Saturday, 28 March 2026

!شائقین کے بغیر کرکٹ

پی- ایس -ایل کے تمام میچ صرف دو شہروں ، لاہور اور کراچی میں کرواۓ جا رہے ہیں . پہلے یہ میچ چھ شہروں میں ہونے تھے . اور طرفہ تماشہ یہ ہے کہ شائقین کو گراؤنڈ میں آنے کی اجازت نہیں . 
اس کی وجہ یہ بیان کی جا رہی ہے کہ امریکہ ، اسرائیل ، ایران کی جنگ سے ملک میں سیکورٹی کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں . اگر سیکورٹی کا مسلہ اتنا شدید ہے تو میچ کرانے کی کیا ضرورت ہے؟  شائقین کے بغیر ،خالی اسٹیڈیم جب ساری دنیا میں دکھاۓ جائیں گے . تو پاکستان کا کیسا امیج دنیا کے سامنے جاۓ گا . کسی بھی کھیل کا اصل لطف شائقین کے جوش و جذبے کا مرہون منت ہوتا ہے . اگر کھلاڑیوں کو گراؤنڈ میں داد و تحسین دینے والا کوئی نہ ہو . تو وہ کیا کارکردگی دکھائیں گے .
ایسا لگتا ہے کہ سیکورٹی صرف بہانہ ہے . حکمرانوں کو اصل مسلہ شائقین سے ہے . انہیں ایک ڈر یہ  ہے کہ لوگ انکے خلاف کہیں نعرے بازی نہ کریں . حکومت مخالف اور عمران خان کے حق میں لگاۓ جانے والے نعروں سے بچنے کیلئے . اور دوسرا ایران کے حق میں اور اسرائیل و امریکہ کے خلاف نعروں کا اندیشہ تھا . یہی وجہ ہے کہ محسن نقوی نے شائقین کرکٹ کو اسٹیڈیم سے باہر رکھنے کا فیصلہ کیا ہے . 
اس گناہ بے لذت کا پاکستان کے بارے میں کوئی اچھا امیج دنیا میں نہیں جاۓ گا ....

Wednesday, 25 March 2026

!دال میں کچھ کالا ہے

 پاکستان کے خوشامند پسند اور فرمابردار میڈیا میں وزیر اعظم شہباز شریف کی ایک ٹویٹ کو لیکرمبارک سلامت کا شور برپا ہے .  جس میں شہباز شریف نے یہ کہا ہے کہ پاکستان ، ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کیلئے مذاکرات کی حمایت کرتا ہے اور اس میں اپنا کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہے . اس ٹویٹ میں وزیر اعظم نے امریکی صدر اور ایرانی وزیر خارجہ کو بھی ((ٹیگ ) کیا تھا . امریکی صدر نے تو اس ٹویٹ کا خیر مقدم کیا اور اسے ری ٹویٹ بھی کیا . لیکن ابھی تک ایرانی وزیر خارجہ کی طرف سے کسی رد عمل کا اظہار نہیں کیا گیا .
 وزیر اعظم نے ایک اور بھی ٹویٹ کی . جس میں کہا کہ انھوں نے سعودی والی عہد سے بات کی ہے اور انھیں پاکستان کی غیر مشروط حمایت کا یقین دلایا ہے اور اسکے ساتھ ساتھ سعودی عرب پر حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت بھی کی . وزیر اعظم نے یہ نہیں کہا کہ سعودی عرب یر حملے کس ملک نے کئیے . اور نہ انھوں نے ایران پر امریکی اور اسرائیلی بلا جواز حملوں کی کوئی مذمت کی .
یہ سوچنے کی بات ہے کہ ایک طرف آپ سعودی عرب پر ایرانی حملوں کی مذمت کر رہے ہیں . اور سعودی حکومت کو اپنی حمایت کا یقین دلا رہے ہیں . ایران کو دھمکی لگا رہے ہیں کہ ہمارا سعودی عرب کے ساتھ دفاھی معا یدہ ہے . دوسری طرف امن مذاکرات کیلئے اپنی خدمات بھی پیش کر رہے ہیں . کیا یہ تضاد نہیں ؟
جنگ بندی کیلئے مذاکرات کوئی غیر جانبدار ملک ہی کروا سکتا ہے . پاکستان اس جنگ میں غیر جانبدار نہیں . یوں محسوس ہوتا ہے کہ مذاکرات کی آڑ میں ایران کے خلاف بلوچستان کی طرف سے ایک نیا محاز کھولنے کی تیاری کی جا رہی ہے .
 عراقی کردوں کے انکار کے بعد ، سعودی پاک دفاہی معاہدے کو بنیاد بنا کر کوئی کاروائی کی جا سکتی ہے . ہو سکتا ہے کہ پاکستان اپنی فوج استعمال نہ کرے . بلکہ امریکی میرین ایک طرف گلف میں موجود ایرانی جزیروں پر حملہ کریں اور دوسری طرف بلوچستان سے ایران کی سرحد پر حملہ کیا جاۓ . اور ایران مخالف  بلوچوں کو ساتھ ملا کر ایران کے اندر افراتفری اور خانہ جنگی کروانے کی کوشش کی جاۓ  . الله نہ کرے کہ ایسا ہو . لیکن موجودہ رجیم سے کچھ بھی باید نہیں.  یہ اپنا اقتدار بچانے کیلئے کچھ بھی کر سکتے ہیں .

Sunday, 22 March 2026

!مکمل لوٹ مار پروگرام

ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی حملے کے بعد ، ایران نے جب جوابی کاروائی شروع کی تو اسرائیل کے ساتھ ساتھ انھوں نے کویت ، بحرین ، قطر ، متحدہ عرب امارات ، سعودی عرب اور اردن میں موجود امریکی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا . ایرانی افواج نے ان اڈوں پر نصب ریڈار اور انٹی میزائل بیٹریوں کو بھی نشانہ بنایا . ان اڈوں پر موجود ان انٹی میزائل سسٹم کا سب سے اہم مقصد ایران کی طرف سے اسرائیل کی طرح فائر کئیے جانے والے میزائلوں کو ٹریک کرنا اور انھیں راستے ہی میں تباہ کرنا تھا .  پچھلے سال جون میں ہونے والی ایران ، اسرائیل جنگ کے دوران بھی امریکی ان اڈوں یر نصب ان ریڈار سسٹم اور انٹی میزائل بیٹریوں سے  یہی کام لیتے رہے . 
پچھلے سال تو ایرانیوں نے ان امریکی اڈوں یر کوئی حملہ نہیں کیا . لیکن 28, فروری کو جب امریکہ اور اسرائیل نے ملکر ایران پر حملہ کیا . تو جنگ شروع ہونے کے تین دن کے اندر ہی ، ایرانیوں نے ان تمام امریکی اڈوں پر نصب ریڈار سسٹم کو مکمل طور پر تباہ کر دیا . انھوں نے کچھ انٹی میزائل بیٹریوں کو بھی نا کارہ بنا دیا . جو بیٹریاں بچ گئیں . وہ امریکی ان اڈوں سے اٹھا کر اسرائیل لے گۓ . تاکہ وہاں سے اسرائیل کا دفاع کیا جا سکے . اس پر ان ممالک نے بڑا واویلا کیا کہ ہم نے یہ اڈے اپنی حفاظت کیلئے امریکہ کو دئیے تھے . لیکن یہ ہماری حفاظت کیا کرتے . الٹا ہم ان کی حفاظت کر رہے ہیں . اس امریکی دھوکے بازی پر ہوش کے ناخن لینے کی بجاۓ . یہ عرب ممالک ایران پر گرج برس رہے ہیں . امریکہ اور اسرائیل کے بلا جواز حملے کی مذمت کرنے کی بجاۓ وہ ایران کو دھمکیاں لگا رہے ہیں . 
دو دن پہلے امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ ، کویت ، متحدہ عرب امارات اور اردن کو 17, ارب ڈالر کا اسلحہ فروخت کرۓ گا . یہ اسلحہ امریکہ زبردستی ان ممالک کو فروخت کر رہا ہے . اس میں ریڈار اور پٹریاٹ انٹی میزائل بیٹریاں شامل ہیں . جو پہلے بھی  ایران ان امریکی اڈوں پر تباہ کر چکا ہے . امریکہ اپنا نقصان اب ان عرب ممالک کے خزانے سے پورا کرنا چاہتا ہے . یہ شاہی خاندان ہنسی خوشی اپنا خزانہ لٹانے کو تیار بیٹھے ہیں . 
7, ارب ڈالر متحدہ عرب امارات ، 8, ارب ڈالر کویت اور 80, ملین ڈالر اردن ادا کرۓ گا . یہ خطیر رقم امریکہ گن پوئنٹ پر وصول کر رہا ہے .   اسکے علاوہ سعودی عرب ، قطر اور بحرین سے بھی خراج وصول کیا جاۓ گا .چند دنوں یا ہفتوں کے بعد ان ممالک کو بھی اسی طرح کا اسلحہ خریدنے کا حکم دیا جاۓ گا . ان ممالک کو اتنا اسلحہ نہ پہلے ضرورت تھا نہ اب ہے. لیکن امریکہ کو خوش رکھنا انکی مجبوری ہے . ورنہ انکی خاندانی حکومتیں قائم نہیں رہ سکتیں .
ایک عمانی صحافی کے مطابق امریکی صدر نے جی -سی -سی کے ممالک سے کہا ہے کہ اگر وہ چاہتے ہیں کہ امریکہ ، ایران کے خلاف جنگ جاری رکھے . تو وہ امریکہ کو 5, کھرب ڈالر ادا کریں . اور اگر وہ یہ چاہتے ہیں کہ جنگ روک دی جاۓ . تو پھر انھیں 2.5, کھرب ڈالر دینے ہونگے . یعنی مینوں نوٹ وکھا ، میرا موڈ بنے!!!!! 
امریکی صدر ان عرب ممالک کو کنگال کر کے چھوڑے گا .

Friday, 20 March 2026

!امریکی صدر نا قابل اعتبار ہیں

امریکی صدر نے اپنے (ٹروتھ سوشل ) اکاونٹ پر ایک لمبی چوڑی ٹویٹ کی ہے . جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اسرائیل نے ایران کی پارس گیس فیلڈ پر جو حملہ کیا ہے . اسکا امریکہ کو کوئی علم نہیں تھا . انھوں نے ایران سے اپیل کی ہے وہ قطر کی گیس فیلڈ پر مزید حملے نہ کریں . اب اسرائیل ، ایران کی گیس فیلڈ پر کوئی حملہ نہیں کرۓ  گا . قطری بڑے معصوم ہیں . انھیں تو اس اسرائیلی حملے کا کوئی علم نہیں تھا . اسلئیے ایران ان پر کوئی حملہ نہ کرۓ . اسکے ساتھ ساتھ انھوں نے ایران کو یہ دھمکی بھی لگائی کہ اگر ایران نے قطر پر مزید حملے کیے . تو امریکہ ایران پر ایسا حملہ کرۓ گا .  جو ایران کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہو گا . دوسری طرف امریکی یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ انھوں نے اب تک ایران پر نو ہزار حملے کیے ہیں اور ایران کی اینٹ سے اینٹ بجا دی ہے . اب کوئی ان سے پوچھے کہ اگر اپ نے ایران کو تباہ و برباد کر دیا ہے تو پھر اور کون سا ایسا ہتھیار رہ گیا ہے جو آپ استعمال کریں گے . یا پھر وہ ایران کو ایٹمی حملے کی دھمکی لگا رہے ہیں ؟
سعودی عرب میں بارہ مسلم ممالک کے  وزرا خارجہ کا  ایک اجلاس اٹھارہ مارچ کو ہوا . اس اجلاس میں ایران کی جانب سے خلیجی ممالک کے آئل اور گیس فیلڈ پر کیے جانے والے حملوں یر غور کیا گیا . یاد رہے کہ یہ حملے ، اسرائیل کی طرف سے ایران کی پارس گیس فیلڈ پر 
کیے جانے والے حملہ کے بعد کیے گۓ . اس اجلاس کے بعد ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا . جس میں ایران کی طرف سے قطر ، متحدہ عرب امارات ، کویت ، بحرین اور سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات یر حملے کی مذمّت کی گئی اور ایران سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ ان عرب ممالک پر حملے بند کرۓ. اس خطے میں اپنے حمایتی (حزب الله اور یمنی حو تیوں ) کی امداد بند کرۓ . آبناۓ ہرمز کی بندش ختم کرۓ . اور باب المندب کو بند کرنے کی دھمکیاں دینا بھی بند کرۓ . اسکے ساتھ ساتھ یہ دھمکی بھی لگائی کہ یہ ممالک ایران کے خلاف جوابی کاروائی کا حق رکھتے ہیں . 
ان سب ممالک کے وزرا خارجہ کو امریکہ اور اسرائیل کے خلاف ایک لفظ کہنے کی ہمت نہ ہوئی . جنھوں نے ایران پر بلا جواز حملہ کیا . جس کی وجہ سے یہ خطہ جنگ کی لپیٹ میں آیا ہوا ہے .
امریکی ڈاریکٹر آف نیشنل انٹلیجنس ، تلسی گبرڈ نے سینٹ کی انٹیلی جنس  کمیٹی کے ایک اجلاس میں ، روس ، چین ، شمالی کوریا ، ایران کے ساتھ ساتھ پاکستان کے میزائل پروگرام کو بھی امریکہ کیلئے خطرہ قرار دیا ہے . جب کہ اس رپورٹ میں بھارت کا کوئی ذکر نہیں ہے . جس کے میزائلوں کی رینج ، پاکستان کے میزائلوں سے زیادہ ہے . امریکی صدر کے پسندیدہ فیلڈ مارشل اور چہیتے شہباز شریف کا اس بارے میں ابھی تک کوئی بیان سامنے نہیں آیا . کیا ابھی بھی ٹرمپ کو نوبل امن ملنا چاہئیے ؟ 
ہمارے حکمرانوں کو یہ بات پلے باندھ لینی چاہئیے کہ امریکہ کسی کا دوست نہیں . اسکی خارجہ پالیسی ہمیشہ اپنے مفادات کے تابع ہوتی ہے .
ابھی تو صرف پاکستان کے میزائل پروگرام پر بات ہوئی ہے . کچھ عرصہ کے بعد پاکستان کا اٹیمی پروگرام بھی زیر بحث آ سکتا ہے .

Thursday, 19 March 2026

!ایران کے خلاف امریکی ،اسرائیلی جارحیت اور خلیجی ممالک

 سابق امریکی سیکٹری آف اسٹیٹ ،ہنری کسنجر نے ایک مرتبہ کہا تھا .  کہ امریکہ سے دشمنی آپکے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے .جبکہ امریکہ سے دوستی آپ کیلئے مہلک !
ایسا ہی کچھ خلیج کے عرب ممالک اور اردن کے ساتھ ہو رہا ہے . ان تمام ممالک نے امریکہ کو فوجی اڈے اس مقصد کیلئے دئیے تھے کہ اس دوستی کے عوض امریکہ انکی حفاظت کرے گا . لیکن جو کچھ ان ممالک کے ساتھ ہو رہا ہے . وہ اسکے بر عکس ہے . یعنی امریکہ کی  دوستی ان ممالک کیلئے مہلک ثابت ہو رہی ہے . اب تو ان ممالک کے حکومتی نمائیندے برملا یہ کہہ رہے ہیں کہ ہم نے یہ اڈے امریکہ کو اپنی حفاظت کیلئے دئیے تھے . لیکن یہ ہماری حفاظت کیا کرتے ،، الٹا ہم انکی حفاظت کر رہے ہیں . 
ایران نے جوابی کاروائی کرتے ہوۓ . جب ان اڈوں پر حملہ کیا تو عرب ممالک اور پاکستان میں انکے تنخوا داروں نے یہ واویلا کرنا شروع کر دیا کہ ایران ان ممالک کے ساتھ زیادتی کر رہا ہے . یہ اڈے ایران کے خلاف تو استعمال نہیں ہو رہے . جبکہ یہ حقیقت ہے کہ ان اڈوں سے امریکہ نے ایران کے خلاف فوجی کاروائی کی اور اب بھی ان اڈوں کو امریکہ ایران کے خلاف استعمال کر رہا ہے . دو دن پہلے ایران نے سعودی عرب میں ایک امریکی اڈے پر موجود فضا میں (ری فیولنگ) کیلئے استعمال ہونے والے پانچ جہاز تباہ کیے . جو ایران پر حملہ کرنے والے ایف تھرٹی فائیو جہازوں کو فضا میں  (ری فیولنگ) کی سہولت فراہم کرتے تھے . امریکی اخبار بھی اسکی تصدیق کر رہے ہیں کہ سعودی عرب میں موجود ان اڈوں کو ایران کے خلاف کاروائی کیلئے استعمال کیا جا  رہا ہے . 
خلیجی ممالک میں موجود ان اڈوں پر جو ریڈار سسٹم اور انٹر سپٹر نصب تھے . انکا مقصد صرف یہ تھا کہ ایران کی طرف سے اسرائیل پر جو میزائل داغے جائیں . انھیں راستے ہی میں تباہ کیا جا سکے . جب ایران نے ان امریکی اڈوں پر ریڈار سسٹم تباہ کر دئیے . تو امریکی تمام انٹر سپٹر میزائل ان اڈوں سے اٹھا کر اسرائیل لے گۓ . تاکہ اسرائیل کی حفاظت کی جا سکے . اسی سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ امریکہ کا اولین مقصد اسرائیل کی حفاظت تھا . اور یہی وجہ ہے کہ اب یہ عرب ممالک  دہائی دے رہے ہیں کہ امریکہ نے ہمیں بے یارو مدد گار چھوڑ دیا ہے اور ہم امریکی اڈوں کی حفاظت کرر رہے ہیں . 
ان تمام خلیجی ممالک میں جو خاندان مسند شاہی پر قابض ہیں . وہ وہی ہیں جن کے آباؤ اجداد کو انگریز مسلط کر کے گیا تھا . اس وقت بھی وہ انگریز کے وفا دار تھے اور آج انکی اولادیں بھی امریکہ اور برطانیہ کی وفادار ہیں . امریکہ اور برطانیہ کو خوش رکھنے کیلئے یہ سب اپنی تیل کی دولت ان ملکوں میں رکھتے ہیں . ان کو اپنے ملکوں میں فوجی اڈے بھی اپنے پیسوں سے بنا کردئیے ہیں . اور پھر ہر کچھ عرصے کے بعد ان سے اربوں ڈالر کا اسلحہ بھی خریدتے ہیں . ان عرب حکمرانوں کا مقصد صرف یہ ہے کہ امریکہ اور برطانیہ انکی شاہی حکومتوں کو برقرار رکھنے کیلئے انکی مدد کرتے رہیں . اسرائیل کے ساتھ بھی ان سب کے اچھے تعلقات ہیں . فلسطین کے مظلوم عوام کے ساتھ انہیں کوئی ہمدردی نہیں . ایران کو بھی یہ اسلئیے پسند نہیں کرتے کہ وہ فلسطین کی آزادی کی بات کرتےہیں . جب عمران خان وزیر اعظم تھے اور وہ ہر بین الاقوامی فورم یر کشمیر اور فلسطین کی بات کرتے تھے . تو ان ممالک کے حکمران عمران خان کو بھی کہتے تھے کہ فلسطین کے معاملے پر بات نہ کیا کریں .
ایران کے رہنماؤں اور عوام کی جرات ، ثابت قدمی اور استقامت نے اسرائیل اور امریکہ کے نا قابل شکست  ہونے کا تصور پاش پاش کر دیا ہے . ایرانیوں نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ دفاع کیلئے صرف اسلحہ ہی ضروری نہیں . بلکہ ہمت ، استقامت اور اپنی صلاحیتوں پر اعتماد بھی ضروری ہوتا ہے . ایک فون کال پر ڈھیر ہو جانے والے شائد یہ 
سمجھنے سے قاصر ہیں .


Wednesday, 11 March 2026

! حیران کن ایرانی کاروائیاں

 جس طرح ایران نے امریکی اور اسرائیلی حملے کا جواب دیا ہے .اسکی توقع دنیا میں کسی کو بھی نہیں تھی . امریکی صدر یہ اعلان کر رہے تھے کہ ایران چار دن بھی امریکہ اور اسرائیل کے سامنے نہیں ٹک سکے گا . ایرانی آعلی ،سیاسی اور فوجی قیادت کے ہلاک ہو جانے کے بعد ، ایرانی عوام اپنی حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکل آئیں گے اور ایرانی فوج ہتھیار پھینک کر امریکہ کے سامنے گھٹنے ٹیک دے گی .
لیکن بھاری نقصان اٹھانے کے باوجود جس طرح ایران نے جوابی کاروائی کا آغاز کیا . اس نے نہ صرف ساری دنیا کو حیران کیا .بلکہ امریکی صدر کو بھی حواس باختہ کر دیا . جنگ کو تین ،چار دن میں ختم کرنے کا دعویٰ کرنے والے . اب چار ہفتوں اور پھر جب تک ہمارے مقاصد پورے نہیں ہو جاتے .اس وقت تک جاری رکھنے کا اعلان کر رہے ہیں .
ایران کی سب سے اہم جوابی کاروائی ، ان امریکی ریڈار کی تباہی تھی . جو کویت ، قطر اور اردن میں نصب تھے . قطر میں موجود ایک امریکی ریڈار اے .این .ایس - ایف . پی . ایس - 132- تھا . اس ریڈار کی قیمت 1.1, بلین ڈالر تھی . یہ ریڈار پانچ ہزار میل کے دائرے میں ہر سمت سے آنے والے میزائلوں کو ٹریک کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا . اسکے علاوہ اردن میں موجود (تہاڈ ) (THAAD) انٹی میزائل سسٹم جو کے ایران سے آنے والے میزائلوں کو ٹریک کرنے اور انھیں اسرائیل تک جانے سے روکنے کیلئے نصب کیا گیا تھا ، اسے بھی تباہ کر دیا . اس سسٹم کی قیمت تین سو ملین ڈالر تھی .
اسکے ساتھ ساتھ ایران نے بحرین میں موجود پانچویں امریکی بحری بیڑے کے  ہیڈ کواٹر کو بھی نشانہ بنایا . یہ بیس اس خطے میں امریکی بحریہ کا سب سے بڑا اور ایک اہم ترین بحری اڈا تھا .
خلیج کے ممالک میں موجود تمام امریکی اڈوں کو بھی ایران نے ڈرونز اور میزائلوں کے ذریعے نشانہ بنایا . ان میں کویت ، قطر ، متحدہ عرب امارات ، سعودی عرب اور عراق میں امریکی فضائی اڈے شامل ہیں . اسکے ساتھ ساتھ اردن اور اسرائیل کو بھی نشانہ بنایا گیا . شروع میں تو امریکہ نے اپنے ان اڈوں کو بچانے کیلئے یہاں پر نصب انٹی میزائل انٹر سپٹر استعمال کیے . لیکن جب ایران نے اسرائیل پر ڈرونز اور میزائلوں کی بارش کی تو امریکہ نے خلیج کے ممالک میں موجود اپنے اڈوں سے یہ تمام انٹی میزائل انٹر سپٹر اسرائیل منتقل کر دئیے اور ان ممالک کو بے یارو مدد گار چھوڑ دیا . خلیج کے یہ ممالک اب یہ واویلا کر رہے ہیں کہ ہم نے امریکہ کو یہ اڈے اپنی حفاظت کیلئے دئیے تھے . جبکہ یہ ہماری حفاظت تو کیا کرتے . ہم انکی حفاظت کر رہے ہیں .
مغربی میڈیا ہمیشہ کی طرح جانبداری کا مظاہرہ کرتے ہوۓ . امریکی اور اسرائیلی کاروائیوں کو بڑھا چڑھا کر بیان کر رہا ہے . لیکن جس طرح اسرائیلی حکومت  نے ملک میں مکمل سنسر شپ عائد کی ہے . اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ ایرانی حملے کافی حد تک کار گر ثابت ہو رہے ہیں . 
اس میں شک نہیں کہ امریکہ ایک سپر پاور ہے اور اسرائیل کے ساتھ ملکر انکی طاقت ایران سے کئی گنا زیادہ ہے . ایران کے ہمساۓ میں کوئی بھی ملک اس قابل نہیں کہ وہ امریکہ اور اسرائیل کے مقابلے میں اسکی مدد کر سکے . اسکے باوجود جس طرح ایرانی افواج اور عوام اس جارحیت کا مقابلہ کر رہے ہیں . وہ بھی ایک انوکھی مثال ہے .
ایرانی یہ ثابت کر رہے ہیں کہ جنگ لڑنے کیلئے  صرف اسلحہ ہی کافی نہیں . بلکہ جرات ، بہادری ، ثابت قدمی ، صبر و استقامت اور مناسب حکمت عملی بھی ضروری ہے . ایرانی افواج اور قوم میں ان کی کوئی کمی نہیں . 
امریکی رعونت ، تکبر ، غرور اور نا قابل شکست ہونے کا گھمنڈ ، ایرانیوں نے پاش پاش کر دیا ہے . نہ صرف اس خطے بلکہ ساری دنیا میں  اس کے دوررس نتائج ہونگے !!!!!

Wednesday, 4 March 2026

ایران پر ایٹمی حملے کا خطرہ

 جب سے امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا ہے .ہر دن اس حملے کے بارے میں ایک نئی وضاحت سامنے آ رہی ہے . آج ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوۓ .امریکی صدر فرما رہے تھے کہ ہم نے ایران پر حملہ اس لیے کیا ہے کہ ہمیں یہ اطلاع ملی تھی کہ ایران ،امریکہ اور خلیج میں موجود امریکی اڈوں پر حملہ کرنے والا ہے . جب کے اسی دوران ایک دوسری تقریب میں ،امریکی ڈیفنس منسٹر (جنھیں آج کل منسٹر آف وار ) کہا جاتا ہے . یہ کہتے ہیں کہ کیونکہ اسرائیل نے ایران پر پہلے ہی حملہ کر دیا تھا . اور ہمیں یہ ڈر تھا کہ اب ایران امریکی اڈوں پر جوابی حملہ کر سکتا ہے . اسلئیے ہم نے بھی ایران پر حملہ کر دیا . اب ان دونوں میں سے کون سچ بول رہا ہے .اس کا فیصلہ آپ خود کر سکتے ہیں .
اس میں اب شک کی کوئی گنجائش نہیں کہ امریکہ اور اسرائیل نے پہلے ہی ایران پر حملہ کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا . مذاکرات کا ڈونگ صرف اسلئیے رچایا جا رہا  تھا کہ ایران کو بے خبری میں دبوچ لیا جاۓ . اس منصوبے میں (جی -سی -سی )کے عرب ممالک بھی پوری طرح شامل تھے .
خلیجی ممالک اب یہ واویلا کر رہے ہیں کہ ایران ہم پر کیوں حملہ آور ہے . امریکہ ہمارے ملکوں  میں موجود اڈوں سے تو کوئی کاروائی نہیں کر رہا . حالانکہ امریکہ ان  اڈوں میں موجود اپنے انٹی میزائل سسٹم سے اسرائیل کی طرف جانے والے ایرانی ڈرون اور میزائل گرانے کی پوری کوشش کر رہا ہے . اسکے علاوہ پچھلے سال ہونے والی ایران ،اسرائیل جنگ کے دوران ان امریکی اڈوں سے ،امریکی اور برطانوی ٹینکر جہاز ،اسرائیلی جہازوں کو فضا میں (ری فیول )کرتے رہے ہیں . اسکے بارے میں بینالاقوامی میڈیا میں تصویروں کے ساتھ خبریں چھپ چکی ہیں .اور ان عرب ممالک نے ان خبروں کی کبھی تردید نہیں کی .
امریکی اخبار (واشنگٹن پوسٹ )میں یہ خبر بھی چھپ چکی ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم کے ساتھ ساتھ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان بھی امریکی صدر پر ایران پر فوری حملہ کرنے کیلئے دباؤ ڈالتے رہے ہیں .
بہت سے امریکی سابق فوجی اور( سی -ائی -اے) کے سابق عہدیدار یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ امریکی صدر اور اسرائیلی وزیر اعظم کو اس حملے سے جو توقعات تھیں وہ اب تک پوری نہیں ہوئیں . انکا خیال تھا کہ سپریم لیڈر اور اعلی فوجی قیادت کے مارے جانے کے بعد ،ایرانی ہتھیار ڈال دیں گے اور کوئی ایسی قیادت سامنے آ جاۓ گی .جو امریکہ اور اسرائیل کے آگے سر تسلیم خم کر دے گی . ایسا ہونے کا ابھی تک کوئی امکان نظر نہیں آ رہا .  ایران ،اسرائیل اور امریکی اڈوں کو کامیابی سے نشانہ بنا رہا ہے . آبناۓ ہورمز کی بندش سے دنیا کو تیل اور گیس کی فراہمی بھی ایران نے معطل کر دی ہے . جس سے یورپ ،جاپان ،چین اور ایشا کے بہت سے ممالک میں نہ صرف تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے بلکہ انھیں یہ پریشانی بھی ہے کہ اگر یہ بندش زیادہ دیر قائم رہتی ہے تو انکی معیشت بری طرف متاثر ہو سکتی ہے .
اسرائیلی وزیر اعظم پیچھلے تیس سالوں سے اس کوشش میں مصروف تھے کہ کسی طرح امریکی مدد سے ایران  کی انقلابی حکومت کا خاتمہ کیا جاۓ . انھوں نے پچھلے سال جون میں بھی یہ کوشش کی . بارہ دنوں کی اس جنگ کے دوران بھی وہ یہ کوشش کرتے رہے کہ امریکہ بھی اس جنگ میں شامل ہو جاۓ . گو اس وقت امریکہ جنگ میں شامل تو نہ ہوا . لیکن امریکہ نے ایران پر ایک حملہ ضرور کیا . اس فضائی حملے کے بعد امریکی صدر نے یہ دعوه بھی کیا کہ انھوں نے ایران کا ایٹمی پروگرام مکمل طور پر تباہ و برباد کر دیا ہے . اب پھر کہہ رہے ہیں کہ امریکہ ایرانی ایٹمی پروگرام کو ضرور تباہ کرۓ  گا . جھوٹ اور ہٹ دھرمی کا اندازہ لگائیں کہ اگر پچھلے سال جون میں آپ نے ایک کام کر دیا تھا . تو پھر اب وہی کام دوبارہ کریں گے . اسکا مطلب یہ ہے کہ آپ نے پہلے بھی جھوٹ بولا اور آج پھر جھوٹ بول رہے ہیں .
کچھ امریکی تجزیہ نگار یہ کہ رہے ہیں کہ اگر امریکہ اور اسرائیل اس جنگ میں بھی وہ نتائج نہ حاصل کر سکے .جو وہ چاہتے ہیں . تو اسرائیلی وزیر اعظم ایران کے خلاف ایٹمی ہتھیار بھی استعمال کر سکتے ہیں . انکے بقول اسرائیلی وزیر اعظم پاگل ہو چکے ہیں . وہ اس مرتبہ ایران کی مکمل تباہی چاہتے ہیں . اگر کسی نے انکا ہاتھ نہ روکا تو وہ آخری حد تک جا سکتے ہیں . ان میں صداقت کتنی ہے .اسکے بارے میں ہم یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتے . لیکن ٹرمپ اور نیتن یاہو سے کچھ بھی بعید نہیں . وہ پاگل پن میں کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں .