صلاح میر کا بلاگ
Saturday, 6 June 2026
!وہ سبق جو ہم نے نہیں سیکھا
Friday, 29 May 2026
پاکستان: کیا تبدیلی ممکن ہے؟
پاکستان جس نازک صورت حال سے اس وقت گزر رہا ہے .اس میں قصور وار ، فوجی اسٹیبلشمنٹ ، سول بیورو کریسی ، خاندانی سیاسی جماعتیں ، مذہبی جماعتیں اور وہ طاقتور گروہ ہیں . جن کے معاشی مفادات غیر جمہوری نظام سے وابستہ ہیں . یہ سب مل کر عوام کو مذہبی ، لسانی اور صوبائی بنیادوں پر تقسیم رکھتے ہیں . تاکہ عوام اکھٹے نہ ہو سکیں . اور انکی اس نظام پر گرفت مضبوط رہے .سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان اسی طرح چلتا رہے گا .یا اس میں کسی تبدیلی کا امکان ہے اور پاکستان کے عوام اس غیر نمائندہ ،ظالم نظام سے چھٹکارا پانے کیلئے کیا کر سکتے ہیں ؟
لیکن یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے:
کیا پاکستان ہمیشہ اسی طرح چلتا رہے گا؟
تاریخ کا مطالعہ ہمیں یہ بتاتا ہے کہ دنیا میں کوئی بھی سیاسی یا سماجی نظام ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتا۔ طاقت کے بڑے بڑے ڈھانچے وقت کے ساتھ تبدیل ہوئے ہیں۔ آمریتیں ختم ہوئی ہیں، نوآبادیاتی نظام ٹوٹے ہیں، اور عوامی شعور نے کئی معاشروں کی سمت بدل دی ہے۔ اس لیے یہ کہنا درست نہیں کہ پاکستان میں تبدیلی ناممکن ہے۔
حقیقی تبدیلی اس وقت جنم لیتی ہے جب معاشرے میں سیاسی شعور بیدار ہونا شروع ہوتا ہے۔ جب لوگ شخصیات کے بجائے اصولوں کی بنیاد پر سوچتے ہیں۔ جب عوام یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ جمہوریت صرف ووٹ ڈالنے کا نام نہیں بلکہ آزاد عدلیہ، آزاد میڈیا، آئین کی بالادستی، شفاف احتساب، اور مضبوط عوامی اداروں کا مجموعہ ہے۔
پاکستان میں ایک بڑی کمزوری یہ بھی رہی ہے کہ عوام کی بڑی تعداد اپنی شناخت کو قومیت، فرقے، زبان یا سیاسی وابستگی تک محدود رکھتی رہی ہے۔ یہی تقسیم طاقتور طبقات کیلئے فائدہ مند ثابت ہوتی ہے۔ اگر عوام ایک مشترکہ شہری شعور کے تحت متحد ہوں — جہاں انصاف، قانون کی برتری، انسانی حقوق اور معاشی مساوات بنیادی مطالبات بن جائیں — تو طاقت کے موجودہ توازن میں تبدیلی آ سکتی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ یہ حقیقت بھی اہم ہے کہ پائیدار تبدیلی ہمیشہ پرامن اور آئینی جدوجہد سے آتی ہے۔ دنیا کی تاریخ میں وہی تحریکیں دیرپا ثابت ہوئیں جنہوں نے شعور، تنظیم، مکالمے، اور مسلسل سیاسی جدوجہد کا راستہ اپنایا۔ تشدد، انتشار اور نفرت وقتی غصے کا اظہار تو بن سکتے ہیں، مگر وہ مضبوط اور منصفانہ نظام کی بنیاد نہیں بناتے۔
پاکستان کے عوام اگر اس غیر نمائندہ اور ظالمانہ نظام سے نجات چاہتے ہیں تو انہیں صرف حکمران چہروں کی تبدیلی پر اکتفا نہیں کرنا ہوگا، بلکہ سوچ، سیاسی کلچر اور ادارہ جاتی ڈھانچے کی تبدیلی کیلئے بھی جدوجہد کرنا ہوگی۔ تعلیم، سیاسی آگاہی، شہری حقوق کا شعور، اور اجتماعی اتحاد ہی وہ راستے ہیں جو کسی بھی معاشرے کو مضبوط بناتے ہیں۔
مایوسی کے باوجود امید کی گنجائش ہمیشہ باقی رہتی ہے۔ قومیں صرف طاقتور طبقات کے فیصلوں سے نہیں بلکہ عوامی شعور سے بھی اپنا مستقبل بدلتی ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ تبدیلی ممکن ہے یا نہیں؛ اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستانی عوام ایک ایسی اجتماعی بیداری پیدا کر سکتے ہیں جو ذاتی، جماعتی اور فرقہ وارانہ مفادات سے بالاتر ہو؟
Thursday, 28 May 2026
طاقت کے کھیل میں ہارتا ہوا پاکستان
پاکستان کسی بیرونی جنگ میں شکست نہیں کھا رہا —مگر اندرونی طاقت کی کشمکش اسے آہستہ آہستہ کمزور کررہی ہے۔
یہاں ہر طاقتور فریق خود کو ریاست کا محافظ کہتا ہے، مگر ریاست کو مضبوط کرنے کے بجائے اپنی اپنی طاقت کے دائرے محفوظ بنانے میں مصروف ہے۔
سیاست دان اقتدار بچا رہے ہیں۔
ادارے اپنی بالادستی برقرار رکھنے کی جنگ لڑ رہے ہیں۔
اشرافیہ اپنے مفادات کے گرد حفاظتی دیواریں کھڑی کر چکی ہے۔
اور عام آدمی؟
وہ صرف مہنگائی، بے یقینی اور ٹوٹتی ہوئی امید کے درمیان زندہ رہنے کی کوشش کر رہا ہے۔
یہی وہ مرحلہ ہوتا ہے جہاں قومیں اچانک نہیں گرتیں — بلکہ اندر سے کھوکھلی ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔
پاکستان کا اصل بحران صرف معیشت نہیں۔اصل بحران یہ ہے کہ یہاں طاقت تو بہت ہے، مگر ذمہ داری کم ہوتی جا رہی ہے۔
جب عوامی مینڈیٹ کمزور کر دیا جائے…
جب فیصلے پارلیمنٹ کے بجائے بند کمروں میں ہوں…
جب قانون طاقتور کے سامنے جھک جائے…
جب احتساب انصاف کے بجائے سیاسی ہتھیار بن جائے…
جب میڈیا معلومات کے بجائے بیانیوں کی جنگ لڑنے لگے…
اور جب ہر اختلاف کو خطرہ سمجھا جانے لگے…
تو پھر ریاست صرف طاقتور دکھائی دیتی ہے، مضبوط نہیں۔
کیونکہ مضبوط ریاستیں خوف سے نہیں، اعتماد سے چلتی ہیں۔
آج پاکستان میں سب سے خوفناک چیز غربت نہیں۔
بلکہ وہ خاموش مایوسی ہے جو پورے معاشرے میں پھیل رہی ہے۔
وہ نوجوان جو ڈگری لینے کے بعد ملک چھوڑنے کو کامیابی سمجھتا ہے۔
وہ تاجر جو سرمایہ پاکستان سے باہر منتقل کرنا چاہتا ہے۔
وہ مزدور جو دن رات کام کے باوجود اپنے بچوں کا مستقبل محفوظ نہیں بنا پا رہا۔
وہ شہری جو یہ یقین کھو چکا ہے کہ انصاف، قانون اور ووٹ واقعی کوئی معنی رکھتے ہیں۔
یہ صرف معاشی بحران نہیں۔یہ ریاست اور عوام کے درمیان ٹوٹتے ہوئے اعتماد کی کہانی ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ ریاستیں ہمیشہ بیرونی دشمنوں سے تباہ نہیں ہوتیں۔
کئی بار وہ اندرونی طاقت کی لڑائیوں، اداروں کی ضد، سیاسی انتقام، اور اشرافیہ کی خود غرضی سے آہستہ آہستہ بکھر جاتی ہیں۔
ہر طاقتور فریق شاید یہ سمجھ رہا ہے کہ وہ کھیل جیت رہا ہے۔
مگر جب:
- عوام مایوس ہو جائیں،
- نوجوان ملک چھوڑنے لگیں،
- اداروں پر اعتماد ختم ہو جائے،
- معیشت صرف اشرافیہ کے لیے کام کرے،
- اور قانون انصاف کے بجائے طاقت کا آلہ کار بن جائے…
تو ریاست ہار جاتی ہے : اس صورت حال میں پاکستان شکست و ریخت کا شکار ہو رہا ہے ۔
اور شاید یہی ہمارے وقت کا سب سے بڑا المیہ ہے:طاقت کے اس کھیل میں ہر کھلاڑی اپنی چال چل رہا ہے —مگر شکست پورے ملک کے حصے میں آ رہی ہے۔
تاریخ کا المیہ یہ ہے کہ تاریخ سے کوئی بھی سبق سیکھنے کیلئے تیار نہیں . خاص طور پر پاکستان کے مقتدر حلقے !
Monday, 25 May 2026
!زوالِ ظرفِ اقتدار
“بادشاہوں کا یہ دستور نہیں کہ وہ بادشاہوں کو قتل کریں” —
یہ صرف ایک جملہ نہیں بلکہ اقتدار کے ایک قدیم اصول کی عکاسی کرتا ہے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ حکمران ایک دوسرے سے جنگ کر سکتے ہیں، انہیں قید کر سکتے ہیں، حتیٰ کہ اقتدار سے ہٹا بھی سکتے ہیں، مگر ایک حد کے بعد وہ ایک دوسرے کی سیاسی حرمت برقرار رکھتے ہیں، کیونکہ اس روایت کے ٹوٹنے سے خود اقتدار کی ساکھ کمزور ہو جاتی ہے۔
اگر اس قول کو علامتی طور پر پاکستان کے موجودہ حالات پر لاگو کیا جائے تو بہت سے لوگ یہ محسوس کرتے ہیں کہ عمران خان کے ساتھ جو سلوک ہو رہا ہے، وہ اسی غیر تحریری اصول کے خاتمے کی علامت ہے۔
یہ معاملہ صرف عمران خان کی حمایت یا مخالفت کا نہیں۔ اصل سوال ریاستی اور ادارہ جاتی ہے:
جب ایک سابق منتخب وزیرِ اعظم، جس کے پاس اب بھی بڑی عوامی حمایت موجود ہے ، کو سیاسی حریف کے بجائے ایک ایسے دشمن کی طرح دیکھا جانے لگے جسے مکمل طور پر ختم کرنا ضروری ہو، تو اس کے ریاست پر کیا اثرات مرتب ہوسکتے ہیں؟
اسی لیے بہت سے لوگوں کے نزدیک موجودہ صورتحال محض قانونی یا سیاسی تنازع نہیں بلکہ سیاسی نظام کے مزاج میں تبدیلی کی علامت ہے۔
جب سیاست مقابلے سے نکل کر “بقا کی جنگ” بن جائے تو پھر:
- ادارے اپنی غیر جانبداری کھونے لگتے ہیں،
- قانون انتقام کا تاثر دینے لگتا ہے،
- کارکن اور حامی زیادہ شدت پسند ہو جاتے ہیں،
- اور مفاہمت کے راستے بند ہونے لگتے ہیں۔
ایسا پاکستان میں ہوتا ہوا نظر آ رہا ہے ۔
یہی وجہ ہے کہ صلاح الدین کا یہ قول آج پاکستان میں بہت سے لوگوں کے جذبات کی ترجمانی کرتا دکھائی دیتا ہے۔ اس میں یہ پیغام پوشیدہ ہے کہ اقتدار کو بھی کچھ حدود کا پابند ہونا چاہیے، خاص طور پر سابق حکمرانوں کے معاملے میں، کیونکہ آج کا حکمران کل خود اسی نظام کے رحم و کرم پر ہو سکتا ہے۔
حتیٰ کہ عمران خان کے ناقدین بھی یہ سوال اکثر اٹھا تے ہیں کہ :
اگر ایک سابق وزیرِ اعظم کے خلاف یہ روایت قائم ہو گئی، تو کل یہی طرزِ عمل ہر آنے والے سیاسی رہنما کے خلاف کیوں استعمال نہیں ہوگا؟
جس طرح کا ظالمانہ سلوک عمران خان ،انکی اہلیہ اور تحریک انصاف کے دوسرے رہنماؤں اور کارکنوں کے ساتھ روا رکھا جا رہا ہے .اسکی مثال پاکستان کی تاریخ میں نہیں ملتی ۔پاکستان کے عوام کی اکثریت بجا طور پر یہ سمجھتی ہے کہ عمران خان کو انتقامی کاروائیوں کا نشانہ صرف اسلئیے بنایا جا رہا ہے ۔ کیونکہ وہ جھکنے کیلئے تیار نہیں ۔اور نہ وہ جلا وطنی اختیار کرنے پر راضی ہیں ۔
- حقیقت یہ ہے کہ نظام خود خوف عمران کا شکار ہے .
اس تناظر میں صلاح الدین کا یہ قول پاکستان کی موجودہ صورتحال پر ایک گہرا استعارہ بن جاتا ہے۔
کیونکہ جب ریاست اپنے سابق حکمرانوں کو سیاسی مخالف کے بجائے “نظام سے باہر دشمن” سمجھنے لگے، تو آخرکار نقصان صرف ایک فرد کا نہیں بلکہ پورے نظام کی ساکھ کا ہوتا ہے۔ بلکہ ریاست بھی کمزور ہوتی ہے .
Friday, 22 May 2026
تھیوسیڈائڈز ٹریپ اور پاکستان: کیا ریاست ایک نئی سیاسی قوت سے خوفزدہ ہے؟
یونانی مفکر (Thucydides) کی مشہور (Thucydides Trap)“تھیوسیڈائڈز ٹریپ” تھیوری بنیادی طور پر عالمی سیاست کو سمجھنے کے لیے پیش کی گئی تھی۔ اس کا مرکزی خیال یہ ہے کہ جب ایک نئی طاقت ابھر رہی ہوتی ہے تو پہلے سے موجود طاقت اسے اپنے اقتدار کے لیے خطرہ سمجھنے لگتی ہے۔ یہی خوف اکثر تصادم کو جنم دیتا ہے۔ تھیوسیڈائڈز نے اس تصور کو سپارٹا اور ایتھنز کی جنگ کے تناظر میں بیان کیا تھا، مگر وقت کے ساتھ یہ نظریہ صرف بین الاقوامی تعلقات تک محدود نہیں رہا۔ آج اسے داخلی سیاست، ریاستی طاقت اور سماجی تبدیلیوں کو سمجھنے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔
Monday, 18 May 2026
امریکہ - ایران پر ایک اور حملہ کر سکتا ہے ؟
ایسا دکھائی دیتا ہے کہ امریکہ مکمل جنگ نہیں بلکہ “کنٹرولڈ پریشر” کی پالیسی پر عمل کر رہا ہے۔ یعنی محدود حملہ، طاقت کا مظاہرہ، پھر “مشن مکمل” کا اعلان اور اس کے بعد مذاکرات یا پسپائی۔ یہ حکمت عملی امریکہ کو بیک وقت دو فائدے دیتی ہے: داخلی سیاست میں طاقتور قیادت کا تاثر اور خطے میں طویل جنگ سے بچنا ۔
تاہم ایران عراق یا لیبیا نہیں۔ ایران کے پاس میزائل صلاحیت، علاقائی اتحادی نیٹ ورکس اور آبنائے ہرمز پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت موجود ہے۔ اسی لیے کسی بھی محدود حملے کے باوجود خطرہ یہ ہے کہ صورتحال قابو سے باہر نکل سکتی ہے۔ ایک حملہ، پھر جوابی کارروائی، پھر مزید ردعمل — اور پورا خطہ ایک بڑی جنگ کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔جو کسی کو بھی قابل قبول نہیں . خاص طور پر اس خطے میں امریکی اتحادی کسی بھی لمبی جنگ کے حق میں نہیں ۔
اس وقت زیادہ امکان یہی دکھائی دیتا ہے کہ واشنگٹن عسکری دباؤ، معاشی پابندیوں اور نفسیاتی جنگ کے امتزاج کے ذریعے ایران کو نئی ڈیل پر مجبور کرنا چاہتا ہے۔ لیکن امریکہ ، ایران کو کچھ دئیے بغیر کسی بھی قسم کی کوئی ڈیل حاصل نہیں کر سکتا . ایرانی وزیر خارجہ نے بھارت میں اپنی پریس کانفرنس میں یہ تصدیق کی کہ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات امریکہ کی ہٹ دھرمی اور اپنے مطالبات ہر صورت منوانے کی وجہ سے نا کام ہوۓ . اور دوسری بات یہ ہے کہ پاکستان ،ایران کو کسی بھی طرح کی کوئی گارنٹی دینے کی پوزیشن میں نہیں . ایران کا مطالبہ یہ ہے کہ اسے اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل یہ گارنٹی دے کہ اس پر دوبارہ حملہ نہیں کیا جاۓ گا . روس اور چین ملکر کوئی گارنٹی دے سکتے ہیں .لیکن وہ بھی امریکی صدر پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں . کیونکہ امریکی صدر ہر دوسرے لمحے اپنے بیانات بدلتے رہتے ہیں .
امریکی صدر اس جنگ میں اس بری طرح پھنس چکے ہیں کہ انھیں اس سے باہر نکلنے کا کوئی راستہ نظر نہیں آ رہا . ایران اپنے موقف سے کسی صورت پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں . ایران یہ چاہتا ہے کہ کم از کم اس پر سے اقتصادی پابندیاں ہٹائی جائیں . جو امریکی صدر اس وقت ہٹانے پر تیار نہیں . اپنی تمام تر طاقت کے باوجود امریکہ ،ایران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور نہیں کر سکا اور نہ وہ آبناۓ ہرموز کو کھلوا سکا .
اب یہ ہو سکتا ہے کہ امریکی صدر ،ایران پر ایک اور فضائی حملہ کرنے کا حکم دیں . اور پھر یہ دعویٰ کریں کہ انھوں نے ایران کے ایٹمی پروگرام کوایک بار پھر تباہ و برباد کر دیا ہے . لہذا جنگ ختم کی جاتی ہے . کیونکہ امریکہ نے اپنے تمام مقاصد حاصل کر لیے ہیں . اعلان فتح - امریکی بحری بیڑا گھر واپس .
امریکی صدر کا کوئی بھروسہ نہیں کہ وہ جی -سی -سی اور دنیا کے دوسرے ممالک سے یہ کہہ دیں کہ ایران کے ساتھ اپنے اپنے معاملات خود حل کر لیں .
Sunday, 17 May 2026
!پچھتاوا اور شکر گزاری
"مردہ لوگوں کو زندہ لوگوں کی نسبت زیادہ پھول پیش کیے جاتے ہیں . کیونکہ پچھتاوا شکرگزاری سے زیادہ طاقتور ہوتا ہے۔"
یہ بات انسانی فطرت کے ایک تلخ سچ کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ اکثر لوگ کسی کی قدر اُس وقت محسوس کرتے ہیں جب وہ شخص اُن کے درمیان نہیں رہتا۔ جب موقع ختم ہو جاتا ہے، تو دل میں پچھتاوا شکرگزاری سے زیادہ شدت اختیار کر لیتا ہے۔
زندگی میں ہم اکثر ان لمحوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں جن میں محبت کا اظہار ممکن ہوتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ وقت بہت ہے، کہ کل بھی موجود ہے، کہ لوگ ہمیشہ ہمارے آس پاس رہیں گے۔ مگر وقت ایک خاموش چور ہے — وہ لمحے چرا لیتا ہے، اور ہمیں صرف یادیں دے جاتا ہے۔
جب کوئی چلا جاتا ہے، تو ہم پھول لے کر جاتے ہیں، دعائیں کرتے ہیں، اور دل میں ایک بوجھ لیے واپس آتے ہیں۔ وہ پھول دراصل ہمارے پچھتاوے کی علامت ہوتے ہیں — وہ باتیں جو ہم کہہ نہ سکے، وہ احساسات جو ہم چھپا گئے، وہ محبت جو ہم نے وقت پر ظاہر نہ کی۔
اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ ۔ دنیا میں بہت سے لوگ ایسے ہیں جو اپنے پیاروں، دوستوں اور محسنوں کی قدر اُن کی زندگی میں ہی کرتے ہیں، اُن سے محبت، خلوص ،چاہت اور احترام کا اظہار بھی کرتے ہیں۔
شکرگزاری ایک نرم سا احساس ہے، مگر اس کی آواز کمزور ہے۔ ہم زندہ لوگوں کو شکرگزاری کے پھول کم دیتے ہیں، کیونکہ ہمیں لگتا ہے کہ وہ جانتے ہیں ہم ان سے محبت کرتے ہیں۔ مگر محبت کا اظہار خاموشی میں نہیں، عمل میں ہوتا ہے۔
اس لیے اس قول کو ایک حقیقت سے زیادہ ایک تنبیہ سمجھنا چاہیے:
اگر ہم زندہ لوگوں کو وہ پھول دے سکیں جو ہم قبروں پر چڑھاتے ہیں، تو شاید دنیا میں پچھتاوا کم اور سکون زیادہ ہو۔
اس کو ایک اور انداز میں بھی کہا جا سکتا ہے کہ
لوگوں کی قدر اُن کے زندہ ہوتے ہوئے کریں، کہیں ایسا نہ ہو کہ بعد میں صرف پچھتاوا باقی رہ جائے۔
-
ایک جاپانی کہاوت ہے کہ ، کوئی مشین ہو ،کوئی گھر یا کوئی تعلق ،انکی دیکھ بھال کرنا ہمیشہ کم خرچ ہوتا ہے .با نسبت انکی مرمت کے ! جس چیز کی آپ...
-
میں نے دو دن پہلے اپنے ایک مضمون میں لکھا تھا کہ قطر کے دارالحکومت ،دوحہ میں ہونے والی کانفرنس سے کوئی مثبت نتیجہ نہیں نکلے گا .تقریریں ہ...
-
کہتے ہیں کہ کہیں پر جنگ ہو رہی تھی .اس جنگ میں کافی سارے فوجی ہلاک ہو گۓ .تو اس فوج کے افسر ا علی نے اپنے ایک ماتحت کو ساتھ والے گاؤں بیجا ...