صلاح میر کا بلاگ
Thursday, 8 October 2026
سب اچھا ہے؟
Monday, 5 October 2026
تاریخ سے سبق کیوں نہیں سیکھتے؟
اور پھر ایک اور سوال کا جواب بھی انھیں دینا ہو گا کہ کیا انکا طرز عمل کہیں نوآبادیاتی ذہنیت کا تسلسل تو نہیں ؟
برطانوی راج میں عوام رعایا تھے۔ ریاست کا مقصد ان پر حکومت کرنا تھا، ان سے اجازت لینا نہیں۔ آزادی کے بعد یہ ذہنیت ختم ہونی چاہیے تھی۔ مگر اگر آج بھی ریاستی ادارے یہ سمجھتے ہیں کہ عوام کو صرف نظم و ضبط سکھانا ہے، ان کی آواز سننا ضروری نہیں، تو پھر ہمیں تسلیم کرنا ہوگا کہ آزادی کے بعد بھی حکمرانی کا ایک حصہ نوآبادیاتی ذہن سے آزاد نہیں ہوا۔مسئلہ صرف فوج کا بھی نہیں۔سیاسی جماعتیں بھی ذمہ دار ہیں۔ سول حکومتیں بھی ذمہ دار ہیں۔ عدلیہ، پارلیمان، بیوروکریسی اور میڈیا—سب نے کسی نہ کسی مرحلے پر اس نظام کو سہارا دیا ہے جس میں طاقتور کو قانون سے بالاتر سمجھنے کا رجحان پیدا ہوا۔
فوجی اسٹیبلشمنٹ کو پاکستان میں غیر معمولی اثر و رسوخ حاصل ہے .اس لیے سوال بھی اسی سے زیادہ سخت ہونا چاہیے:
آپ نے ١٩٧١، سے کیا سیکھا ؟کیا آپ نے یہ سیکھا کہ عوام کو زیادہ طاقت سے دبانا چاہیے؟
یا یہ سیکھا کہ عوام کے مینڈیٹ کو تسلیم کرنا چاہیے؟
اگر پہلا جواب ہے تو پھر تاریخ دوبارہ ہمارے دروازے پر کھڑی ہے۔
1971 میں ملک جغرافیائی طور پر ٹوٹا تھا۔ آج خطرہ شاید مختلف نوعیت کا ہے۔ ملک نقشے پر ایک ہو سکتا ہے، مگر اگر اس کے شہری ریاست پر اعتماد کھو دیں، اگر صوبوں کو یہ محسوس ہو کہ ان کی آواز نہیں سنی جارہی، اگر نوجوان نسل یہ سمجھنے لگے کہ ووٹ سے کچھ نہیں بدلتا. تو پھر ریاست کی ظاہری یکجہتی کے اندر سے اسکی بنیادیں کھوکھلی ہونا شروع ہو جاتی ہیں .پاکستان کو آج مزید طاقت کی نہیں، مزید سیاسی بصیرت کی ضرورت ہے .
اگر حکمران طبقہ یہ سمجھتا ہے کہ عوام کو ہمیشہ طاقت کے ذریعے قابو میں رکھا جاسکتا ہے تو اسے 1971 کی تاریخ دوبارہ پڑھنی چاہیے۔کیونکہ تاریخ کا فیصلہ بہت بے رحم ہوتا ہے۔ عوام کو ایک بار دھوکہ دیا جا سکتا ہے ،دوسری بار ڈرایا جا سکتا ہے اور شاہد تیسری بار دبایا بھی جا سکتا ہے .لیکن ہمیشہ کیلئے خاموش نہیں کیا جا سکتا .اور اگر ریاست نے عوام کے ووٹ کو بے معنی کردیا، تو پھر اسے یہ سوال بھی سننا ہوگا: آخر ایک شہری ریاست سے وفاداری کیوں رکھے ،اگر ریاست اسکی آواز سے وفاداری نہ کرے .1971, ہمیں متنبہ کرچکا ۔اب فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے:
ہم تاریخ سے سبق سیکھیں گے، یا تاریخ کو ایک بار پھر ہمیں سبق سکھانا پڑے گا؟
Sunday, 4 October 2026
!تقسیم کرو اور حکومت کرو
ا نسانی تاریخ گواہ ہے کہ حکمرانوں ،بادشاہوں نے ہمیشہ اکثریت پر حکمرانی کرنے کیلئے انھیں مختلف گروہوں اور طبقوں میں تقسیم کیا ہے .یہ تقسیم مذہبی ، سماجی ،اقتصادی کے ساتھ ساتھ لسانی اور رنگ و نسل کی بنیاد پر بھی ہوتی تھی .جب لوگوں کو مختلف طبقوں میں بانٹ دیا جاۓ . تو لوگوں کے درمیان اتحاد اور یک جہتی کمزور پڑ جاتی ہے . اسکا فائدہ حکمران بادشاہوں کو ہوتا تھا اور آج بھی ہو رہا ہے .اس مقصد کیلئے حکمرانوں کو دو طبقوں نے ہمیشہ مدد فراہم کی ہے . ایک مذہبی پیشوایت اور دوسرا مالدار طبقہ . یہ ایک ایسی تکون ہے جس نے زمانہ قدیم سے آج تک انسانیت کو تقسیم کر رکھا ہے .
Monday, 28 September 2026
! ملک آزاد ۔عوام محکوم
پاکستان کو آزاد ہوئے تقریباً اسی برس ہونے کو ہیں۔ انگریز چلا گیا، پرچم بدل گیا، حکمران بدل گئے۔ مگر ایک سوال آج بھی ہمارے سامنے ہے:
صرف کسی قانون کا پرانا ہونا مسئلہ نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ ایک آزاد اور جمہوری ریاست میں اس اختیار کو کون اور کس طرح استعمال کیا جاتا ہے .پاکستان کا آئین شہریوں کو پُرامن اور غیر مسلح اجتماع کا بنیادی حق دیتا ہے، اگرچہ عوامی نظم و ضبط کے مفاد میں معقول پابندیوں کی اجازت بھی دیتا ہے۔
لہٰذا ریاست کو امن و امان برقرار رکھنے کا اختیار بھی ہے اور شہری کو پُرامن احتجاج کا حق بھی۔ اصل امتحان ان دونوں کے درمیان توازن کا ہے۔
اگر کسی علاقے میں تشدد یا فساد کا حقیقی خطرہ ہو تو ریاست کا مداخلت کرنا ضروری ہو سکتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے:کہ خطرہ کتنا حقیقی ہے ؟ پابندی کتنی ضروری ہے اور کیا اس سے کم بھی کوئی راستہ موجود ہے ؟
دفعہ 144 کسی افسر کی ذاتی مرضی کا لامحدود اختیار نہیں۔ اس کے استعمال کے لیے قانونی بنیاد موجود ہے اور ایسے احکامات عدالتی جانچ سے بالاتر نہیں۔ لیکن پاکستان میں وطیرہ یہ ہے کہ کسی ضلح کا ایک انتظامی آفسر عوامی احتجاج کو حکومت کے خلاف ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے انتظامی اختیار کیلئے بھی خطرہ سمجھنے لگتا ہے . اور شاہ سے زیادہ شاہ کا وفادار بنتے ہوۓ . عوام کے بنیادی آئینی حق کو سلب کر لیتا ہے .
پاکستان میں جب عوام کے سیاسی اجتماعات اور احتجاج کو ایک انتظامی ہنگامی اختیار کو استعمال کرتے ہوۓ روکا جاتا ہے تو پھریہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہےکہ کیا پاکستان میں اشرافیہ نے نہ صرف نوآبادیاتی قوانین ،بلکہ ریاست اور شہری کے درمیان تعلق کی نو آبادیاتی سوچ بھی برقرار رکھی ہوئی ہے ۔برطانوی راج میں ریاست کا بنیادی مسئلہ عوام کی آزادی نہیں بلکہ ریاستی نظم اور اقتدار کا تحفظ تھا۔حکمران اوپر تھا، عوام نیچے۔حکومت حکم دیتی تھی اور ڈنڈے کے زور پر عوام سے اس پر عمل کروایا جاتا تھا ۔آج پاکستان کا آئین ایک بالکل مختلف تصور پیش کرتا ہے۔
آج شہری رعایا نہیں۔ وہ آئینی حقوق رکھنے والا ایک آزاد ملک کا شہری ہے ۔
جمہوریت میں پُرامن احتجاج ریاست کے خلاف جنگ نہیں؛ یہ شہری کے اختلاف کے اظہار کا حق ہے۔
ہم یہ مطالبہ نہیں کر رہے کہ دفعہ 144 کو ختم کیا جاۓ .بلکہ اس کے استعمال کے واضح اصول ہوں، پابندی حقیقی خطرے کی بنیاد پر ہو، مدت محدود ہو، وجوہات واضح ہوں اور شہری کو فوری عدالتی تحفظ حاصل ہو۔
کیونکہ ایک مضبوط جمہوری ریاست کی طاقت صرف اس میں نہیں کہ وہ کتنے لوگوں کو روک سکتی ہے۔ اسکی اصل طاقت اس میں ہے کہ وہ کتنے اختلاف کو برداشت کر سکتی ہے۔ ریاست اور عوام دونوں کےدرمیان تعلق ایسا ہو کہ ریاست عوام سے خوفزدہ نہ ہو، اور عوام کو ریاست سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہ ہو۔ جبکہ یہاں معاملہ یہ ہے کہ ملک تو 1947,میں آزاد ہو گیا تھا ۔ لیکن آج بھی سوال یہ ہے کہ : کیا ہم اس ملک کے شہری بھی آزاد ہوۓ ؟
Saturday, 13 June 2026
بندوق مسائل کا حل نہیں
افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں اب بھی یہ تصور غالب دکھائی دیتا ہے کہ عوام کو دبانے سے استحکام آ جائے گا اور اختلاف کو ختم کرنے سے امن قائم ہو جائے گا۔ لیکن استحکام اور امن قبرستان کی خاموشی کا نام نہیں۔ حقیقی امن وہ ہوتا ہے جہاں شہری خود کو محفوظ، باعزت اور بااختیار محسوس کریں۔ جہاں اختلافِ رائے کو برداشت کیا جائے اور جہاں ریاست اپنے عوام کی آواز سننے کا حوصلہ رکھتی ہو۔
پاکستان آج جن مشکلات کا شکار ہے، ان کا حل مزید گرفتاریوں، مزید پابندیوں اور مزید طاقت کے استعمال میں نہیں۔ ان کا حل سیاسی بصیرت، جمہوری رویوں اور انصاف پر مبنی نظام میں ہے۔ ریاستوں کی طاقت ان کے ہتھیاروں سے نہیں بلکہ ان کے شہریوں کے اعتماد سے ناپی جاتی ہے۔ اور اعتماد وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں خوف نہیں، انصاف حکمرانی کرتا ہو۔
شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم خود سے ایک بنیادی سوال پوچھیں: کیا ہم مسائل کا حل تلاش کرنا چاہتے ہیں یا صرف عوام کی آواز کو دبانا چاہتے ہیں؟ کیونکہ تاریخ بتاتی ہے کہ دبائی ہوئی آوازیں خاموش نہیں ہوتیں، وہ زیادہ گہری اور زیادہ طاقتور ہو کر ابھرتی ہیں۔
قومیں خوف سے نہیں، اعتماد سے بنتی ہیں
گزشتہ چند برسوں کے دوران یہ رویہ پہلے سے کہیں زیادہ نمایاں ہوا ہے۔ سیاسی کارکنوں کی گرفتاریاں، سیاسی سرگرمیوں پر پابندیاں، گھروں پر چھاپے، خاندانوں کو ہراساں کرنا اور اختلافی آوازوں کو خاموش کرنے کی کوششیں ایک معمول بنتی چلی گئی ہیں۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں شاید ہی کبھی ریاستی طاقت کا استعمال اس شدت کے ساتھ دیکھنے میں آیا ہو جس کا مشاہدہ حالیہ برسوں میں کیا گیا ہے۔
سوال یہ ہے کہ آخر فوجی اسٹیبلشمنٹ اور ریاستی ادارے اس حد تک سخت رویہ کیوں اختیار کرتے ہیں؟ اس کی ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ وہ سیاسی مسائل کو سیاسی نقطۂ نظر سے دیکھنے کے بجائے سکیورٹی کے مسئلے کے طور پر دیکھتے ہیں۔ جب اختلافِ رائے کو جمہوری حق کے بجائے ریاست کے لیے خطرہ سمجھا جائے تو پھر مکالمے اور مفاہمت کی جگہ طاقت اور جبر لے لیتے ہیں۔ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ طاقت وقتی طور پر خاموشی تو پیدا کر سکتی ہے، دلوں اور ذہنوں کو فتح نہیں کر سکتی۔
دنیا کے بے شمار ممالک کے تجربات یہ ثابت کرتے ہیں کہ ترقی صرف سڑکیں بنانے، عمارتیں کھڑی کرنے یا معاشی اعداد و شمار بہتر کرنے کا نام نہیں۔ حقیقی ترقی اس وقت ممکن ہوتی ہے جب عوام کو انصاف ملے، ان کی رائے کا احترام کیا جائے، قانون سب کے لیے برابر ہو اور ریاست اپنے شہریوں کے اعتماد پر کھڑی ہو۔ جس معاشرے میں خوف حکمرانی کرے، وہاں استحکام عارضی اور کمزور ہوتا ہے۔
یہی حقیقت پاکستان کے مختلف خطوں پر بھی لاگو ہوتی ہے۔ خیبر پختونخوا، بلوچستان اور کشمیر جیسے حساس علاقوں میں اگر عوام کے سیاسی، معاشی اور سماجی تحفظات کو نظر انداز کر کے صرف طاقت کے ذریعے مسائل حل کرنے کی کوشش کی جائے تو اس سے وقتی کنٹرول تو حاصل کیا جا سکتا ہے، لیکن پائیدار امن قائم نہیں کیا جا سکتا۔ امن صرف بندوق کی طاقت سے نہیں بلکہ انصاف، شمولیت اور عوامی اعتماد سے قائم ہوتا ہے۔
تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ریاستیں اس وقت مضبوط بنتی ہیں جب وہ اپنے شہریوں کی آواز سننے کا حوصلہ رکھتی ہیں۔ اختلافِ رائے کو دشمنی سمجھنے کے بجائے اسے اصلاح اور بہتری کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ جو ریاستیں اپنے عوام سے خوفزدہ ہو جاتی ہیں، وہ طاقت کے استعمال میں اضافہ تو کر سکتی ہیں، لیکن اس کے نتیجے میں عوام اور ریاست کے درمیان فاصلہ بڑھتا جاتا ہے۔
پاکستان کو آج جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ مزید جبر نہیں بلکہ زیادہ مکالمہ ہے؛ مزید طاقت کا استعمال نہیں بلکہ زیادہ سیاسی بصیرت ہے؛ مزید خاموشی نہیں بلکہ عوام کی آواز سننے کا حوصلہ ہے۔ کیونکہ قومیں طاقت سے نہیں، اعتماد سے متحد رہتی ہیں۔ اور اعتماد وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں انصاف، قانون کی حکمرانی اور عوام کے بنیادی حقوق کا احترام موجود ہو۔
Saturday, 6 June 2026
!وہ سبق جو ہم نے نہیں سیکھا
-
کہتے ہیں کہ کہیں پر جنگ ہو رہی تھی .اس جنگ میں کافی سارے فوجی ہلاک ہو گۓ .تو اس فوج کے افسر ا علی نے اپنے ایک ماتحت کو ساتھ والے گاؤں بیجا ...
-
Pakistan’s establishment is chasing a fantasy. The idea that the country can move forward by erasing Imran Khan from politics is not strate...
-
جیو کے ایک ملازم کے ساتھ کینیڈا ہونے والے واقعہ پر پاکستان میں زلزلہ آیا ہوا ہے .کرپٹ حکمران ٹولہ اور انکے حمایتی (صحافی )ساون کے مینڈکوں...
