کھیل میں ہارتا ہوا پاکستان


پاکستان کسی بیرونی جنگ میں شکست نہیں کھا رہا —مگر اندرونی طاقت کی کشمکش  اسے آہستہ آہستہ کمزور کررہی ہے۔

یہاں ہر طاقتور فریق خود کو ریاست کا محافظ کہتا ہے، مگر ریاست کو مضبوط کرنے کے بجائے اپنی اپنی طاقت کے دائرے محفوظ بنانے میں مصروف ہے۔
سیاست دان اقتدار بچا رہے ہیں۔
ادارے اپنی بالادستی برقرار رکھنے کی جنگ لڑ رہے ہیں۔
اشرافیہ اپنے مفادات کے گرد حفاظتی دیواریں کھڑی کر چکی ہے۔
اور عام آدمی؟
وہ صرف مہنگائی، بے یقینی اور ٹوٹتی ہوئی امید کے درمیان زندہ رہنے کی کوشش کر رہا ہے۔

یہی وہ مرحلہ ہوتا ہے جہاں قومیں اچانک نہیں گرتیں — بلکہ اندر سے کھوکھلی ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔

پاکستان کا اصل بحران صرف معیشت نہیں۔اصل بحران یہ ہے کہ یہاں طاقت تو بہت ہے، مگر ذمہ داری کم ہوتی جا رہی ہے۔

جب عوامی مینڈیٹ کمزور کر دیا جائے…
جب فیصلے پارلیمنٹ کے بجائے بند کمروں میں ہوں…
جب قانون طاقتور کے سامنے جھک جائے…
جب احتساب انصاف کے بجائے سیاسی ہتھیار بن جائے…
جب میڈیا معلومات کے بجائے بیانیوں کی جنگ لڑنے لگے…
اور جب ہر اختلاف کو خطرہ سمجھا جانے لگے…
تو پھر ریاست صرف طاقتور دکھائی دیتی ہے، مضبوط نہیں۔

کیونکہ مضبوط ریاستیں خوف سے نہیں، اعتماد سے چلتی ہیں۔

آج پاکستان میں سب سے خوفناک چیز غربت نہیں۔
بلکہ وہ خاموش مایوسی ہے جو پورے معاشرے میں پھیل رہی ہے۔

وہ نوجوان جو ڈگری لینے کے بعد ملک چھوڑنے کو کامیابی سمجھتا ہے۔
وہ تاجر جو سرمایہ پاکستان سے باہر منتقل کرنا چاہتا ہے۔
وہ مزدور جو دن رات کام کے باوجود اپنے بچوں کا مستقبل محفوظ نہیں بنا پا رہا۔
وہ شہری جو  یہ یقین کھو چکا ہے کہ انصاف، قانون اور ووٹ واقعی کوئی معنی رکھتے ہیں۔

یہ صرف معاشی بحران نہیں۔یہ ریاست اور عوام کے درمیان ٹوٹتے ہوئے اعتماد کی کہانی ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ ریاستیں ہمیشہ بیرونی دشمنوں سے تباہ نہیں ہوتیں۔
کئی بار وہ اندرونی طاقت کی لڑائیوں، اداروں کی ضد، سیاسی انتقام، اور اشرافیہ کی خود غرضی سے آہستہ آہستہ بکھر جاتی ہیں۔

ہر طاقتور فریق شاید یہ سمجھ رہا ہے کہ وہ کھیل جیت رہا ہے۔
مگر جب:

  • عوام مایوس ہو جائیں،
  • نوجوان ملک چھوڑنے لگیں،
  • اداروں پر اعتماد ختم ہو جائے،
  • معیشت صرف اشرافیہ کے لیے کام کرے،
  • اور قانون انصاف کے بجائے طاقت کا آلہ  کار بن جائے…

تو ریاست ہار جاتی ہے : اس صورت حال میں  پاکستان شکست و ریخت کا شکار ہو رہا ہے ۔

اور شاید یہی ہمارے وقت کا سب سے بڑا المیہ ہے:طاقت کے اس کھیل میں ہر کھلاڑی اپنی چال چل رہا ہے —مگر شکست پورے ملک کے حصے میں آ رہی ہے۔

تاریخ  کا المیہ یہ ہے کہ تاریخ سے کوئی بھی سبق سیکھنے کیلئے تیار نہیں . خاص طور پر پاکستان کے مقتدر حلقے !

Monday, 25 May 2026

!زوالِ ظرفِ اقتدار

سلطان صلاح الدین ایوبی سے منصوب ایک  قول  ہے کہ —

“بادشاہوں کا  یہ دستور نہیں کہ وہ بادشاہوں کو قتل کریں” —

 یہ صرف ایک جملہ نہیں بلکہ اقتدار کے ایک قدیم اصول کی عکاسی کرتا ہے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ حکمران ایک دوسرے سے جنگ کر سکتے ہیں، انہیں قید کر سکتے ہیں، حتیٰ کہ اقتدار سے ہٹا بھی سکتے ہیں، مگر ایک حد کے بعد وہ ایک دوسرے کی سیاسی حرمت برقرار رکھتے ہیں، کیونکہ اس روایت کے ٹوٹنے سے خود اقتدار کی ساکھ کمزور ہو جاتی ہے۔

اگر اس قول کو علامتی طور پر پاکستان کے موجودہ حالات پر لاگو کیا جائے تو بہت سے لوگ یہ محسوس کرتے ہیں کہ عمران خان کے ساتھ جو سلوک ہو رہا ہے، وہ اسی غیر تحریری اصول کے خاتمے کی علامت ہے۔

یہ معاملہ صرف عمران خان کی حمایت یا مخالفت کا نہیں۔ اصل سوال ریاستی اور ادارہ جاتی ہے:
جب ایک سابق منتخب وزیرِ اعظم، جس کے پاس اب بھی بڑی عوامی حمایت موجود ہے ، کو سیاسی حریف کے بجائے ایک ایسے دشمن کی طرح دیکھا جانے لگے جسے مکمل طور پر ختم کرنا ضروری ہو، تو اس کے ریاست پر کیا اثرات مرتب ہوسکتے  ہیں؟

اسی لیے بہت سے لوگوں کے نزدیک موجودہ صورتحال محض قانونی یا سیاسی تنازع نہیں بلکہ سیاسی نظام کے مزاج میں تبدیلی کی علامت ہے۔

جب سیاست مقابلے سے نکل کر “بقا کی جنگ” بن جائے تو پھر:

  • ادارے اپنی غیر جانبداری کھونے لگتے ہیں،
  • قانون انتقام کا تاثر دینے لگتا ہے،
  • کارکن اور حامی زیادہ شدت پسند ہو جاتے ہیں،
  • اور مفاہمت کے راستے بند ہونے لگتے ہیں۔

ایسا پاکستان میں ہوتا ہوا نظر آ رہا ہے ۔

یہی وجہ ہے کہ صلاح الدین کا یہ قول آج پاکستان میں بہت سے لوگوں کے جذبات کی ترجمانی کرتا دکھائی دیتا ہے۔ اس میں یہ پیغام پوشیدہ ہے کہ اقتدار کو بھی کچھ حدود کا پابند ہونا چاہیے، خاص طور پر سابق حکمرانوں کے معاملے میں، کیونکہ آج کا حکمران کل خود اسی نظام کے رحم و کرم پر ہو سکتا ہے۔

حتیٰ کہ عمران خان کے ناقدین بھی یہ سوال  اکثر اٹھا  تے  ہیں کہ :
اگر ایک سابق وزیرِ اعظم کے خلاف یہ روایت قائم ہو گئی، تو کل یہی طرزِ عمل ہر آنے والے سیاسی رہنما کے خلاف کیوں استعمال نہیں ہوگا؟

جس طرح کا ظالمانہ سلوک عمران خان ،انکی اہلیہ اور تحریک انصاف کے دوسرے رہنماؤں اور کارکنوں کے ساتھ روا رکھا جا رہا ہے .اسکی مثال پاکستان کی تاریخ میں نہیں ملتی  ۔پاکستان کے عوام کی اکثریت    بجا طور پر یہ سمجھتی ہے  کہ عمران خان کو انتقامی  کاروائیوں  کا نشانہ صرف اسلئیے بنایا جا رہا ہے ۔ کیونکہ وہ جھکنے کیلئے تیار نہیں  ۔اور نہ وہ جلا وطنی اختیار کرنے پر راضی ہیں ۔

  • حقیقت یہ ہے کہ نظام خود خوف عمران کا شکار ہے .

اس تناظر میں صلاح الدین کا یہ قول پاکستان کی موجودہ صورتحال پر ایک گہرا استعارہ بن جاتا ہے۔
کیونکہ جب ریاست اپنے سابق حکمرانوں کو سیاسی مخالف کے بجائے “نظام سے باہر دشمن” سمجھنے لگے، تو آخرکار نقصان صرف ایک فرد کا نہیں بلکہ پورے نظام کی ساکھ کا ہوتا ہے۔ بلکہ ریاست بھی کمزور ہوتی ہے .