Thursday, 23 April 2026

!اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا

امریکہ اور اسرائیل نے  جب ایران کے خلاف یہ جنگ شروع کی تو انکے چار بنیادی مقاصد تھے .
ایران کے  نیوکلیر انرچمنٹ پروگرام کو مکمل ختم کرنا .
مشرق وسطیٰ میں ایرانی اتحادیوں کیلئے . ایران کی حمایت کو ختم کرنا .
ایران کی میزائل بنانے اور انکو لانچ کرنے کی صلاحیت کو تباہ کرنا .  
اور 
ایران میں حکومت کی تبدیلی .
اب تک کی صورت حال کا اگر جائزہ لیا جاۓ . تو یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ امریکہ اور اسرائیل ابھی تک   ان چار مقاصد میں سے  کوئی ایک بھی حاصل کرنے میں نا کام رہے ہیں . اگرچہ ایرانیوں کو شدید نقصانات کا سامنا کرنا پڑا .  علی خامنائی کے ساتھ ساتھ بڑی تعداد میں انکے فوجی اور سیاسی رہنما شہید کر دئیے گے . لیکن اتنے  بڑے نقصان کے با وجود ، ایرانیوں نے بڑی ثابت قدمی اور جرات کا مظاہرہ کیا .  ایرانی قوم انتشار کا شکار ہونے کی بجاۓ . متحد ہو گئی .
امریکہ اور اسرائیل کا خیال تھا کہ لیڈر شپ کے مارے جانے کے بعد ، ایران میں معاشی مشکلات سے تنگ  عوام سڑکوں پر نکل آئی گی . اسطرح انھیں ایران میں خانہ جنگی کروانے کا موقعہ مل جاۓ گا  . جس طرح انھوں نے عراق، شام ، لیبیا ،سوڈان ، صومالیہ اور یمن کا حال کیا . اسی طرح ایران کو بھی مختلف ، ایک دوسرے سے باہم دست و گریبان گروپ ، تقسیم کر دیں گے .
ایرانی قوم کے اتحاد اور جذبہ حب الوطنی نے  ، امریکہ اور اسرائیل کا یہ منصوبہ بھی نا کام بنا دیا .
ابناۓہرمز  ابھی تک بند ہے .  امریکی صدر اپنی تمام تر طاقت اور اشتعال انگیز دھمکیوں کے با وجود ، اس سمندری راستے کو کھلوانے میں نا کام ہیں . ایک طرف اسرائیل ہے .جو ہر صورت اس جنگ کو طول دینے چاہتا ہے .  دوسری طرف اقتصادی حقائق ہیں .جو جنگ بندی کا تقاضا کرتے ہیں .  امریکی قیادت ، اسرائیل اور ساری دنیا کو در پیش اقتصادی مشکلات میں کوئی توازن قائم کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہے .یہی امریکی پالیسی کا وہ تضاد ہے . جو جنگ بندی میں رکاوٹ بنا ہوا ہے .
ایران کی دس نکاتی تجویز جو اسلام آباد مذاکرات کے پہلے راؤنڈ سے پہلے پیش کی گئیں . مزید مذاکرات کی بنیاد ہیں .لیکن یہ دس نکات ، کئی ایسی شرائط پر مشتمل ہیں جن کو امریکہ بار بار مسترد کر چکا ہے . ایران کا  مطالبہ ہے کہ ، ایران پر لگی تمام ، بنیادی اور ثانوی پابندیاں ختم کی جائیں . آبناۓ ہرمز پر ایرانی کنٹرول تسلیم کیا جاۓ . مشرق وسطیٰ سے امریکی فوجی اڈوں کا خاتمہ ، ایران اور اسکے اتحادیوں پر حملوں کا روکنا ، ایران کے سو بلین سے زائد منجمد اثاثوں کو واگزار کرنا اور کسی بھی معائدے کیلئے ،اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار داد ، یہ گارنٹی دے کہ آئندہ ، ایران پر حملہ نہیں کیا جاۓ گا .
اب یہ ٹرمپ انتظامیہ پر منحصر ہے کہ کیا وہ ایران کو یہ رعایتیں دینے پر تیار ہے ؟  پھر اسرائیل کا کیا کردار ہو گا . جس نے ایران پر دوبارہ حملے شروع کرنے کی دھمکی دی ہے .ایران نے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ جب تک چاہیں ، آبناۓ ہرمز کو بند رکھ سکتے ہیں .عالمی معیشت جو پہلے ہی دباؤ کا شکار ہے  اور کتنا عرصہ برداشت کر سکتی ہے .امریکہ کی سب سے زیادہ ذمہ داری ہے کہ وہ اسکا حل نکالے  . اس سے پہلے کہ ایک عالمی معاشی بحران جنم لے .
امریکی صدر نے ایک بار پھر جنگ بندی میں تو سیع کر دی ہے . اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکی صدر اس بحران سے نکلنا چاہتے ہیں . لیکن وہ ایک ایسی ڈیل چاہتے ہیں کہ جس میں انھیں یہ کہنے کا موقعہ مل سکے کہ انہوں نے اپنے مقاصد حاصل کر لیے ہیں .
ایرانی، امریکی صدر پر کسی صورت اعتبار کرنے کو تیار نہیں . پاکستانی اسٹبلشمنٹ کے پاس ایسی کوئی صلاحیت نہیں کہ وہ ایران کو کوئی مضبوط گارنٹی دے سکیں . اسکے لیے ضروری ہے کہ روس ، چین ، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے ملکر کوئی ایسا   منصوبہ پیش کریں .کہ اگر اس پر اتفاق ہو جاۓ . تو ایران کو یہ گارنٹی ہو کہ پھر اس پر امریکہ اور اسرائیل حملہ نہیں کریں گے اور جو بھی معائدہ ہو اس پر عمل درآمد کیا جاۓ گا . 
اب تک کی صورت حال کے مطابق ایران کا پلا بھاری ہے . امریکہ اور اسرائیل اپنے وہ مقاصد حاصل کرنے میں نا کام رہے . جن کو بنیاد بنا کر انھوں نے یہ جارحیت کی تھی . ایران میں اسلامی حکومت قائم ہے . ملک میں کوئی افراتفری نہیں . ایران کی دفاہی صلاحیت برقرار ہے . اور سب سے بڑھ کر ایرانی قوم پہلے سے زیادہ متحد ہو چکی ہے .
امریکہ اور ایران ،دونوں یہ چاہتے ہیں کہ جنگ ختم ہو .  اب دیکھنا یہ ہے کہ دونوں فریق ایک دوسرے کو کیا رعایتیں دے سکتے ہیں . فیصلہ کچھ لو . کچھ دو کی بنیاد  پر ہو گا . اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ جو کچھ ایرانی سنتالیس سالوں میں مذاکرات سے حاصل نہیں کر سکے .وہ انھوں نے اس جنگ سےتقریبآ  حاصل کر لیا ہے . اگر امریکہ ایرانی ایٹمی انرچمنٹ پروگرام کو محدود کرنا چاہتا ہے .تو اسے ایران پر سے اقتصادی پابندیاں ہٹانا ہونگی . اگر ایرانی اور کچھ بھی  حاصل نہ کر سکیں .صرف اقتصادی پابندیوں کا خاتمہ ہو جاۓ . یہ  بھی ایران کی ایک  بہت بڑی کامیابی ہو گی !!!!

Wednesday, 22 April 2026

!کپڑے بیچ کر


انتیس مئی ، 2022، کو اس وقت کے وزیر اعظم شہباز شریف ، جو خیر سے آج بھی وزیر اعظم پاکستان ہیں . نے کہا تھا کہ وہ اپنے کپڑے بیچ کر عوام کو سستے آٹے کی فراہمی یقینی  بنائیں  گے . یہ وہی صاحب ہیں جو کہتے تھے کہ وہ زر بابا کو ، لاہور ، کراچی کی سڑکوں پرگسیٹیں گے اور انکا پیٹ پھاڑ کر  غریبوں کی  لوٹی ہوئی دولت نکال کر عوام کے قدموں میں ڈھیر کر دیں گے .
پھر چشم فلق نے ایک عجیب نظارہ دیکھا . کہ جن کو سڑکوں پر گھسیٹنا اور جن کے پیٹ پھاڑ کر عوام کی لوٹی ہوئی دولت واپس لانی تھی . انھیں کے ساتھ مل کر عوام کے منڈیٹ پر ڈاکا ڈالا . اور انھیں طاقتوں کے قدموں میں بیٹھ گۓ . جنھیں پاکستان کی تباہی اور بربادی کا ذمہ دار  ٹھراتے تھے . 
بجلی ، گیس ، پیٹرول ،ڈیزل ،ٹرانسپورٹ اور خوراک ،غرض  ہر چیز عوام کی دسترس سے دور  ہو چکی ہے .  جتنی بجلی ہم استعمال کرتے ہیں . اس کی قیمت سے زیادہ بل میں ٹیکس شامل ہوتا ہے .میرا اس مہینے کا بل 2293، روپے ہے . جبکہ جو بجلی استعمال ہوئی .اسکی قیمت 1106، روپے اور باقی 1187، روپے ٹیکس ہے .ہر گھر کا بل اسی طرح کا ہے .  یہی حال گیس کا ہے .  
وزیر اعظم صاحب نے اپنے کپڑے بیچ کر غریب عوام کی مدد کرنے کا دعوا کیا تھا . لیکن انھوں نے تو غریب عوام کے ہی کپڑے اتروا دئیے ہیں .  اور ساتھ میں عوام سے مزید قربانی کے تقاضے بھی کیے جا رہے ہیں . کیا ملک کیلئے قربانی دینا صرف عوام کا فرض ہے ؟

Friday, 17 April 2026

.اقتدار حاصل کر لیا ۔ساکھ کھودی

"کیا ان سے بھی غلطی ہو سکتی ہے ؟"
پاکستان میں  طاقت کے ایوانوں  میں یہ سوال شاذ و نادر ہی اتنی سنجیدگی سے پوچھا جاتا ہے۔ اور اکثر اوقات، ان کے فیصلوں کا جو نتیجہ سامنے آتا ہے . وہ ثابت کرتا ہے کہ ایسا کیوں ہونا چاہیے تھا۔یعنی انھیں اپنے ماضی کے فیصلوں سے یہ سیکھنا چاہئیے تھا .کہ ان سے بھی غلطی ہو سکتی ہے .وہ عقل کل نہیں ہیں .

عمران خان کی برطرفی، جو فوجی اسٹیبلشمنٹ اور پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے اتحاد سے کی گئی.نظام کو دوبارہ ترتیب دینے کیلئے تھی . اس کا مقصد اپنی قوت و طاقت کا اظہار کرنا . اپنی حکمرانی کو مستحکم کرنا اور ایک ایسی عوامی قوت کے پروں کو کاٹنا تھا . جو اب فوجی اسٹیبلشمنٹ ، نوکر شاہی اور سیاسی اشرافیہ کیلئے تکلیف دہ بنتی جا رہی تھی .

انھوں نے عمران حکومت کو تو تبدیل کر لیا . لیکن اس اقدام نے ایک ایسے عوامی رد عمل کو جنم دیا .جس کے بارے میں انھوں نے سوچا بھی نہیں تھا . اور جسے تمام تر ظلم و جبر کے یہ ابھی تک مکمل قابو کرنے میں نا کام رہے ہیں .

انکی پہلی غلطی قانونی حثیت تھی . جو کچھ آئینی طور پر قابل دفاع ہو سکتا تھا .وہ عوامی قبولیت میں تبدیل نہیں ہوا .سیاست صرف قانونی شقوں سے  طےنہیں ہوتی .بلکہ تصور میں طےہوتی ہے . جو تاثر غالب آیا .وہ بہت سادہ اور خطرناک تھا : کہ عوام کی کوئی حثیت نہیں .نظام پر تو قابو پا لیا گیا .اور ایک ایسے رہنما کو ہٹا دیا .جو عوامی حمایت رکھتا تھا .اقتدار پر قابض ٹولہ اپنی تمام تر کوشش کے با وجود ابھی تک عمران خان کی عوامی حمایت میں کمی لانے سے قاصر ہے .

صرف یہ تصور ہی کہ عمران خان ابھی تک ڈٹ کے کھڑا ہے . نے عمران خان کو جد و جہد اور استقامت کا ایک  استعارہ بنا دیا . ایک ہی جھٹکے میں ، پاکستان تحریک انصاف مزاحمت کی علامت میں تبدیل ہو گئی .کہانی الٹ گئی . احتساب قربانی میں بدل گیا .مخالفت بغاوت میں بدل گئی .
یہ سیاست کا سب سے پرانا تضاد ہے: 

دباؤ، جب غلط لاگو کیا جاتا  ہے، تو وہ مزاحمت کو کچلتا نہیں—بلکہ اسے مزید تقویت دیتا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کو توڑنے کی ہر  ممکن  کوشش ہوئی .بہت سے رہنما توبہ تائب ہو کر سیاست کو خیر باد کہہ گۓ .لیکن اسکی عوامی حمایت کی بنیاد مزید مضبوط ہوئی .ڈیجیٹل جگہیں مزاحمت کے بازگشت خانوں میں بدل گئیں    .
اسے محدود کرنے کی کوشش نے اسے مزید  بڑھاوا دیا۔ اسٹیبلشمنٹ  نے صرف ایک سیاسی مخالف پیدا  نہیں کیا .اس نے ایک تحریک کی تیاری میں بھی مدد کی .

اس دوران جن لوگوں نے اقتدار سنبھالا . انھوں نے ایک ایسا نظام وراثت میں پایا . جس کے  پاس کوئی عوامی ، قانونی اور اخلاقی اختیار نہیں تھا . ظلم و جبر کی سیاست ، معاشی زوال ، آئی -ایم -ایف کے محدودات --ان میں سے کوئی بھی فیصلہ کن حکمرانی کی اجازت نہیں دیتا .جو کچھ ہوا وہ متوقع تھا: 

ہچکچاہٹ، ناپسندیدہ فیصلے، اور عوامی مزاج سے بڑھتی ہوئی دوری۔ طاقت محفوظ کر لی گئی.لیکن اختیار حاصل نہ ہو سکا .اور اس سب کے نیچے ایک گہری قیمت چھپی ہوئی ہے : ادارہ جاتی ساکھ کی !!!!!

جب غیر سیاسی عناصر ،سیاسی انجینئرنگ کرتے ہیں . تو طویل المدتی نقصان    نازک ، لیکن شدید ہوتا ہے .اعتماد ختم ہو جاتا ہے .غیر جانبداری مشکوک ہو جاتی ہے .ہر آئندہ حرکت کی قدر ،کریڈٹ کی بنیاد پر نہیں . بلکہ نیت کی بنیاد پر کی جاتی ہے .یہی وہ مقام ہے .جہاں "کیا غلط ہو سکتا ہے ". صرف ایک جملہ نہیں رہتا - بلکہ ایک نمونہ بن جاتا ہے .کیونکہ اصل نا کامی یہاں حکمت عملی کی نہیں .انکی حکمت عملی کامیاب ہوئی . حکومت ہٹا دی گئی .کنٹرول دوبارہ قائم ہو گیا . لیکن سیاست شطرنج نہیں ہے .آپ ایک ٹکڑا پکڑ کر نہیں جیتتے ؟آپ بساط کنٹرول کر کے  جیتتے ہیں .....

اس معاملے میں ،بساط بدل گئی . جو غلط ہوا . وہ عمل نہیں تھا . بلکہ یہ مفروضہ تھا کہ طاقت بغیر - نتائج کے دوبارہ ترتیب دی جاسکتی ہے . عوامی جذبات کو قابو میں رکھا جا سکتا ہے ؟ بیانیہ کو قبولیت دلائی جا سکتی ہے .ایک ایسے دور میں جب وہ مسلسل زیر بحث ہے . انھوں نے اقتدار تو جیت لیا .لیکن وہ اپنی ساکھ ہار بیٹھے !

 سیاست ہو یا زندگی کا کوئی بھی شعبہ ، کوئی فرد واحد ہو یا ادارہ "ساکھ "کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا !!

Thursday, 16 April 2026

They Won the Move, But Lost the Moment

“What could go wrong?” In Pakistan’s power corridors, that question is rarely asked with enough seriousness. And more often than not, what follows proves why it should have been.

The removal of Imran Khan, engineered through a convergence of the military establishment and the Pakistan Democratic Movement, was meant to reset the system. It was supposed to restore order, stabilize governance, and clip the wings of a populist force that had become inconvenient.

Instead, it triggered a chain reaction no one fully controlled.

The first miscalculation was legitimacy. What may have been constitutionally defensible did not translate into public acceptance. Politics is not decided in legal clauses alone—it is decided in perception. And the perception that took hold was simple and dangerous: the system was manipulated to remove a leader who still commanded mass support.

That perception didn’t weaken Imran Khan—it weaponized him.

In one stroke, he transformed from a contested incumbent into a symbol of resistance. The narrative flipped. Accountability turned into victimhood. Opposition turned into insurgency. This is the oldest paradox in politics: pressure, when misapplied, doesn’t crush—it concentrates.

Then came the mobilization. Instead of fragmentation, his support base hardened. Street power grew. Digital spaces became echo chambers of defiance. The attempt to contain him ended up amplifying him. The establishment didn’t just create a political opponent—it helped manufacture a movement.

Meanwhile, those who took power inherited a system without owning its mandate. Coalition politics, economic freefall, IMF constraints—none of it allowed for decisive governance. What followed was predictable: hesitation, unpopular decisions, and a growing disconnect with the public mood. Power was secured, but authority remained elusive.

And beneath all this lies a deeper cost: institutional credibility. When non-political actors are seen as political engineers, the long-term damage is subtle but severe. Trust erodes. Neutrality becomes suspect. Every future move is judged not on merit, but on motive.

This is where “what could go wrong” becomes more than a phrase—it becomes a pattern.

Because the real failure here is not tactical. The move itself worked. The government was removed. Control was reasserted.

But politics is not chess. You don’t win by capturing a single piece.

You win by controlling the board—and in this case, the board shifted.

What went wrong was not the action, but the assumption behind it: that power could be rearranged without consequences, that public sentiment could be managed, that narratives could be dictated in an age where they are constantly contested.

They won the move.

But they lost the moment—and in politics, moments have a way of defining everything that comes after.

Saturday, 11 April 2026

.امن اور اسرائیل - دونوں ایک ساتھ نہیں چل سکتے

ایران ،امریکہ اور اسرائیل کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی کا اعلان سات اپریل کو ہوا .  پاکستانی حکومت کے مطابق ، لبنان بھی اس جنگ بندی کا حصہ ہے . لیکن اسرائیلی وزیر اعظم  اس بات سے انکاری ہیں. یہی وجہ ہے کہ اس جنگ بندی کا اعلان ہونے کے ایک ہی دن بعد اسرائیل نے لبنان پر حملہ کر دیا . جس میں اب تک سنیکڑوں افراد ہلاک اور ہزروں زخمی ہو چکے ہیں .  حقیقت اے ہے کہ اسرائیل کسی بھی قسم کی جنگ بندی کے حق میں نہیں . وہ ایران کی مکمل تباہی چاہتے ہیں .  دھائیوں سے اسرائیل کا رویہ یہی ہے کہ جب دباؤ پڑے تو جنگ بندی کیلئے تیار ہو جاتے ہیں . اور پھر جب موقع ملتا ہے . جنگ شروع کر دیتے ہیں . امن اسرائیل کیلئے اس وقت تک قابل قبول نہیں . جب تک وہ اپنے اس پاس کے تمام ممالک کو  تباہ و برباد نہیں کردیتے . 
یہی وجہ ہے کہ اسرائیل لبنان پر حملوں کے ذریعۓ اس جنگ بندی کو نا کام بنانا چاہتا ہے . 
مشرق وسطیٰ میں امن اور اسرائیل دونوں ایک ساتھ نہیں رہ سکتے  — دنیا کو دونوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہو گا ۔ اسرائیل ایک نسل پرست   ریاست ہے ۔جس کا پورا وجود مشرق وسطیٰ میں مسلسل تشدد اور زیادتی کی حکمت عملی پر مبنی ہے۔ جب تک یہ حالت اپنی موجودہ شکل میں موجود ہے، امن کبھی حاصل نہیں ہو سکتا۔

!گھر عذاب اور باہر ثواب

اسلام آباد میں ، ایران ،امریکی ،اسرائیلی جنگ کے خاتمےاور  خطے میں امن کی بحالی کیلئے ،مذاکرات کل یعنی ہفتے کی صبح ، شروع ہونے ہیں . ان مذاکرات میں ، امریکہ کے نائب صدر اپنے ملک کی نمائیندگی کریں گے . انکے ساتھ ، سٹیو وٹکاف اور امریکی صدر کے داماد جرڈ کشنر بھی مذاکراتی ٹیم کا حصہ ہونگے . جبکہ ایران کی طرف سے ، ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر،محمد غالباف  اور وزیر خارجہ ، عباس  عراقچی ان مذاکرات میں شریک ہونگے .  مذاکرات دو ہفتے تک جاری رہ سکتے ہیں . ان مذاکرات کا کیا نتیجہ نکلے گا . اس کے بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا . بعض مبصرین کا خیال ہے کہ جب تک اسرائیل ، لبنان پر حملے نہیں روکتا . ان مذاکرات کا کوئی مثبت نتیجہ نہیں نکلے گا . 
پاکستان کی طرف سے جنگ بندی کی کوششوں کو ساری دنیا میں سراہا جا رہا ہے .  ہمیں بھی خوشی ہے کہ کسی مثبت کام میں پاکستان کا نام لیا جا رہا ہے . لیکن دوسری طرف اس ہائی بریڈ نظام نے ملک کے اندر جو تباہی مچائی ہے . اسکا بھی کوئی ذکر ہونا چاہئیے . معیشت وگرگوں ہے . غربت کی شرح میں بے تحاشا اضافہ ہو رہا ہے .ملک کے اندر انسانی حقوق کی سر عام خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں . انصاف کا نظام مکمل تباہی کا شکار ہے . ہزاروں سیاسی کارکن جیلوں میں بند ہیں .ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ اور سابق وزیر اعظم کے بنیادی انسانی حقوق کو بوٹوں تلے روندا جا رہا ہے .ملک میں پر امن احتجاج کی اجازت نہیں .کم از کم ملکی میڈیا کو تو اس پر بات کرنی چاہئیے . 
دنیا میں امن کیلئے کوشش کرنا اچھی بات ہے . لیکن ملک میں انسانی حقوق ، انصاف ، غریب عوام کیلئے اسانیاں پیدا کرنا کس کا کام ہے ؟    ملک سے باہر  ،مذاکرات سے جھگڑوں کا حل اور ملک کے اندر ، لاٹھی ،گولی کی سرکار !!!!
یہ مذاکرات اسلام آباد کے ایک مخصوص علاقے میں ہونگے  . لیکن جمعہ کے دن سے جڑواں شہروں کو مکمل بند کر دیا گیا ہے . اسلام آباد سبزی منڈی بند ہے . پشاور روڈ پر تمام کاروبار اور ہوٹل بھی  بند ہیں .  کیا سیکورٹی کا یہ ہی طریقہ ہے کہ لاکھوں لوگوں کے کاروبار بند کر دئیے جائیں . مذاکرات سرینا ہوٹل اسلام آباد میں ہونگے . کیا اس ہوٹل کے آس پاس کا علاقہ بند کرنا کافی نہ تھا ؟ 
اکیسویں صدی میں انیسویں صدی کے طریقے اختیار کرنا کوئی عقل مندی کی بات نہیں . یہ تو گھر عذاب- اور باہر ثواب والی بات ہے .

Thursday, 9 April 2026

!تہذیب یافتہ کون

جو بھی ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی بات سنتا ہے، اور ان کی ذہین، معقول، غور و فکر سے بھرپور، استدلال اور  حقیقت پر مبنی تقریروں اور سوالات کے مسکرا کر جوابات  دینے  کا موازنہ ٹرمپ،   ہیگزیٹ  اور نیتن یاہو جیسے لوگوں کے  پاگل پن   اور غیر اخلاقی بیانات سے کرتا ہے -    وہ با آسانی یہ دیکھ سکتا ہے کہ ایران موجودہ تنازع میں مہذب فریق ہے-
جبکہ دوسری  طرف منہ سے جھاگ اڑاتے  اور شعلے اگلتی ہوئے وحشی پاگلوں کی قیادت  ہے۔ یہ اس مغربی تہذیب کے چہرے  پر  ایک تھپڑ ہے.جو خود کو   اخلاقیات کے ا علی ترین مقام پر فائز سمجھتی ہے . اس حقیقت سے  انکار ممکن نہیں کہ امریکی، جو خود کو انسانی تہذیب کی چوٹی سمجھتے ہیں، احمق، بُرے، اور انتہائی غیر مہذب بن چکے ہیں۔  وہ پاگل ،پتھریلے دور کے گوشت خور انسانوں کے مترادف ہیں جوچنگاڑتے ہوۓ  درندوں   کی ماننداپنی رہ میں آنے والی ہر رکاوٹ کو روند نے کی کوشش میں ہیں .
اور   ایک انتہائی مہذب ، تہذیب یافتہ اور پڑھے لکھے لوگوں پر حملہ آور ہیں . تاکہ انہیں چاک کر کے ان کا گوشت نوچ سکیں. صرف اور صرف اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے .
دنیا کے مہذب لوگ خود فیصلہ کر سکتے ہیں کہ ایران پر مسلط کی جانے والی اس بلا جواز اور نا  جائز جنگ میں کون حق پر ہے .اور کون سا فریق وحشیانہ درندگی کا مظاہرہ کر رہا ہے ؟
ہزاروں سال پرانی تہذیب و ثقافت کو مٹانے کی دھمکیاں دینے والے ، تہذیب یافتہ کہلانے کے حق دار نہیں ہو سکتے !!!!