افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں اب بھی یہ تصور غالب دکھائی دیتا ہے کہ عوام کو دبانے سے استحکام آ جائے گا اور اختلاف کو ختم کرنے سے امن قائم ہو جائے گا۔ لیکن استحکام اور امن قبرستان کی خاموشی کا نام نہیں۔ حقیقی امن وہ ہوتا ہے جہاں شہری خود کو محفوظ، باعزت اور بااختیار محسوس کریں۔ جہاں اختلافِ رائے کو برداشت کیا جائے اور جہاں ریاست اپنے عوام کی آواز سننے کا حوصلہ رکھتی ہو۔
پاکستان آج جن مشکلات کا شکار ہے، ان کا حل مزید گرفتاریوں، مزید پابندیوں اور مزید طاقت کے استعمال میں نہیں۔ ان کا حل سیاسی بصیرت، جمہوری رویوں اور انصاف پر مبنی نظام میں ہے۔ ریاستوں کی طاقت ان کے ہتھیاروں سے نہیں بلکہ ان کے شہریوں کے اعتماد سے ناپی جاتی ہے۔ اور اعتماد وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں خوف نہیں، انصاف حکمرانی کرتا ہو۔
شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم خود سے ایک بنیادی سوال پوچھیں: کیا ہم مسائل کا حل تلاش کرنا چاہتے ہیں یا صرف عوام کی آواز کو دبانا چاہتے ہیں؟ کیونکہ تاریخ بتاتی ہے کہ دبائی ہوئی آوازیں خاموش نہیں ہوتیں، وہ زیادہ گہری اور زیادہ طاقتور ہو کر ابھرتی ہیں۔
No comments:
Post a Comment