Saturday, 11 April 2026

.امن اور اسرائیل - دونوں ایک ساتھ نہیں چل سکتے

ایران ،امریکہ اور اسرائیل کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی کا اعلان سات اپریل کو ہوا .  پاکستانی حکومت کے مطابق ، لبنان بھی اس جنگ بندی کا حصہ ہے . لیکن اسرائیلی وزیر اعظم  اس بات سے انکاری ہیں. یہی وجہ ہے کہ اس جنگ بندی کا اعلان ہونے کے ایک ہی دن بعد اسرائیل نے لبنان پر حملہ کر دیا . جس میں اب تک سنیکڑوں افراد ہلاک اور ہزروں زخمی ہو چکے ہیں .  حقیقت اے ہے کہ اسرائیل کسی بھی قسم کی جنگ بندی کے حق میں نہیں . وہ ایران کی مکمل تباہی چاہتے ہیں .  دھائیوں سے اسرائیل کا رویہ یہی ہے کہ جب دباؤ پڑے تو جنگ بندی کیلئے تیار ہو جاتے ہیں . اور پھر جب موقع ملتا ہے . جنگ شروع کر دیتے ہیں . امن اسرائیل کیلئے اس وقت تک قابل قبول نہیں . جب تک وہ اپنے اس پاس کے تمام ممالک کو  تباہ و برباد نہیں کردیتے . 
یہی وجہ ہے کہ اسرائیل لبنان پر حملوں کے ذریعۓ اس جنگ بندی کو نا کام بنانا چاہتا ہے . 
مشرق وسطیٰ میں امن اور اسرائیل دونوں ایک ساتھ نہیں رہ سکتے  — دنیا کو دونوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہو گا ۔ اسرائیل ایک نسل پرست   ریاست ہے ۔جس کا پورا وجود مشرق وسطیٰ میں مسلسل تشدد اور زیادتی کی حکمت عملی پر مبنی ہے۔ جب تک یہ حالت اپنی موجودہ شکل میں موجود ہے، امن کبھی حاصل نہیں ہو سکتا۔

!گھر عذاب اور باہر ثواب

اسلام آباد میں ، ایران ،امریکی ،اسرائیلی جنگ کے خاتمےاور  خطے میں امن کی بحالی کیلئے ،مذاکرات کل یعنی ہفتے کی صبح ، شروع ہونے ہیں . ان مذاکرات میں ، امریکہ کے نائب صدر اپنے ملک کی نمائیندگی کریں گے . انکے ساتھ ، سٹیو وٹکاف اور امریکی صدر کے داماد جرڈ کشنر بھی مذاکراتی ٹیم کا حصہ ہونگے . جبکہ ایران کی طرف سے ، ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر،محمد غالباف  اور وزیر خارجہ ، عباس  عراقچی ان مذاکرات میں شریک ہونگے .  مذاکرات دو ہفتے تک جاری رہ سکتے ہیں . ان مذاکرات کا کیا نتیجہ نکلے گا . اس کے بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا . بعض مبصرین کا خیال ہے کہ جب تک اسرائیل ، لبنان پر حملے نہیں روکتا . ان مذاکرات کا کوئی مثبت نتیجہ نہیں نکلے گا . 
پاکستان کی طرف سے جنگ بندی کی کوششوں کو ساری دنیا میں سراہا جا رہا ہے .  ہمیں بھی خوشی ہے کہ کسی مثبت کام میں پاکستان کا نام لیا جا رہا ہے . لیکن دوسری طرف اس ہائی بریڈ نظام نے ملک کے اندر جو تباہی مچائی ہے . اسکا بھی کوئی ذکر ہونا چاہئیے . معیشت وگرگوں ہے . غربت کی شرح میں بے تحاشا اضافہ ہو رہا ہے .ملک کے اندر انسانی حقوق کی سر عام خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں . انصاف کا نظام مکمل تباہی کا شکار ہے . ہزاروں سیاسی کارکن جیلوں میں بند ہیں .ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ اور سابق وزیر اعظم کے بنیادی انسانی حقوق کو بوٹوں تلے روندا جا رہا ہے .ملک میں پر امن احتجاج کی اجازت نہیں .کم از کم ملکی میڈیا کو تو اس پر بات کرنی چاہئیے . 
دنیا میں امن کیلئے کوشش کرنا اچھی بات ہے . لیکن ملک میں انسانی حقوق ، انصاف ، غریب عوام کیلئے اسانیاں پیدا کرنا کس کا کام ہے ؟    ملک سے باہر  ،مذاکرات سے جھگڑوں کا حل اور ملک کے اندر ، لاٹھی ،گولی کی سرکار !!!!
یہ مذاکرات اسلام آباد کے ایک مخصوص علاقے میں ہونگے  . لیکن جمعہ کے دن سے جڑواں شہروں کو مکمل بند کر دیا گیا ہے . اسلام آباد سبزی منڈی بند ہے . پشاور روڈ پر تمام کاروبار اور ہوٹل بھی  بند ہیں .  کیا سیکورٹی کا یہ ہی طریقہ ہے کہ لاکھوں لوگوں کے کاروبار بند کر دئیے جائیں . مذاکرات سرینا ہوٹل اسلام آباد میں ہونگے . کیا اس ہوٹل کے آس پاس کا علاقہ بند کرنا کافی نہ تھا ؟ 
اکیسویں صدی میں انیسویں صدی کے طریقے اختیار کرنا کوئی عقل مندی کی بات نہیں . یہ تو گھر عذاب- اور باہر ثواب والی بات ہے .

Thursday, 9 April 2026

!تہذیب یافتہ کون

جو بھی ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی بات سنتا ہے، اور ان کی ذہین، معقول، غور و فکر سے بھرپور، استدلال اور  حقیقت پر مبنی تقریروں اور سوالات کے مسکرا کر جوابات  دینے  کا موازنہ ٹرمپ،   ہیگزیٹ  اور نیتن یاہو جیسے لوگوں کے  پاگل پن   اور غیر اخلاقی بیانات سے کرتا ہے -    وہ با آسانی یہ دیکھ سکتا ہے کہ ایران موجودہ تنازع میں مہذب فریق ہے-
جبکہ دوسری  طرف منہ سے جھاگ اڑاتے  اور شعلے اگلتی ہوئے وحشی پاگلوں کی قیادت  ہے۔ یہ اس مغربی تہذیب کے چہرے  پر  ایک تھپڑ ہے.جو خود کو   اخلاقیات کے ا علی ترین مقام پر فائز سمجھتی ہے . اس حقیقت سے  انکار ممکن نہیں کہ امریکی، جو خود کو انسانی تہذیب کی چوٹی سمجھتے ہیں، احمق، بُرے، اور انتہائی غیر مہذب بن چکے ہیں۔  وہ پاگل ،پتھریلے دور کے گوشت خور انسانوں کے مترادف ہیں جوچنگاڑتے ہوۓ  درندوں   کی ماننداپنی رہ میں آنے والی ہر رکاوٹ کو روند نے کی کوشش میں ہیں .
اور   ایک انتہائی مہذب ، تہذیب یافتہ اور پڑھے لکھے لوگوں پر حملہ آور ہیں . تاکہ انہیں چاک کر کے ان کا گوشت نوچ سکیں. صرف اور صرف اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے .
دنیا کے مہذب لوگ خود فیصلہ کر سکتے ہیں کہ ایران پر مسلط کی جانے والی اس بلا جواز اور نا  جائز جنگ میں کون حق پر ہے .اور کون سا فریق وحشیانہ درندگی کا مظاہرہ کر رہا ہے ؟
ہزاروں سال پرانی تہذیب و ثقافت کو مٹانے کی دھمکیاں دینے والے ، تہذیب یافتہ کہلانے کے حق دار نہیں ہو سکتے !!!!

Monday, 6 April 2026

!حکمت

 سقراط نےکہا تھا کہ ، (حکمت )     ایک عظیم مساوات پیدا کرنے والی چیز ہے۔ جبکہ حرص اور بےوقوفی عظیم اور  طاقتورترین  سلطنتوں کو گرانے میں ہمیشہ اہم کردار ادا کرتی    ہیں   .   حکمت ایک چھوٹے شہر سے ایک عظیم ریاست بنا سکتی ہے۔اس کی ایک بہترین مثال وہ ریاست کہ  جسے تاریخ  ریاست مدینہ کے نام سے یاد کرتی ہے . الله کے قانون (قرآن ) اور محمد رسول الله کی حکمت اور جہد مسلسل نے ، اس چھوٹی سی (سٹی اسٹیٹ )کو دس سالوں میں ایک عظیم ریاست میں تبدیل کر دیا .
ایسا کسی زور زبردستی ، دھونس دھاندلی ، ظلم و ستم  اور طاقت کے زور پرنہیں ہوا . بلکہ اس آفاقی نظریے کی بنیاد پر کیا گیا . کہ تمام انسان برابر ہیں . کسی انسان کو دوسروں پر حکمرانی کرنے کا کوئی حق نہیں . حق حکمرانی صرف الله کی ذات کا ہے . حکومت صرف اور صرف الله کے قانون (قرآن ) کے مطابق چلائی جاۓ گی . 
تاریخ انسانی میں بہت سی عظیم و شان سلطنتوں کا ذکر موجود ہے .  جو بام عروج پر پہنچی اور پھر زوال کا شکار ہو کر تاریخ کے صفحات میں گم ہو گئیں . 
جب  بے وقوفوں کو ذمہ داری سونپ دی جاتی ہے .   چاپلوس  انکے مدد گار بن جاتے ہیں . اور  قابل لوگ بزدلی 
  کی وجہ سے سچ بولنے سے ڈرتے ہیں . تو عظیم و شان سلطنتیں زوال کا شکار ہو جاتی ہیں . اسکی ایک بہترین مثال 
ہمارے سامنے امریکہ کی شکل میں موجود ہے . جہاں پر بے وقوفوں اور چاپلوسوں کا ایک گروہ نہ صرف امریکہ بلکہ ساری دنیا کیلئے . تباہی اور بربادی کا سبب بن رہا ہے .

Friday, 3 April 2026

!ایک تو یہ پڑھے لکھے نہیں

موجودہ حکمران ٹولے کے بارے میں عمران خان نے ایک مرتبہ کہا تھا. کہ ایک تو یہ پڑھے ،لکھے نہیں اور دوسرا یہ کوشش بھی نہیں کرتے . فارم (47), کے بل بوتے پر اقتدار میں آنے کے بعد ، ہر ہر موقع پر انھوں نے عمران خان کی اس بات کو سو فیصد درست ثابت کیا ہے . 
عوام حکمرانوں کے قول و فعل دونوں کو دیکھتی ہے . صرف بلند و بانگ دعوؤں کو نہیں . جب سے یہ شکست خوردہ ٹولہ اقتدار میں آیا ہے انھوں نے اپنی کارکردگی صرف اشتہاروں میں دکھانے کی کوشش کی . اربوں روپے کے اشتہارات ، اخبارات ، ٹی - وی اور بینروں ، بل بورڈز پر لگاۓ گۓ . اس سے کچھ لوگوں نے تو خوب مال بنایا . لیکن عوام کو کچھ بھی حاصل نہ ہوا . بلکہ حکمرانوں کے خلاف نفرت میں اضافہ ہی ہوا . 
عوام کی مشکلات بڑھ رہی ہیں جبکہ حکمران اور انکے بڑے ڈیڈی اپنے لیے نۓ جہاز خرید رہے ہیں . اسکے ساتھ ساتھ انتظامی مشینری اور ججوں کیلئے کروڑوں کی گاڑیاں لی جا رہی ہیں . وزیر اعظم ، پاکستان کے مسائل حل کرنے کی بجاۓ . دنیا کی فکر میں سارے عالم کے چکر لگا رہے ہیں . اور ساتھ ہی عوام کو قناعت پسندی کا درس بھی دے رہے ہیں . اسے کہتے ہیں . زخموں پر نمک چھڑکنا ! 
لیکن کیا کریں . یہ پڑھے لکھے جو نہیں .
ملک میں کرکٹ ہو رہی ہے . لیکن عوام کو گراؤنڈ میں جا کر میچ دیکھنے کی اجازت نہیں .
پاکستان کی عوام کے تمام مسائل حل کرنے کے بعد اب یہ امریکہ ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ بند کروانے میں اپنی ساری توانائیاں خرچ کر رہے ہیں . پہلے اسلام آباد میں چار ملکوں کی ایک کانفرنس بلائی . جس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا . پھر ڈپٹی وزیر اعظم اور وزیر خارجہ بھاگے بھاگے چین گۓ . وہاں سے ایک پانچ نکاتی اعلامیہ جاری ہوا . جن میں ان نکات کا کوئی ذکر نہیں . جو جنگ بندی کیلئے ایران نے پیش کیے . 
امن کیلئے مذاکرات وہی کروا سکتا ہے . جو غیر جانبدار ہو . پاکستان کی حکومت غیر جانبدار نہیں . کیونکہ چین سے جو اعلامیہ جاری کیا گیا . اس میں یہ ذکر ہی نہیں کہ جنگ کس نے شروع کی . نہ امریکہ اور اسرائیل کی ، ایران پر بلا جواز حملے کی مذامت کی گئی . جب آپ میں اتنی جرات نہیں کہ غلط کو غلط کہہ سکیں . تو آپ کیسے امن کیلئے تینوں فریقوں کو میز پر بٹھا سکتے ہیں . 
یہ صرف اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کی ایک کوشش ہے . اور حکومت اس کام کا کریڈٹ لینے پر بضد ہے . جو اسکے بس میں ہے ہی نہیں . 
بات پھر ادھر ہی ختم ہوتی ہے . جو مرشد نے کہی تھی . ایک تو یہ پڑھے .لکھے نہیں اور دوسرا یہ کوشش بھی نہیں کرتے !!!!!

Saturday, 28 March 2026

!شائقین کے بغیر کرکٹ

پی- ایس -ایل کے تمام میچ صرف دو شہروں ، لاہور اور کراچی میں کرواۓ جا رہے ہیں . پہلے یہ میچ چھ شہروں میں ہونے تھے . اور طرفہ تماشہ یہ ہے کہ شائقین کو گراؤنڈ میں آنے کی اجازت نہیں . 
اس کی وجہ یہ بیان کی جا رہی ہے کہ امریکہ ، اسرائیل ، ایران کی جنگ سے ملک میں سیکورٹی کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں . اگر سیکورٹی کا مسلہ اتنا شدید ہے تو میچ کرانے کی کیا ضرورت ہے؟  شائقین کے بغیر ،خالی اسٹیڈیم جب ساری دنیا میں دکھاۓ جائیں گے . تو پاکستان کا کیسا امیج دنیا کے سامنے جاۓ گا . کسی بھی کھیل کا اصل لطف شائقین کے جوش و جذبے کا مرہون منت ہوتا ہے . اگر کھلاڑیوں کو گراؤنڈ میں داد و تحسین دینے والا کوئی نہ ہو . تو وہ کیا کارکردگی دکھائیں گے .
ایسا لگتا ہے کہ سیکورٹی صرف بہانہ ہے . حکمرانوں کو اصل مسلہ شائقین سے ہے . انہیں ایک ڈر یہ  ہے کہ لوگ انکے خلاف کہیں نعرے بازی نہ کریں . حکومت مخالف اور عمران خان کے حق میں لگاۓ جانے والے نعروں سے بچنے کیلئے . اور دوسرا ایران کے حق میں اور اسرائیل و امریکہ کے خلاف نعروں کا اندیشہ تھا . یہی وجہ ہے کہ محسن نقوی نے شائقین کرکٹ کو اسٹیڈیم سے باہر رکھنے کا فیصلہ کیا ہے . 
اس گناہ بے لذت کا پاکستان کے بارے میں کوئی اچھا امیج دنیا میں نہیں جاۓ گا ....

Wednesday, 25 March 2026

!دال میں کچھ کالا ہے

 پاکستان کے خوشامند پسند اور فرمابردار میڈیا میں وزیر اعظم شہباز شریف کی ایک ٹویٹ کو لیکرمبارک سلامت کا شور برپا ہے .  جس میں شہباز شریف نے یہ کہا ہے کہ پاکستان ، ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کیلئے مذاکرات کی حمایت کرتا ہے اور اس میں اپنا کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہے . اس ٹویٹ میں وزیر اعظم نے امریکی صدر اور ایرانی وزیر خارجہ کو بھی ((ٹیگ ) کیا تھا . امریکی صدر نے تو اس ٹویٹ کا خیر مقدم کیا اور اسے ری ٹویٹ بھی کیا . لیکن ابھی تک ایرانی وزیر خارجہ کی طرف سے کسی رد عمل کا اظہار نہیں کیا گیا .
 وزیر اعظم نے ایک اور بھی ٹویٹ کی . جس میں کہا کہ انھوں نے سعودی والی عہد سے بات کی ہے اور انھیں پاکستان کی غیر مشروط حمایت کا یقین دلایا ہے اور اسکے ساتھ ساتھ سعودی عرب پر حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت بھی کی . وزیر اعظم نے یہ نہیں کہا کہ سعودی عرب یر حملے کس ملک نے کئیے . اور نہ انھوں نے ایران پر امریکی اور اسرائیلی بلا جواز حملوں کی کوئی مذمت کی .
یہ سوچنے کی بات ہے کہ ایک طرف آپ سعودی عرب پر ایرانی حملوں کی مذمت کر رہے ہیں . اور سعودی حکومت کو اپنی حمایت کا یقین دلا رہے ہیں . ایران کو دھمکی لگا رہے ہیں کہ ہمارا سعودی عرب کے ساتھ دفاھی معا یدہ ہے . دوسری طرف امن مذاکرات کیلئے اپنی خدمات بھی پیش کر رہے ہیں . کیا یہ تضاد نہیں ؟
جنگ بندی کیلئے مذاکرات کوئی غیر جانبدار ملک ہی کروا سکتا ہے . پاکستان اس جنگ میں غیر جانبدار نہیں . یوں محسوس ہوتا ہے کہ مذاکرات کی آڑ میں ایران کے خلاف بلوچستان کی طرف سے ایک نیا محاز کھولنے کی تیاری کی جا رہی ہے .
 عراقی کردوں کے انکار کے بعد ، سعودی پاک دفاہی معاہدے کو بنیاد بنا کر کوئی کاروائی کی جا سکتی ہے . ہو سکتا ہے کہ پاکستان اپنی فوج استعمال نہ کرے . بلکہ امریکی میرین ایک طرف گلف میں موجود ایرانی جزیروں پر حملہ کریں اور دوسری طرف بلوچستان سے ایران کی سرحد پر حملہ کیا جاۓ . اور ایران مخالف  بلوچوں کو ساتھ ملا کر ایران کے اندر افراتفری اور خانہ جنگی کروانے کی کوشش کی جاۓ  . الله نہ کرے کہ ایسا ہو . لیکن موجودہ رجیم سے کچھ بھی باید نہیں.  یہ اپنا اقتدار بچانے کیلئے کچھ بھی کر سکتے ہیں .