پاکستان کسی بیرونی جنگ میں شکست نہیں کھا رہا —مگر اندرونی طاقت کی کشمکش اسے آہستہ آہستہ کمزور کررہی ہے۔
یہاں ہر طاقتور فریق خود کو ریاست کا محافظ کہتا ہے، مگر ریاست کو مضبوط کرنے کے بجائے اپنی اپنی طاقت کے دائرے محفوظ بنانے میں مصروف ہے۔
سیاست دان اقتدار بچا رہے ہیں۔
ادارے اپنی بالادستی برقرار رکھنے کی جنگ لڑ رہے ہیں۔
اشرافیہ اپنے مفادات کے گرد حفاظتی دیواریں کھڑی کر چکی ہے۔
اور عام آدمی؟
وہ صرف مہنگائی، بے یقینی اور ٹوٹتی ہوئی امید کے درمیان زندہ رہنے کی کوشش کر رہا ہے۔
یہی وہ مرحلہ ہوتا ہے جہاں قومیں اچانک نہیں گرتیں — بلکہ اندر سے کھوکھلی ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔
پاکستان کا اصل بحران صرف معیشت نہیں۔اصل بحران یہ ہے کہ یہاں طاقت تو بہت ہے، مگر ذمہ داری کم ہوتی جا رہی ہے۔
جب عوامی مینڈیٹ کمزور کر دیا جائے…
جب فیصلے پارلیمنٹ کے بجائے بند کمروں میں ہوں…
جب قانون طاقتور کے سامنے جھک جائے…
جب احتساب انصاف کے بجائے سیاسی ہتھیار بن جائے…
جب میڈیا معلومات کے بجائے بیانیوں کی جنگ لڑنے لگے…
اور جب ہر اختلاف کو خطرہ سمجھا جانے لگے…
تو پھر ریاست صرف طاقتور دکھائی دیتی ہے، مضبوط نہیں۔
کیونکہ مضبوط ریاستیں خوف سے نہیں، اعتماد سے چلتی ہیں۔
آج پاکستان میں سب سے خوفناک چیز غربت نہیں۔
بلکہ وہ خاموش مایوسی ہے جو پورے معاشرے میں پھیل رہی ہے۔
وہ نوجوان جو ڈگری لینے کے بعد ملک چھوڑنے کو کامیابی سمجھتا ہے۔
وہ تاجر جو سرمایہ پاکستان سے باہر منتقل کرنا چاہتا ہے۔
وہ مزدور جو دن رات کام کے باوجود اپنے بچوں کا مستقبل محفوظ نہیں بنا پا رہا۔
وہ شہری جو یہ یقین کھو چکا ہے کہ انصاف، قانون اور ووٹ واقعی کوئی معنی رکھتے ہیں۔
یہ صرف معاشی بحران نہیں۔یہ ریاست اور عوام کے درمیان ٹوٹتے ہوئے اعتماد کی کہانی ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ ریاستیں ہمیشہ بیرونی دشمنوں سے تباہ نہیں ہوتیں۔
کئی بار وہ اندرونی طاقت کی لڑائیوں، اداروں کی ضد، سیاسی انتقام، اور اشرافیہ کی خود غرضی سے آہستہ آہستہ بکھر جاتی ہیں۔
ہر طاقتور فریق شاید یہ سمجھ رہا ہے کہ وہ کھیل جیت رہا ہے۔
مگر جب:
- عوام مایوس ہو جائیں،
- نوجوان ملک چھوڑنے لگیں،
- اداروں پر اعتماد ختم ہو جائے،
- معیشت صرف اشرافیہ کے لیے کام کرے،
- اور قانون انصاف کے بجائے طاقت کا آلہ کار بن جائے…
تو ریاست ہار جاتی ہے : اس صورت حال میں پاکستان شکست و ریخت کا شکار ہو رہا ہے ۔
اور شاید یہی ہمارے وقت کا سب سے بڑا المیہ ہے:طاقت کے اس کھیل میں ہر کھلاڑی اپنی چال چل رہا ہے —مگر شکست پورے ملک کے حصے میں آ رہی ہے۔
تاریخ کا المیہ یہ ہے کہ تاریخ سے کوئی بھی سبق سیکھنے کیلئے تیار نہیں . خاص طور پر پاکستان کے مقتدر حلقے !