Monday, 25 May 2026

!زوالِ ظرفِ اقتدار

سلطان صلاح الدین ایوبی سے منصوب ایک  قول  ہے کہ —

“بادشاہوں کا  یہ دستور نہیں کہ وہ بادشاہوں کو قتل کریں” —

 یہ صرف ایک جملہ نہیں بلکہ اقتدار کے ایک قدیم اصول کی عکاسی کرتا ہے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ حکمران ایک دوسرے سے جنگ کر سکتے ہیں، انہیں قید کر سکتے ہیں، حتیٰ کہ اقتدار سے ہٹا بھی سکتے ہیں، مگر ایک حد کے بعد وہ ایک دوسرے کی سیاسی حرمت برقرار رکھتے ہیں، کیونکہ اس روایت کے ٹوٹنے سے خود اقتدار کی ساکھ کمزور ہو جاتی ہے۔

اگر اس قول کو علامتی طور پر پاکستان کے موجودہ حالات پر لاگو کیا جائے تو بہت سے لوگ یہ محسوس کرتے ہیں کہ عمران خان کے ساتھ جو سلوک ہو رہا ہے، وہ اسی غیر تحریری اصول کے خاتمے کی علامت ہے۔

یہ معاملہ صرف عمران خان کی حمایت یا مخالفت کا نہیں۔ اصل سوال ریاستی اور ادارہ جاتی ہے:
جب ایک سابق منتخب وزیرِ اعظم، جس کے پاس اب بھی بڑی عوامی حمایت موجود ہے ، کو سیاسی حریف کے بجائے ایک ایسے دشمن کی طرح دیکھا جانے لگے جسے مکمل طور پر ختم کرنا ضروری ہو، تو اس کے ریاست پر کیا اثرات مرتب ہوسکتے  ہیں؟

اسی لیے بہت سے لوگوں کے نزدیک موجودہ صورتحال محض قانونی یا سیاسی تنازع نہیں بلکہ سیاسی نظام کے مزاج میں تبدیلی کی علامت ہے۔

جب سیاست مقابلے سے نکل کر “بقا کی جنگ” بن جائے تو پھر:

  • ادارے اپنی غیر جانبداری کھونے لگتے ہیں،
  • قانون انتقام کا تاثر دینے لگتا ہے،
  • کارکن اور حامی زیادہ شدت پسند ہو جاتے ہیں،
  • اور مفاہمت کے راستے بند ہونے لگتے ہیں۔

ایسا پاکستان میں ہوتا ہوا نظر آ رہا ہے ۔

یہی وجہ ہے کہ صلاح الدین کا یہ قول آج پاکستان میں بہت سے لوگوں کے جذبات کی ترجمانی کرتا دکھائی دیتا ہے۔ اس میں یہ پیغام پوشیدہ ہے کہ اقتدار کو بھی کچھ حدود کا پابند ہونا چاہیے، خاص طور پر سابق حکمرانوں کے معاملے میں، کیونکہ آج کا حکمران کل خود اسی نظام کے رحم و کرم پر ہو سکتا ہے۔

حتیٰ کہ عمران خان کے ناقدین بھی یہ سوال  اکثر اٹھا  تے  ہیں کہ :
اگر ایک سابق وزیرِ اعظم کے خلاف یہ روایت قائم ہو گئی، تو کل یہی طرزِ عمل ہر آنے والے سیاسی رہنما کے خلاف کیوں استعمال نہیں ہوگا؟

جس طرح کا ظالمانہ سلوک عمران خان ،انکی اہلیہ اور تحریک انصاف کے دوسرے رہنماؤں اور کارکنوں کے ساتھ روا رکھا جا رہا ہے .اسکی مثال پاکستان کی تاریخ میں نہیں ملتی  ۔پاکستان کے عوام کی اکثریت    بجا طور پر یہ سمجھتی ہے  کہ عمران خان کو انتقامی  کاروائیوں  کا نشانہ صرف اسلئیے بنایا جا رہا ہے ۔ کیونکہ وہ جھکنے کیلئے تیار نہیں  ۔اور نہ وہ جلا وطنی اختیار کرنے پر راضی ہیں ۔

  • حقیقت یہ ہے کہ نظام خود خوف عمران کا شکار ہے .

اس تناظر میں صلاح الدین کا یہ قول پاکستان کی موجودہ صورتحال پر ایک گہرا استعارہ بن جاتا ہے۔
کیونکہ جب ریاست اپنے سابق حکمرانوں کو سیاسی مخالف کے بجائے “نظام سے باہر دشمن” سمجھنے لگے، تو آخرکار نقصان صرف ایک فرد کا نہیں بلکہ پورے نظام کی ساکھ کا ہوتا ہے۔ بلکہ ریاست بھی کمزور ہوتی ہے .

Friday, 22 May 2026

تھیوسیڈائڈز ٹریپ اور پاکستان: کیا ریاست ایک نئی سیاسی قوت سے خوفزدہ ہے؟


یونانی مفکر (Thucydides) کی مشہور (Thucydides Trap)“تھیوسیڈائڈز ٹریپ” تھیوری بنیادی طور پر عالمی سیاست کو سمجھنے کے لیے پیش کی گئی تھی۔ اس کا مرکزی خیال یہ ہے کہ جب ایک نئی طاقت ابھر رہی ہوتی ہے تو پہلے سے موجود طاقت اسے اپنے اقتدار کے لیے خطرہ سمجھنے لگتی ہے۔ یہی خوف اکثر تصادم کو جنم دیتا ہے۔ تھیوسیڈائڈز نے اس تصور کو سپارٹا اور ایتھنز کی جنگ کے تناظر میں بیان کیا تھا، مگر وقت کے ساتھ یہ نظریہ صرف بین الاقوامی تعلقات تک محدود نہیں رہا۔ آج اسے داخلی سیاست، ریاستی طاقت اور سماجی تبدیلیوں کو سمجھنے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔
اگر اس تھیوری کو پاکستان کے موجودہ سیاسی حالات پر منطبق کیا جائے، تو ایک دلچسپ اور کسی حد تک تشویشناک تصویر سامنے آتی ہے۔
پاکستان میں اصل تنازع شاید صرف ایک سیاسی جماعت یا ایک فرد کا نہیں رہا، بلکہ یہ پرانے طاقت کے ڈھانچے اور ابھرتی ہوئی نئی سیاسی حقیقت کے درمیان کشمکش بنتا جا رہا ہے۔ ایک طرف وہ روایتی نظام ہے جو دہائیوں سے اقتدار، اداروں، سیاسی بیانیے اور ریاستی طاقت پر اثر اندازہوتا  رہا ہے۔ بلکہ اس وقت تو اپنی پوری جابرانہ طاقت سے ریاست کے پورے ڈھانچے کو گرفت میں لے چکا ہے۔دوسری طرف عمران خان   اور اس کے گرد جمع ہونے والی نوجوان نسل ہے، جو نہ صرف پرانے سیاسی طریقۂ کار کو چیلنج کر رہی ہے بلکہ ریاست اور سیاست کے درمیان تعلق کی نئی تعریف بھی پیش کر رہی ہے۔
یہ معاملہ صرف ایک مقبول لیڈر تک محدود نہیں رہا ۔ اصل تبدیلی سماجی اور آبادیاتی ہے۔  جو پاکستان میں خاموشی سے ایک نئی سیاسی طاقت پیدا کرچکی ہے۔ پاکستان کی اکثریت نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ یہ نسل روایتی میڈیا سے زیادہ سوشل میڈیا سے متاثر ہوتی ہے،  ریاستی بیانیے کو بغیر سوال قبول نہیں کرتی، اور سیاست میں اپنی براہِ راست شمولیت چاہتی ہے۔سیاسی معلومات تک براہِ راست رسائی رکھتی ہے، اور پرانی سیاسی وفاداریوں سے کم وابستہ ہے۔ یہی تبدیلی موجودہ طاقت کے مراکز کے لیے سب سے بڑا چیلنج بنتی دکھائی دیتی ہے۔
ایسے ماحول میں جب اقتدار پر قابض حلقے یہ محسوس کرتے ہیں کہ آزاد سیاسی عمل ان کی گرفت کمزور کر سکتا ہے، تو وہ اکثر “سیاسی بقا” کے موڈ میں چلے جاتے ہیں۔  یہی وہ مرحلہ ہوتا ہے جہاں سیاسی انجینئرنگ، قانونی رکاوٹیں، میڈیا کنٹرول، مخالف قیادت کی گرفتاری، اور انتخابی قواعد میں تبدیلی جیسے اقدامات سامنے آتے ہیں۔ اگر واقعی ووٹنگ کی عمر بڑھانے جیسے خیالات زیرِ غور آرہے  ہیں، تو یہ محض ایک انتظامی تبدیلی نہیں بلکہ اس خوف کا اظہار  ہے  کہ نوجوان ووٹرز سیاسی طاقت کا توازن بدل سکتے ہیں۔
یہی مقام ہے جہاں پاکستان کا موجودہ بحران “تھیوسیڈائڈز ٹریپ” سے مشابہ نظر آتا ہے۔ کیونکہ یہاں بھی بنیادی عنصر طاقت نہیں بلکہ خوف ہے — اقتدار کھونے کا خوف، بیانیہ ٹوٹنے کا خوف، اور ایک نئی سیاسی حقیقت کو قبول نہ کر پانے کا خوف۔ہماری تاریخ میں ایسا پہلے بھی ہو چکا ہے . مشرقی پاکستان کی علیحدگی بھی  اس وقت اقتدار پر قابض گروہ کے اسی خوف کا نتیجہ تھی ۔
تاہم داخلی سیاست میں اس “ٹریپ” کا نتیجہ ہمیشہ روایتی جنگ نہیں ہوتا۔ یہاں تصادم کی شکل مختلف ہوتی ہے۔ ادارے کمزور ہوتے ہیں، سیاسی تقسیم بڑھتی ہے، معیشت غیر یقینی کا شکار ہوتی ہے، اور سب سے خطرناک بات یہ کہ عوام کا نظام پر اعتماد آہستہ آہستہ ختم ہونے لگتا ہے۔ ریاست بظاہر چلتی رہتی ہے، مگر اس کی جائز ، قانونی اور اخلاقی  حیثیت  مسلسل کمزور ہوتی جاتی ہے  ۔
تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ کوئی بھی ریاست صرف طاقت کے ذریعے طویل عرصے تک بدلتے ہوئے سماجی رجحانات کو نہیں روک سکتی۔ اگر ایک نئی سیاسی لہر صرف کسی ایک شخصیت پر نہیں بلکہ آبادیاتی، معاشی،سیاسی  اور فکری تبدیلیوں پر کھڑی ہو، تو اسے دبانے کی ہر کوشش وقتی ثابت ہو سکتی ہے۔ طاقت وقتی خاموشی تو پیدا کر سکتی ہے، مستقل اتفاق و اتحاد  اور یکجہتی  پیدا نہیں کر سکتی ۔اور نہ معاشی ترقی کو ممکن بنایا جا سکتا ہے  ۔
پاکستان شاید اسی دوراہے پر کھڑا ہے۔ سوال صرف یہ نہیں کہ آج اقتدار کس کے پاس ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا موجودہ نظام نئی نسل کی سیاسی خواہشات کو اپنے اندر جذب کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، یا وہ ہر ابھرتی ہوئی عوامی طاقت کواپنی بقا کیلئے خطرہ   سمجھ کر اس کے خلاف مزاحمت کرتا رہے گا؟
کیونکہ جب ریاستیں اپنے ہی عوام ،خاص طور پر نوجوانوں سے خوفزدہ ہونے لگیں، تو مسئلہ صرف سیاست کا نہیں رہتا — یہ مستقبل کے بحران کی علامت بن جاتا ہے۔ پاکستان میں کچھ ایسا ہی ہوتا نظر آ رہا ہے  ۔

Monday, 18 May 2026

امریکہ - ایران پر ایک اور حملہ کر سکتا ہے ؟

امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی ایک بار پھر اس سوال کو جنم دے رہی ہے کہ کیا واشنگٹن کسی نئی محدود فوجی کارروائی کی تیاری کر رہا ہے۔ پچھلے سال ایران اور اسرائیل کے درمیان تقریباً بارہ دن جاری رہنے والی جھڑپوں کے بعد امریکہ نے ایرانی ایٹمی تنصیبات پر حملہ کیا اور پھر امریکی صدر (Donald Trump )نے اعلان کیا کہ ایران کا ایٹمی پروگرام تباہ کر دیا گیا ہے، لہٰذا جنگ بند کی جاتی ہے۔ اب ان کے حالیہ بیانات نے دوبارہ اسی حکمت عملی کی یاد تازہ کر دی ہے۔

ایسا دکھائی دیتا ہے کہ امریکہ مکمل جنگ نہیں بلکہ “کنٹرولڈ پریشر” کی پالیسی پر عمل کر رہا ہے۔ یعنی محدود حملہ، طاقت کا مظاہرہ، پھر “مشن مکمل” کا اعلان اور اس کے بعد مذاکرات یا پسپائی۔ یہ حکمت عملی امریکہ کو بیک وقت دو فائدے دیتی ہے: داخلی سیاست میں طاقتور قیادت کا تاثر اور خطے میں طویل جنگ سے بچنا ۔

تاہم ایران عراق یا لیبیا نہیں۔ ایران کے پاس میزائل صلاحیت، علاقائی اتحادی نیٹ ورکس اور آبنائے ہرمز پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت  موجود ہے۔ اسی لیے کسی بھی محدود حملے کے باوجود خطرہ یہ ہے کہ صورتحال قابو سے باہر نکل سکتی ہے۔ ایک حملہ، پھر جوابی کارروائی، پھر مزید ردعمل — اور پورا خطہ ایک بڑی جنگ کی لپیٹ میں آ سکتا  ہے۔جو کسی کو بھی قابل قبول نہیں . خاص طور پر اس خطے میں امریکی اتحادی کسی بھی لمبی جنگ کے حق میں نہیں ۔

اس وقت زیادہ امکان یہی دکھائی دیتا ہے کہ واشنگٹن عسکری دباؤ، معاشی پابندیوں اور نفسیاتی جنگ کے امتزاج کے ذریعے ایران کو نئی ڈیل پر مجبور کرنا چاہتا ہے۔ لیکن امریکہ ، ایران کو کچھ دئیے بغیر کسی بھی قسم کی کوئی ڈیل حاصل نہیں کر سکتا .  ایرانی وزیر خارجہ نے بھارت میں اپنی پریس کانفرنس میں یہ تصدیق کی کہ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات امریکہ کی ہٹ دھرمی اور اپنے مطالبات ہر صورت منوانے کی وجہ سے نا کام ہوۓ . اور دوسری بات یہ ہے کہ پاکستان ،ایران کو کسی بھی طرح کی کوئی گارنٹی دینے کی پوزیشن میں نہیں . ایران کا مطالبہ  یہ  ہے کہ اسے اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل یہ گارنٹی دے کہ اس پر دوبارہ حملہ نہیں کیا جاۓ گا . روس اور چین ملکر کوئی گارنٹی دے سکتے ہیں .لیکن وہ بھی امریکی صدر پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں . کیونکہ امریکی صدر ہر دوسرے لمحے اپنے بیانات بدلتے رہتے ہیں .

امریکی صدر اس جنگ میں اس بری طرح پھنس چکے ہیں کہ انھیں اس سے باہر نکلنے کا کوئی راستہ نظر نہیں آ رہا . ایران اپنے  موقف سے کسی صورت پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں .  ایران  یہ چاہتا ہے کہ کم از کم اس پر سے اقتصادی پابندیاں  ہٹائی  جائیں  .   جو امریکی صدر اس وقت ہٹانے پر تیار نہیں . اپنی تمام تر طاقت کے باوجود امریکہ ،ایران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور نہیں کر سکا اور نہ وہ آبناۓ ہرموز کو کھلوا سکا .  

اب یہ ہو سکتا ہے کہ امریکی صدر ،ایران پر ایک اور فضائی حملہ کرنے کا حکم دیں . اور پھر یہ دعویٰ کریں کہ انھوں نے ایران کے ایٹمی پروگرام کوایک بار پھر  تباہ و برباد کر دیا ہے . لہذا جنگ ختم کی جاتی ہے . کیونکہ امریکہ نے اپنے تمام مقاصد حاصل کر لیے ہیں . اعلان فتح - امریکی بحری بیڑا گھر واپس . 

 امریکی صدر کا کوئی بھروسہ نہیں کہ وہ جی -سی -سی اور دنیا کے دوسرے ممالک سے یہ کہہ دیں کہ ایران کے ساتھ اپنے اپنے معاملات خود حل کر لیں .

Sunday, 17 May 2026

!پچھتاوا اور شکر گزاری

این فرینک  کا ایک قول ہے کہ  

"مردہ لوگوں کو زندہ لوگوں کی نسبت  زیادہ پھول پیش کیے جاتے ہیں . کیونکہ پچھتاوا شکرگزاری سے زیادہ طاقتور ہوتا ہے۔" 

یہ بات انسانی فطرت کے ایک تلخ سچ کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ اکثر لوگ کسی کی قدر اُس وقت محسوس کرتے ہیں جب وہ شخص اُن کے درمیان نہیں رہتا۔ جب موقع ختم ہو جاتا ہے، تو دل میں پچھتاوا شکرگزاری سے زیادہ شدت اختیار کر لیتا ہے۔

 زندگی میں ہم اکثر ان لمحوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں جن میں محبت کا اظہار ممکن ہوتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ وقت بہت ہے، کہ کل بھی موجود ہے، کہ لوگ ہمیشہ ہمارے آس پاس رہیں گے۔ مگر وقت ایک خاموش چور ہے — وہ لمحے چرا لیتا ہے، اور ہمیں صرف یادیں دے جاتا ہے۔

جب کوئی چلا جاتا ہے، تو ہم پھول لے کر جاتے ہیں، دعائیں کرتے ہیں، اور دل میں ایک بوجھ لیے واپس آتے ہیں۔ وہ پھول دراصل ہمارے پچھتاوے کی علامت ہوتے ہیں — وہ باتیں جو ہم کہہ نہ سکے، وہ احساسات جو ہم چھپا گئے، وہ محبت جو ہم نے وقت پر ظاہر نہ کی۔

اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ ۔ دنیا میں بہت سے لوگ ایسے ہیں جو اپنے پیاروں، دوستوں اور محسنوں کی قدر اُن کی زندگی میں ہی کرتے ہیں، اُن سے محبت، خلوص ،چاہت  اور احترام کا اظہار بھی کرتے ہیں۔

شکرگزاری ایک نرم سا احساس ہے، مگر اس کی آواز کمزور ہے۔ ہم زندہ لوگوں کو شکرگزاری کے پھول کم دیتے ہیں، کیونکہ ہمیں لگتا ہے کہ وہ جانتے ہیں ہم ان سے محبت کرتے ہیں۔ مگر محبت کا اظہار خاموشی میں نہیں، عمل میں ہوتا ہے۔

اس لیے اس قول کو ایک حقیقت سے زیادہ ایک تنبیہ سمجھنا چاہیے:

اگر ہم زندہ لوگوں کو وہ پھول دے سکیں جو ہم قبروں پر چڑھاتے ہیں، تو شاید دنیا میں پچھتاوا کم اور سکون زیادہ ہو۔

اس کو ایک اور انداز میں بھی کہا جا سکتا ہے کہ

لوگوں کی قدر اُن کے زندہ ہوتے ہوئے کریں، کہیں ایسا نہ ہو کہ بعد میں صرف پچھتاوا باقی رہ جائے۔

Saturday, 16 May 2026

پاکستان: ایک ریاست، دو حقیقتیں


ہمارے معاشرے میں ایک خطرناک خلیج پیدا ہو چکی ہے — صرف امیر اور غریب کے درمیان نہیں بلکہ اُن لوگوں کے درمیان جو تکلیف برداشت کر رہے ہیں اور اُن کے درمیان جو حکومت کر رہے ہیں۔

عام پاکستانی معاشی تھکن کے دور سے گزر رہے ہیں۔ مہنگائی نے لوگوں کی قوتِ خرید کو کچل دیا ہے۔ بجلی کے بل ہر مہینے ایک نئے صدمے کی طرح آتے ہیں۔ ڈگری رکھنے والے نوجوانوں کو مستقل روزگار نہیں مل رہا۔ چھوٹے کاروبار خاموشی سے تباہ ہو رہے ہیں۔ خاندان زندہ رہنے کے لیے زیورات، موٹر سائیکلیں، گھریلو سامان — اور بعض اوقات اپنی عزتِ نفس تک — فروخت کرنے پر مجبور ہیں۔

لیکن پاکستان کی طاقتور اشرافیہ  اس حقیقت سے عجیب حد تک محفوظ دکھائی دیتی ہے ۔

سول و عسکری اشرافیہ، خاندانی سیاسی جماعتیں، اور اقتدار کے گرد موجود مضبوط نیٹ ورکس ایک محفوظ دائرے میں زندگی گزار رہے ہیں۔ اُن کی شاہانہ طرزِ زندگی، مراعات، سکیورٹی پروٹوکول، سرکاری سہولتیں، پوش ہاؤسنگ سوسائٹیاں، بیرونِ ملک اثاثے، اور طاقت کے گرد قائم حفاظتی حصار اُنہیں اُن پالیسیوں کے نتائج سے بچاتے ہیں جن کی قیمت پوری قوم ادا کرتی ہے۔

وہ عوام کی تکلیف کو اُسی طرح دیکھتے ہیں جیسے کوئی امیر شخص شدید گرمی یا سردی کو کھڑکی کے پیچھے بیٹھ کر دیکھتا ہے۔

آج پاکستان کا اصل بحران یہی ہے۔

فیصلے کرنے والے اُن لوگوں سے کٹ چکے ہیں جو ان فیصلوں کی اصل قیمت ادا کرتے ہیں۔ایسا نہیں کہ یہ ماضی قریب سے ہونا شروع ہوا ہے . بلکہ یہ اسی انگریزی نظام کا تسلسل ہے .جو تاج برطانیہ نے (1857)، کی جنگ آزادی کے بعد بنایا تھا اور جس پر آج تک عمل کیا جا رہا ہے .

جب پیٹرول مہنگا ہوتا ہے تو غریب کی نقل و حرکت محدود ہو جاتی ہے جبکہ اشرافیہ سرکاری پروٹوکول میں سفر کرتی رہتی ہے۔ جب مہنگائی بڑھتی ہے تو عام لوگ اپنے کھانے کم کرتے ہیں جبکہ ریاستی اخراجات جوں کے توں رہتے ہیں۔ جب ٹیکس بڑھتے ہیں تو تنخواہ دار طبقہ اور چھوٹے کاروبار مزید دباؤ میں آ جاتے ہیں جبکہ طاقتور شعبے رعایتیں، سبسڈیز اور خصوصی سہولتیں حاصل کرتے رہتے ہیں۔

قربانی نیچے والے طبقے سے لی جاتی ہے۔
مراعات اوپر والے طبقے کے پاس محفوظ رہتی ہیں۔

پاکستان تیزی سے ایک ایسے نظام میں تبدیل ہو رہا ہے جہاں کمزوروں سے قربانی مانگی جاتی ہے جبکہ طاقتوروں کا آرام محفوظ رکھا جاتا ہے۔

اور تاریخ گواہ ہے کہ ایسا عدم توازن زیادہ دیر تک قائم نہیں رہتا۔

ایک معاشرہ غربت کے ساتھ طویل عرصہ گزار سکتا ہے، لیکن وہ کھلی ناانصافی زیادہ دیر برداشت نہیں کر سکتا — خاص طور پر جب لوگوں کو محسوس ہونے لگے کہ قانون اور نظام سب کے لیے برابر نہیں رہا۔

پاکستان میں بڑھتا ہوا غصہ صرف معاشی نہیں، نفسیاتی بھی ہے۔

لوگ مشکلات برداشت کر لیتے ہیں اگر اُنہیں یقین ہو کہ نظام منصفانہ ہے، قیادت قابل ہے، اور قربانی عارضی ہے۔ لیکن جب عوام کو یہ محسوس ہونے لگے کہ ایک اشرافیہ طبقہ خود کو ہمیشہ محفوظ رکھے گا جبکہ باقی قوم مسلسل قربانی دیتی رہے گی، تو مایوسی نفرت میں بدلتی ہے، اور نفرت بالآخر سیاسی عدم استحکام کو جنم دیتی ہے۔

آج پاکستان اسی مقام پر کھڑا ہے۔

طاقتور حلقے اب بھی یہ سمجھتے ہیں کہ بیانیہ سازی، سنسرشپ، کنٹرولڈ میڈیا، دباؤ، اور وقتی سیاسی انجینئرنگ کے ذریعے عوامی غصے کو ہمیشہ دبایا جا سکتا ہے۔ لیکن معاشی تکلیف آخرکار ہر پروپیگنڈا توڑ دیتی ہے۔ اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے جدوجہد کرنے والا انسان حقیقت کو ٹی وی مباحثوں یا سرکاری پریس کانفرنسوں سے نہیں سمجھتا۔ وہ حقیقت کو بازار، بجلی کے بل، ہسپتال، اور خالی جیب میں محسوس کرتا ہے۔

اور یہ حقیقت اب چھپانا مشکل ہوتی جا رہی ہے۔

کسی بھی حکمران طبقے کے لیے سب سے خطرناک چیز یہ ہوتی ہے کہ مسلسل تحفظ انہیں حقیقت سے اندھا کر دیتا ہے۔ جب حکمران صرف وفادار لوگوں، بیوروکریسی کے فلٹرز، سکیورٹی حصاروں، اور مراعات یافتہ ماحول میں رہنے لگیں تو وہ معاشرے کی اصل نفسیاتی کیفیت سمجھنا چھوڑ دیتے ہیں۔ وہ خاموشی کو استحکام سمجھ بیٹھتے ہیں۔ خوف کو عوامی حمایت سمجھ لیتے ہیں۔ وقتی کنٹرول کو دائمی طاقت تصور کرنے لگتے ہیں۔

تاریخ بار بار دکھا چکی ہے کہ اس کا انجام کیا ہوتا ہے۔

کوئی نظام ایک دن میں نہیں ٹوٹتا۔ پہلے عوامی تھکن پیدا ہوتی ہے۔ پھر اداروں پر اعتماد ختم ہوتا ہے۔ پھر معاشرتی تقسیم بڑھتی ہے۔ پھر ریاست کی اخلاقی ساکھ آہستہ آہستہ ختم ہونے لگتی ہے۔ اور جب تک حکمران طبقہ عوامی غصے کی گہرائی کو سمجھتا ہے، تب تک بحران اکثر قابو سے باہر ہو چکا ہوتا ہے۔

پاکستان تیزی سے اسی نفسیاتی حد کے قریب پہنچ رہا ہے۔

کوئی ملک زیادہ دیر تک اُس وقت تک نہیں چل سکتا جب ایک طبقہ معاشی پالیسیوں کو صرف نظریہ سمجھے جبکہ دوسرا طبقہ اُنہیں اپنی بقا کا مسئلہ سمجھ کر جئے۔

اصل خطرہ صرف مہنگائی یا سیاسی کشمکش نہیں۔
اصل خطرہ حکمرانوں اور عوام کے درمیان بڑھتا ہوا جذباتی فاصلہ ہے۔

جب ایک قوم کو یہ یقین ہو جائے کہ اُس کی تکلیف اقتدار کے ایوانوں میں نظر ہی نہیں آ رہی، تو پھر ریاست اور عوام کے درمیان موجود سماجی معاہدہ ٹوٹنا شروع ہو جاتا ہے۔ایسا پاکستان میں تیزی سے ہو رہا ہے ۔طوفان سے پہلے کی خاموشی کو استحکام سمجھنے والے حالات کی سنگینی کا درست اندازہ لگانے سے قاصر دکھائی دے رہے ہیں ۔


فالس فلیگ آپریشن

اردو زبان میں (فالس فلیگ )کیلئے کوئی مناسب لفظ موجود نہیں . اسکا ترجمہ ، جھوٹا الزام ، جھوٹا حملہ ، خفیہ کاروائی ، فریبی جھنڈا وغیرہ کیا جاتا ہے .بنیادی طور پر اسکا مطلب کوئی ایسی کاروائی ہے .  جس کا الزام اپنے مخالفین پر ڈال کر ، اپنے  فوجی یا سیاسی مقاصد حاصل کیے جا سکیں .
"فالس فلیگ " کی اصطلاح ابتدا میں اس حربے کیلئے استعمال ہوتی تھی .جب بحری جہاز دھوکہ دینے کیلئے . دشمن کا جھنڈا اپنے جہازوں پر لہراتے تھے .
سمندری قزاق اور نو آبادیاتی طاقتوں کے بحری جہاز  ،اکثر دشمن کے قریب پہنچنے کیلئے .جعلی پرچم استعمال کرتی تھیں .
جبکہ روایتی بحری اصول کے مطابق ، حملے سے پہلے ،اصل پرچم بلند کرنا ضروری سمجھا جاتا تھا .
اس وقت یہ بحری جنگ کی فریب کاری تھی .ابھی اسکا جدید سیاسی مفہوم وجود میں نہیں آیا تھا .
"فالس فلیگ " آپریشن عموما "پانچ بنیادی مقاصد کیلئے استعمال ہوتے ہیں .
جنگ کو جواز فراہم کرنا .
جبر و استبداد کو جائز ٹہرانا .
عوامی رضا مندی یا حمایت پیدا کرنا .
دشمن کو شدید رد عمل پر اکسانا .
اور بیانیہ پر کنٹرول حاصل کرنا .
پچھلے دو ،اڑھائی سو سال میں یہ مقاصد زیادہ نہیں بدلے .صرف طریقہ کار بدلتے گۓ .

Sunday, 26 April 2026

پاکستان: نظام ٹوٹ نہیں رہا—خاموشی سے بکھر رہا ہے



پاکستان میں جس طرح کے حالات پیدا ہو چکے ہیں . یہ ماضی قریب کے اقدامات کا کیا دہرا نہیں . بلکہ دہائیوں کی اندرونی اور بیرونی  مداخلت کا نتیجہ ہیں . اندرونی طور پر فوج کی غیر ضروری مداخلت اور بیرونی طور پر امریکہ کی اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے مداخلت .
حالات جس نہج پر آ چکے ہیں .اب بھی اگر مقتدر حلقے یہ سمجھتے ہیں کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ حالات خود بخود بہتر ہو جائیں گے . اور نظام "مستحکم " ہو جاۓ گا . یہ محض ایک خوش فہمی ہے . جو کچھ سامنے آ رہا ہے . وہ خاموش مگر بہت زیادہ خطرناک ہے .یہ ایک دھیمی جلتی ہوئی کیفیت ہے کہ  جس میں امیر اور غریب کے درمیان خلیج بڑھتی جا رہی ہے . اور اکثریت معاشی دباؤ ،سہنے کے  قابل نہیں رہی .
مہنگائی نے صرف قیمتیں ہی نہیں بڑھائیں . اس نے سماجی معائدہ ہی بدل دیا ہے . عام آدمی کیلئے زندگی مشکل سے مشکل تر ہوتی جا رہی ہے . خوراک ، بجلی ،گیس ، پیٹرول ، ڈیزل اور کراۓ . ... سب  کچھ دسترس سے باہر ہوتا جا رہا ہے . دوسری طرف ، اشرافیہ کیلئے نظام اب بھی کام کر رہا ہے . "محفوظ اثاثے "،پالیسی تک رسائی ، آمدنی میں بے تحاشا اضافہ اور بڑے جھٹکوں سے بچاؤ ". یہ تضاد اب چھپا ہوا نہیں .
بلکہ یہ روز مرہ کی ایک حقیقت ہے . اور یہی چیز اسے سیاسی طور پر زیادہ خطرناک بناتی ہے .
ایسے حالات کا نتیجہ فوری افرا تفری نہیں ہوتا . اور نہ اس سے ملک کی جغرافیائی سرحدوں کو  کوئی خطرہ ہو سکتا ہے .  اب تک تو نظام اندرونی دباؤ کو جذب کر  رہا ہے . ایسا اس وقت  تک رہے گا . جب تک کہ نظام  کئی  جگہوں سے رسنا نہ شروع  کر دے . جو کچھ ہم اس وقت دیکھ رہے ہیں .یہ "استحکام "نہیں . بلکہ ایک انتہائی ظالمانہ اور بے رحم کنٹرول کے ذریعے حاصل کیا گیا  وقتی توازن ہے .
لیکن یہ توازن کمزور ہے . کیونکہ یہ ایک ایسی چیز پر قائم ہے . جو تیزی سے ختم ہو رہی ہے . اور  وہ ہے " اعتماد ".
اگر حالات میں کوئی مثبت تبدیلی نہیں آتی .تو آنے والے مہینوں میں ایک منظر  بار بار دہرایا جاۓ گا . احتجاج ہونگے اور جلد دباۓ جائیں گے .معاشی مسائل سڑکوں پر آئیں گے .مگر نظام کو گرانے کی حد تک نہیں   پہنچیں گے . ریاست ہر حال میں انتظامی طاقت کے زریعے حالات کو قابو میں رکھنے کی کوشش کرے گی .راولپنڈی اور اسلام آباد میں بے چینی کو سختی سے کنٹرول کیا جاۓ گا .لاہور سیاسی دباؤ کا مرکز بنا رہے گا . جبکہ کراچی میں یہ دباؤ معاشی سرگرمیوں ، ہڑتالوں اور کاروباری رکاوٹوں ،کی صورت میں ظاہر ہو گا . 
آج کا سیاسی نظام ایک بنیادی عدم توازن کا شکار ہے .کوئی بھی بڑا فریق ایسا نہیں ہے . جس کے پاس  بیک وقت ، ادارہ جاتی طاقت اور  عوامی حمایت دونوں ہوں . عمران خان کے پاس اب بھی عوامی مقبولیت موجود ہے .لیکن ان کیلئے سیاسی گنجائش محدود کر دی گئی ہے . حکومتی ڈھانچہ اختیار تو رکھتا ہے .مگر عوامی اعتماد کھو چکا ہے . خاص طور پر جب مہنگائی روز مرہ زندگی کو متاثر کر رہی ہو . عدلیہ بھی ایک غیر جانب دار ثا لث کے بجاۓ . ایک فریق کے طور پر دیکھی جا رہی ہو . ان سب کا نتیجہ ایک ایسا نظام ہے . جو تناز عات کو سنبھال تو رہا ہے .لیکن ان کو حل کرنے سے قاصر ہے .
پاکستان میں حالات خطرناک حد تک قابو سے باہر ہو سکتے ہیں . جب تین چیزیں بیک وقت ہو جائیں . پہلی :  جب معاشی دباؤ صرف غریب تک محدود نہ رہے . بلکہ متوسط طبقہ ، تاجر ، تنخواہ دار افراد بھی پوری شدت سے متاثر ہوں .  دوسری : جب سیاسی نظام لوگوں کو تبدیلی کا کوئی قابل اعتماد راستہ نہ دے . جب  انتخابات ، عدالتیں اور ادارے ، بے معنی محسوس ہونے لگیں .اور تیسری : جب خود طاقت وار حلقوں کے اندر اختلافات کھل کر سامنے آنے لگیں اور یکسوئی ختم ہو جاۓ .
اگر یہ تینوں عوامل اکھٹے ہو جائیں . جیسا کہ نظر آ رہا ہے کہ ہو رہے ہیں . تو ملک ایک طویل عدم  استحکام کے دور میں داخل ہو سکتا ہے . اس حکومت کے پاس ملک کے مسائل کا کوئی حل نہیں .ان کے پاس ریاست کی طاقت ہے جسے یہ اب تک بے دریغ استعمال کرتے آ رہے ہیں .  آگے بھی یہ ایسا ہی کریں گے . جس سے ملک میں بد امنی مزید بڑے گی .
ایک دوسرا راستہ بھی موجود ہے . مگر اس کیلئے جو چیز درکار ہے . وہ کم نظر آ رہی ہے . یعنی ایک سنجیدہ تبدیلی : سیاسی تناؤ کو کم کرنا .قابل اعتماد انتخابات  اور اشرافیہ کی جانب سے واضح قربانی ....یہ سب عوامی غصے میں کمی لا سکتے ہیں .معمولی اقدامات بھی اعتماد کو کچھ حد تک بحال کر سکتے ہیں اور عدم  استحکام کے اس چکر کو سست کر سکتے ہیں .
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کا نظام بحرانوں کو    سنبھا لنے کیلئے بنایا گیا ہے . حل کرنے کیلئے نہیں .یہ ماڈل تب تک چلتا ہے .جب تک معاشی دباؤ قابل برداشت ہو  اور نظام پر اعتماد باقی ہو . آج دونوں چیزیں کمزور پڑ چکی ہیں .
نظر تو یہی آتا ہے کہ بے چینی بڑھے  گی .  مگر ایک ہی لہر کی صورت میں نہیں .یہ وقفے وقفے سے آۓ  گی اور ہر بار نظام کو پہلے سے کمزور کرتی جاۓ گی . اصل سوال یہ نہیں کہ پاکستان کو مشکلات کا سامنا ہو گا یا نہیں . اصل سوال یہ ہے کہ کیا اقتدار میں بیٹھے لوگ بر وقت یہ سمجھ پائیں گے کہ صرف کنٹرول کافی نہیں .اور یہ کہ ایک قابل اعتبار نیا توازن پیدا کیے بغیر ، نظام پر دباؤ بڑھتا ہی جاۓ گا .
نظام اچانک نہیں ٹوٹتے . 
بلکہ وہ ، آ ہستہ آ ہستہ دباؤ برداشت کرنے کی صلاحیت کھو دیتے ہیں .