صلاح میر کا بلاگ
Monday, 18 May 2026
امریکہ - ایران پر ایک اور حملہ کر سکتا ہے ؟
Sunday, 17 May 2026
!پچھتاوا اور شکر گزاری
"مردہ لوگوں کو زندہ لوگوں کی نسبت زیادہ پھول پیش کیے جاتے ہیں . کیونکہ پچھتاوا شکرگزاری سے زیادہ طاقتور ہوتا ہے۔"
یہ بات انسانی فطرت کے ایک تلخ سچ کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ اکثر لوگ کسی کی قدر اُس وقت محسوس کرتے ہیں جب وہ شخص اُن کے درمیان نہیں رہتا۔ جب موقع ختم ہو جاتا ہے، تو دل میں پچھتاوا شکرگزاری سے زیادہ شدت اختیار کر لیتا ہے۔
زندگی میں ہم اکثر ان لمحوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں جن میں محبت کا اظہار ممکن ہوتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ وقت بہت ہے، کہ کل بھی موجود ہے، کہ لوگ ہمیشہ ہمارے آس پاس رہیں گے۔ مگر وقت ایک خاموش چور ہے — وہ لمحے چرا لیتا ہے، اور ہمیں صرف یادیں دے جاتا ہے۔
جب کوئی چلا جاتا ہے، تو ہم پھول لے کر جاتے ہیں، دعائیں کرتے ہیں، اور دل میں ایک بوجھ لیے واپس آتے ہیں۔ وہ پھول دراصل ہمارے پچھتاوے کی علامت ہوتے ہیں — وہ باتیں جو ہم کہہ نہ سکے، وہ احساسات جو ہم چھپا گئے، وہ محبت جو ہم نے وقت پر ظاہر نہ کی۔
اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ ۔ دنیا میں بہت سے لوگ ایسے ہیں جو اپنے پیاروں، دوستوں اور محسنوں کی قدر اُن کی زندگی میں ہی کرتے ہیں، اُن سے محبت، خلوص ،چاہت اور احترام کا اظہار بھی کرتے ہیں۔
شکرگزاری ایک نرم سا احساس ہے، مگر اس کی آواز کمزور ہے۔ ہم زندہ لوگوں کو شکرگزاری کے پھول کم دیتے ہیں، کیونکہ ہمیں لگتا ہے کہ وہ جانتے ہیں ہم ان سے محبت کرتے ہیں۔ مگر محبت کا اظہار خاموشی میں نہیں، عمل میں ہوتا ہے۔
اس لیے اس قول کو ایک حقیقت سے زیادہ ایک تنبیہ سمجھنا چاہیے:
اگر ہم زندہ لوگوں کو وہ پھول دے سکیں جو ہم قبروں پر چڑھاتے ہیں، تو شاید دنیا میں پچھتاوا کم اور سکون زیادہ ہو۔
اس کو ایک اور انداز میں بھی کہا جا سکتا ہے کہ
لوگوں کی قدر اُن کے زندہ ہوتے ہوئے کریں، کہیں ایسا نہ ہو کہ بعد میں صرف پچھتاوا باقی رہ جائے۔
Saturday, 16 May 2026
پاکستان: ایک ریاست، دو حقیقتیں
عام پاکستانی معاشی تھکن کے دور سے گزر رہے ہیں۔ مہنگائی نے لوگوں کی قوتِ خرید کو کچل دیا ہے۔ بجلی کے بل ہر مہینے ایک نئے صدمے کی طرح آتے ہیں۔ ڈگری رکھنے والے نوجوانوں کو مستقل روزگار نہیں مل رہا۔ چھوٹے کاروبار خاموشی سے تباہ ہو رہے ہیں۔ خاندان زندہ رہنے کے لیے زیورات، موٹر سائیکلیں، گھریلو سامان — اور بعض اوقات اپنی عزتِ نفس تک — فروخت کرنے پر مجبور ہیں۔
لیکن پاکستان کی طاقتور اشرافیہ اس حقیقت سے عجیب حد تک محفوظ دکھائی دیتی ہے ۔
سول و عسکری اشرافیہ، خاندانی سیاسی جماعتیں، اور اقتدار کے گرد موجود مضبوط نیٹ ورکس ایک محفوظ دائرے میں زندگی گزار رہے ہیں۔ اُن کی شاہانہ طرزِ زندگی، مراعات، سکیورٹی پروٹوکول، سرکاری سہولتیں، پوش ہاؤسنگ سوسائٹیاں، بیرونِ ملک اثاثے، اور طاقت کے گرد قائم حفاظتی حصار اُنہیں اُن پالیسیوں کے نتائج سے بچاتے ہیں جن کی قیمت پوری قوم ادا کرتی ہے۔
وہ عوام کی تکلیف کو اُسی طرح دیکھتے ہیں جیسے کوئی امیر شخص شدید گرمی یا سردی کو کھڑکی کے پیچھے بیٹھ کر دیکھتا ہے۔
آج پاکستان کا اصل بحران یہی ہے۔
فیصلے کرنے والے اُن لوگوں سے کٹ چکے ہیں جو ان فیصلوں کی اصل قیمت ادا کرتے ہیں۔ایسا نہیں کہ یہ ماضی قریب سے ہونا شروع ہوا ہے . بلکہ یہ اسی انگریزی نظام کا تسلسل ہے .جو تاج برطانیہ نے (1857)، کی جنگ آزادی کے بعد بنایا تھا اور جس پر آج تک عمل کیا جا رہا ہے .
جب پیٹرول مہنگا ہوتا ہے تو غریب کی نقل و حرکت محدود ہو جاتی ہے جبکہ اشرافیہ سرکاری پروٹوکول میں سفر کرتی رہتی ہے۔ جب مہنگائی بڑھتی ہے تو عام لوگ اپنے کھانے کم کرتے ہیں جبکہ ریاستی اخراجات جوں کے توں رہتے ہیں۔ جب ٹیکس بڑھتے ہیں تو تنخواہ دار طبقہ اور چھوٹے کاروبار مزید دباؤ میں آ جاتے ہیں جبکہ طاقتور شعبے رعایتیں، سبسڈیز اور خصوصی سہولتیں حاصل کرتے رہتے ہیں۔
قربانی نیچے والے طبقے سے لی جاتی ہے۔
مراعات اوپر والے طبقے کے پاس محفوظ رہتی ہیں۔
پاکستان تیزی سے ایک ایسے نظام میں تبدیل ہو رہا ہے جہاں کمزوروں سے قربانی مانگی جاتی ہے جبکہ طاقتوروں کا آرام محفوظ رکھا جاتا ہے۔
اور تاریخ گواہ ہے کہ ایسا عدم توازن زیادہ دیر تک قائم نہیں رہتا۔
ایک معاشرہ غربت کے ساتھ طویل عرصہ گزار سکتا ہے، لیکن وہ کھلی ناانصافی زیادہ دیر برداشت نہیں کر سکتا — خاص طور پر جب لوگوں کو محسوس ہونے لگے کہ قانون اور نظام سب کے لیے برابر نہیں رہا۔
پاکستان میں بڑھتا ہوا غصہ صرف معاشی نہیں، نفسیاتی بھی ہے۔
لوگ مشکلات برداشت کر لیتے ہیں اگر اُنہیں یقین ہو کہ نظام منصفانہ ہے، قیادت قابل ہے، اور قربانی عارضی ہے۔ لیکن جب عوام کو یہ محسوس ہونے لگے کہ ایک اشرافیہ طبقہ خود کو ہمیشہ محفوظ رکھے گا جبکہ باقی قوم مسلسل قربانی دیتی رہے گی، تو مایوسی نفرت میں بدلتی ہے، اور نفرت بالآخر سیاسی عدم استحکام کو جنم دیتی ہے۔
آج پاکستان اسی مقام پر کھڑا ہے۔
طاقتور حلقے اب بھی یہ سمجھتے ہیں کہ بیانیہ سازی، سنسرشپ، کنٹرولڈ میڈیا، دباؤ، اور وقتی سیاسی انجینئرنگ کے ذریعے عوامی غصے کو ہمیشہ دبایا جا سکتا ہے۔ لیکن معاشی تکلیف آخرکار ہر پروپیگنڈا توڑ دیتی ہے۔ اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے جدوجہد کرنے والا انسان حقیقت کو ٹی وی مباحثوں یا سرکاری پریس کانفرنسوں سے نہیں سمجھتا۔ وہ حقیقت کو بازار، بجلی کے بل، ہسپتال، اور خالی جیب میں محسوس کرتا ہے۔
اور یہ حقیقت اب چھپانا مشکل ہوتی جا رہی ہے۔
کسی بھی حکمران طبقے کے لیے سب سے خطرناک چیز یہ ہوتی ہے کہ مسلسل تحفظ انہیں حقیقت سے اندھا کر دیتا ہے۔ جب حکمران صرف وفادار لوگوں، بیوروکریسی کے فلٹرز، سکیورٹی حصاروں، اور مراعات یافتہ ماحول میں رہنے لگیں تو وہ معاشرے کی اصل نفسیاتی کیفیت سمجھنا چھوڑ دیتے ہیں۔ وہ خاموشی کو استحکام سمجھ بیٹھتے ہیں۔ خوف کو عوامی حمایت سمجھ لیتے ہیں۔ وقتی کنٹرول کو دائمی طاقت تصور کرنے لگتے ہیں۔
تاریخ بار بار دکھا چکی ہے کہ اس کا انجام کیا ہوتا ہے۔
کوئی نظام ایک دن میں نہیں ٹوٹتا۔ پہلے عوامی تھکن پیدا ہوتی ہے۔ پھر اداروں پر اعتماد ختم ہوتا ہے۔ پھر معاشرتی تقسیم بڑھتی ہے۔ پھر ریاست کی اخلاقی ساکھ آہستہ آہستہ ختم ہونے لگتی ہے۔ اور جب تک حکمران طبقہ عوامی غصے کی گہرائی کو سمجھتا ہے، تب تک بحران اکثر قابو سے باہر ہو چکا ہوتا ہے۔
پاکستان تیزی سے اسی نفسیاتی حد کے قریب پہنچ رہا ہے۔
کوئی ملک زیادہ دیر تک اُس وقت تک نہیں چل سکتا جب ایک طبقہ معاشی پالیسیوں کو صرف نظریہ سمجھے جبکہ دوسرا طبقہ اُنہیں اپنی بقا کا مسئلہ سمجھ کر جئے۔
اصل خطرہ صرف مہنگائی یا سیاسی کشمکش نہیں۔
اصل خطرہ حکمرانوں اور عوام کے درمیان بڑھتا ہوا جذباتی فاصلہ ہے۔
جب ایک قوم کو یہ یقین ہو جائے کہ اُس کی تکلیف اقتدار کے ایوانوں میں نظر ہی نہیں آ رہی، تو پھر ریاست اور عوام کے درمیان موجود سماجی معاہدہ ٹوٹنا شروع ہو جاتا ہے۔ایسا پاکستان میں تیزی سے ہو رہا ہے ۔طوفان سے پہلے کی خاموشی کو استحکام سمجھنے والے حالات کی سنگینی کا درست اندازہ لگانے سے قاصر دکھائی دے رہے ہیں ۔
فالس فلیگ آپریشن
Sunday, 26 April 2026
پاکستان: نظام ٹوٹ نہیں رہا—خاموشی سے بکھر رہا ہے
Thursday, 23 April 2026
!اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا
Wednesday, 22 April 2026
!کپڑے بیچ کر
-
ایک جاپانی کہاوت ہے کہ ، کوئی مشین ہو ،کوئی گھر یا کوئی تعلق ،انکی دیکھ بھال کرنا ہمیشہ کم خرچ ہوتا ہے .با نسبت انکی مرمت کے ! جس چیز کی آپ...
-
میں نے دو دن پہلے اپنے ایک مضمون میں لکھا تھا کہ قطر کے دارالحکومت ،دوحہ میں ہونے والی کانفرنس سے کوئی مثبت نتیجہ نہیں نکلے گا .تقریریں ہ...
-
کہتے ہیں کہ کہیں پر جنگ ہو رہی تھی .اس جنگ میں کافی سارے فوجی ہلاک ہو گۓ .تو اس فوج کے افسر ا علی نے اپنے ایک ماتحت کو ساتھ والے گاؤں بیجا ...
