Saturday, 13 June 2026

بندوق مسائل کا حل نہیں



پاکستان میں ہمیشہ سے حکومتوں کا وطیرہ یہ رہا ہے کہ عوام کے احتجاج کو کبھی اہمیت نہیں دینی .جب بھی عوام اپنی مشکلات کے حل کیلئے سڑکوں پر آتے ہیں .انکی بات سننے کی بجاۓ انھیں ملک دشمن ، بھارت کا  ایجنٹ ،دہشت گرد قرار دے کر سختی سے نپٹا جاتا ہے . پچھلے چار سالوں میں اس حکومت اور فوجی اسٹیبلشمنٹ نے ظلم کی ہر حد پار کر دی ہے . جس طرح سیاسی کارکنوں کا قتل عام کیا گیا . انکے گھروں کا تقدس پا مال کیا گیا . عورتوں ،بچوں کو جس طرح ہراساں کیا گیا .پاکستان کی تاریخ میں ایسا ظلم پہلے کبھی نہیں ہوا .کیا وجہ ہے کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ اس درجہ ظلم پر اتری ہوئی ہے .عوام کو دبانے سے کیا ملک ترقی کر جاۓ گا . عوام کی آواز دبانے سے کیا ملک میں امن ہو جاۓ گا ؟خبیر پختون خوا ، بلوچستان اور اب کشمیر میں طاقت کے بے جا استعمال سے ملک کے سارے مسائل حل ہو جائیں گے ؟کیا فوجی اسٹیبلشمنٹ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتی، یا طاقت کے استعمال کے علاوہ انھیں کچھ اور آتا ہی نہیں ؟
پاکستان کی تاریخ کا شاید سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ یہاں مسائل کو سمجھنے کے بجائے انہیں دبانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ حکمران بدلتے رہے، حکومتیں آتی جاتی رہیں، لیکن ریاست کا رویہ کم و بیش ایک جیسا ہی رہا۔ جب عوام اپنے مسائل کے حل کے لیے آواز بلند کرتے ہیں، جب نوجوان اپنے مستقبل کے بارے میں سوال کرتے ہیں، جب سیاسی کارکن اپنے حقوق کا مطالبہ کرتے ہیں، تو ان کی بات سننے کے بجائے انہیں مشکوک نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے۔ کبھی انہیں ملک دشمن کہا جاتا ہے، کبھی غیر ملکی ایجنٹ اور کبھی امن و امان کے لیے خطرہ قرار دے دیا جاتا ہے۔
تاریخ کا ایک سبق یہ بھی ہے کہ بندوق لوگوں کو خاموش تو کر سکتی ہے، مطمئن نہیں کر سکتی۔ طاقت خوف پیدا کر سکتی ہے، وفاداری نہیں۔ اگر مسائل کا حل صرف طاقت کے استعمال میں ہوتا تو دنیا کی کوئی ریاست کبھی بحران کا شکار نہ ہوتی۔ لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ جن معاشروں نے اپنے شہریوں کی آواز کو دبایا، وہاں بے چینی مزید بڑھی۔ اور جنہوں نے مکالمے، انصاف اور سیاسی شمولیت کا راستہ اختیار کیا، وہ زیادہ مستحکم اور ترقی یافتہ بنے۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں اب بھی یہ تصور غالب دکھائی دیتا ہے کہ عوام کو دبانے سے استحکام آ جائے گا اور اختلاف کو ختم کرنے سے امن قائم ہو جائے گا۔ لیکن استحکام اور امن قبرستان کی خاموشی کا نام نہیں۔ حقیقی امن وہ ہوتا ہے جہاں شہری خود کو محفوظ، باعزت اور بااختیار محسوس کریں۔ جہاں اختلافِ رائے کو برداشت کیا جائے اور جہاں ریاست اپنے عوام کی آواز سننے کا حوصلہ رکھتی ہو۔

پاکستان آج جن مشکلات کا شکار ہے، ان کا حل مزید گرفتاریوں، مزید پابندیوں اور مزید طاقت کے استعمال میں نہیں۔ ان کا حل سیاسی بصیرت، جمہوری رویوں اور انصاف پر مبنی نظام میں ہے۔ ریاستوں کی طاقت ان کے ہتھیاروں سے نہیں بلکہ ان کے شہریوں کے اعتماد سے ناپی جاتی ہے۔ اور اعتماد وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں خوف نہیں، انصاف حکمرانی کرتا ہو۔

شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم خود سے ایک بنیادی سوال پوچھیں: کیا ہم مسائل کا حل تلاش کرنا چاہتے ہیں یا صرف عوام   کی آواز کو دبانا چاہتے ہیں؟ کیونکہ تاریخ بتاتی ہے کہ دبائی ہوئی آوازیں خاموش نہیں ہوتیں، وہ  زیادہ گہری اور زیادہ طاقتور ہو  کر ابھرتی  ہیں۔

قومیں خوف سے نہیں، اعتماد سے بنتی ہیں



پاکستان اس وقت ایک گہرے سیاسی، معاشی اور سماجی بحران سے گزر رہا ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری، گرتی ہوئی معیشت، کمزور ہوتے ادارے اور عوامی بے چینی ملک کے ہر حصے میں محسوس کی جا سکتی ہے۔ ایسے حالات میں ریاست اور حکومت کی اولین ذمہ داری یہ ہونی چاہیے کہ وہ عوام کی آواز سنے، ان کے مسائل کو سمجھے اور ان کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کرے۔ لیکن افسوس کہ پاکستان میں ہمیشہ سے ایک مختلف روایت رہی ہے۔ جب بھی عوام اپنے حقوق کے لیے سڑکوں پر نکلتے ہیں، ان کے مطالبات پر غور کرنے کے بجائے اکثر انہیں ریاست مخالف، غیر ملکی ایجنٹ یا امن و امان کے لیے خطرہ قرار دے کر دبانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

گزشتہ چند برسوں کے دوران یہ رویہ پہلے سے کہیں زیادہ نمایاں ہوا ہے۔ سیاسی کارکنوں کی گرفتاریاں، سیاسی سرگرمیوں پر پابندیاں، گھروں پر چھاپے، خاندانوں کو ہراساں کرنا اور اختلافی آوازوں کو خاموش کرنے کی کوششیں ایک معمول بنتی چلی گئی ہیں۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں شاید ہی کبھی ریاستی طاقت کا استعمال اس شدت کے ساتھ دیکھنے میں آیا ہو جس کا مشاہدہ حالیہ برسوں میں کیا گیا ہے۔

سوال یہ ہے کہ آخر فوجی اسٹیبلشمنٹ اور ریاستی ادارے اس حد تک سخت رویہ کیوں اختیار کرتے ہیں؟ اس کی ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ وہ سیاسی مسائل کو سیاسی نقطۂ نظر سے دیکھنے کے بجائے سکیورٹی کے مسئلے کے طور پر دیکھتے ہیں۔ جب اختلافِ رائے کو جمہوری حق کے بجائے ریاست کے لیے خطرہ سمجھا جائے تو پھر مکالمے اور مفاہمت کی جگہ طاقت اور جبر لے لیتے ہیں۔ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ طاقت وقتی طور پر خاموشی تو پیدا کر سکتی ہے، دلوں اور ذہنوں کو فتح نہیں کر سکتی۔

دنیا کے بے شمار ممالک کے تجربات یہ ثابت کرتے ہیں کہ ترقی صرف سڑکیں بنانے، عمارتیں کھڑی کرنے یا معاشی اعداد و شمار بہتر کرنے کا نام نہیں۔ حقیقی ترقی اس وقت ممکن ہوتی ہے جب عوام کو انصاف ملے، ان کی رائے کا احترام کیا جائے، قانون سب کے لیے برابر ہو اور ریاست اپنے شہریوں کے اعتماد پر کھڑی ہو۔ جس معاشرے میں خوف حکمرانی کرے، وہاں استحکام عارضی اور کمزور ہوتا ہے۔

یہی حقیقت پاکستان کے مختلف خطوں پر بھی لاگو ہوتی ہے۔ خیبر پختونخوا، بلوچستان اور کشمیر جیسے حساس علاقوں میں اگر عوام کے سیاسی، معاشی اور سماجی تحفظات کو نظر انداز کر کے صرف طاقت کے ذریعے مسائل حل کرنے کی کوشش کی جائے تو اس سے وقتی کنٹرول تو حاصل کیا جا سکتا ہے، لیکن پائیدار امن قائم نہیں کیا جا سکتا۔ امن صرف بندوق کی طاقت سے نہیں بلکہ انصاف، شمولیت اور عوامی اعتماد سے قائم ہوتا ہے۔

تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ریاستیں اس وقت مضبوط بنتی ہیں جب وہ اپنے شہریوں کی آواز سننے کا حوصلہ رکھتی ہیں۔ اختلافِ رائے کو دشمنی سمجھنے کے بجائے اسے اصلاح اور بہتری کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ جو ریاستیں اپنے عوام سے خوفزدہ ہو جاتی ہیں، وہ طاقت کے استعمال میں اضافہ تو کر سکتی ہیں، لیکن اس کے نتیجے میں عوام اور ریاست کے درمیان فاصلہ بڑھتا جاتا ہے۔

پاکستان کو آج جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ مزید جبر نہیں بلکہ زیادہ مکالمہ ہے؛ مزید طاقت کا استعمال نہیں بلکہ زیادہ سیاسی بصیرت ہے؛ مزید خاموشی نہیں بلکہ عوام کی آواز سننے کا حوصلہ ہے۔ کیونکہ قومیں طاقت سے نہیں، اعتماد سے متحد رہتی ہیں۔ اور اعتماد وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں انصاف، قانون کی حکمرانی اور عوام کے بنیادی حقوق کا احترام موجود ہو۔

Saturday, 6 June 2026

!وہ سبق جو ہم نے نہیں سیکھا



پاکستان کی تاریخ کا شاید سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ یہاں مسائل سے زیادہ غلط حل پیدا کیے گئے ہیں۔ ہر دور میں قوم کو یہ یقین دلایا گیا کہ بس ایک طاقتور ہاتھ آ جائے، ایک مضبوط ادارہ آگے بڑھ کر معاملات سنبھال لے، تو تمام بحران ختم ہو جائیں گے۔ لیکن سات دہائیوں سے زیادہ کا تجربہ بتاتا ہے کہ مسائل حل ہونے کے بجائے مزید پیچیدہ ہوتے گئے ہیں۔
آج پاکستان جن سیاسی، معاشی اور سماجی بحرانوں میں گھرا ہوا ہے، ان کی ذمہ داری کسی ایک فرد یا ایک ادارے پر نہیں ڈالی جا سکتی۔ تاہم یہ حقیقت نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ فوج، سول بیوروکریسی، جاگیردار اشرافیہ ،سرمایہ دار طبقے  اور مذہبی گروہوں کے درمیان قائم طاقت کا غیر اعلانیہ اتحاد اس نظام کا سب سے طاقتور ستون رہا ہے۔ یہی وہ طبقہ ہے جس نے ریاستی وسائل، پالیسی سازی اور اقتدار کے مراکز پر اپنی گرفت برقرار رکھی، جبکہ عام شہری مسلسل دیوار کے ساتھ  لگایا جاتا رہا۔
مشرقی پاکستان کی علیحدگی بھی اسی طرزِ فکر کا نتیجہ تھی۔ وہاں کے عوام کے سیاسی اور جمہوری مطالبات کو سمجھنے اور ان کا سیاسی حل تلاش کرنے کے بجائے طاقت کے استعمال کو ترجیح دی گئی۔ نوآبادیاتی ذہنیت اور مرکزیت پسند سوچ نے حالات کو اس نہج تک پہنچایا جہاں ملک دو حصوں میں تقسیم ہو گیا۔ تاریخ نے ثابت کیا کہ سیاسی مسائل کا عسکری حل تلاش کرنے کی کوشش بعض اوقات ریاستوں کے لیے ناقابلِ تلافی نقصان کا سبب بنتی ہے۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ بھی اس حقیقت کی گواہ ہے کہ فوج کی بار بار مداخلت نے جمہوری اداروں اور سیاسی جماعتوں کو مضبوط ہونے کا موقع نہیں دیا۔ جب بھی سیاسی عمل اپنی فطری سمت میں آگے بڑھنے لگا، اسے مختلف طریقوں سے روک دیا گیا۔ نتیجتاً سیاسی نظام کمزور اور غیر مستحکم رہا جبکہ غیر منتخب قوتیں زیادہ طاقتور ہوتی گئیں۔
پاکستان میں طاقت کے مراکز آج بھی اکثر سیاسی مسائل کو سیاسی نہیں بلکہ سکیورٹی کے زاویے سے دیکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خیبر پختونخوا کے قبائلی علاقوں سے لے کر بلوچستان تک، کئی پیچیدہ مسائل کا سامنا کرنے کے باوجود ریاست کی اولین ترجیح اکثر طاقت کا استعمال ہی دکھائی دیتی ہے۔ حالانکہ تاریخ گواہ ہے کہ بندوق خوف پیدا کر سکتی ہے،  وقتی اطاعت حاصل کر سکتی ہے، لیکن پائیدار سیاسی اتفاقِ رائے پیدا نہیں کر سکتی۔
آج آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی جو سیاسی فضا تشکیل دی جا رہی ہے اور جس انداز سے عوامی رائے اور اختلافی آوازوں کو محدود کرنے کی کوششیں نظر آتی ہیں، وہ تشویش کا باعث ہیں۔ تاریخ بار بار یہ سبق دیتی ہے کہ عوامی خواہشات اور سیاسی حقائق کو محض انتظامی یا عسکری اقدامات کے ذریعے ہمیشہ کے لیے دبایا نہیں جا سکتا۔ ریاستیں صرف جغرافیہ سے نہیں بلکہ لوگوں کی رضامندی اور اعتماد سے قائم رہتی ہیں۔ جب یہ اعتماد کمزور ہونے لگے تو طاقت کے تمام مظاہر بھی غیر مؤثر ہو جاتے ہیں۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ فوج بحیثیت ادارہ قومی دفاع کے لیے تربیت یافتہ ہوتی ہے۔ اس کی مہارت سرحدوں کے تحفظ اور عسکری امور میں ہوتی ہے، نہ کہ سیاست، معیشت، سماجی نظم و نسق یا ریاستی حکمرانی کے پیچیدہ معاملات میں۔ لیکن جب یہ تصور پیدا ہو جائے کہ ہر سیاسی، مذہبی، معاشی، انتظامی، علاقائی یا بین الاقوامی مسئلے کا حل فوج ہی فراہم کرے گی، تو ادارہ اپنی فطری حدود سے تجاوز کرنے لگتا ہے۔ یہی سوچ ماضی میں بھی پاکستان کو نقصان پہنچا چکی ہے، آج بھی نقصانات کا سبب بن رہی ہے، اور اگر اس میں تبدیلی نہ آئی تو مستقبل میں بھی نتائج مختلف نہیں ہوں گے۔
پاکستان کا تجربہ یہی بتاتا ہے کہ جب بھی کسی ایک ادارے نے اپنی آئینی حدود سے آگے بڑھ کر پورے نظام کو اپنے زیرِ اثر لانے کی کوشش کی، اس کا نقصان ریاست اور عوام دونوں کو اٹھانا پڑا۔ سیاسی جماعتیں کمزور ہوئیں، جمہوری روایات پنپ نہ سکیں، ادارے اپنی اصل ذمہ داریوں سے دور ہوتے گئے اور ملک  ایک بحران سے  دوسرے بحران کی طرف بڑھتا چلا گیا۔
شاید اب وقت آ گیا ہے کہ ہم ایک سادہ مگر بنیادی حقیقت کو تسلیم کریں۔ سیاسی مسائل کا حل سیاست میں، معاشی مسائل کا حل معیشت میں اور انتظامی مسائل کا حل مؤثر حکمرانی میں تلاش کرنا ہوگا۔ کوئی بھی ادارہ، خواہ وہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، تنہا پورے معاشرے کی پیچیدگیوں کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا۔
آخرکار ایک پرانی کہاوت اپنی پوری معنویت کے ساتھ ہمارے سامنے آتی ہے:
"جس کا کام، اسی کو ساجھے۔"
ریاستیں اسی وقت مضبوط ہوتی ہیں جب ان کے ادارے اپنے اپنے دائرۂ اختیار میں رہ کر کام کریں، نہ کہ ایک ادارہ تمام اختیارات اور ذمہ داریوں کو اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کرے۔اور اختلاف راۓ کو ملک دشمنی قرار دے ۔