Saturday, 6 June 2026

!وہ سبق جو ہم نے نہیں سیکھا



پاکستان کی تاریخ کا شاید سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ یہاں مسائل سے زیادہ غلط حل پیدا کیے گئے ہیں۔ ہر دور میں قوم کو یہ یقین دلایا گیا کہ بس ایک طاقتور ہاتھ آ جائے، ایک مضبوط ادارہ آگے بڑھ کر معاملات سنبھال لے، تو تمام بحران ختم ہو جائیں گے۔ لیکن سات دہائیوں سے زیادہ کا تجربہ بتاتا ہے کہ مسائل حل ہونے کے بجائے مزید پیچیدہ ہوتے گئے ہیں۔
آج پاکستان جن سیاسی، معاشی اور سماجی بحرانوں میں گھرا ہوا ہے، ان کی ذمہ داری کسی ایک فرد یا ایک ادارے پر نہیں ڈالی جا سکتی۔ تاہم یہ حقیقت نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ فوج، سول بیوروکریسی، جاگیردار اشرافیہ ،سرمایہ دار طبقے  اور مذہبی گروہوں کے درمیان قائم طاقت کا غیر اعلانیہ اتحاد اس نظام کا سب سے طاقتور ستون رہا ہے۔ یہی وہ طبقہ ہے جس نے ریاستی وسائل، پالیسی سازی اور اقتدار کے مراکز پر اپنی گرفت برقرار رکھی، جبکہ عام شہری مسلسل دیوار کے ساتھ  لگایا جاتا رہا۔
مشرقی پاکستان کی علیحدگی بھی اسی طرزِ فکر کا نتیجہ تھی۔ وہاں کے عوام کے سیاسی اور جمہوری مطالبات کو سمجھنے اور ان کا سیاسی حل تلاش کرنے کے بجائے طاقت کے استعمال کو ترجیح دی گئی۔ نوآبادیاتی ذہنیت اور مرکزیت پسند سوچ نے حالات کو اس نہج تک پہنچایا جہاں ملک دو حصوں میں تقسیم ہو گیا۔ تاریخ نے ثابت کیا کہ سیاسی مسائل کا عسکری حل تلاش کرنے کی کوشش بعض اوقات ریاستوں کے لیے ناقابلِ تلافی نقصان کا سبب بنتی ہے۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ بھی اس حقیقت کی گواہ ہے کہ فوج کی بار بار مداخلت نے جمہوری اداروں اور سیاسی جماعتوں کو مضبوط ہونے کا موقع نہیں دیا۔ جب بھی سیاسی عمل اپنی فطری سمت میں آگے بڑھنے لگا، اسے مختلف طریقوں سے روک دیا گیا۔ نتیجتاً سیاسی نظام کمزور اور غیر مستحکم رہا جبکہ غیر منتخب قوتیں زیادہ طاقتور ہوتی گئیں۔
پاکستان میں طاقت کے مراکز آج بھی اکثر سیاسی مسائل کو سیاسی نہیں بلکہ سکیورٹی کے زاویے سے دیکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خیبر پختونخوا کے قبائلی علاقوں سے لے کر بلوچستان تک، کئی پیچیدہ مسائل کا سامنا کرنے کے باوجود ریاست کی اولین ترجیح اکثر طاقت کا استعمال ہی دکھائی دیتی ہے۔ حالانکہ تاریخ گواہ ہے کہ بندوق خوف پیدا کر سکتی ہے،  وقتی اطاعت حاصل کر سکتی ہے، لیکن پائیدار سیاسی اتفاقِ رائے پیدا نہیں کر سکتی۔
آج آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی جو سیاسی فضا تشکیل دی جا رہی ہے اور جس انداز سے عوامی رائے اور اختلافی آوازوں کو محدود کرنے کی کوششیں نظر آتی ہیں، وہ تشویش کا باعث ہیں۔ تاریخ بار بار یہ سبق دیتی ہے کہ عوامی خواہشات اور سیاسی حقائق کو محض انتظامی یا عسکری اقدامات کے ذریعے ہمیشہ کے لیے دبایا نہیں جا سکتا۔ ریاستیں صرف جغرافیہ سے نہیں بلکہ لوگوں کی رضامندی اور اعتماد سے قائم رہتی ہیں۔ جب یہ اعتماد کمزور ہونے لگے تو طاقت کے تمام مظاہر بھی غیر مؤثر ہو جاتے ہیں۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ فوج بحیثیت ادارہ قومی دفاع کے لیے تربیت یافتہ ہوتی ہے۔ اس کی مہارت سرحدوں کے تحفظ اور عسکری امور میں ہوتی ہے، نہ کہ سیاست، معیشت، سماجی نظم و نسق یا ریاستی حکمرانی کے پیچیدہ معاملات میں۔ لیکن جب یہ تصور پیدا ہو جائے کہ ہر سیاسی، مذہبی، معاشی، انتظامی، علاقائی یا بین الاقوامی مسئلے کا حل فوج ہی فراہم کرے گی، تو ادارہ اپنی فطری حدود سے تجاوز کرنے لگتا ہے۔ یہی سوچ ماضی میں بھی پاکستان کو نقصان پہنچا چکی ہے، آج بھی نقصانات کا سبب بن رہی ہے، اور اگر اس میں تبدیلی نہ آئی تو مستقبل میں بھی نتائج مختلف نہیں ہوں گے۔
پاکستان کا تجربہ یہی بتاتا ہے کہ جب بھی کسی ایک ادارے نے اپنی آئینی حدود سے آگے بڑھ کر پورے نظام کو اپنے زیرِ اثر لانے کی کوشش کی، اس کا نقصان ریاست اور عوام دونوں کو اٹھانا پڑا۔ سیاسی جماعتیں کمزور ہوئیں، جمہوری روایات پنپ نہ سکیں، ادارے اپنی اصل ذمہ داریوں سے دور ہوتے گئے اور ملک  ایک بحران سے  دوسرے بحران کی طرف بڑھتا چلا گیا۔
شاید اب وقت آ گیا ہے کہ ہم ایک سادہ مگر بنیادی حقیقت کو تسلیم کریں۔ سیاسی مسائل کا حل سیاست میں، معاشی مسائل کا حل معیشت میں اور انتظامی مسائل کا حل مؤثر حکمرانی میں تلاش کرنا ہوگا۔ کوئی بھی ادارہ، خواہ وہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، تنہا پورے معاشرے کی پیچیدگیوں کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا۔
آخرکار ایک پرانی کہاوت اپنی پوری معنویت کے ساتھ ہمارے سامنے آتی ہے:
"جس کا کام، اسی کو ساجھے۔"
ریاستیں اسی وقت مضبوط ہوتی ہیں جب ان کے ادارے اپنے اپنے دائرۂ اختیار میں رہ کر کام کریں، نہ کہ ایک ادارہ تمام اختیارات اور ذمہ داریوں کو اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کرے۔اور اختلاف راۓ کو ملک دشمنی قرار دے ۔