ایران ،امریکہ اور اسرائیل کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی کا اعلان سات اپریل کو ہوا . پاکستانی حکومت کے مطابق ، لبنان بھی اس جنگ بندی کا حصہ ہے . لیکن اسرائیلی وزیر اعظم اس بات سے انکاری ہیں. یہی وجہ ہے کہ اس جنگ بندی کا اعلان ہونے کے ایک ہی دن بعد اسرائیل نے لبنان پر حملہ کر دیا . جس میں اب تک سنیکڑوں افراد ہلاک اور ہزروں زخمی ہو چکے ہیں . حقیقت اے ہے کہ اسرائیل کسی بھی قسم کی جنگ بندی کے حق میں نہیں . وہ ایران کی مکمل تباہی چاہتے ہیں . دھائیوں سے اسرائیل کا رویہ یہی ہے کہ جب دباؤ پڑے تو جنگ بندی کیلئے تیار ہو جاتے ہیں . اور پھر جب موقع ملتا ہے . جنگ شروع کر دیتے ہیں . امن اسرائیل کیلئے اس وقت تک قابل قبول نہیں . جب تک وہ اپنے اس پاس کے تمام ممالک کو تباہ و برباد نہیں کردیتے .
یہی وجہ ہے کہ اسرائیل لبنان پر حملوں کے ذریعۓ اس جنگ بندی کو نا کام بنانا چاہتا ہے .
مشرق وسطیٰ میں امن اور اسرائیل دونوں ایک ساتھ نہیں رہ سکتے — دنیا کو دونوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہو گا ۔ اسرائیل ایک نسل پرست ریاست ہے ۔جس کا پورا وجود مشرق وسطیٰ میں مسلسل تشدد اور زیادتی کی حکمت عملی پر مبنی ہے۔ جب تک یہ حالت اپنی موجودہ شکل میں موجود ہے، امن کبھی حاصل نہیں ہو سکتا۔