Monday, 18 May 2026

امریکہ - ایران پر ایک اور حملہ کر سکتا ہے ؟

امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی ایک بار پھر اس سوال کو جنم دے رہی ہے کہ کیا واشنگٹن کسی نئی محدود فوجی کارروائی کی تیاری کر رہا ہے۔ پچھلے سال ایران اور اسرائیل کے درمیان تقریباً بارہ دن جاری رہنے والی جھڑپوں کے بعد امریکہ نے ایرانی ایٹمی تنصیبات پر حملہ کیا اور پھر امریکی صدر (Donald Trump )نے اعلان کیا کہ ایران کا ایٹمی پروگرام تباہ کر دیا گیا ہے، لہٰذا جنگ بند کی جاتی ہے۔ اب ان کے حالیہ بیانات نے دوبارہ اسی حکمت عملی کی یاد تازہ کر دی ہے۔

ایسا دکھائی دیتا ہے کہ امریکہ مکمل جنگ نہیں بلکہ “کنٹرولڈ پریشر” کی پالیسی پر عمل کر رہا ہے۔ یعنی محدود حملہ، طاقت کا مظاہرہ، پھر “مشن مکمل” کا اعلان اور اس کے بعد مذاکرات یا پسپائی۔ یہ حکمت عملی امریکہ کو بیک وقت دو فائدے دیتی ہے: داخلی سیاست میں طاقتور قیادت کا تاثر اور خطے میں طویل جنگ سے بچنا ۔

تاہم ایران عراق یا لیبیا نہیں۔ ایران کے پاس میزائل صلاحیت، علاقائی اتحادی نیٹ ورکس اور آبنائے ہرمز پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت  موجود ہے۔ اسی لیے کسی بھی محدود حملے کے باوجود خطرہ یہ ہے کہ صورتحال قابو سے باہر نکل سکتی ہے۔ ایک حملہ، پھر جوابی کارروائی، پھر مزید ردعمل — اور پورا خطہ ایک بڑی جنگ کی لپیٹ میں آ سکتا  ہے۔جو کسی کو بھی قابل قبول نہیں . خاص طور پر اس خطے میں امریکی اتحادی کسی بھی لمبی جنگ کے حق میں نہیں ۔

اس وقت زیادہ امکان یہی دکھائی دیتا ہے کہ واشنگٹن عسکری دباؤ، معاشی پابندیوں اور نفسیاتی جنگ کے امتزاج کے ذریعے ایران کو نئی ڈیل پر مجبور کرنا چاہتا ہے۔ لیکن امریکہ ، ایران کو کچھ دئیے بغیر کسی بھی قسم کی کوئی ڈیل حاصل نہیں کر سکتا .  ایرانی وزیر خارجہ نے بھارت میں اپنی پریس کانفرنس میں یہ تصدیق کی کہ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات امریکہ کی ہٹ دھرمی اور اپنے مطالبات ہر صورت منوانے کی وجہ سے نا کام ہوۓ . اور دوسری بات یہ ہے کہ پاکستان ،ایران کو کسی بھی طرح کی کوئی گارنٹی دینے کی پوزیشن میں نہیں . ایران کا مطالبہ  یہ  ہے کہ اسے اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل یہ گارنٹی دے کہ اس پر دوبارہ حملہ نہیں کیا جاۓ گا . روس اور چین ملکر کوئی گارنٹی دے سکتے ہیں .لیکن وہ بھی امریکی صدر پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں . کیونکہ امریکی صدر ہر دوسرے لمحے اپنے بیانات بدلتے رہتے ہیں .

امریکی صدر اس جنگ میں اس بری طرح پھنس چکے ہیں کہ انھیں اس سے باہر نکلنے کا کوئی راستہ نظر نہیں آ رہا . ایران اپنے  موقف سے کسی صورت پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں .  ایران  یہ چاہتا ہے کہ کم از کم اس پر سے اقتصادی پابندیاں  ہٹائی  جائیں  .   جو امریکی صدر اس وقت ہٹانے پر تیار نہیں . اپنی تمام تر طاقت کے باوجود امریکہ ،ایران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور نہیں کر سکا اور نہ وہ آبناۓ ہرموز کو کھلوا سکا .  

اب یہ ہو سکتا ہے کہ امریکی صدر ،ایران پر ایک اور فضائی حملہ کرنے کا حکم دیں . اور پھر یہ دعویٰ کریں کہ انھوں نے ایران کے ایٹمی پروگرام کوایک بار پھر  تباہ و برباد کر دیا ہے . لہذا جنگ ختم کی جاتی ہے . کیونکہ امریکہ نے اپنے تمام مقاصد حاصل کر لیے ہیں . اعلان فتح - امریکی بحری بیڑا گھر واپس . 

 امریکی صدر کا کوئی بھروسہ نہیں کہ وہ جی -سی -سی اور دنیا کے دوسرے ممالک سے یہ کہہ دیں کہ ایران کے ساتھ اپنے اپنے معاملات خود حل کر لیں .

Sunday, 17 May 2026

!پچھتاوا اور شکر گزاری

این فرینک  کا ایک قول ہے کہ  

"مردہ لوگوں کو زندہ لوگوں کی نسبت  زیادہ پھول پیش کیے جاتے ہیں . کیونکہ پچھتاوا شکرگزاری سے زیادہ طاقتور ہوتا ہے۔" 

یہ بات انسانی فطرت کے ایک تلخ سچ کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ اکثر لوگ کسی کی قدر اُس وقت محسوس کرتے ہیں جب وہ شخص اُن کے درمیان نہیں رہتا۔ جب موقع ختم ہو جاتا ہے، تو دل میں پچھتاوا شکرگزاری سے زیادہ شدت اختیار کر لیتا ہے۔

 زندگی میں ہم اکثر ان لمحوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں جن میں محبت کا اظہار ممکن ہوتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ وقت بہت ہے، کہ کل بھی موجود ہے، کہ لوگ ہمیشہ ہمارے آس پاس رہیں گے۔ مگر وقت ایک خاموش چور ہے — وہ لمحے چرا لیتا ہے، اور ہمیں صرف یادیں دے جاتا ہے۔

جب کوئی چلا جاتا ہے، تو ہم پھول لے کر جاتے ہیں، دعائیں کرتے ہیں، اور دل میں ایک بوجھ لیے واپس آتے ہیں۔ وہ پھول دراصل ہمارے پچھتاوے کی علامت ہوتے ہیں — وہ باتیں جو ہم کہہ نہ سکے، وہ احساسات جو ہم چھپا گئے، وہ محبت جو ہم نے وقت پر ظاہر نہ کی۔

اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ ۔ دنیا میں بہت سے لوگ ایسے ہیں جو اپنے پیاروں، دوستوں اور محسنوں کی قدر اُن کی زندگی میں ہی کرتے ہیں، اُن سے محبت، خلوص ،چاہت  اور احترام کا اظہار بھی کرتے ہیں۔

شکرگزاری ایک نرم سا احساس ہے، مگر اس کی آواز کمزور ہے۔ ہم زندہ لوگوں کو شکرگزاری کے پھول کم دیتے ہیں، کیونکہ ہمیں لگتا ہے کہ وہ جانتے ہیں ہم ان سے محبت کرتے ہیں۔ مگر محبت کا اظہار خاموشی میں نہیں، عمل میں ہوتا ہے۔

اس لیے اس قول کو ایک حقیقت سے زیادہ ایک تنبیہ سمجھنا چاہیے:

اگر ہم زندہ لوگوں کو وہ پھول دے سکیں جو ہم قبروں پر چڑھاتے ہیں، تو شاید دنیا میں پچھتاوا کم اور سکون زیادہ ہو۔

اس کو ایک اور انداز میں بھی کہا جا سکتا ہے کہ

لوگوں کی قدر اُن کے زندہ ہوتے ہوئے کریں، کہیں ایسا نہ ہو کہ بعد میں صرف پچھتاوا باقی رہ جائے۔

Saturday, 16 May 2026

پاکستان: ایک ریاست، دو حقیقتیں


ہمارے معاشرے میں ایک خطرناک خلیج پیدا ہو چکی ہے — صرف امیر اور غریب کے درمیان نہیں بلکہ اُن لوگوں کے درمیان جو تکلیف برداشت کر رہے ہیں اور اُن کے درمیان جو حکومت کر رہے ہیں۔

عام پاکستانی معاشی تھکن کے دور سے گزر رہے ہیں۔ مہنگائی نے لوگوں کی قوتِ خرید کو کچل دیا ہے۔ بجلی کے بل ہر مہینے ایک نئے صدمے کی طرح آتے ہیں۔ ڈگری رکھنے والے نوجوانوں کو مستقل روزگار نہیں مل رہا۔ چھوٹے کاروبار خاموشی سے تباہ ہو رہے ہیں۔ خاندان زندہ رہنے کے لیے زیورات، موٹر سائیکلیں، گھریلو سامان — اور بعض اوقات اپنی عزتِ نفس تک — فروخت کرنے پر مجبور ہیں۔

لیکن پاکستان کی طاقتور اشرافیہ  اس حقیقت سے عجیب حد تک محفوظ دکھائی دیتی ہے ۔

سول و عسکری اشرافیہ، خاندانی سیاسی جماعتیں، اور اقتدار کے گرد موجود مضبوط نیٹ ورکس ایک محفوظ دائرے میں زندگی گزار رہے ہیں۔ اُن کی شاہانہ طرزِ زندگی، مراعات، سکیورٹی پروٹوکول، سرکاری سہولتیں، پوش ہاؤسنگ سوسائٹیاں، بیرونِ ملک اثاثے، اور طاقت کے گرد قائم حفاظتی حصار اُنہیں اُن پالیسیوں کے نتائج سے بچاتے ہیں جن کی قیمت پوری قوم ادا کرتی ہے۔

وہ عوام کی تکلیف کو اُسی طرح دیکھتے ہیں جیسے کوئی امیر شخص شدید گرمی یا سردی کو کھڑکی کے پیچھے بیٹھ کر دیکھتا ہے۔

آج پاکستان کا اصل بحران یہی ہے۔

فیصلے کرنے والے اُن لوگوں سے کٹ چکے ہیں جو ان فیصلوں کی اصل قیمت ادا کرتے ہیں۔ایسا نہیں کہ یہ ماضی قریب سے ہونا شروع ہوا ہے . بلکہ یہ اسی انگریزی نظام کا تسلسل ہے .جو تاج برطانیہ نے (1857)، کی جنگ آزادی کے بعد بنایا تھا اور جس پر آج تک عمل کیا جا رہا ہے .

جب پیٹرول مہنگا ہوتا ہے تو غریب کی نقل و حرکت محدود ہو جاتی ہے جبکہ اشرافیہ سرکاری پروٹوکول میں سفر کرتی رہتی ہے۔ جب مہنگائی بڑھتی ہے تو عام لوگ اپنے کھانے کم کرتے ہیں جبکہ ریاستی اخراجات جوں کے توں رہتے ہیں۔ جب ٹیکس بڑھتے ہیں تو تنخواہ دار طبقہ اور چھوٹے کاروبار مزید دباؤ میں آ جاتے ہیں جبکہ طاقتور شعبے رعایتیں، سبسڈیز اور خصوصی سہولتیں حاصل کرتے رہتے ہیں۔

قربانی نیچے والے طبقے سے لی جاتی ہے۔
مراعات اوپر والے طبقے کے پاس محفوظ رہتی ہیں۔

پاکستان تیزی سے ایک ایسے نظام میں تبدیل ہو رہا ہے جہاں کمزوروں سے قربانی مانگی جاتی ہے جبکہ طاقتوروں کا آرام محفوظ رکھا جاتا ہے۔

اور تاریخ گواہ ہے کہ ایسا عدم توازن زیادہ دیر تک قائم نہیں رہتا۔

ایک معاشرہ غربت کے ساتھ طویل عرصہ گزار سکتا ہے، لیکن وہ کھلی ناانصافی زیادہ دیر برداشت نہیں کر سکتا — خاص طور پر جب لوگوں کو محسوس ہونے لگے کہ قانون اور نظام سب کے لیے برابر نہیں رہا۔

پاکستان میں بڑھتا ہوا غصہ صرف معاشی نہیں، نفسیاتی بھی ہے۔

لوگ مشکلات برداشت کر لیتے ہیں اگر اُنہیں یقین ہو کہ نظام منصفانہ ہے، قیادت قابل ہے، اور قربانی عارضی ہے۔ لیکن جب عوام کو یہ محسوس ہونے لگے کہ ایک اشرافیہ طبقہ خود کو ہمیشہ محفوظ رکھے گا جبکہ باقی قوم مسلسل قربانی دیتی رہے گی، تو مایوسی نفرت میں بدلتی ہے، اور نفرت بالآخر سیاسی عدم استحکام کو جنم دیتی ہے۔

آج پاکستان اسی مقام پر کھڑا ہے۔

طاقتور حلقے اب بھی یہ سمجھتے ہیں کہ بیانیہ سازی، سنسرشپ، کنٹرولڈ میڈیا، دباؤ، اور وقتی سیاسی انجینئرنگ کے ذریعے عوامی غصے کو ہمیشہ دبایا جا سکتا ہے۔ لیکن معاشی تکلیف آخرکار ہر پروپیگنڈا توڑ دیتی ہے۔ اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے جدوجہد کرنے والا انسان حقیقت کو ٹی وی مباحثوں یا سرکاری پریس کانفرنسوں سے نہیں سمجھتا۔ وہ حقیقت کو بازار، بجلی کے بل، ہسپتال، اور خالی جیب میں محسوس کرتا ہے۔

اور یہ حقیقت اب چھپانا مشکل ہوتی جا رہی ہے۔

کسی بھی حکمران طبقے کے لیے سب سے خطرناک چیز یہ ہوتی ہے کہ مسلسل تحفظ انہیں حقیقت سے اندھا کر دیتا ہے۔ جب حکمران صرف وفادار لوگوں، بیوروکریسی کے فلٹرز، سکیورٹی حصاروں، اور مراعات یافتہ ماحول میں رہنے لگیں تو وہ معاشرے کی اصل نفسیاتی کیفیت سمجھنا چھوڑ دیتے ہیں۔ وہ خاموشی کو استحکام سمجھ بیٹھتے ہیں۔ خوف کو عوامی حمایت سمجھ لیتے ہیں۔ وقتی کنٹرول کو دائمی طاقت تصور کرنے لگتے ہیں۔

تاریخ بار بار دکھا چکی ہے کہ اس کا انجام کیا ہوتا ہے۔

کوئی نظام ایک دن میں نہیں ٹوٹتا۔ پہلے عوامی تھکن پیدا ہوتی ہے۔ پھر اداروں پر اعتماد ختم ہوتا ہے۔ پھر معاشرتی تقسیم بڑھتی ہے۔ پھر ریاست کی اخلاقی ساکھ آہستہ آہستہ ختم ہونے لگتی ہے۔ اور جب تک حکمران طبقہ عوامی غصے کی گہرائی کو سمجھتا ہے، تب تک بحران اکثر قابو سے باہر ہو چکا ہوتا ہے۔

پاکستان تیزی سے اسی نفسیاتی حد کے قریب پہنچ رہا ہے۔

کوئی ملک زیادہ دیر تک اُس وقت تک نہیں چل سکتا جب ایک طبقہ معاشی پالیسیوں کو صرف نظریہ سمجھے جبکہ دوسرا طبقہ اُنہیں اپنی بقا کا مسئلہ سمجھ کر جئے۔

اصل خطرہ صرف مہنگائی یا سیاسی کشمکش نہیں۔
اصل خطرہ حکمرانوں اور عوام کے درمیان بڑھتا ہوا جذباتی فاصلہ ہے۔

جب ایک قوم کو یہ یقین ہو جائے کہ اُس کی تکلیف اقتدار کے ایوانوں میں نظر ہی نہیں آ رہی، تو پھر ریاست اور عوام کے درمیان موجود سماجی معاہدہ ٹوٹنا شروع ہو جاتا ہے۔ایسا پاکستان میں تیزی سے ہو رہا ہے ۔طوفان سے پہلے کی خاموشی کو استحکام سمجھنے والے حالات کی سنگینی کا درست اندازہ لگانے سے قاصر دکھائی دے رہے ہیں ۔


فالس فلیگ آپریشن

اردو زبان میں (فالس فلیگ )کیلئے کوئی مناسب لفظ موجود نہیں . اسکا ترجمہ ، جھوٹا الزام ، جھوٹا حملہ ، خفیہ کاروائی ، فریبی جھنڈا وغیرہ کیا جاتا ہے .بنیادی طور پر اسکا مطلب کوئی ایسی کاروائی ہے .  جس کا الزام اپنے مخالفین پر ڈال کر ، اپنے  فوجی یا سیاسی مقاصد حاصل کیے جا سکیں .
"فالس فلیگ " کی اصطلاح ابتدا میں اس حربے کیلئے استعمال ہوتی تھی .جب بحری جہاز دھوکہ دینے کیلئے . دشمن کا جھنڈا اپنے جہازوں پر لہراتے تھے .
سمندری قزاق اور نو آبادیاتی طاقتوں کے بحری جہاز  ،اکثر دشمن کے قریب پہنچنے کیلئے .جعلی پرچم استعمال کرتی تھیں .
جبکہ روایتی بحری اصول کے مطابق ، حملے سے پہلے ،اصل پرچم بلند کرنا ضروری سمجھا جاتا تھا .
اس وقت یہ بحری جنگ کی فریب کاری تھی .ابھی اسکا جدید سیاسی مفہوم وجود میں نہیں آیا تھا .
"فالس فلیگ " آپریشن عموما "پانچ بنیادی مقاصد کیلئے استعمال ہوتے ہیں .
جنگ کو جواز فراہم کرنا .
جبر و استبداد کو جائز ٹہرانا .
عوامی رضا مندی یا حمایت پیدا کرنا .
دشمن کو شدید رد عمل پر اکسانا .
اور بیانیہ پر کنٹرول حاصل کرنا .
پچھلے دو ،اڑھائی سو سال میں یہ مقاصد زیادہ نہیں بدلے .صرف طریقہ کار بدلتے گۓ .

Sunday, 26 April 2026

پاکستان: نظام ٹوٹ نہیں رہا—خاموشی سے بکھر رہا ہے



پاکستان میں جس طرح کے حالات پیدا ہو چکے ہیں . یہ ماضی قریب کے اقدامات کا کیا دہرا نہیں . بلکہ دہائیوں کی اندرونی اور بیرونی  مداخلت کا نتیجہ ہیں . اندرونی طور پر فوج کی غیر ضروری مداخلت اور بیرونی طور پر امریکہ کی اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے مداخلت .
حالات جس نہج پر آ چکے ہیں .اب بھی اگر مقتدر حلقے یہ سمجھتے ہیں کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ حالات خود بخود بہتر ہو جائیں گے . اور نظام "مستحکم " ہو جاۓ گا . یہ محض ایک خوش فہمی ہے . جو کچھ سامنے آ رہا ہے . وہ خاموش مگر بہت زیادہ خطرناک ہے .یہ ایک دھیمی جلتی ہوئی کیفیت ہے کہ  جس میں امیر اور غریب کے درمیان خلیج بڑھتی جا رہی ہے . اور اکثریت معاشی دباؤ ،سہنے کے  قابل نہیں رہی .
مہنگائی نے صرف قیمتیں ہی نہیں بڑھائیں . اس نے سماجی معائدہ ہی بدل دیا ہے . عام آدمی کیلئے زندگی مشکل سے مشکل تر ہوتی جا رہی ہے . خوراک ، بجلی ،گیس ، پیٹرول ، ڈیزل اور کراۓ . ... سب  کچھ دسترس سے باہر ہوتا جا رہا ہے . دوسری طرف ، اشرافیہ کیلئے نظام اب بھی کام کر رہا ہے . "محفوظ اثاثے "،پالیسی تک رسائی ، آمدنی میں بے تحاشا اضافہ اور بڑے جھٹکوں سے بچاؤ ". یہ تضاد اب چھپا ہوا نہیں .
بلکہ یہ روز مرہ کی ایک حقیقت ہے . اور یہی چیز اسے سیاسی طور پر زیادہ خطرناک بناتی ہے .
ایسے حالات کا نتیجہ فوری افرا تفری نہیں ہوتا . اور نہ اس سے ملک کی جغرافیائی سرحدوں کو  کوئی خطرہ ہو سکتا ہے .  اب تک تو نظام اندرونی دباؤ کو جذب کر  رہا ہے . ایسا اس وقت  تک رہے گا . جب تک کہ نظام  کئی  جگہوں سے رسنا نہ شروع  کر دے . جو کچھ ہم اس وقت دیکھ رہے ہیں .یہ "استحکام "نہیں . بلکہ ایک انتہائی ظالمانہ اور بے رحم کنٹرول کے ذریعے حاصل کیا گیا  وقتی توازن ہے .
لیکن یہ توازن کمزور ہے . کیونکہ یہ ایک ایسی چیز پر قائم ہے . جو تیزی سے ختم ہو رہی ہے . اور  وہ ہے " اعتماد ".
اگر حالات میں کوئی مثبت تبدیلی نہیں آتی .تو آنے والے مہینوں میں ایک منظر  بار بار دہرایا جاۓ گا . احتجاج ہونگے اور جلد دباۓ جائیں گے .معاشی مسائل سڑکوں پر آئیں گے .مگر نظام کو گرانے کی حد تک نہیں   پہنچیں گے . ریاست ہر حال میں انتظامی طاقت کے زریعے حالات کو قابو میں رکھنے کی کوشش کرے گی .راولپنڈی اور اسلام آباد میں بے چینی کو سختی سے کنٹرول کیا جاۓ گا .لاہور سیاسی دباؤ کا مرکز بنا رہے گا . جبکہ کراچی میں یہ دباؤ معاشی سرگرمیوں ، ہڑتالوں اور کاروباری رکاوٹوں ،کی صورت میں ظاہر ہو گا . 
آج کا سیاسی نظام ایک بنیادی عدم توازن کا شکار ہے .کوئی بھی بڑا فریق ایسا نہیں ہے . جس کے پاس  بیک وقت ، ادارہ جاتی طاقت اور  عوامی حمایت دونوں ہوں . عمران خان کے پاس اب بھی عوامی مقبولیت موجود ہے .لیکن ان کیلئے سیاسی گنجائش محدود کر دی گئی ہے . حکومتی ڈھانچہ اختیار تو رکھتا ہے .مگر عوامی اعتماد کھو چکا ہے . خاص طور پر جب مہنگائی روز مرہ زندگی کو متاثر کر رہی ہو . عدلیہ بھی ایک غیر جانب دار ثا لث کے بجاۓ . ایک فریق کے طور پر دیکھی جا رہی ہو . ان سب کا نتیجہ ایک ایسا نظام ہے . جو تناز عات کو سنبھال تو رہا ہے .لیکن ان کو حل کرنے سے قاصر ہے .
پاکستان میں حالات خطرناک حد تک قابو سے باہر ہو سکتے ہیں . جب تین چیزیں بیک وقت ہو جائیں . پہلی :  جب معاشی دباؤ صرف غریب تک محدود نہ رہے . بلکہ متوسط طبقہ ، تاجر ، تنخواہ دار افراد بھی پوری شدت سے متاثر ہوں .  دوسری : جب سیاسی نظام لوگوں کو تبدیلی کا کوئی قابل اعتماد راستہ نہ دے . جب  انتخابات ، عدالتیں اور ادارے ، بے معنی محسوس ہونے لگیں .اور تیسری : جب خود طاقت وار حلقوں کے اندر اختلافات کھل کر سامنے آنے لگیں اور یکسوئی ختم ہو جاۓ .
اگر یہ تینوں عوامل اکھٹے ہو جائیں . جیسا کہ نظر آ رہا ہے کہ ہو رہے ہیں . تو ملک ایک طویل عدم  استحکام کے دور میں داخل ہو سکتا ہے . اس حکومت کے پاس ملک کے مسائل کا کوئی حل نہیں .ان کے پاس ریاست کی طاقت ہے جسے یہ اب تک بے دریغ استعمال کرتے آ رہے ہیں .  آگے بھی یہ ایسا ہی کریں گے . جس سے ملک میں بد امنی مزید بڑے گی .
ایک دوسرا راستہ بھی موجود ہے . مگر اس کیلئے جو چیز درکار ہے . وہ کم نظر آ رہی ہے . یعنی ایک سنجیدہ تبدیلی : سیاسی تناؤ کو کم کرنا .قابل اعتماد انتخابات  اور اشرافیہ کی جانب سے واضح قربانی ....یہ سب عوامی غصے میں کمی لا سکتے ہیں .معمولی اقدامات بھی اعتماد کو کچھ حد تک بحال کر سکتے ہیں اور عدم  استحکام کے اس چکر کو سست کر سکتے ہیں .
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کا نظام بحرانوں کو    سنبھا لنے کیلئے بنایا گیا ہے . حل کرنے کیلئے نہیں .یہ ماڈل تب تک چلتا ہے .جب تک معاشی دباؤ قابل برداشت ہو  اور نظام پر اعتماد باقی ہو . آج دونوں چیزیں کمزور پڑ چکی ہیں .
نظر تو یہی آتا ہے کہ بے چینی بڑھے  گی .  مگر ایک ہی لہر کی صورت میں نہیں .یہ وقفے وقفے سے آۓ  گی اور ہر بار نظام کو پہلے سے کمزور کرتی جاۓ گی . اصل سوال یہ نہیں کہ پاکستان کو مشکلات کا سامنا ہو گا یا نہیں . اصل سوال یہ ہے کہ کیا اقتدار میں بیٹھے لوگ بر وقت یہ سمجھ پائیں گے کہ صرف کنٹرول کافی نہیں .اور یہ کہ ایک قابل اعتبار نیا توازن پیدا کیے بغیر ، نظام پر دباؤ بڑھتا ہی جاۓ گا .
نظام اچانک نہیں ٹوٹتے . 
بلکہ وہ ، آ ہستہ آ ہستہ دباؤ برداشت کرنے کی صلاحیت کھو دیتے ہیں .

Thursday, 23 April 2026

!اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا

امریکہ اور اسرائیل نے  جب ایران کے خلاف یہ جنگ شروع کی تو انکے چار بنیادی مقاصد تھے .
ایران کے  نیوکلیر انرچمنٹ پروگرام کو مکمل ختم کرنا .
مشرق وسطیٰ میں ایرانی اتحادیوں کیلئے . ایران کی حمایت کو ختم کرنا .
ایران کی میزائل بنانے اور انکو لانچ کرنے کی صلاحیت کو تباہ کرنا .  
اور 
ایران میں حکومت کی تبدیلی .
اب تک کی صورت حال کا اگر جائزہ لیا جاۓ . تو یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ امریکہ اور اسرائیل ابھی تک   ان چار مقاصد میں سے  کوئی ایک بھی حاصل کرنے میں نا کام رہے ہیں . اگرچہ ایرانیوں کو شدید نقصانات کا سامنا کرنا پڑا .  علی خامنائی کے ساتھ ساتھ بڑی تعداد میں انکے فوجی اور سیاسی رہنما شہید کر دئیے گے . لیکن اتنے  بڑے نقصان کے با وجود ، ایرانیوں نے بڑی ثابت قدمی اور جرات کا مظاہرہ کیا .  ایرانی قوم انتشار کا شکار ہونے کی بجاۓ . متحد ہو گئی .
امریکہ اور اسرائیل کا خیال تھا کہ لیڈر شپ کے مارے جانے کے بعد ، ایران میں معاشی مشکلات سے تنگ  عوام سڑکوں پر نکل آئی گی . اسطرح انھیں ایران میں خانہ جنگی کروانے کا موقعہ مل جاۓ گا  . جس طرح انھوں نے عراق، شام ، لیبیا ،سوڈان ، صومالیہ اور یمن کا حال کیا . اسی طرح ایران کو بھی مختلف ، ایک دوسرے سے باہم دست و گریبان گروپ ، تقسیم کر دیں گے .
ایرانی قوم کے اتحاد اور جذبہ حب الوطنی نے  ، امریکہ اور اسرائیل کا یہ منصوبہ بھی نا کام بنا دیا .
ابناۓہرمز  ابھی تک بند ہے .  امریکی صدر اپنی تمام تر طاقت اور اشتعال انگیز دھمکیوں کے با وجود ، اس سمندری راستے کو کھلوانے میں نا کام ہیں . ایک طرف اسرائیل ہے .جو ہر صورت اس جنگ کو طول دینے چاہتا ہے .  دوسری طرف اقتصادی حقائق ہیں .جو جنگ بندی کا تقاضا کرتے ہیں .  امریکی قیادت ، اسرائیل اور ساری دنیا کو در پیش اقتصادی مشکلات میں کوئی توازن قائم کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہے .یہی امریکی پالیسی کا وہ تضاد ہے . جو جنگ بندی میں رکاوٹ بنا ہوا ہے .
ایران کی دس نکاتی تجویز جو اسلام آباد مذاکرات کے پہلے راؤنڈ سے پہلے پیش کی گئیں . مزید مذاکرات کی بنیاد ہیں .لیکن یہ دس نکات ، کئی ایسی شرائط پر مشتمل ہیں جن کو امریکہ بار بار مسترد کر چکا ہے . ایران کا  مطالبہ ہے کہ ، ایران پر لگی تمام ، بنیادی اور ثانوی پابندیاں ختم کی جائیں . آبناۓ ہرمز پر ایرانی کنٹرول تسلیم کیا جاۓ . مشرق وسطیٰ سے امریکی فوجی اڈوں کا خاتمہ ، ایران اور اسکے اتحادیوں پر حملوں کا روکنا ، ایران کے سو بلین سے زائد منجمد اثاثوں کو واگزار کرنا اور کسی بھی معائدے کیلئے ،اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار داد ، یہ گارنٹی دے کہ آئندہ ، ایران پر حملہ نہیں کیا جاۓ گا .
اب یہ ٹرمپ انتظامیہ پر منحصر ہے کہ کیا وہ ایران کو یہ رعایتیں دینے پر تیار ہے ؟  پھر اسرائیل کا کیا کردار ہو گا . جس نے ایران پر دوبارہ حملے شروع کرنے کی دھمکی دی ہے .ایران نے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ جب تک چاہیں ، آبناۓ ہرمز کو بند رکھ سکتے ہیں .عالمی معیشت جو پہلے ہی دباؤ کا شکار ہے  اور کتنا عرصہ برداشت کر سکتی ہے .امریکہ کی سب سے زیادہ ذمہ داری ہے کہ وہ اسکا حل نکالے  . اس سے پہلے کہ ایک عالمی معاشی بحران جنم لے .
امریکی صدر نے ایک بار پھر جنگ بندی میں تو سیع کر دی ہے . اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکی صدر اس بحران سے نکلنا چاہتے ہیں . لیکن وہ ایک ایسی ڈیل چاہتے ہیں کہ جس میں انھیں یہ کہنے کا موقعہ مل سکے کہ انہوں نے اپنے مقاصد حاصل کر لیے ہیں .
ایرانی، امریکی صدر پر کسی صورت اعتبار کرنے کو تیار نہیں . پاکستانی اسٹبلشمنٹ کے پاس ایسی کوئی صلاحیت نہیں کہ وہ ایران کو کوئی مضبوط گارنٹی دے سکیں . اسکے لیے ضروری ہے کہ روس ، چین ، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے ملکر کوئی ایسا   منصوبہ پیش کریں .کہ اگر اس پر اتفاق ہو جاۓ . تو ایران کو یہ گارنٹی ہو کہ پھر اس پر امریکہ اور اسرائیل حملہ نہیں کریں گے اور جو بھی معائدہ ہو اس پر عمل درآمد کیا جاۓ گا . 
اب تک کی صورت حال کے مطابق ایران کا پلا بھاری ہے . امریکہ اور اسرائیل اپنے وہ مقاصد حاصل کرنے میں نا کام رہے . جن کو بنیاد بنا کر انھوں نے یہ جارحیت کی تھی . ایران میں اسلامی حکومت قائم ہے . ملک میں کوئی افراتفری نہیں . ایران کی دفاہی صلاحیت برقرار ہے . اور سب سے بڑھ کر ایرانی قوم پہلے سے زیادہ متحد ہو چکی ہے .
امریکہ اور ایران ،دونوں یہ چاہتے ہیں کہ جنگ ختم ہو .  اب دیکھنا یہ ہے کہ دونوں فریق ایک دوسرے کو کیا رعایتیں دے سکتے ہیں . فیصلہ کچھ لو . کچھ دو کی بنیاد  پر ہو گا . اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ جو کچھ ایرانی سنتالیس سالوں میں مذاکرات سے حاصل نہیں کر سکے .وہ انھوں نے اس جنگ سےتقریبآ  حاصل کر لیا ہے . اگر امریکہ ایرانی ایٹمی انرچمنٹ پروگرام کو محدود کرنا چاہتا ہے .تو اسے ایران پر سے اقتصادی پابندیاں ہٹانا ہونگی . اگر ایرانی اور کچھ بھی  حاصل نہ کر سکیں .صرف اقتصادی پابندیوں کا خاتمہ ہو جاۓ . یہ  بھی ایران کی ایک  بہت بڑی کامیابی ہو گی !!!!

Wednesday, 22 April 2026

!کپڑے بیچ کر


انتیس مئی ، 2022، کو اس وقت کے وزیر اعظم شہباز شریف ، جو خیر سے آج بھی وزیر اعظم پاکستان ہیں . نے کہا تھا کہ وہ اپنے کپڑے بیچ کر عوام کو سستے آٹے کی فراہمی یقینی  بنائیں  گے . یہ وہی صاحب ہیں جو کہتے تھے کہ وہ زر بابا کو ، لاہور ، کراچی کی سڑکوں پرگسیٹیں گے اور انکا پیٹ پھاڑ کر  غریبوں کی  لوٹی ہوئی دولت نکال کر عوام کے قدموں میں ڈھیر کر دیں گے .
پھر چشم فلق نے ایک عجیب نظارہ دیکھا . کہ جن کو سڑکوں پر گھسیٹنا اور جن کے پیٹ پھاڑ کر عوام کی لوٹی ہوئی دولت واپس لانی تھی . انھیں کے ساتھ مل کر عوام کے منڈیٹ پر ڈاکا ڈالا . اور انھیں طاقتوں کے قدموں میں بیٹھ گۓ . جنھیں پاکستان کی تباہی اور بربادی کا ذمہ دار  ٹھراتے تھے . 
بجلی ، گیس ، پیٹرول ،ڈیزل ،ٹرانسپورٹ اور خوراک ،غرض  ہر چیز عوام کی دسترس سے دور  ہو چکی ہے .  جتنی بجلی ہم استعمال کرتے ہیں . اس کی قیمت سے زیادہ بل میں ٹیکس شامل ہوتا ہے .میرا اس مہینے کا بل 2293، روپے ہے . جبکہ جو بجلی استعمال ہوئی .اسکی قیمت 1106، روپے اور باقی 1187، روپے ٹیکس ہے .ہر گھر کا بل اسی طرح کا ہے .  یہی حال گیس کا ہے .  
وزیر اعظم صاحب نے اپنے کپڑے بیچ کر غریب عوام کی مدد کرنے کا دعوا کیا تھا . لیکن انھوں نے تو غریب عوام کے ہی کپڑے اتروا دئیے ہیں .  اور ساتھ میں عوام سے مزید قربانی کے تقاضے بھی کیے جا رہے ہیں . کیا ملک کیلئے قربانی دینا صرف عوام کا فرض ہے ؟