Friday, 17 April 2026

.اقتدار حاصل کر لیا ۔ساکھ کھودی

"کیا ان سے بھی غلطی ہو سکتی ہے ؟"
پاکستان میں  طاقت کے ایوانوں  میں یہ سوال شاذ و نادر ہی اتنی سنجیدگی سے پوچھا جاتا ہے۔ اور اکثر اوقات، ان کے فیصلوں کا جو نتیجہ سامنے آتا ہے . وہ ثابت کرتا ہے کہ ایسا کیوں ہونا چاہیے تھا۔یعنی انھیں اپنے ماضی کے فیصلوں سے یہ سیکھنا چاہئیے تھا .کہ ان سے بھی غلطی ہو سکتی ہے .وہ عقل کل نہیں ہیں .

عمران خان کی برطرفی، جو فوجی اسٹیبلشمنٹ اور پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے اتحاد سے کی گئی.نظام کو دوبارہ ترتیب دینے کیلئے تھی . اس کا مقصد اپنی قوت و طاقت کا اظہار کرنا . اپنی حکمرانی کو مستحکم کرنا اور ایک ایسی عوامی قوت کے پروں کو کاٹنا تھا . جو اب فوجی اسٹیبلشمنٹ ، نوکر شاہی اور سیاسی اشرافیہ کیلئے تکلیف دہ بنتی جا رہی تھی .

انھوں نے عمران حکومت کو تو تبدیل کر لیا . لیکن اس اقدام نے ایک ایسے عوامی رد عمل کو جنم دیا .جس کے بارے میں انھوں نے سوچا بھی نہیں تھا . اور جسے تمام تر ظلم و جبر کے یہ ابھی تک مکمل قابو کرنے میں نا کام رہے ہیں .

انکی پہلی غلطی قانونی حثیت تھی . جو کچھ آئینی طور پر قابل دفاع ہو سکتا تھا .وہ عوامی قبولیت میں تبدیل نہیں ہوا .سیاست صرف قانونی شقوں سے  طےنہیں ہوتی .بلکہ تصور میں طےہوتی ہے . جو تاثر غالب آیا .وہ بہت سادہ اور خطرناک تھا : کہ عوام کی کوئی حثیت نہیں .نظام پر تو قابو پا لیا گیا .اور ایک ایسے رہنما کو ہٹا دیا .جو عوامی حمایت رکھتا تھا .اقتدار پر قابض ٹولہ اپنی تمام تر کوشش کے با وجود ابھی تک عمران خان کی عوامی حمایت میں کمی لانے سے قاصر ہے .

صرف یہ تصور ہی کہ عمران خان ابھی تک ڈٹ کے کھڑا ہے . نے عمران خان کو جد و جہد اور استقامت کا ایک  استعارہ بنا دیا . ایک ہی جھٹکے میں ، پاکستان تحریک انصاف مزاحمت کی علامت میں تبدیل ہو گئی .کہانی الٹ گئی . احتساب قربانی میں بدل گیا .مخالفت بغاوت میں بدل گئی .
یہ سیاست کا سب سے پرانا تضاد ہے: 

دباؤ، جب غلط لاگو کیا جاتا  ہے، تو وہ مزاحمت کو کچلتا نہیں—بلکہ اسے مزید تقویت دیتا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کو توڑنے کی ہر  ممکن  کوشش ہوئی .بہت سے رہنما توبہ تائب ہو کر سیاست کو خیر باد کہہ گۓ .لیکن اسکی عوامی حمایت کی بنیاد مزید مضبوط ہوئی .ڈیجیٹل جگہیں مزاحمت کے بازگشت خانوں میں بدل گئیں    .
اسے محدود کرنے کی کوشش نے اسے مزید  بڑھاوا دیا۔ اسٹیبلشمنٹ  نے صرف ایک سیاسی مخالف پیدا  نہیں کیا .اس نے ایک تحریک کی تیاری میں بھی مدد کی .

اس دوران جن لوگوں نے اقتدار سنبھالا . انھوں نے ایک ایسا نظام وراثت میں پایا . جس کے  پاس کوئی عوامی ، قانونی اور اخلاقی اختیار نہیں تھا . ظلم و جبر کی سیاست ، معاشی زوال ، آئی -ایم -ایف کے محدودات --ان میں سے کوئی بھی فیصلہ کن حکمرانی کی اجازت نہیں دیتا .جو کچھ ہوا وہ متوقع تھا: 

ہچکچاہٹ، ناپسندیدہ فیصلے، اور عوامی مزاج سے بڑھتی ہوئی دوری۔ طاقت محفوظ کر لی گئی.لیکن اختیار حاصل نہ ہو سکا .اور اس سب کے نیچے ایک گہری قیمت چھپی ہوئی ہے : ادارہ جاتی ساکھ کی !!!!!

جب غیر سیاسی عناصر ،سیاسی انجینئرنگ کرتے ہیں . تو طویل المدتی نقصان    نازک ، لیکن شدید ہوتا ہے .اعتماد ختم ہو جاتا ہے .غیر جانبداری مشکوک ہو جاتی ہے .ہر آئندہ حرکت کی قدر ،کریڈٹ کی بنیاد پر نہیں . بلکہ نیت کی بنیاد پر کی جاتی ہے .یہی وہ مقام ہے .جہاں "کیا غلط ہو سکتا ہے ". صرف ایک جملہ نہیں رہتا - بلکہ ایک نمونہ بن جاتا ہے .کیونکہ اصل نا کامی یہاں حکمت عملی کی نہیں .انکی حکمت عملی کامیاب ہوئی . حکومت ہٹا دی گئی .کنٹرول دوبارہ قائم ہو گیا . لیکن سیاست شطرنج نہیں ہے .آپ ایک ٹکڑا پکڑ کر نہیں جیتتے ؟آپ بساط کنٹرول کر کے  جیتتے ہیں .....

اس معاملے میں ،بساط بدل گئی . جو غلط ہوا . وہ عمل نہیں تھا . بلکہ یہ مفروضہ تھا کہ طاقت بغیر - نتائج کے دوبارہ ترتیب دی جاسکتی ہے . عوامی جذبات کو قابو میں رکھا جا سکتا ہے ؟ بیانیہ کو قبولیت دلائی جا سکتی ہے .ایک ایسے دور میں جب وہ مسلسل زیر بحث ہے . انھوں نے اقتدار تو جیت لیا .لیکن وہ اپنی ساکھ ہار بیٹھے !

 سیاست ہو یا زندگی کا کوئی بھی شعبہ ، کوئی فرد واحد ہو یا ادارہ "ساکھ "کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا !!

Thursday, 16 April 2026

They Won the Move, But Lost the Moment

“What could go wrong?” In Pakistan’s power corridors, that question is rarely asked with enough seriousness. And more often than not, what follows proves why it should have been.

The removal of Imran Khan, engineered through a convergence of the military establishment and the Pakistan Democratic Movement, was meant to reset the system. It was supposed to restore order, stabilize governance, and clip the wings of a populist force that had become inconvenient.

Instead, it triggered a chain reaction no one fully controlled.

The first miscalculation was legitimacy. What may have been constitutionally defensible did not translate into public acceptance. Politics is not decided in legal clauses alone—it is decided in perception. And the perception that took hold was simple and dangerous: the system was manipulated to remove a leader who still commanded mass support.

That perception didn’t weaken Imran Khan—it weaponized him.

In one stroke, he transformed from a contested incumbent into a symbol of resistance. The narrative flipped. Accountability turned into victimhood. Opposition turned into insurgency. This is the oldest paradox in politics: pressure, when misapplied, doesn’t crush—it concentrates.

Then came the mobilization. Instead of fragmentation, his support base hardened. Street power grew. Digital spaces became echo chambers of defiance. The attempt to contain him ended up amplifying him. The establishment didn’t just create a political opponent—it helped manufacture a movement.

Meanwhile, those who took power inherited a system without owning its mandate. Coalition politics, economic freefall, IMF constraints—none of it allowed for decisive governance. What followed was predictable: hesitation, unpopular decisions, and a growing disconnect with the public mood. Power was secured, but authority remained elusive.

And beneath all this lies a deeper cost: institutional credibility. When non-political actors are seen as political engineers, the long-term damage is subtle but severe. Trust erodes. Neutrality becomes suspect. Every future move is judged not on merit, but on motive.

This is where “what could go wrong” becomes more than a phrase—it becomes a pattern.

Because the real failure here is not tactical. The move itself worked. The government was removed. Control was reasserted.

But politics is not chess. You don’t win by capturing a single piece.

You win by controlling the board—and in this case, the board shifted.

What went wrong was not the action, but the assumption behind it: that power could be rearranged without consequences, that public sentiment could be managed, that narratives could be dictated in an age where they are constantly contested.

They won the move.

But they lost the moment—and in politics, moments have a way of defining everything that comes after.

Saturday, 11 April 2026

.امن اور اسرائیل - دونوں ایک ساتھ نہیں چل سکتے

ایران ،امریکہ اور اسرائیل کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی کا اعلان سات اپریل کو ہوا .  پاکستانی حکومت کے مطابق ، لبنان بھی اس جنگ بندی کا حصہ ہے . لیکن اسرائیلی وزیر اعظم  اس بات سے انکاری ہیں. یہی وجہ ہے کہ اس جنگ بندی کا اعلان ہونے کے ایک ہی دن بعد اسرائیل نے لبنان پر حملہ کر دیا . جس میں اب تک سنیکڑوں افراد ہلاک اور ہزروں زخمی ہو چکے ہیں .  حقیقت اے ہے کہ اسرائیل کسی بھی قسم کی جنگ بندی کے حق میں نہیں . وہ ایران کی مکمل تباہی چاہتے ہیں .  دھائیوں سے اسرائیل کا رویہ یہی ہے کہ جب دباؤ پڑے تو جنگ بندی کیلئے تیار ہو جاتے ہیں . اور پھر جب موقع ملتا ہے . جنگ شروع کر دیتے ہیں . امن اسرائیل کیلئے اس وقت تک قابل قبول نہیں . جب تک وہ اپنے اس پاس کے تمام ممالک کو  تباہ و برباد نہیں کردیتے . 
یہی وجہ ہے کہ اسرائیل لبنان پر حملوں کے ذریعۓ اس جنگ بندی کو نا کام بنانا چاہتا ہے . 
مشرق وسطیٰ میں امن اور اسرائیل دونوں ایک ساتھ نہیں رہ سکتے  — دنیا کو دونوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہو گا ۔ اسرائیل ایک نسل پرست   ریاست ہے ۔جس کا پورا وجود مشرق وسطیٰ میں مسلسل تشدد اور زیادتی کی حکمت عملی پر مبنی ہے۔ جب تک یہ حالت اپنی موجودہ شکل میں موجود ہے، امن کبھی حاصل نہیں ہو سکتا۔

!گھر عذاب اور باہر ثواب

اسلام آباد میں ، ایران ،امریکی ،اسرائیلی جنگ کے خاتمےاور  خطے میں امن کی بحالی کیلئے ،مذاکرات کل یعنی ہفتے کی صبح ، شروع ہونے ہیں . ان مذاکرات میں ، امریکہ کے نائب صدر اپنے ملک کی نمائیندگی کریں گے . انکے ساتھ ، سٹیو وٹکاف اور امریکی صدر کے داماد جرڈ کشنر بھی مذاکراتی ٹیم کا حصہ ہونگے . جبکہ ایران کی طرف سے ، ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر،محمد غالباف  اور وزیر خارجہ ، عباس  عراقچی ان مذاکرات میں شریک ہونگے .  مذاکرات دو ہفتے تک جاری رہ سکتے ہیں . ان مذاکرات کا کیا نتیجہ نکلے گا . اس کے بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا . بعض مبصرین کا خیال ہے کہ جب تک اسرائیل ، لبنان پر حملے نہیں روکتا . ان مذاکرات کا کوئی مثبت نتیجہ نہیں نکلے گا . 
پاکستان کی طرف سے جنگ بندی کی کوششوں کو ساری دنیا میں سراہا جا رہا ہے .  ہمیں بھی خوشی ہے کہ کسی مثبت کام میں پاکستان کا نام لیا جا رہا ہے . لیکن دوسری طرف اس ہائی بریڈ نظام نے ملک کے اندر جو تباہی مچائی ہے . اسکا بھی کوئی ذکر ہونا چاہئیے . معیشت وگرگوں ہے . غربت کی شرح میں بے تحاشا اضافہ ہو رہا ہے .ملک کے اندر انسانی حقوق کی سر عام خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں . انصاف کا نظام مکمل تباہی کا شکار ہے . ہزاروں سیاسی کارکن جیلوں میں بند ہیں .ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ اور سابق وزیر اعظم کے بنیادی انسانی حقوق کو بوٹوں تلے روندا جا رہا ہے .ملک میں پر امن احتجاج کی اجازت نہیں .کم از کم ملکی میڈیا کو تو اس پر بات کرنی چاہئیے . 
دنیا میں امن کیلئے کوشش کرنا اچھی بات ہے . لیکن ملک میں انسانی حقوق ، انصاف ، غریب عوام کیلئے اسانیاں پیدا کرنا کس کا کام ہے ؟    ملک سے باہر  ،مذاکرات سے جھگڑوں کا حل اور ملک کے اندر ، لاٹھی ،گولی کی سرکار !!!!
یہ مذاکرات اسلام آباد کے ایک مخصوص علاقے میں ہونگے  . لیکن جمعہ کے دن سے جڑواں شہروں کو مکمل بند کر دیا گیا ہے . اسلام آباد سبزی منڈی بند ہے . پشاور روڈ پر تمام کاروبار اور ہوٹل بھی  بند ہیں .  کیا سیکورٹی کا یہ ہی طریقہ ہے کہ لاکھوں لوگوں کے کاروبار بند کر دئیے جائیں . مذاکرات سرینا ہوٹل اسلام آباد میں ہونگے . کیا اس ہوٹل کے آس پاس کا علاقہ بند کرنا کافی نہ تھا ؟ 
اکیسویں صدی میں انیسویں صدی کے طریقے اختیار کرنا کوئی عقل مندی کی بات نہیں . یہ تو گھر عذاب- اور باہر ثواب والی بات ہے .

Thursday, 9 April 2026

!تہذیب یافتہ کون

جو بھی ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی بات سنتا ہے، اور ان کی ذہین، معقول، غور و فکر سے بھرپور، استدلال اور  حقیقت پر مبنی تقریروں اور سوالات کے مسکرا کر جوابات  دینے  کا موازنہ ٹرمپ،   ہیگزیٹ  اور نیتن یاہو جیسے لوگوں کے  پاگل پن   اور غیر اخلاقی بیانات سے کرتا ہے -    وہ با آسانی یہ دیکھ سکتا ہے کہ ایران موجودہ تنازع میں مہذب فریق ہے-
جبکہ دوسری  طرف منہ سے جھاگ اڑاتے  اور شعلے اگلتی ہوئے وحشی پاگلوں کی قیادت  ہے۔ یہ اس مغربی تہذیب کے چہرے  پر  ایک تھپڑ ہے.جو خود کو   اخلاقیات کے ا علی ترین مقام پر فائز سمجھتی ہے . اس حقیقت سے  انکار ممکن نہیں کہ امریکی، جو خود کو انسانی تہذیب کی چوٹی سمجھتے ہیں، احمق، بُرے، اور انتہائی غیر مہذب بن چکے ہیں۔  وہ پاگل ،پتھریلے دور کے گوشت خور انسانوں کے مترادف ہیں جوچنگاڑتے ہوۓ  درندوں   کی ماننداپنی رہ میں آنے والی ہر رکاوٹ کو روند نے کی کوشش میں ہیں .
اور   ایک انتہائی مہذب ، تہذیب یافتہ اور پڑھے لکھے لوگوں پر حملہ آور ہیں . تاکہ انہیں چاک کر کے ان کا گوشت نوچ سکیں. صرف اور صرف اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے .
دنیا کے مہذب لوگ خود فیصلہ کر سکتے ہیں کہ ایران پر مسلط کی جانے والی اس بلا جواز اور نا  جائز جنگ میں کون حق پر ہے .اور کون سا فریق وحشیانہ درندگی کا مظاہرہ کر رہا ہے ؟
ہزاروں سال پرانی تہذیب و ثقافت کو مٹانے کی دھمکیاں دینے والے ، تہذیب یافتہ کہلانے کے حق دار نہیں ہو سکتے !!!!

Monday, 6 April 2026

!حکمت

 سقراط نےکہا تھا کہ ، (حکمت )     ایک عظیم مساوات پیدا کرنے والی چیز ہے۔ جبکہ حرص اور بےوقوفی عظیم اور  طاقتورترین  سلطنتوں کو گرانے میں ہمیشہ اہم کردار ادا کرتی    ہیں   .   حکمت ایک چھوٹے شہر سے ایک عظیم ریاست بنا سکتی ہے۔اس کی ایک بہترین مثال وہ ریاست کہ  جسے تاریخ  ریاست مدینہ کے نام سے یاد کرتی ہے . الله کے قانون (قرآن ) اور محمد رسول الله کی حکمت اور جہد مسلسل نے ، اس چھوٹی سی (سٹی اسٹیٹ )کو دس سالوں میں ایک عظیم ریاست میں تبدیل کر دیا .
ایسا کسی زور زبردستی ، دھونس دھاندلی ، ظلم و ستم  اور طاقت کے زور پرنہیں ہوا . بلکہ اس آفاقی نظریے کی بنیاد پر کیا گیا . کہ تمام انسان برابر ہیں . کسی انسان کو دوسروں پر حکمرانی کرنے کا کوئی حق نہیں . حق حکمرانی صرف الله کی ذات کا ہے . حکومت صرف اور صرف الله کے قانون (قرآن ) کے مطابق چلائی جاۓ گی . 
تاریخ انسانی میں بہت سی عظیم و شان سلطنتوں کا ذکر موجود ہے .  جو بام عروج پر پہنچی اور پھر زوال کا شکار ہو کر تاریخ کے صفحات میں گم ہو گئیں . 
جب  بے وقوفوں کو ذمہ داری سونپ دی جاتی ہے .   چاپلوس  انکے مدد گار بن جاتے ہیں . اور  قابل لوگ بزدلی 
  کی وجہ سے سچ بولنے سے ڈرتے ہیں . تو عظیم و شان سلطنتیں زوال کا شکار ہو جاتی ہیں . اسکی ایک بہترین مثال 
ہمارے سامنے امریکہ کی شکل میں موجود ہے . جہاں پر بے وقوفوں اور چاپلوسوں کا ایک گروہ نہ صرف امریکہ بلکہ ساری دنیا کیلئے . تباہی اور بربادی کا سبب بن رہا ہے .

Friday, 3 April 2026

!ایک تو یہ پڑھے لکھے نہیں

موجودہ حکمران ٹولے کے بارے میں عمران خان نے ایک مرتبہ کہا تھا. کہ ایک تو یہ پڑھے ،لکھے نہیں اور دوسرا یہ کوشش بھی نہیں کرتے . فارم (47), کے بل بوتے پر اقتدار میں آنے کے بعد ، ہر ہر موقع پر انھوں نے عمران خان کی اس بات کو سو فیصد درست ثابت کیا ہے . 
عوام حکمرانوں کے قول و فعل دونوں کو دیکھتی ہے . صرف بلند و بانگ دعوؤں کو نہیں . جب سے یہ شکست خوردہ ٹولہ اقتدار میں آیا ہے انھوں نے اپنی کارکردگی صرف اشتہاروں میں دکھانے کی کوشش کی . اربوں روپے کے اشتہارات ، اخبارات ، ٹی - وی اور بینروں ، بل بورڈز پر لگاۓ گۓ . اس سے کچھ لوگوں نے تو خوب مال بنایا . لیکن عوام کو کچھ بھی حاصل نہ ہوا . بلکہ حکمرانوں کے خلاف نفرت میں اضافہ ہی ہوا . 
عوام کی مشکلات بڑھ رہی ہیں جبکہ حکمران اور انکے بڑے ڈیڈی اپنے لیے نۓ جہاز خرید رہے ہیں . اسکے ساتھ ساتھ انتظامی مشینری اور ججوں کیلئے کروڑوں کی گاڑیاں لی جا رہی ہیں . وزیر اعظم ، پاکستان کے مسائل حل کرنے کی بجاۓ . دنیا کی فکر میں سارے عالم کے چکر لگا رہے ہیں . اور ساتھ ہی عوام کو قناعت پسندی کا درس بھی دے رہے ہیں . اسے کہتے ہیں . زخموں پر نمک چھڑکنا ! 
لیکن کیا کریں . یہ پڑھے لکھے جو نہیں .
ملک میں کرکٹ ہو رہی ہے . لیکن عوام کو گراؤنڈ میں جا کر میچ دیکھنے کی اجازت نہیں .
پاکستان کی عوام کے تمام مسائل حل کرنے کے بعد اب یہ امریکہ ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ بند کروانے میں اپنی ساری توانائیاں خرچ کر رہے ہیں . پہلے اسلام آباد میں چار ملکوں کی ایک کانفرنس بلائی . جس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا . پھر ڈپٹی وزیر اعظم اور وزیر خارجہ بھاگے بھاگے چین گۓ . وہاں سے ایک پانچ نکاتی اعلامیہ جاری ہوا . جن میں ان نکات کا کوئی ذکر نہیں . جو جنگ بندی کیلئے ایران نے پیش کیے . 
امن کیلئے مذاکرات وہی کروا سکتا ہے . جو غیر جانبدار ہو . پاکستان کی حکومت غیر جانبدار نہیں . کیونکہ چین سے جو اعلامیہ جاری کیا گیا . اس میں یہ ذکر ہی نہیں کہ جنگ کس نے شروع کی . نہ امریکہ اور اسرائیل کی ، ایران پر بلا جواز حملے کی مذامت کی گئی . جب آپ میں اتنی جرات نہیں کہ غلط کو غلط کہہ سکیں . تو آپ کیسے امن کیلئے تینوں فریقوں کو میز پر بٹھا سکتے ہیں . 
یہ صرف اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کی ایک کوشش ہے . اور حکومت اس کام کا کریڈٹ لینے پر بضد ہے . جو اسکے بس میں ہے ہی نہیں . 
بات پھر ادھر ہی ختم ہوتی ہے . جو مرشد نے کہی تھی . ایک تو یہ پڑھے .لکھے نہیں اور دوسرا یہ کوشش بھی نہیں کرتے !!!!!