Saturday, 17 October 2026

جبر و استبداد کی تاریخ


تاریخ کا سب سے بڑا سچ یہ ہے کہ تاریخ سے کوئی سبق نہیں سیکھتا .کہا بہت  کچھ جاتا ہے . صاحبان عقل و شعور اکثر یاد دہانی بھی کرا تے رہتے ہیں . لیکن طاقتوروں کے کانوں پر جوں تک نہیں  رینگتی .یہ صرف طاقتوروں کا مسلہ نہیں ہے . ہر خاص و عام - میں نہ مانوں والا رویہ رکھتا ہے .لیکن جب حالات قابو سے باہر ہو جاتے ہیں تو رونا دھونا ، چیخ و پکار ،دہایاں ،عقل سے کام لیں ، صبر کریں ،ملک کی سلامتی کو خطرے میں نہ ڈالیں ، ہم سب بھائی بھائی ہیں .اتفاق میں برکت ہے. جیسی آوازیں اٹھنی شروع ہو جاتی ہیں . 
جب ظلم کا بازار گرم کیا جا رہا ہوتا ہے . اس وقت طاقت کے نشے میں دھت لوگوں کو نہ ملک کی سلامتی کا خیال آتا ہے .نہ انسانی حقوق کی کوئی پروہ کی جاتی ہے . نہ عوام کو اپنا بھائی بند تصور کیا جاتا ہے .نہ اتفاق و اتحاد کی انکی نظر میں کوئی وقعت ہوتی ہے .وہ صرف ڈنڈے کے زور پر اپنا مطلب نکالنے پر بضد ہوتے ہیں . انکا خیال ہوتا ہے کہ انکے تمام مسائل کا حل ڈنڈا ہے . کسی بات چیت کی ضرورت نہیں . عوام -کیڑے مکوڑے ہیں .اور انہیں سیدھا رکھنے کیلئے . طاقت ہی واحد حل ہے .
پاکستان بننے سے آج تک اس طرز عمل میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی . انگریز نے اپنے اقتدار کو مضبوط بنانے کیلئے . جاگیر داروں ،نوابوں ،پیروں ،سرداروں ، نوکر شاہی ،پولیس ،نیم فوجی دستوں کو منظم کیا .اسکے ساتھ ساتھ ایک باقاعدہ فوج بھی قائم کی .جس میں ہندوستان میں رہنے والی تمام قومیتوں کے لوگ شامل تھے .مسلم ،ہندو اور سکھوں کی ایک بڑی تعداد بھی اس انگریزی فوج کا حصہ تھی .لیکن اس فوج کا ایک بڑا حصہ متحدہ پنجاب کے لوگوں پر مشتمل تھا .اس میں مسلم ،ہندو اور سکھ سب شامل تھے . اس مقامی فوج کو انگریز نے نہ صرف ہندوستان میں اپنے اقتدار کو قائم رکھنے کیلئے استعمال کیا .بلکہ  پہلی اور دوسری جنگ عظیم میں ساوتھ اشیا ، افریقہ ،مشرق وسطیٰ اور یورپ میں بھی اس ہندوستانی فوج کو استعمال کیا گیا . گو اس فوج کی اکثریت مقامی تھی . لیکن اسکی قیادت تمام کی تمام  انگریز افسروں پر مشتمل تھی .بعد میں کچھ مقامی افراد کو بھی ترقی دیکر افسر بنایا گیا . یہ  ایک نوآبادیاتی  فوج تھی . بھرتی کا طریقہ کار ، تربیت ،ماحول اور انکی نفسیاتی سوچ کو انگریز نے ایک خاص مقصد کیلئے بنایا تھا . وہ تھا تاج برطانیہ سے وفاداری ! یہ فوج  اپنے قیام سے لیکر  آزادی کے وقت تک پوری تندہی سے یہ فرض ادا کرتی رہی .
پاکستان بننے کے بعد ، اس رائل انڈین آرمی کا  ایک حصہ پاکستان آرمی قرار پایا .لیکن انگریز نے اسکی جن خطوط پر تربیت کی تھی . ان میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی .پہلے یہ انگریز کی غلام تھی . آزادی کے بعد یہ فوج اپنے افسروں کی غلام بن گئی. انگریز افسروں کے جانے کے بعد مقامی افسر انگریز بن بیٹھے .انھوں نے اس  آزاد ملک کو  بھی نوآبادیاتی کالونی کی طرح چلانے کی کوشش شروع کر دی .اور آج تک انکے طرز عمل میں کوئی تبدیلی نہیں آئی .
 بھارت میں انکی سیاسی قیادت نے آزادی ملنے کے ساتھ ہی تمام کنٹونمنٹ ختم کر دئیے .انگریز نے جو زمینے اپنی فوج کیلئے مختص کی تھیں .وہ تمام قومی ملکیت میں لے لیں .لیکن پاکستان میں فوج نے ایسا نہیں ہونے دیا .یہاں پر کنٹونمنٹ ختم کیا ہوتے .انھوں نے مزید کنٹونمنٹ بناۓ .  بلکہ اب تو یہ پاکستان میں سب سے بڑے پراپرٹی ڈیلر بن چکے ہیں .
آج بھی انکی سوچ وہی ہے جو انگریز انکے ڈی -این -اے میں شامل کر گیا ہے . کہ یہ عوام سے افضل ہیں .یہ زیادہ پڑھے لکھے ہیں .انکے بغیر کوئی اس ملک کو سنبھال نہیں سکتا .یہ عقل کل ہیں .اور ملک کی کیا سمت ہو گی .یہ فیصلہ کریں گے .
حقیقت یہ ہے کہ ،ایوب خان ، یحییٰ خان ،ضیاء الحق ، پرویز مشرف ،اور اب عاصم منیر -ان سب نے پاکستان کا آئین توڑا. عوام کے حقوق سلب کے .عوام کے ووٹ کو کبھی بھی کوئی اہمیت نہیں دی .اور  اپنے ہی ملک کے لوگوں کے ساتھ ایسا سلوک کیا جو انگریز ایک سو نوے سالوں تک ہندوستان کے باشندوں سے کرتا رہا . ایوب خان نے 56,کا آئین ،جو پارلیمانی جمہوری تھا .اس کو ختم کر کے اپنا صدارتی آئین پاکستان پر مسلط کیا .ملک میں بنیادی جمہوریتوں کا نظام  نافذ  کیا اور اس کے تحت دھونس ،دھاندلی ،دباؤ اور لالچ کے زریعہ ،محترمہ فاطمہ جناح کو انتخابات میں شکست سے دوچار کیا .جب اقتدار چھوڑنے کا وقت آیا .تو اپنے ہی بناۓ ہوۓ آئین پرر عمل درآمد نہ کر سکا .62،کے آئین کے تحت اگر صدر کسی وجہ سے اپنے فرائض ادا کرنے سے قاصر ہو جاۓ . تو سپیکر قومی اسمبلی صدر کا عہدہ سنبھال   لے گا .آئین
پا کستان کی اسکی نظر کوئی اہمیت نہیں تھی . اسلئے ایوب خان نے اقتدار یحییٰ خان کے حوالے کیا .
یحییٰ خان نے جو گل کھلاۓ .اس کا نتیجہ پاکستان  ٹوٹنے کی صورت میں سامنے آیا . 70,کے انتخابات میں  عوامی لیگ نے سب سے زیادہ  ووٹ حاصل کیے . جمہوری اصول کے مطابق اقتدار انھیں ملنا چاہئیے تھا . لیکن فوج کی اعلی قیادت بنگالیوں کو اقتدار سوپنے کے حق میں نہ تھی .صدیق سالک ، اپنی کتاب -میں نے  ڈھاکہ ڈوبتے  دیکھا -میں لکھتے ہیں کہ یحییٰ خان کے ایک متمد  جنرل دسمبر میں مشرقی پاکستان آۓ . ایک تقریب کے دوران انھوں نے کہا ، کہ آپ فکر نہ کریں ----" ہم ان کالے حرامیوں کو اپنے اوپر ہر گز حکومت نہیں کرنے دیں گے ."اسی فوجی سوچ نے پاکستان توڑنے میں سب سے اہم کردار ادا کیا .
صدیق سالک لکھتے ہیں کہ جنرل نیازی  - 10 ، اپریل کو ڈھاکہ پہنچے اور اگلی صبح کمانڈر ایسٹرن کمان کے عہدے کا چارج سنبھال لیا . وہ لکھتے ہیں کہ جنرل خادم نے انھیں بتایا کہ جب وہ فوج کی کمان ان کے سپرد کر چکے . تو جنرل نیازی نے پوچھا 
"اپنی داشتاؤں کا چارج کب دو گے : پورے مشرقی پاکستان میں جنگ کی آگ لگی ہوئی ہے .اور کمانڈر صاحب کی سوچ کیا ہے .اسی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ انکی نظر میں اپنے ہم وطنوں کی کیا حثیت تھی اور آج بھی کیا ہے ؟
اب ضیاالحق کا دور آتا ہے . اس نے بھی آئین پاکستان کے ساتھ جو سلوک کیا . وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں .اس نے کہا تھا کہ آئین ایک چھوٹی سی کتاب ہے . میں جب چاہوں اسے اٹھا کر پھینک سکتا ہوں .پاکستان میں کلاشنکوف کلچر ،منشیات،  مذہبی منافرات  اور فرقوں کے درمیان لڑائی کو اس نے فروغ دیا .روس کے خلاف امریکی جنگ کو پاکستان کی سرحدوں کے اندر لانے والا ضیاالحق ہی تھا .اس جنگ کا خمیازہ ہم آج تک بگھت رہے ہیں .
پرویز مشرف نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ آئین کاغذ کا ایک ٹکڑا ہے .اسے ردی کی ٹوکری میں پھینک دینا چاہیے .
فوجی جرنلوں نے آئین پاکستان کو ہمیشہ کاغذ کا ایک ٹکڑا ہی سمجھا . حالانکہ وہ اسی آئین کے تحت یہ حلف لیتے ہیں کہ وہ آئین پاکستان کی پاسداری کریں گے اور سیاست میں حصہ نہیں لیں گے .خود کو کمانڈو کہنے والا ،ایک امریکی دھمکی کے سامنے لیٹ گیا .افغانستان پر امریکی حملے میں انکی معاونت کی .اس ایک فیصلے سے پاکستان میں جو تباہی و بربادی ہوئی . وہ اب تاریخ کا حصہ ہے .
موجودہ چیف صاحب نے آئین پاکستان کا جو حشر کیا . اسکی مثال پاکستان کی تاریخ میں نہیں ملتی .عوام کے حقوق پر ڈاکا ڈالنے کے ساتھ ساتھ ،پاکستان میں زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہیں جس میں یہ مداخلت نہیں کر رہے .لیکن دعویٰ یہ ہے کہ ہمارا سیاست سے کوئی تعلق نہیں .انکی ذاتی آنا اور خواہشات ہی انکا آئین ہے .اسکے لئیے وہ اپنے سامنے آنے والی ہر رکاوٹ کو روند ڈالتے ہیں .چاہے ملک تباہ و برباد ہی کیوں نہ ہوجاۓ .

Tuesday, 13 October 2026

طاقت کا نشہ: کیا پاکستان کے حکمران زمینی حقائق بھول چکے ہیں؟


پاکستان میں جو کچھ اس وقت  ہو رہا ہے، اسے محض سیاسی کشمکش کہہ کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔  ملک کے طاقتور حلقوں
سےہمارا سوال ہے کہ آخروہ  چاہتے کیا ہیں؟ جو کچھ وہ ملک میں کر رہے ہیں . کیا یہ اقتدار کا غرور ہے، اپنی طاقت پر حد سے بڑھا ہوا اعتماد، یا پھر زمینی حقائق کو سمجھنے کی  آپ میں صلاحیت ہی نہیں ہے ؟
اگر آپ یہ سمجھ رہے ہیں کہ  ہر مسئلے کا حل طاقت کے  بے دریغ استعمال سے ممکن ہے ، تو آپ ایک بنیادی حقیقت بھول رہے ہیں :کہ طاقت سے لوگوں کو خاموش تو کرایا جا سکتا ہے . لیکن انکے خیالات ،شکایات ،مسائل اور سیاسی خواہشات کو ختم نہیں کیا جا سکتا ۔
پاکستان میں سیاسی اختلاف کو بارہا طاقت، پابندیوں اور انتظامی اقدامات کے ذریعے قابو کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ لیکن کیا ان اقدامات نے سیاسی استحکام پیدا کیا؟ یا انہوں نے ریاست اور عوام کے درمیان فاصلے مزید بڑھائے ہیں؟اقتدار کا سب سے خطرناک مرحلہ وہ ہوتا ہے جب حکمرانوں کو اپنی غلطیوں کی نشاندہی کرنے والی آوازیں سنائی دینا بند ہو جائیں۔ جب اختلاف کو دشمنی، تنقید کو بغاوت اور عوامی مطالبات کو خطرہ سمجھا جانے لگے تو فیصلہ سازی حقیقت کے بجائے خوش فہمیوں کے تابع ہو جاتی ہے۔
یہیں سے غرور سیاسی بصیرت پر غالب آنے لگتا ہے۔
پاکستان کی تاریخ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ریاستی طاقت اور عوامی حمایت ایک چیز نہیں۔ 1970 کے انتخابات کے نتائج کو اقتدار کی منتقلی کی بنیاد نہ بنانے اور اس کے بعد پیدا ہونے والے بحران نے بالآخر ملک کی تقسیم کی راہ ہموار کی۔ تاریخ کا سبق واضح ہے: سیاسی مسائل کا حل سیاسی عمل میں تلاش نہ کیا جائے تو ان کی قیمت پوری قوم کو ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
آج بھی پاکستا ن  میں بنیادی سوال یہی ہے: کیا طاقتور حلقے اختلافِ رائے اور عوامی خواہشات کو تسلیم کرتے ہوئے سیاسی راستہ اختیار کریں گے، یا یہ سمجھتے رہیں گے کہ طاقت ہی ہر مسئلے کا آخری حل ہے؟
کسی بھی ریاست کی اصل طاقت صرف اس کے اداروں کے اختیار میں نہیں، بلکہ عوام کے اعتماد، آئین کی بالادستی اور قانون کے سامنے جواب دہی میں ہوتی ہے۔
جب اقتدار کو تنقید، عوامی انتخاب اور ادارہ جاتی نگرانی کے سامنے جواب دہ نہ ہونا پڑے تو غلط فیصلوں کی قیمت صرف وہ لوگ ادا نہیں کرتے جو انہیں کرتے ہیں؛ اس کی قیمت پورے ملک کو ادا کرنی پڑتی ہے . ایسا ہمارے ساتھ پہلے بھی ہو چکا ہے ۔

Thursday, 8 October 2026

سب اچھا ہے؟

جب کوئی بے وقوف مسند اقتدار پر  بٹھا دیا جاتا ہے. تو  وہ سب سے پہلا کام یہ کرتا ہے کہ صاحبان عقل کو خاموش کردیتا ہے . اسکے بعد وہ اور بے وقوفوں کو اپنے اردگرد جمع کر لیتا ہے .اسکا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ساری قوم تباہ و برباد ہو جاتی ہے . ہمارے پیارے پاکستان میں ہماری آنکھوں کے سامنے یہ سب کچھ ہو رہا ہے .   بے وقوفوں اور نا اہلوں کا ایک ٹولہ
 (رومن بادشاہ نیرو ) کی طرح چین کی بانسری بجا رہا ہے اور ملک جل رہا ہے .

Monday, 5 October 2026

تاریخ سے سبق کیوں نہیں سیکھتے؟

1971،میں مشرقی پاکستان کی  علیحد گی کی ایک  بنیادی وجہ اس وقت کی فوجی  حکومت کا انتخابات کے نتائج کو تسلیم نہ کرنا تھا . ہماری تاریخ کا سب سے بڑا المیہ شاید یہ نہیں کہ ہم نے غلطیاں کیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم نے اپنی غلطیوں سے سبق نہیں سیکھا۔
1970، کے انتخابات پاکستان کی تاریخ کا ایک فیصلہ کن موڑ تھے۔ عوام کی اکثریت نے شیخ مجیب الرحمن کی جماعت کو مینڈیٹ دیا۔پارلیمانی جمہوریت کا اصول بالکل واضح ہے : جس جماعت کو اکثریت حاصل ہو، اقتدار اسے منتقل کیا جائے۔لیکن اقتدار عوام کے منتخب نمائندوں کے حوالے کرنے کے بجائے سیاسی بحران کو طاقت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی گئی۔ احتجاج بڑھا، ریاست اور عوام کے درمیان فاصلے گہرے ہوئے اور بالآخر 1971، میں پاکستان دو حصوں میں تقسیم ہوگیا۔ 
یقینآ بھارت نے مداخلت کی .بیرونی سازشیں بھی ہوئیں .عالمی طاقتوں کے اپنے مفادات بھی تھے .لیکن یہ سوال اب بھی اپنی جگہ قائم ہے کہ : 
اگر ملک کے اندر سیاسی بحران پیدا ہی نہ ہونے دیا جاتا . تو بیرونی طاقتوں کو مداخلت کا موقع کہاں سے ملتا ؟
اصل مسئلہ کسی ایک سیاسی جماعت یا شخصیت سے کہیں بڑا ہے۔مسئلہ یہ ہے کہ کیا ریاست عوام کے ووٹ کو اپنی طاقت کا سرچشمہ سمجھتی ہے، یا عوامی مینڈیٹ کو اپنے لیے ایک خطرہ؟
یہی وہ سوال ہے جس سے ہم آج بھی بھاگ رہے ہیں۔
2024، میں پاکستانی عوام نے ایک بار پھر اپنا فیصلہ سنایا۔ عمران خان جیل میں تھے، ان کی جماعت شدید ریاستی دباؤ کا سامنا کر رہی تھی، امیدواروں کو مختلف رکاوٹوں کا سامنا تھا—لیکن اس کے باوجود ان کے حمایت یافتہ امیدوار بڑی تعداد میں کامیاب ہوئے۔
پھر نتائج پر سوالات اٹھے۔انتخابی عمل پر اعتراضات سامنے آئے۔ فارم 45 اور فارم 47 کے تضادات پر بحث ہوئی۔ دھاندلی کے الزامات لگے۔ اور سب سے بڑھ کر، عوام کے ایک بڑے حصے میں یہ احساس پیدا ہوا کہ  ان کے ووٹ کو وہ حثیت نہیں دی گئی .جس کا جمہوریت تقاضا کرتی ہے ۔
اگر انتخابات صرف اس وقت معتبر سمجھے جائیں جب نتیجہ طاقتور حلقوں کی خواہش کے مطابق ہو، تو پھر جمہوریت محض ایک رسمی عمل بن کر رہ جاتی ہے۔ اور جب عوام یہ محسوس کرنے لگیں کہ ان کا ووٹ اقتدار کی سمت متعین نہیں کرتا، تو ریاستی اداروں پر اعتماد کم ہونا فطری ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں 1971، کا سایہ دوبارہ نظر آتا ہے۔تاریخ کا سب سے خوفناک سبق یہ ہے کہ ریاست طاقت کے ذریعے عوام کو خاموش تو کرسکتی ہے، مطمئن نہیں ۔
بلوچستان، خیبر پختون خوا اور آزاد کشمیر کے مسائل کو صرف انتظامی یا سکیورٹی کے زاویے سے دیکھنا کافی نہیں۔ ہر خطے کے اپنے سیاسی، معاشی اور سماجی مسائل ہیں۔ ان مسائل کا مستقل حل طاقت کے استعمال سے نہیں بلکہ  سیاسی شمولیت ، آئینی حقوق ،معاشی انصاف اور مسلسل بات چیت سے   نکلتا ہے۔
ریاست کے پاس طاقت ہونا ضروری ہے، لیکن طاقت کا استعمال آخری حل ہونا چاہیے، پہلا نہیں۔ریاست بندوق سے امن تو قائم کر سکتی ہے .لیکن پائیدار امن صرف انصاف اور اعتماد سے قائم ہوتا ہے ۔
یہی فرق ایک مضبوط ریاست اور محض طاقتور ریاست میں ہوتا ہے۔
یہیں ہماری فوجی قیادت کو اپنے آپ سے ایک انتہائی تلخ سوال پوچھنا ہوگا:
کیا ہر سیاسی اختلاف واقعی قومی سلامتی کا مسلہ ہے ؟

اور پھر ایک اور سوال کا جواب بھی انھیں دینا ہو گا کہ کیا انکا طرز عمل کہیں نوآبادیاتی ذہنیت کا تسلسل تو نہیں ؟

برطانوی راج میں عوام رعایا تھے۔ ریاست کا مقصد ان پر حکومت کرنا تھا، ان سے اجازت لینا نہیں۔ آزادی کے بعد یہ ذہنیت ختم ہونی چاہیے تھی۔ مگر اگر آج بھی ریاستی ادارے یہ سمجھتے ہیں کہ عوام کو صرف نظم و ضبط سکھانا ہے، ان کی آواز سننا ضروری نہیں، تو پھر ہمیں تسلیم کرنا ہوگا کہ آزادی کے بعد بھی حکمرانی کا ایک حصہ نوآبادیاتی ذہن سے آزاد نہیں ہوا۔مسئلہ صرف فوج کا بھی نہیں۔سیاسی جماعتیں بھی ذمہ دار ہیں۔ سول حکومتیں بھی ذمہ دار ہیں۔ عدلیہ، پارلیمان، بیوروکریسی اور میڈیا—سب نے کسی نہ کسی مرحلے پر اس نظام کو سہارا دیا ہے جس میں طاقتور کو قانون سے بالاتر سمجھنے کا رجحان پیدا ہوا۔

 فوجی اسٹیبلشمنٹ  کو پاکستان میں  غیر معمولی اثر و رسوخ حاصل ہے .اس لیے سوال بھی اسی سے زیادہ سخت ہونا چاہیے:

آپ نے ١٩٧١، سے کیا سیکھا ؟کیا آپ نے یہ سیکھا کہ عوام کو زیادہ طاقت سے دبانا چاہیے؟

یا یہ سیکھا کہ عوام کے مینڈیٹ کو تسلیم کرنا چاہیے؟

اگر پہلا جواب ہے تو پھر تاریخ دوبارہ ہمارے دروازے پر کھڑی ہے۔

1971 میں ملک جغرافیائی طور پر ٹوٹا تھا۔ آج خطرہ شاید مختلف نوعیت کا ہے۔ ملک نقشے پر ایک ہو سکتا ہے، مگر اگر اس کے شہری ریاست پر اعتماد کھو دیں، اگر صوبوں کو یہ محسوس ہو کہ ان کی آواز نہیں سنی جارہی، اگر نوجوان نسل یہ سمجھنے لگے کہ ووٹ سے کچھ نہیں بدلتا. تو پھر ریاست کی  ظاہری یکجہتی کے اندر سے اسکی بنیادیں کھوکھلی ہونا شروع ہو جاتی ہیں .پاکستان کو آج مزید طاقت کی نہیں،  مزید سیاسی بصیرت کی ضرورت ہے .

اگر حکمران طبقہ یہ سمجھتا ہے کہ عوام کو ہمیشہ طاقت کے ذریعے قابو میں رکھا جاسکتا ہے تو اسے 1971 کی تاریخ دوبارہ پڑھنی چاہیے۔کیونکہ تاریخ کا فیصلہ بہت بے رحم ہوتا ہے۔ عوام کو ایک بار دھوکہ دیا جا سکتا ہے ،دوسری بار ڈرایا جا سکتا ہے اور شاہد تیسری بار دبایا بھی جا سکتا ہے .لیکن ہمیشہ کیلئے خاموش نہیں کیا جا سکتا .اور اگر ریاست نے عوام کے ووٹ کو بے معنی کردیا، تو پھر اسے یہ سوال بھی سننا ہوگا: آخر ایک شہری ریاست سے وفاداری کیوں رکھے ،اگر ریاست اسکی آواز سے وفاداری نہ کرے .1971, ہمیں متنبہ کرچکا ۔اب فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے:

ہم تاریخ سے سبق سیکھیں گے، یا تاریخ کو ایک بار پھر ہمیں سبق سکھانا پڑے گا؟

Sunday, 4 October 2026

!تقسیم کرو اور حکومت کرو


ا نسانی تاریخ گواہ ہے کہ حکمرانوں ،بادشاہوں نے ہمیشہ  اکثریت پر حکمرانی کرنے کیلئے انھیں مختلف گروہوں اور طبقوں میں تقسیم کیا ہے .یہ تقسیم مذہبی ، سماجی ،اقتصادی کے ساتھ ساتھ لسانی اور رنگ و نسل کی بنیاد پر بھی ہوتی تھی .جب لوگوں کو مختلف طبقوں میں بانٹ دیا جاۓ . تو  لوگوں کے درمیان اتحاد اور یک جہتی کمزور پڑ جاتی ہے . اسکا فائدہ حکمران بادشاہوں کو ہوتا تھا اور آج بھی ہو رہا ہے .اس مقصد کیلئے حکمرانوں کو دو طبقوں نے ہمیشہ مدد فراہم کی ہے . ایک مذہبی پیشوایت اور دوسرا  مالدار طبقہ . یہ ایک ایسی تکون ہے جس نے زمانہ قدیم سے آج تک انسانیت کو تقسیم کر رکھا ہے . 
یعنی حکمران طبقہ ، مذہب کے ٹھیکیدار اور سرمایہ دار ! 
ہمیں سکول میں جو تاریخ پڑھائی جاتی تھی . ہندوستان کے بارے میں اسکا لبا لباب یہ تھا کہ انگریز نے تقسیم کرو -اور حکومت کرو .....کی پالیسی کے تحت آ ہستہ آ ہستہ سارے ہندوستان پر قبضہ کر لیا .انگریز نے نہ صرف ہندو ،مسلم کی مذہبی تفریق کو اپنے مقصد کیلئے استعمال کیا بلکہ مختلف راجوں ،مہاراجوں کو ایک دوسرے کے خلاف بھی بڑی کامیابی سے استعمال کیا . مسلمانوں کو مسلمانوں کے خلاف بھی استعمال کیا . مثال کے طور پر بنگال میں سراج الدولہ کے خلاف ،میر جعفر اور ٹیپو سلطان کے خلاف ، میر صادق . نواب حیدر آباد کو بھی ٹیپو سلطان کے خلاف استعمال کیا گیا .
کہتے ہیں کہ بڑی طاقتوں کے نہ تو کوئی دائمی حلیف ہوتے ہیں اور نہ کوئی مستقل دشمن ! بلکہ انکے مفادات ہی دائمی اور مستقل ہوتے ہیں .  اسی طرح ہندوستان میں انگریز کے اپنے مفادات ہی دائمی اور مستقل تھے .حالات کے تحت دوست اور دشمن بدلتے گۓ اور آخر کار اس نے سارے ہندوستان پر قبضہ کر لیا .
اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ انگریز نے اس پالیسی کو ساری دنیا میں بڑی کامیابی سے استعمال کیا . اس حکمت عملی کو انگریز نے اپنے ملک میں بھی استعمال کیا . صنعتی ترقی کی ابتدا برطانیہ سے ہوئی . برطانیہ میں کپاس کی صنعت ، صنعتی ترقی کے ابتدائی دور کی ایک اہم مثال ہے . لنکا شائر کے کپاس کے کارخانوں میں بچے بارہ سے سولہ گھنٹے تک روزانہ کام کرتے تھے . کام کرتے کرتے وہ سو جاتے تو جگانے کیلئے انھیں زدو کوب کیا جاتا . اسکے باوجود ان میں سے کئی  بیدار نہ ہوتے اور مشینوں میں لڑھک جاتے .جس کی وجہ سے انکے ہاتھ پاؤں کٹ جاتے یا وہ مر جاتے .انکا کوئی پرسان حال نہ تھا .حالت یہ تھی کہ برطانیہ میں (1824)،تک مزدوروں کے حقوق کی انجمن بنانا غیر قانونی تھا . حکومت برطانیہ نے اشتعال دلانے والے اپنے ایجنٹ مزدوروں میں شامل کررکھے تھے .جو مزدوروں سے ایسے افعال سر زد کراتے تھے . جس کے نتیجے میں انھیں یا تو جلا وطن کر دیا جاتا یا پھانسی پر لٹکا دیا جاتا . یعنی (فالس فلیگ ) آپریشن کیے جاتے . مقصد صرف یہ تھا کہ مزدوروں میں انقلابی جذبات پیدا  نہ ہوں .....
ہمارے پیارے پاکستان میں بھی آزادی کے دن سے آج تک انگریز کی پالیسی جاری و ساری ہے . انگریز  جن خطوط پر یہاں کا نظام استوار کر کے گیا تھا . آج تک اسی پر عمل ہو رہا ہے .انتظامیہ کا ڈھانچہ جو انگریز چھوڑ کر گیا . وہ آج تک قائم ہے .جو سلوک آزادی سے پہلے عام آدمی سے ہوتا تھا . آج کے دور میں اس سے بد تر سلوک دیسی بابو اس ملک کے عوام سے کرتے ہیں . تقسیم کرو اور مزے سے حکومت کرو کی پالیسی آج تک جاری ہے .  اس پالیسی نے ملک دو لخت کر دیا .لیکن ارباب اختیار کوئی سبق سیکھنے کیلئے تیار نہیں .
اس چکر کو اب توڑنے کی ضرورت ہے .اور اسکو صرف اور صرف عوام ہی اپنی ہمت ، کوشش اور اتحاد سے توڑ سکتے ہیں . 

Monday, 28 September 2026

! ملک آزاد ۔عوام محکوم


پاکستان کو آزاد ہوئے تقریباً اسی برس ہونے کو ہیں۔ انگریز چلا گیا، پرچم بدل گیا، حکمران بدل گئے۔ مگر ایک سوال آج بھی ہمارے سامنے ہے:
کیا ریاست اور شہری کے درمیان تعلق بھی بدلہ کہ نہیں ؟
پاکستان میں آج بھی کئی قوانین ایسے ہیں جن کی بنیاد برطانوی دور میں رکھی گئی تھی۔ ان میں Code of Criminal Procedure, 1898 بھی شامل ہے، جس کی دفعہ 144 بعض حالات میں انتظامیہ کو اجتماعات اور دیگر سرگرمیوں پر پابندی عائد کرنے کا اختیار دیتی ہے۔

صرف کسی قانون کا پرانا ہونا مسئلہ نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ  ایک آزاد اور جمہوری ریاست میں اس اختیار کو کون اور کس طرح استعمال کیا جاتا ہے .پاکستان کا آئین شہریوں کو پُرامن اور غیر مسلح اجتماع کا بنیادی حق دیتا ہے، اگرچہ عوامی نظم و ضبط کے مفاد میں معقول پابندیوں کی اجازت بھی دیتا ہے۔

لہٰذا ریاست کو امن و امان برقرار رکھنے کا اختیار بھی ہے اور شہری کو پُرامن احتجاج کا حق بھی۔ اصل امتحان ان دونوں کے درمیان توازن کا ہے۔

اگر کسی علاقے میں تشدد یا فساد کا حقیقی خطرہ ہو تو ریاست کا مداخلت کرنا ضروری ہو سکتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے:کہ خطرہ کتنا حقیقی ہے ؟ پابندی کتنی ضروری ہے اور کیا اس  سے کم بھی کوئی راستہ موجود ہے ؟

دفعہ 144 کسی افسر کی ذاتی مرضی کا لامحدود اختیار نہیں۔ اس کے استعمال کے لیے قانونی بنیاد موجود ہے اور ایسے احکامات عدالتی جانچ سے بالاتر نہیں۔  لیکن پاکستان میں وطیرہ یہ ہے کہ کسی ضلح کا ایک انتظامی آفسر عوامی احتجاج کو حکومت کے خلاف ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے انتظامی اختیار کیلئے بھی خطرہ سمجھنے لگتا ہے . اور شاہ سے زیادہ شاہ کا وفادار بنتے ہوۓ . عوام کے بنیادی آئینی حق کو سلب کر لیتا ہے .

پاکستان میں جب عوام کے سیاسی اجتماعات اور احتجاج کو ایک انتظامی ہنگامی اختیار کو استعمال کرتے ہوۓ روکا جاتا ہے تو پھریہ سوال  ضرور پیدا ہوتا ہےکہ کیا پاکستان میں اشرافیہ نے نہ صرف نوآبادیاتی قوانین ،بلکہ ریاست اور شہری کے درمیان تعلق کی نو آبادیاتی سوچ بھی برقرار رکھی ہوئی ہے      ۔برطانوی راج میں ریاست کا بنیادی مسئلہ عوام کی آزادی نہیں بلکہ ریاستی نظم اور اقتدار کا تحفظ تھا۔حکمران اوپر تھا، عوام نیچے۔حکومت حکم دیتی تھی اور   ڈنڈے کے زور پر عوام سے  اس پر عمل  کروایا جاتا تھا  ۔آج پاکستان کا آئین ایک بالکل مختلف تصور پیش کرتا ہے۔

آج شہری رعایا نہیں۔ وہ آئینی حقوق رکھنے والا ایک آزاد ملک کا شہری ہے ۔

جمہوریت میں پُرامن احتجاج ریاست کے خلاف جنگ نہیں؛ یہ شہری کے اختلاف کے اظہار کا حق ہے۔

ہم یہ  مطالبہ نہیں کر رہے کہ دفعہ 144  کو ختم کیا جاۓ .بلکہ  اس کے استعمال کے واضح اصول ہوں، پابندی حقیقی خطرے کی بنیاد پر ہو، مدت محدود ہو، وجوہات واضح ہوں اور شہری کو فوری عدالتی تحفظ حاصل ہو۔

کیونکہ ایک مضبوط جمہوری ریاست کی طاقت صرف اس میں نہیں کہ وہ کتنے لوگوں کو روک سکتی ہے۔ اسکی اصل طاقت اس میں ہے کہ وہ کتنے اختلاف کو برداشت کر سکتی ہے۔  ریاست اور عوام دونوں کےدرمیان  تعلق ایسا ہو کہ  ریاست عوام سے خوفزدہ نہ ہو، اور عوام کو ریاست سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہ ہو۔ جبکہ یہاں معاملہ یہ ہے کہ ملک تو  1947,میں آزاد ہو گیا تھا ۔ لیکن آج بھی سوال یہ ہے کہ : کیا ہم اس ملک کے شہری بھی آزاد ہوۓ ؟

Saturday, 13 June 2026

بندوق مسائل کا حل نہیں



پاکستان میں ہمیشہ سے حکومتوں کا وطیرہ یہ رہا ہے کہ عوام کے احتجاج کو کبھی اہمیت نہیں دینی .جب بھی عوام اپنی مشکلات کے حل کیلئے سڑکوں پر آتے ہیں .انکی بات سننے کی بجاۓ انھیں ملک دشمن ، بھارت کا  ایجنٹ ،دہشت گرد قرار دے کر سختی سے نپٹا جاتا ہے . پچھلے چار سالوں میں اس حکومت اور فوجی اسٹیبلشمنٹ نے ظلم کی ہر حد پار کر دی ہے . جس طرح سیاسی کارکنوں کا قتل عام کیا گیا . انکے گھروں کا تقدس پا مال کیا گیا . عورتوں ،بچوں کو جس طرح ہراساں کیا گیا .پاکستان کی تاریخ میں ایسا ظلم پہلے کبھی نہیں ہوا .کیا وجہ ہے کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ اس درجہ ظلم پر اتری ہوئی ہے .عوام کو دبانے سے کیا ملک ترقی کر جاۓ گا . عوام کی آواز دبانے سے کیا ملک میں امن ہو جاۓ گا ؟خبیر پختون خوا ، بلوچستان اور اب کشمیر میں طاقت کے بے جا استعمال سے ملک کے سارے مسائل حل ہو جائیں گے ؟کیا فوجی اسٹیبلشمنٹ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتی، یا طاقت کے استعمال کے علاوہ انھیں کچھ اور آتا ہی نہیں ؟
پاکستان کی تاریخ کا شاید سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ یہاں مسائل کو سمجھنے کے بجائے انہیں دبانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ حکمران بدلتے رہے، حکومتیں آتی جاتی رہیں، لیکن ریاست کا رویہ کم و بیش ایک جیسا ہی رہا۔ جب عوام اپنے مسائل کے حل کے لیے آواز بلند کرتے ہیں، جب نوجوان اپنے مستقبل کے بارے میں سوال کرتے ہیں، جب سیاسی کارکن اپنے حقوق کا مطالبہ کرتے ہیں، تو ان کی بات سننے کے بجائے انہیں مشکوک نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے۔ کبھی انہیں ملک دشمن کہا جاتا ہے، کبھی غیر ملکی ایجنٹ اور کبھی امن و امان کے لیے خطرہ قرار دے دیا جاتا ہے۔
تاریخ کا ایک سبق یہ بھی ہے کہ بندوق لوگوں کو خاموش تو کر سکتی ہے، مطمئن نہیں کر سکتی۔ طاقت خوف پیدا کر سکتی ہے، وفاداری نہیں۔ اگر مسائل کا حل صرف طاقت کے استعمال میں ہوتا تو دنیا کی کوئی ریاست کبھی بحران کا شکار نہ ہوتی۔ لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ جن معاشروں نے اپنے شہریوں کی آواز کو دبایا، وہاں بے چینی مزید بڑھی۔ اور جنہوں نے مکالمے، انصاف اور سیاسی شمولیت کا راستہ اختیار کیا، وہ زیادہ مستحکم اور ترقی یافتہ بنے۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں اب بھی یہ تصور غالب دکھائی دیتا ہے کہ عوام کو دبانے سے استحکام آ جائے گا اور اختلاف کو ختم کرنے سے امن قائم ہو جائے گا۔ لیکن استحکام اور امن قبرستان کی خاموشی کا نام نہیں۔ حقیقی امن وہ ہوتا ہے جہاں شہری خود کو محفوظ، باعزت اور بااختیار محسوس کریں۔ جہاں اختلافِ رائے کو برداشت کیا جائے اور جہاں ریاست اپنے عوام کی آواز سننے کا حوصلہ رکھتی ہو۔

پاکستان آج جن مشکلات کا شکار ہے، ان کا حل مزید گرفتاریوں، مزید پابندیوں اور مزید طاقت کے استعمال میں نہیں۔ ان کا حل سیاسی بصیرت، جمہوری رویوں اور انصاف پر مبنی نظام میں ہے۔ ریاستوں کی طاقت ان کے ہتھیاروں سے نہیں بلکہ ان کے شہریوں کے اعتماد سے ناپی جاتی ہے۔ اور اعتماد وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں خوف نہیں، انصاف حکمرانی کرتا ہو۔

شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم خود سے ایک بنیادی سوال پوچھیں: کیا ہم مسائل کا حل تلاش کرنا چاہتے ہیں یا صرف عوام   کی آواز کو دبانا چاہتے ہیں؟ کیونکہ تاریخ بتاتی ہے کہ دبائی ہوئی آوازیں خاموش نہیں ہوتیں، وہ  زیادہ گہری اور زیادہ طاقتور ہو  کر ابھرتی  ہیں۔