Saturday, 13 June 2026

بندوق مسائل کا حل نہیں



پاکستان میں ہمیشہ سے حکومتوں کا وطیرہ یہ رہا ہے کہ عوام کے احتجاج کو کبھی اہمیت نہیں دینی .جب بھی عوام اپنی مشکلات کے حل کیلئے سڑکوں پر آتے ہیں .انکی بات سننے کی بجاۓ انھیں ملک دشمن ، بھارت کا  ایجنٹ ،دہشت گرد قرار دے کر سختی سے نپٹا جاتا ہے . پچھلے چار سالوں میں اس حکومت اور فوجی اسٹیبلشمنٹ نے ظلم کی ہر حد پار کر دی ہے . جس طرح سیاسی کارکنوں کا قتل عام کیا گیا . انکے گھروں کا تقدس پا مال کیا گیا . عورتوں ،بچوں کو جس طرح ہراساں کیا گیا .پاکستان کی تاریخ میں ایسا ظلم پہلے کبھی نہیں ہوا .کیا وجہ ہے کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ اس درجہ ظلم پر اتری ہوئی ہے .عوام کو دبانے سے کیا ملک ترقی کر جاۓ گا . عوام کی آواز دبانے سے کیا ملک میں امن ہو جاۓ گا ؟خبیر پختون خوا ، بلوچستان اور اب کشمیر میں طاقت کے بے جا استعمال سے ملک کے سارے مسائل حل ہو جائیں گے ؟کیا فوجی اسٹیبلشمنٹ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتی، یا طاقت کے استعمال کے علاوہ انھیں کچھ اور آتا ہی نہیں ؟
پاکستان کی تاریخ کا شاید سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ یہاں مسائل کو سمجھنے کے بجائے انہیں دبانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ حکمران بدلتے رہے، حکومتیں آتی جاتی رہیں، لیکن ریاست کا رویہ کم و بیش ایک جیسا ہی رہا۔ جب عوام اپنے مسائل کے حل کے لیے آواز بلند کرتے ہیں، جب نوجوان اپنے مستقبل کے بارے میں سوال کرتے ہیں، جب سیاسی کارکن اپنے حقوق کا مطالبہ کرتے ہیں، تو ان کی بات سننے کے بجائے انہیں مشکوک نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے۔ کبھی انہیں ملک دشمن کہا جاتا ہے، کبھی غیر ملکی ایجنٹ اور کبھی امن و امان کے لیے خطرہ قرار دے دیا جاتا ہے۔
تاریخ کا ایک سبق یہ بھی ہے کہ بندوق لوگوں کو خاموش تو کر سکتی ہے، مطمئن نہیں کر سکتی۔ طاقت خوف پیدا کر سکتی ہے، وفاداری نہیں۔ اگر مسائل کا حل صرف طاقت کے استعمال میں ہوتا تو دنیا کی کوئی ریاست کبھی بحران کا شکار نہ ہوتی۔ لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ جن معاشروں نے اپنے شہریوں کی آواز کو دبایا، وہاں بے چینی مزید بڑھی۔ اور جنہوں نے مکالمے، انصاف اور سیاسی شمولیت کا راستہ اختیار کیا، وہ زیادہ مستحکم اور ترقی یافتہ بنے۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں اب بھی یہ تصور غالب دکھائی دیتا ہے کہ عوام کو دبانے سے استحکام آ جائے گا اور اختلاف کو ختم کرنے سے امن قائم ہو جائے گا۔ لیکن استحکام اور امن قبرستان کی خاموشی کا نام نہیں۔ حقیقی امن وہ ہوتا ہے جہاں شہری خود کو محفوظ، باعزت اور بااختیار محسوس کریں۔ جہاں اختلافِ رائے کو برداشت کیا جائے اور جہاں ریاست اپنے عوام کی آواز سننے کا حوصلہ رکھتی ہو۔

پاکستان آج جن مشکلات کا شکار ہے، ان کا حل مزید گرفتاریوں، مزید پابندیوں اور مزید طاقت کے استعمال میں نہیں۔ ان کا حل سیاسی بصیرت، جمہوری رویوں اور انصاف پر مبنی نظام میں ہے۔ ریاستوں کی طاقت ان کے ہتھیاروں سے نہیں بلکہ ان کے شہریوں کے اعتماد سے ناپی جاتی ہے۔ اور اعتماد وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں خوف نہیں، انصاف حکمرانی کرتا ہو۔

شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم خود سے ایک بنیادی سوال پوچھیں: کیا ہم مسائل کا حل تلاش کرنا چاہتے ہیں یا صرف عوام   کی آواز کو دبانا چاہتے ہیں؟ کیونکہ تاریخ بتاتی ہے کہ دبائی ہوئی آوازیں خاموش نہیں ہوتیں، وہ  زیادہ گہری اور زیادہ طاقتور ہو  کر ابھرتی  ہیں۔

قومیں خوف سے نہیں، اعتماد سے بنتی ہیں



پاکستان اس وقت ایک گہرے سیاسی، معاشی اور سماجی بحران سے گزر رہا ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری، گرتی ہوئی معیشت، کمزور ہوتے ادارے اور عوامی بے چینی ملک کے ہر حصے میں محسوس کی جا سکتی ہے۔ ایسے حالات میں ریاست اور حکومت کی اولین ذمہ داری یہ ہونی چاہیے کہ وہ عوام کی آواز سنے، ان کے مسائل کو سمجھے اور ان کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کرے۔ لیکن افسوس کہ پاکستان میں ہمیشہ سے ایک مختلف روایت رہی ہے۔ جب بھی عوام اپنے حقوق کے لیے سڑکوں پر نکلتے ہیں، ان کے مطالبات پر غور کرنے کے بجائے اکثر انہیں ریاست مخالف، غیر ملکی ایجنٹ یا امن و امان کے لیے خطرہ قرار دے کر دبانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

گزشتہ چند برسوں کے دوران یہ رویہ پہلے سے کہیں زیادہ نمایاں ہوا ہے۔ سیاسی کارکنوں کی گرفتاریاں، سیاسی سرگرمیوں پر پابندیاں، گھروں پر چھاپے، خاندانوں کو ہراساں کرنا اور اختلافی آوازوں کو خاموش کرنے کی کوششیں ایک معمول بنتی چلی گئی ہیں۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں شاید ہی کبھی ریاستی طاقت کا استعمال اس شدت کے ساتھ دیکھنے میں آیا ہو جس کا مشاہدہ حالیہ برسوں میں کیا گیا ہے۔

سوال یہ ہے کہ آخر فوجی اسٹیبلشمنٹ اور ریاستی ادارے اس حد تک سخت رویہ کیوں اختیار کرتے ہیں؟ اس کی ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ وہ سیاسی مسائل کو سیاسی نقطۂ نظر سے دیکھنے کے بجائے سکیورٹی کے مسئلے کے طور پر دیکھتے ہیں۔ جب اختلافِ رائے کو جمہوری حق کے بجائے ریاست کے لیے خطرہ سمجھا جائے تو پھر مکالمے اور مفاہمت کی جگہ طاقت اور جبر لے لیتے ہیں۔ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ طاقت وقتی طور پر خاموشی تو پیدا کر سکتی ہے، دلوں اور ذہنوں کو فتح نہیں کر سکتی۔

دنیا کے بے شمار ممالک کے تجربات یہ ثابت کرتے ہیں کہ ترقی صرف سڑکیں بنانے، عمارتیں کھڑی کرنے یا معاشی اعداد و شمار بہتر کرنے کا نام نہیں۔ حقیقی ترقی اس وقت ممکن ہوتی ہے جب عوام کو انصاف ملے، ان کی رائے کا احترام کیا جائے، قانون سب کے لیے برابر ہو اور ریاست اپنے شہریوں کے اعتماد پر کھڑی ہو۔ جس معاشرے میں خوف حکمرانی کرے، وہاں استحکام عارضی اور کمزور ہوتا ہے۔

یہی حقیقت پاکستان کے مختلف خطوں پر بھی لاگو ہوتی ہے۔ خیبر پختونخوا، بلوچستان اور کشمیر جیسے حساس علاقوں میں اگر عوام کے سیاسی، معاشی اور سماجی تحفظات کو نظر انداز کر کے صرف طاقت کے ذریعے مسائل حل کرنے کی کوشش کی جائے تو اس سے وقتی کنٹرول تو حاصل کیا جا سکتا ہے، لیکن پائیدار امن قائم نہیں کیا جا سکتا۔ امن صرف بندوق کی طاقت سے نہیں بلکہ انصاف، شمولیت اور عوامی اعتماد سے قائم ہوتا ہے۔

تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ریاستیں اس وقت مضبوط بنتی ہیں جب وہ اپنے شہریوں کی آواز سننے کا حوصلہ رکھتی ہیں۔ اختلافِ رائے کو دشمنی سمجھنے کے بجائے اسے اصلاح اور بہتری کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ جو ریاستیں اپنے عوام سے خوفزدہ ہو جاتی ہیں، وہ طاقت کے استعمال میں اضافہ تو کر سکتی ہیں، لیکن اس کے نتیجے میں عوام اور ریاست کے درمیان فاصلہ بڑھتا جاتا ہے۔

پاکستان کو آج جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ مزید جبر نہیں بلکہ زیادہ مکالمہ ہے؛ مزید طاقت کا استعمال نہیں بلکہ زیادہ سیاسی بصیرت ہے؛ مزید خاموشی نہیں بلکہ عوام کی آواز سننے کا حوصلہ ہے۔ کیونکہ قومیں طاقت سے نہیں، اعتماد سے متحد رہتی ہیں۔ اور اعتماد وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں انصاف، قانون کی حکمرانی اور عوام کے بنیادی حقوق کا احترام موجود ہو۔

Saturday, 6 June 2026

!وہ سبق جو ہم نے نہیں سیکھا



پاکستان کی تاریخ کا شاید سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ یہاں مسائل سے زیادہ غلط حل پیدا کیے گئے ہیں۔ ہر دور میں قوم کو یہ یقین دلایا گیا کہ بس ایک طاقتور ہاتھ آ جائے، ایک مضبوط ادارہ آگے بڑھ کر معاملات سنبھال لے، تو تمام بحران ختم ہو جائیں گے۔ لیکن سات دہائیوں سے زیادہ کا تجربہ بتاتا ہے کہ مسائل حل ہونے کے بجائے مزید پیچیدہ ہوتے گئے ہیں۔
آج پاکستان جن سیاسی، معاشی اور سماجی بحرانوں میں گھرا ہوا ہے، ان کی ذمہ داری کسی ایک فرد یا ایک ادارے پر نہیں ڈالی جا سکتی۔ تاہم یہ حقیقت نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ فوج، سول بیوروکریسی، جاگیردار اشرافیہ ،سرمایہ دار طبقے  اور مذہبی گروہوں کے درمیان قائم طاقت کا غیر اعلانیہ اتحاد اس نظام کا سب سے طاقتور ستون رہا ہے۔ یہی وہ طبقہ ہے جس نے ریاستی وسائل، پالیسی سازی اور اقتدار کے مراکز پر اپنی گرفت برقرار رکھی، جبکہ عام شہری مسلسل دیوار کے ساتھ  لگایا جاتا رہا۔
مشرقی پاکستان کی علیحدگی بھی اسی طرزِ فکر کا نتیجہ تھی۔ وہاں کے عوام کے سیاسی اور جمہوری مطالبات کو سمجھنے اور ان کا سیاسی حل تلاش کرنے کے بجائے طاقت کے استعمال کو ترجیح دی گئی۔ نوآبادیاتی ذہنیت اور مرکزیت پسند سوچ نے حالات کو اس نہج تک پہنچایا جہاں ملک دو حصوں میں تقسیم ہو گیا۔ تاریخ نے ثابت کیا کہ سیاسی مسائل کا عسکری حل تلاش کرنے کی کوشش بعض اوقات ریاستوں کے لیے ناقابلِ تلافی نقصان کا سبب بنتی ہے۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ بھی اس حقیقت کی گواہ ہے کہ فوج کی بار بار مداخلت نے جمہوری اداروں اور سیاسی جماعتوں کو مضبوط ہونے کا موقع نہیں دیا۔ جب بھی سیاسی عمل اپنی فطری سمت میں آگے بڑھنے لگا، اسے مختلف طریقوں سے روک دیا گیا۔ نتیجتاً سیاسی نظام کمزور اور غیر مستحکم رہا جبکہ غیر منتخب قوتیں زیادہ طاقتور ہوتی گئیں۔
پاکستان میں طاقت کے مراکز آج بھی اکثر سیاسی مسائل کو سیاسی نہیں بلکہ سکیورٹی کے زاویے سے دیکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خیبر پختونخوا کے قبائلی علاقوں سے لے کر بلوچستان تک، کئی پیچیدہ مسائل کا سامنا کرنے کے باوجود ریاست کی اولین ترجیح اکثر طاقت کا استعمال ہی دکھائی دیتی ہے۔ حالانکہ تاریخ گواہ ہے کہ بندوق خوف پیدا کر سکتی ہے،  وقتی اطاعت حاصل کر سکتی ہے، لیکن پائیدار سیاسی اتفاقِ رائے پیدا نہیں کر سکتی۔
آج آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی جو سیاسی فضا تشکیل دی جا رہی ہے اور جس انداز سے عوامی رائے اور اختلافی آوازوں کو محدود کرنے کی کوششیں نظر آتی ہیں، وہ تشویش کا باعث ہیں۔ تاریخ بار بار یہ سبق دیتی ہے کہ عوامی خواہشات اور سیاسی حقائق کو محض انتظامی یا عسکری اقدامات کے ذریعے ہمیشہ کے لیے دبایا نہیں جا سکتا۔ ریاستیں صرف جغرافیہ سے نہیں بلکہ لوگوں کی رضامندی اور اعتماد سے قائم رہتی ہیں۔ جب یہ اعتماد کمزور ہونے لگے تو طاقت کے تمام مظاہر بھی غیر مؤثر ہو جاتے ہیں۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ فوج بحیثیت ادارہ قومی دفاع کے لیے تربیت یافتہ ہوتی ہے۔ اس کی مہارت سرحدوں کے تحفظ اور عسکری امور میں ہوتی ہے، نہ کہ سیاست، معیشت، سماجی نظم و نسق یا ریاستی حکمرانی کے پیچیدہ معاملات میں۔ لیکن جب یہ تصور پیدا ہو جائے کہ ہر سیاسی، مذہبی، معاشی، انتظامی، علاقائی یا بین الاقوامی مسئلے کا حل فوج ہی فراہم کرے گی، تو ادارہ اپنی فطری حدود سے تجاوز کرنے لگتا ہے۔ یہی سوچ ماضی میں بھی پاکستان کو نقصان پہنچا چکی ہے، آج بھی نقصانات کا سبب بن رہی ہے، اور اگر اس میں تبدیلی نہ آئی تو مستقبل میں بھی نتائج مختلف نہیں ہوں گے۔
پاکستان کا تجربہ یہی بتاتا ہے کہ جب بھی کسی ایک ادارے نے اپنی آئینی حدود سے آگے بڑھ کر پورے نظام کو اپنے زیرِ اثر لانے کی کوشش کی، اس کا نقصان ریاست اور عوام دونوں کو اٹھانا پڑا۔ سیاسی جماعتیں کمزور ہوئیں، جمہوری روایات پنپ نہ سکیں، ادارے اپنی اصل ذمہ داریوں سے دور ہوتے گئے اور ملک  ایک بحران سے  دوسرے بحران کی طرف بڑھتا چلا گیا۔
شاید اب وقت آ گیا ہے کہ ہم ایک سادہ مگر بنیادی حقیقت کو تسلیم کریں۔ سیاسی مسائل کا حل سیاست میں، معاشی مسائل کا حل معیشت میں اور انتظامی مسائل کا حل مؤثر حکمرانی میں تلاش کرنا ہوگا۔ کوئی بھی ادارہ، خواہ وہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، تنہا پورے معاشرے کی پیچیدگیوں کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا۔
آخرکار ایک پرانی کہاوت اپنی پوری معنویت کے ساتھ ہمارے سامنے آتی ہے:
"جس کا کام، اسی کو ساجھے۔"
ریاستیں اسی وقت مضبوط ہوتی ہیں جب ان کے ادارے اپنے اپنے دائرۂ اختیار میں رہ کر کام کریں، نہ کہ ایک ادارہ تمام اختیارات اور ذمہ داریوں کو اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کرے۔اور اختلاف راۓ کو ملک دشمنی قرار دے ۔

Friday, 29 May 2026

پاکستان: کیا تبدیلی ممکن ہے؟


پاکستان جس نازک صورت حال سے اس وقت گزر رہا ہے .اس میں قصور وار ، فوجی اسٹیبلشمنٹ ، سول بیورو کریسی ، خاندانی سیاسی جماعتیں ، مذہبی جماعتیں اور وہ  طاقتور گروہ ہیں . جن کے معاشی مفادات غیر جمہوری نظام سے وابستہ ہیں . یہ سب مل کر عوام کو مذہبی ، لسانی اور صوبائی بنیادوں پر تقسیم رکھتے ہیں . تاکہ عوام اکھٹے نہ ہو سکیں . اور انکی اس نظام پر گرفت مضبوط رہے .سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان اسی طرح چلتا رہے گا .یا اس میں کسی تبدیلی کا امکان ہے اور پاکستان کے عوام اس غیر نمائندہ ،ظالم نظام سے چھٹکارا پانے کیلئے کیا کر سکتے ہیں ؟
عوام کے ذہنوں میں بے شمار سوالات جنم لے رہے ہیں۔ مہنگائی، بے روزگاری، سیاسی عدم استحکام، اداروں کے درمیان کشمکش، اظہارِ رائے پر قدغنیں، اور عوامی بے بسی نے ایک ایسی فضا پیدا کر دی ہے جہاں عام آدمی یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ آخر اس صورتِ حال کا ذمہ دار کون ہے؟ اور کیا اس ملک میں کبھی حقیقی تبدیلی آ سکے گی؟
 پاکستان کے موجودہ بحران  کے ذمہ دار، فوجی اسٹیبلشمنٹ، سول بیوروکریسی، خاندانی سیاسی جماعتیں، بعض مذہبی جماعتیں، اور وہ طاقتور معاشی طبقات شامل ہیں جن کے مفادات ایک کمزور اور غیر نمائندہ نظام سے وابستہ رہے ہیں۔ یہ طبقات مختلف ادوار میں ایک دوسرے کے مخالف بھی دکھائی دیے، مگر نظامِ اقتدار کے تحفظ کے معاملے میں اکثر ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے نظر آئے۔
پاکستان کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو محسوس ہوتا ہے کہ عوام کو مذہبی، لسانی، فرقہ وارانہ اور صوبائی بنیادوں پر تقسیم رکھنا اس سیاسی کلچر کا اہم حصہ رہا ہے۔ جب عوام چھوٹے چھوٹے دائروں میں بٹ جائیں تو وہ ایک مشترکہ قومی اور شہری شعور پیدا نہیں کر پاتے۔ نتیجتاً طاقت کا توازن ہمیشہ انہی طبقات کے ہاتھ میں رہتا ہے جو ریاستی اور معاشی وسائل پر پہلے سے قابض ہوتے ہیں۔

لیکن یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے:
کیا پاکستان ہمیشہ اسی طرح چلتا رہے گا؟

تاریخ کا مطالعہ ہمیں یہ بتاتا ہے کہ دنیا میں کوئی بھی سیاسی یا سماجی نظام ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتا۔ طاقت کے بڑے بڑے ڈھانچے وقت کے ساتھ تبدیل ہوئے ہیں۔ آمریتیں ختم ہوئی ہیں، نوآبادیاتی نظام ٹوٹے ہیں، اور عوامی شعور نے کئی معاشروں کی سمت بدل دی ہے۔ اس لیے یہ کہنا درست نہیں کہ پاکستان میں تبدیلی ناممکن ہے۔ 

حقیقی تبدیلی اس وقت جنم لیتی ہے جب معاشرے میں سیاسی شعور بیدار ہونا شروع ہوتا ہے۔ جب لوگ شخصیات کے بجائے اصولوں کی بنیاد پر سوچتے ہیں۔ جب عوام یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ جمہوریت صرف ووٹ ڈالنے کا نام نہیں بلکہ آزاد عدلیہ، آزاد میڈیا، آئین کی بالادستی، شفاف احتساب، اور مضبوط عوامی اداروں کا مجموعہ ہے۔

پاکستان میں ایک بڑی کمزوری یہ بھی رہی ہے کہ عوام کی بڑی تعداد اپنی شناخت کو قومیت، فرقے، زبان یا سیاسی وابستگی تک محدود رکھتی  رہی ہے۔ یہی تقسیم طاقتور طبقات کیلئے فائدہ مند ثابت ہوتی ہے۔ اگر عوام ایک مشترکہ شہری شعور کے تحت متحد ہوں — جہاں انصاف، قانون کی برتری، انسانی حقوق اور معاشی مساوات بنیادی مطالبات بن جائیں — تو طاقت کے موجودہ توازن میں تبدیلی آ سکتی ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ یہ حقیقت بھی اہم ہے کہ پائیدار تبدیلی ہمیشہ پرامن اور آئینی جدوجہد سے آتی ہے۔ دنیا کی تاریخ میں وہی تحریکیں دیرپا ثابت ہوئیں جنہوں نے شعور، تنظیم، مکالمے، اور مسلسل سیاسی جدوجہد کا راستہ اپنایا۔ تشدد، انتشار اور نفرت وقتی غصے کا اظہار تو بن سکتے ہیں، مگر وہ مضبوط اور منصفانہ نظام کی بنیاد نہیں بناتے۔

پاکستان کے عوام اگر اس غیر نمائندہ اور ظالمانہ نظام سے نجات چاہتے ہیں تو انہیں صرف حکمران چہروں کی تبدیلی پر اکتفا نہیں کرنا ہوگا، بلکہ سوچ، سیاسی کلچر اور ادارہ جاتی ڈھانچے کی تبدیلی کیلئے بھی جدوجہد کرنا ہوگی۔ تعلیم، سیاسی آگاہی، شہری حقوق کا شعور، اور اجتماعی اتحاد ہی وہ راستے ہیں جو کسی بھی معاشرے کو مضبوط بناتے ہیں۔

مایوسی کے باوجود امید کی گنجائش ہمیشہ باقی رہتی ہے۔ قومیں صرف طاقتور طبقات کے فیصلوں سے نہیں بلکہ عوامی شعور سے بھی اپنا مستقبل بدلتی ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ تبدیلی ممکن ہے یا نہیں؛ اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستانی عوام ایک ایسی اجتماعی بیداری پیدا کر سکتے ہیں جو ذاتی، جماعتی اور فرقہ وارانہ مفادات سے بالاتر ہو؟

Thursday, 28 May 2026

طاقت کے کھیل میں ہارتا ہوا پاکستان


پاکستان کسی بیرونی جنگ میں شکست نہیں کھا رہا —مگر اندرونی طاقت کی کشمکش  اسے آہستہ آہستہ کمزور کررہی ہے۔

یہاں ہر طاقتور فریق خود کو ریاست کا محافظ کہتا ہے، مگر ریاست کو مضبوط کرنے کے بجائے اپنی اپنی طاقت کے دائرے محفوظ بنانے میں مصروف ہے۔
سیاست دان اقتدار بچا رہے ہیں۔
ادارے اپنی بالادستی برقرار رکھنے کی جنگ لڑ رہے ہیں۔
اشرافیہ اپنے مفادات کے گرد حفاظتی دیواریں کھڑی کر چکی ہے۔
اور عام آدمی؟
وہ صرف مہنگائی، بے یقینی اور ٹوٹتی ہوئی امید کے درمیان زندہ رہنے کی کوشش کر رہا ہے۔

یہی وہ مرحلہ ہوتا ہے جہاں قومیں اچانک نہیں گرتیں — بلکہ اندر سے کھوکھلی ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔

پاکستان کا اصل بحران صرف معیشت نہیں۔اصل بحران یہ ہے کہ یہاں طاقت تو بہت ہے، مگر ذمہ داری کم ہوتی جا رہی ہے۔

جب عوامی مینڈیٹ کمزور کر دیا جائے…
جب فیصلے پارلیمنٹ کے بجائے بند کمروں میں ہوں…
جب قانون طاقتور کے سامنے جھک جائے…
جب احتساب انصاف کے بجائے سیاسی ہتھیار بن جائے…
جب میڈیا معلومات کے بجائے بیانیوں کی جنگ لڑنے لگے…
اور جب ہر اختلاف کو خطرہ سمجھا جانے لگے…
تو پھر ریاست صرف طاقتور دکھائی دیتی ہے، مضبوط نہیں۔

کیونکہ مضبوط ریاستیں خوف سے نہیں، اعتماد سے چلتی ہیں۔

آج پاکستان میں سب سے خوفناک چیز غربت نہیں۔
بلکہ وہ خاموش مایوسی ہے جو پورے معاشرے میں پھیل رہی ہے۔

وہ نوجوان جو ڈگری لینے کے بعد ملک چھوڑنے کو کامیابی سمجھتا ہے۔
وہ تاجر جو سرمایہ پاکستان سے باہر منتقل کرنا چاہتا ہے۔
وہ مزدور جو دن رات کام کے باوجود اپنے بچوں کا مستقبل محفوظ نہیں بنا پا رہا۔
وہ شہری جو  یہ یقین کھو چکا ہے کہ انصاف، قانون اور ووٹ واقعی کوئی معنی رکھتے ہیں۔

یہ صرف معاشی بحران نہیں۔یہ ریاست اور عوام کے درمیان ٹوٹتے ہوئے اعتماد کی کہانی ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ ریاستیں ہمیشہ بیرونی دشمنوں سے تباہ نہیں ہوتیں۔
کئی بار وہ اندرونی طاقت کی لڑائیوں، اداروں کی ضد، سیاسی انتقام، اور اشرافیہ کی خود غرضی سے آہستہ آہستہ بکھر جاتی ہیں۔

ہر طاقتور فریق شاید یہ سمجھ رہا ہے کہ وہ کھیل جیت رہا ہے۔
مگر جب:

  • عوام مایوس ہو جائیں،
  • نوجوان ملک چھوڑنے لگیں،
  • اداروں پر اعتماد ختم ہو جائے،
  • معیشت صرف اشرافیہ کے لیے کام کرے،
  • اور قانون انصاف کے بجائے طاقت کا آلہ  کار بن جائے…

تو ریاست ہار جاتی ہے : اس صورت حال میں  پاکستان شکست و ریخت کا شکار ہو رہا ہے ۔

اور شاید یہی ہمارے وقت کا سب سے بڑا المیہ ہے:طاقت کے اس کھیل میں ہر کھلاڑی اپنی چال چل رہا ہے —مگر شکست پورے ملک کے حصے میں آ رہی ہے۔

تاریخ  کا المیہ یہ ہے کہ تاریخ سے کوئی بھی سبق سیکھنے کیلئے تیار نہیں . خاص طور پر پاکستان کے مقتدر حلقے !

Monday, 25 May 2026

!زوالِ ظرفِ اقتدار

سلطان صلاح الدین ایوبی سے منصوب ایک  قول  ہے کہ —

“بادشاہوں کا  یہ دستور نہیں کہ وہ بادشاہوں کو قتل کریں” —

 یہ صرف ایک جملہ نہیں بلکہ اقتدار کے ایک قدیم اصول کی عکاسی کرتا ہے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ حکمران ایک دوسرے سے جنگ کر سکتے ہیں، انہیں قید کر سکتے ہیں، حتیٰ کہ اقتدار سے ہٹا بھی سکتے ہیں، مگر ایک حد کے بعد وہ ایک دوسرے کی سیاسی حرمت برقرار رکھتے ہیں، کیونکہ اس روایت کے ٹوٹنے سے خود اقتدار کی ساکھ کمزور ہو جاتی ہے۔

اگر اس قول کو علامتی طور پر پاکستان کے موجودہ حالات پر لاگو کیا جائے تو بہت سے لوگ یہ محسوس کرتے ہیں کہ عمران خان کے ساتھ جو سلوک ہو رہا ہے، وہ اسی غیر تحریری اصول کے خاتمے کی علامت ہے۔

یہ معاملہ صرف عمران خان کی حمایت یا مخالفت کا نہیں۔ اصل سوال ریاستی اور ادارہ جاتی ہے:
جب ایک سابق منتخب وزیرِ اعظم، جس کے پاس اب بھی بڑی عوامی حمایت موجود ہے ، کو سیاسی حریف کے بجائے ایک ایسے دشمن کی طرح دیکھا جانے لگے جسے مکمل طور پر ختم کرنا ضروری ہو، تو اس کے ریاست پر کیا اثرات مرتب ہوسکتے  ہیں؟

اسی لیے بہت سے لوگوں کے نزدیک موجودہ صورتحال محض قانونی یا سیاسی تنازع نہیں بلکہ سیاسی نظام کے مزاج میں تبدیلی کی علامت ہے۔

جب سیاست مقابلے سے نکل کر “بقا کی جنگ” بن جائے تو پھر:

  • ادارے اپنی غیر جانبداری کھونے لگتے ہیں،
  • قانون انتقام کا تاثر دینے لگتا ہے،
  • کارکن اور حامی زیادہ شدت پسند ہو جاتے ہیں،
  • اور مفاہمت کے راستے بند ہونے لگتے ہیں۔

ایسا پاکستان میں ہوتا ہوا نظر آ رہا ہے ۔

یہی وجہ ہے کہ صلاح الدین کا یہ قول آج پاکستان میں بہت سے لوگوں کے جذبات کی ترجمانی کرتا دکھائی دیتا ہے۔ اس میں یہ پیغام پوشیدہ ہے کہ اقتدار کو بھی کچھ حدود کا پابند ہونا چاہیے، خاص طور پر سابق حکمرانوں کے معاملے میں، کیونکہ آج کا حکمران کل خود اسی نظام کے رحم و کرم پر ہو سکتا ہے۔

حتیٰ کہ عمران خان کے ناقدین بھی یہ سوال  اکثر اٹھا  تے  ہیں کہ :
اگر ایک سابق وزیرِ اعظم کے خلاف یہ روایت قائم ہو گئی، تو کل یہی طرزِ عمل ہر آنے والے سیاسی رہنما کے خلاف کیوں استعمال نہیں ہوگا؟

جس طرح کا ظالمانہ سلوک عمران خان ،انکی اہلیہ اور تحریک انصاف کے دوسرے رہنماؤں اور کارکنوں کے ساتھ روا رکھا جا رہا ہے .اسکی مثال پاکستان کی تاریخ میں نہیں ملتی  ۔پاکستان کے عوام کی اکثریت    بجا طور پر یہ سمجھتی ہے  کہ عمران خان کو انتقامی  کاروائیوں  کا نشانہ صرف اسلئیے بنایا جا رہا ہے ۔ کیونکہ وہ جھکنے کیلئے تیار نہیں  ۔اور نہ وہ جلا وطنی اختیار کرنے پر راضی ہیں ۔

  • حقیقت یہ ہے کہ نظام خود خوف عمران کا شکار ہے .

اس تناظر میں صلاح الدین کا یہ قول پاکستان کی موجودہ صورتحال پر ایک گہرا استعارہ بن جاتا ہے۔
کیونکہ جب ریاست اپنے سابق حکمرانوں کو سیاسی مخالف کے بجائے “نظام سے باہر دشمن” سمجھنے لگے، تو آخرکار نقصان صرف ایک فرد کا نہیں بلکہ پورے نظام کی ساکھ کا ہوتا ہے۔ بلکہ ریاست بھی کمزور ہوتی ہے .

Friday, 22 May 2026

تھیوسیڈائڈز ٹریپ اور پاکستان: کیا ریاست ایک نئی سیاسی قوت سے خوفزدہ ہے؟


یونانی مفکر (Thucydides) کی مشہور (Thucydides Trap)“تھیوسیڈائڈز ٹریپ” تھیوری بنیادی طور پر عالمی سیاست کو سمجھنے کے لیے پیش کی گئی تھی۔ اس کا مرکزی خیال یہ ہے کہ جب ایک نئی طاقت ابھر رہی ہوتی ہے تو پہلے سے موجود طاقت اسے اپنے اقتدار کے لیے خطرہ سمجھنے لگتی ہے۔ یہی خوف اکثر تصادم کو جنم دیتا ہے۔ تھیوسیڈائڈز نے اس تصور کو سپارٹا اور ایتھنز کی جنگ کے تناظر میں بیان کیا تھا، مگر وقت کے ساتھ یہ نظریہ صرف بین الاقوامی تعلقات تک محدود نہیں رہا۔ آج اسے داخلی سیاست، ریاستی طاقت اور سماجی تبدیلیوں کو سمجھنے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔
اگر اس تھیوری کو پاکستان کے موجودہ سیاسی حالات پر منطبق کیا جائے، تو ایک دلچسپ اور کسی حد تک تشویشناک تصویر سامنے آتی ہے۔
پاکستان میں اصل تنازع شاید صرف ایک سیاسی جماعت یا ایک فرد کا نہیں رہا، بلکہ یہ پرانے طاقت کے ڈھانچے اور ابھرتی ہوئی نئی سیاسی حقیقت کے درمیان کشمکش بنتا جا رہا ہے۔ ایک طرف وہ روایتی نظام ہے جو دہائیوں سے اقتدار، اداروں، سیاسی بیانیے اور ریاستی طاقت پر اثر اندازہوتا  رہا ہے۔ بلکہ اس وقت تو اپنی پوری جابرانہ طاقت سے ریاست کے پورے ڈھانچے کو گرفت میں لے چکا ہے۔دوسری طرف عمران خان   اور اس کے گرد جمع ہونے والی نوجوان نسل ہے، جو نہ صرف پرانے سیاسی طریقۂ کار کو چیلنج کر رہی ہے بلکہ ریاست اور سیاست کے درمیان تعلق کی نئی تعریف بھی پیش کر رہی ہے۔
یہ معاملہ صرف ایک مقبول لیڈر تک محدود نہیں رہا ۔ اصل تبدیلی سماجی اور آبادیاتی ہے۔  جو پاکستان میں خاموشی سے ایک نئی سیاسی طاقت پیدا کرچکی ہے۔ پاکستان کی اکثریت نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ یہ نسل روایتی میڈیا سے زیادہ سوشل میڈیا سے متاثر ہوتی ہے،  ریاستی بیانیے کو بغیر سوال قبول نہیں کرتی، اور سیاست میں اپنی براہِ راست شمولیت چاہتی ہے۔سیاسی معلومات تک براہِ راست رسائی رکھتی ہے، اور پرانی سیاسی وفاداریوں سے کم وابستہ ہے۔ یہی تبدیلی موجودہ طاقت کے مراکز کے لیے سب سے بڑا چیلنج بنتی دکھائی دیتی ہے۔
ایسے ماحول میں جب اقتدار پر قابض حلقے یہ محسوس کرتے ہیں کہ آزاد سیاسی عمل ان کی گرفت کمزور کر سکتا ہے، تو وہ اکثر “سیاسی بقا” کے موڈ میں چلے جاتے ہیں۔  یہی وہ مرحلہ ہوتا ہے جہاں سیاسی انجینئرنگ، قانونی رکاوٹیں، میڈیا کنٹرول، مخالف قیادت کی گرفتاری، اور انتخابی قواعد میں تبدیلی جیسے اقدامات سامنے آتے ہیں۔ اگر واقعی ووٹنگ کی عمر بڑھانے جیسے خیالات زیرِ غور آرہے  ہیں، تو یہ محض ایک انتظامی تبدیلی نہیں بلکہ اس خوف کا اظہار  ہے  کہ نوجوان ووٹرز سیاسی طاقت کا توازن بدل سکتے ہیں۔
یہی مقام ہے جہاں پاکستان کا موجودہ بحران “تھیوسیڈائڈز ٹریپ” سے مشابہ نظر آتا ہے۔ کیونکہ یہاں بھی بنیادی عنصر طاقت نہیں بلکہ خوف ہے — اقتدار کھونے کا خوف، بیانیہ ٹوٹنے کا خوف، اور ایک نئی سیاسی حقیقت کو قبول نہ کر پانے کا خوف۔ہماری تاریخ میں ایسا پہلے بھی ہو چکا ہے . مشرقی پاکستان کی علیحدگی بھی  اس وقت اقتدار پر قابض گروہ کے اسی خوف کا نتیجہ تھی ۔
تاہم داخلی سیاست میں اس “ٹریپ” کا نتیجہ ہمیشہ روایتی جنگ نہیں ہوتا۔ یہاں تصادم کی شکل مختلف ہوتی ہے۔ ادارے کمزور ہوتے ہیں، سیاسی تقسیم بڑھتی ہے، معیشت غیر یقینی کا شکار ہوتی ہے، اور سب سے خطرناک بات یہ کہ عوام کا نظام پر اعتماد آہستہ آہستہ ختم ہونے لگتا ہے۔ ریاست بظاہر چلتی رہتی ہے، مگر اس کی جائز ، قانونی اور اخلاقی  حیثیت  مسلسل کمزور ہوتی جاتی ہے  ۔
تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ کوئی بھی ریاست صرف طاقت کے ذریعے طویل عرصے تک بدلتے ہوئے سماجی رجحانات کو نہیں روک سکتی۔ اگر ایک نئی سیاسی لہر صرف کسی ایک شخصیت پر نہیں بلکہ آبادیاتی، معاشی،سیاسی  اور فکری تبدیلیوں پر کھڑی ہو، تو اسے دبانے کی ہر کوشش وقتی ثابت ہو سکتی ہے۔ طاقت وقتی خاموشی تو پیدا کر سکتی ہے، مستقل اتفاق و اتحاد  اور یکجہتی  پیدا نہیں کر سکتی ۔اور نہ معاشی ترقی کو ممکن بنایا جا سکتا ہے  ۔
پاکستان شاید اسی دوراہے پر کھڑا ہے۔ سوال صرف یہ نہیں کہ آج اقتدار کس کے پاس ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا موجودہ نظام نئی نسل کی سیاسی خواہشات کو اپنے اندر جذب کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، یا وہ ہر ابھرتی ہوئی عوامی طاقت کواپنی بقا کیلئے خطرہ   سمجھ کر اس کے خلاف مزاحمت کرتا رہے گا؟
کیونکہ جب ریاستیں اپنے ہی عوام ،خاص طور پر نوجوانوں سے خوفزدہ ہونے لگیں، تو مسئلہ صرف سیاست کا نہیں رہتا — یہ مستقبل کے بحران کی علامت بن جاتا ہے۔ پاکستان میں کچھ ایسا ہی ہوتا نظر آ رہا ہے  ۔

Monday, 18 May 2026

امریکہ - ایران پر ایک اور حملہ کر سکتا ہے ؟

امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی ایک بار پھر اس سوال کو جنم دے رہی ہے کہ کیا واشنگٹن کسی نئی محدود فوجی کارروائی کی تیاری کر رہا ہے۔ پچھلے سال ایران اور اسرائیل کے درمیان تقریباً بارہ دن جاری رہنے والی جھڑپوں کے بعد امریکہ نے ایرانی ایٹمی تنصیبات پر حملہ کیا اور پھر امریکی صدر (Donald Trump )نے اعلان کیا کہ ایران کا ایٹمی پروگرام تباہ کر دیا گیا ہے، لہٰذا جنگ بند کی جاتی ہے۔ اب ان کے حالیہ بیانات نے دوبارہ اسی حکمت عملی کی یاد تازہ کر دی ہے۔

ایسا دکھائی دیتا ہے کہ امریکہ مکمل جنگ نہیں بلکہ “کنٹرولڈ پریشر” کی پالیسی پر عمل کر رہا ہے۔ یعنی محدود حملہ، طاقت کا مظاہرہ، پھر “مشن مکمل” کا اعلان اور اس کے بعد مذاکرات یا پسپائی۔ یہ حکمت عملی امریکہ کو بیک وقت دو فائدے دیتی ہے: داخلی سیاست میں طاقتور قیادت کا تاثر اور خطے میں طویل جنگ سے بچنا ۔

تاہم ایران عراق یا لیبیا نہیں۔ ایران کے پاس میزائل صلاحیت، علاقائی اتحادی نیٹ ورکس اور آبنائے ہرمز پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت  موجود ہے۔ اسی لیے کسی بھی محدود حملے کے باوجود خطرہ یہ ہے کہ صورتحال قابو سے باہر نکل سکتی ہے۔ ایک حملہ، پھر جوابی کارروائی، پھر مزید ردعمل — اور پورا خطہ ایک بڑی جنگ کی لپیٹ میں آ سکتا  ہے۔جو کسی کو بھی قابل قبول نہیں . خاص طور پر اس خطے میں امریکی اتحادی کسی بھی لمبی جنگ کے حق میں نہیں ۔

اس وقت زیادہ امکان یہی دکھائی دیتا ہے کہ واشنگٹن عسکری دباؤ، معاشی پابندیوں اور نفسیاتی جنگ کے امتزاج کے ذریعے ایران کو نئی ڈیل پر مجبور کرنا چاہتا ہے۔ لیکن امریکہ ، ایران کو کچھ دئیے بغیر کسی بھی قسم کی کوئی ڈیل حاصل نہیں کر سکتا .  ایرانی وزیر خارجہ نے بھارت میں اپنی پریس کانفرنس میں یہ تصدیق کی کہ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات امریکہ کی ہٹ دھرمی اور اپنے مطالبات ہر صورت منوانے کی وجہ سے نا کام ہوۓ . اور دوسری بات یہ ہے کہ پاکستان ،ایران کو کسی بھی طرح کی کوئی گارنٹی دینے کی پوزیشن میں نہیں . ایران کا مطالبہ  یہ  ہے کہ اسے اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل یہ گارنٹی دے کہ اس پر دوبارہ حملہ نہیں کیا جاۓ گا . روس اور چین ملکر کوئی گارنٹی دے سکتے ہیں .لیکن وہ بھی امریکی صدر پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں . کیونکہ امریکی صدر ہر دوسرے لمحے اپنے بیانات بدلتے رہتے ہیں .

امریکی صدر اس جنگ میں اس بری طرح پھنس چکے ہیں کہ انھیں اس سے باہر نکلنے کا کوئی راستہ نظر نہیں آ رہا . ایران اپنے  موقف سے کسی صورت پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں .  ایران  یہ چاہتا ہے کہ کم از کم اس پر سے اقتصادی پابندیاں  ہٹائی  جائیں  .   جو امریکی صدر اس وقت ہٹانے پر تیار نہیں . اپنی تمام تر طاقت کے باوجود امریکہ ،ایران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور نہیں کر سکا اور نہ وہ آبناۓ ہرموز کو کھلوا سکا .  

اب یہ ہو سکتا ہے کہ امریکی صدر ،ایران پر ایک اور فضائی حملہ کرنے کا حکم دیں . اور پھر یہ دعویٰ کریں کہ انھوں نے ایران کے ایٹمی پروگرام کوایک بار پھر  تباہ و برباد کر دیا ہے . لہذا جنگ ختم کی جاتی ہے . کیونکہ امریکہ نے اپنے تمام مقاصد حاصل کر لیے ہیں . اعلان فتح - امریکی بحری بیڑا گھر واپس . 

 امریکی صدر کا کوئی بھروسہ نہیں کہ وہ جی -سی -سی اور دنیا کے دوسرے ممالک سے یہ کہہ دیں کہ ایران کے ساتھ اپنے اپنے معاملات خود حل کر لیں .

Sunday, 17 May 2026

!پچھتاوا اور شکر گزاری

این فرینک  کا ایک قول ہے کہ  

"مردہ لوگوں کو زندہ لوگوں کی نسبت  زیادہ پھول پیش کیے جاتے ہیں . کیونکہ پچھتاوا شکرگزاری سے زیادہ طاقتور ہوتا ہے۔" 

یہ بات انسانی فطرت کے ایک تلخ سچ کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ اکثر لوگ کسی کی قدر اُس وقت محسوس کرتے ہیں جب وہ شخص اُن کے درمیان نہیں رہتا۔ جب موقع ختم ہو جاتا ہے، تو دل میں پچھتاوا شکرگزاری سے زیادہ شدت اختیار کر لیتا ہے۔

 زندگی میں ہم اکثر ان لمحوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں جن میں محبت کا اظہار ممکن ہوتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ وقت بہت ہے، کہ کل بھی موجود ہے، کہ لوگ ہمیشہ ہمارے آس پاس رہیں گے۔ مگر وقت ایک خاموش چور ہے — وہ لمحے چرا لیتا ہے، اور ہمیں صرف یادیں دے جاتا ہے۔

جب کوئی چلا جاتا ہے، تو ہم پھول لے کر جاتے ہیں، دعائیں کرتے ہیں، اور دل میں ایک بوجھ لیے واپس آتے ہیں۔ وہ پھول دراصل ہمارے پچھتاوے کی علامت ہوتے ہیں — وہ باتیں جو ہم کہہ نہ سکے، وہ احساسات جو ہم چھپا گئے، وہ محبت جو ہم نے وقت پر ظاہر نہ کی۔

اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ ۔ دنیا میں بہت سے لوگ ایسے ہیں جو اپنے پیاروں، دوستوں اور محسنوں کی قدر اُن کی زندگی میں ہی کرتے ہیں، اُن سے محبت، خلوص ،چاہت  اور احترام کا اظہار بھی کرتے ہیں۔

شکرگزاری ایک نرم سا احساس ہے، مگر اس کی آواز کمزور ہے۔ ہم زندہ لوگوں کو شکرگزاری کے پھول کم دیتے ہیں، کیونکہ ہمیں لگتا ہے کہ وہ جانتے ہیں ہم ان سے محبت کرتے ہیں۔ مگر محبت کا اظہار خاموشی میں نہیں، عمل میں ہوتا ہے۔

اس لیے اس قول کو ایک حقیقت سے زیادہ ایک تنبیہ سمجھنا چاہیے:

اگر ہم زندہ لوگوں کو وہ پھول دے سکیں جو ہم قبروں پر چڑھاتے ہیں، تو شاید دنیا میں پچھتاوا کم اور سکون زیادہ ہو۔

اس کو ایک اور انداز میں بھی کہا جا سکتا ہے کہ

لوگوں کی قدر اُن کے زندہ ہوتے ہوئے کریں، کہیں ایسا نہ ہو کہ بعد میں صرف پچھتاوا باقی رہ جائے۔

Saturday, 16 May 2026

پاکستان: ایک ریاست، دو حقیقتیں


ہمارے معاشرے میں ایک خطرناک خلیج پیدا ہو چکی ہے — صرف امیر اور غریب کے درمیان نہیں بلکہ اُن لوگوں کے درمیان جو تکلیف برداشت کر رہے ہیں اور اُن کے درمیان جو حکومت کر رہے ہیں۔

عام پاکستانی معاشی تھکن کے دور سے گزر رہے ہیں۔ مہنگائی نے لوگوں کی قوتِ خرید کو کچل دیا ہے۔ بجلی کے بل ہر مہینے ایک نئے صدمے کی طرح آتے ہیں۔ ڈگری رکھنے والے نوجوانوں کو مستقل روزگار نہیں مل رہا۔ چھوٹے کاروبار خاموشی سے تباہ ہو رہے ہیں۔ خاندان زندہ رہنے کے لیے زیورات، موٹر سائیکلیں، گھریلو سامان — اور بعض اوقات اپنی عزتِ نفس تک — فروخت کرنے پر مجبور ہیں۔

لیکن پاکستان کی طاقتور اشرافیہ  اس حقیقت سے عجیب حد تک محفوظ دکھائی دیتی ہے ۔

سول و عسکری اشرافیہ، خاندانی سیاسی جماعتیں، اور اقتدار کے گرد موجود مضبوط نیٹ ورکس ایک محفوظ دائرے میں زندگی گزار رہے ہیں۔ اُن کی شاہانہ طرزِ زندگی، مراعات، سکیورٹی پروٹوکول، سرکاری سہولتیں، پوش ہاؤسنگ سوسائٹیاں، بیرونِ ملک اثاثے، اور طاقت کے گرد قائم حفاظتی حصار اُنہیں اُن پالیسیوں کے نتائج سے بچاتے ہیں جن کی قیمت پوری قوم ادا کرتی ہے۔

وہ عوام کی تکلیف کو اُسی طرح دیکھتے ہیں جیسے کوئی امیر شخص شدید گرمی یا سردی کو کھڑکی کے پیچھے بیٹھ کر دیکھتا ہے۔

آج پاکستان کا اصل بحران یہی ہے۔

فیصلے کرنے والے اُن لوگوں سے کٹ چکے ہیں جو ان فیصلوں کی اصل قیمت ادا کرتے ہیں۔ایسا نہیں کہ یہ ماضی قریب سے ہونا شروع ہوا ہے . بلکہ یہ اسی انگریزی نظام کا تسلسل ہے .جو تاج برطانیہ نے (1857)، کی جنگ آزادی کے بعد بنایا تھا اور جس پر آج تک عمل کیا جا رہا ہے .

جب پیٹرول مہنگا ہوتا ہے تو غریب کی نقل و حرکت محدود ہو جاتی ہے جبکہ اشرافیہ سرکاری پروٹوکول میں سفر کرتی رہتی ہے۔ جب مہنگائی بڑھتی ہے تو عام لوگ اپنے کھانے کم کرتے ہیں جبکہ ریاستی اخراجات جوں کے توں رہتے ہیں۔ جب ٹیکس بڑھتے ہیں تو تنخواہ دار طبقہ اور چھوٹے کاروبار مزید دباؤ میں آ جاتے ہیں جبکہ طاقتور شعبے رعایتیں، سبسڈیز اور خصوصی سہولتیں حاصل کرتے رہتے ہیں۔

قربانی نیچے والے طبقے سے لی جاتی ہے۔
مراعات اوپر والے طبقے کے پاس محفوظ رہتی ہیں۔

پاکستان تیزی سے ایک ایسے نظام میں تبدیل ہو رہا ہے جہاں کمزوروں سے قربانی مانگی جاتی ہے جبکہ طاقتوروں کا آرام محفوظ رکھا جاتا ہے۔

اور تاریخ گواہ ہے کہ ایسا عدم توازن زیادہ دیر تک قائم نہیں رہتا۔

ایک معاشرہ غربت کے ساتھ طویل عرصہ گزار سکتا ہے، لیکن وہ کھلی ناانصافی زیادہ دیر برداشت نہیں کر سکتا — خاص طور پر جب لوگوں کو محسوس ہونے لگے کہ قانون اور نظام سب کے لیے برابر نہیں رہا۔

پاکستان میں بڑھتا ہوا غصہ صرف معاشی نہیں، نفسیاتی بھی ہے۔

لوگ مشکلات برداشت کر لیتے ہیں اگر اُنہیں یقین ہو کہ نظام منصفانہ ہے، قیادت قابل ہے، اور قربانی عارضی ہے۔ لیکن جب عوام کو یہ محسوس ہونے لگے کہ ایک اشرافیہ طبقہ خود کو ہمیشہ محفوظ رکھے گا جبکہ باقی قوم مسلسل قربانی دیتی رہے گی، تو مایوسی نفرت میں بدلتی ہے، اور نفرت بالآخر سیاسی عدم استحکام کو جنم دیتی ہے۔

آج پاکستان اسی مقام پر کھڑا ہے۔

طاقتور حلقے اب بھی یہ سمجھتے ہیں کہ بیانیہ سازی، سنسرشپ، کنٹرولڈ میڈیا، دباؤ، اور وقتی سیاسی انجینئرنگ کے ذریعے عوامی غصے کو ہمیشہ دبایا جا سکتا ہے۔ لیکن معاشی تکلیف آخرکار ہر پروپیگنڈا توڑ دیتی ہے۔ اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے جدوجہد کرنے والا انسان حقیقت کو ٹی وی مباحثوں یا سرکاری پریس کانفرنسوں سے نہیں سمجھتا۔ وہ حقیقت کو بازار، بجلی کے بل، ہسپتال، اور خالی جیب میں محسوس کرتا ہے۔

اور یہ حقیقت اب چھپانا مشکل ہوتی جا رہی ہے۔

کسی بھی حکمران طبقے کے لیے سب سے خطرناک چیز یہ ہوتی ہے کہ مسلسل تحفظ انہیں حقیقت سے اندھا کر دیتا ہے۔ جب حکمران صرف وفادار لوگوں، بیوروکریسی کے فلٹرز، سکیورٹی حصاروں، اور مراعات یافتہ ماحول میں رہنے لگیں تو وہ معاشرے کی اصل نفسیاتی کیفیت سمجھنا چھوڑ دیتے ہیں۔ وہ خاموشی کو استحکام سمجھ بیٹھتے ہیں۔ خوف کو عوامی حمایت سمجھ لیتے ہیں۔ وقتی کنٹرول کو دائمی طاقت تصور کرنے لگتے ہیں۔

تاریخ بار بار دکھا چکی ہے کہ اس کا انجام کیا ہوتا ہے۔

کوئی نظام ایک دن میں نہیں ٹوٹتا۔ پہلے عوامی تھکن پیدا ہوتی ہے۔ پھر اداروں پر اعتماد ختم ہوتا ہے۔ پھر معاشرتی تقسیم بڑھتی ہے۔ پھر ریاست کی اخلاقی ساکھ آہستہ آہستہ ختم ہونے لگتی ہے۔ اور جب تک حکمران طبقہ عوامی غصے کی گہرائی کو سمجھتا ہے، تب تک بحران اکثر قابو سے باہر ہو چکا ہوتا ہے۔

پاکستان تیزی سے اسی نفسیاتی حد کے قریب پہنچ رہا ہے۔

کوئی ملک زیادہ دیر تک اُس وقت تک نہیں چل سکتا جب ایک طبقہ معاشی پالیسیوں کو صرف نظریہ سمجھے جبکہ دوسرا طبقہ اُنہیں اپنی بقا کا مسئلہ سمجھ کر جئے۔

اصل خطرہ صرف مہنگائی یا سیاسی کشمکش نہیں۔
اصل خطرہ حکمرانوں اور عوام کے درمیان بڑھتا ہوا جذباتی فاصلہ ہے۔

جب ایک قوم کو یہ یقین ہو جائے کہ اُس کی تکلیف اقتدار کے ایوانوں میں نظر ہی نہیں آ رہی، تو پھر ریاست اور عوام کے درمیان موجود سماجی معاہدہ ٹوٹنا شروع ہو جاتا ہے۔ایسا پاکستان میں تیزی سے ہو رہا ہے ۔طوفان سے پہلے کی خاموشی کو استحکام سمجھنے والے حالات کی سنگینی کا درست اندازہ لگانے سے قاصر دکھائی دے رہے ہیں ۔


فالس فلیگ آپریشن

اردو زبان میں (فالس فلیگ )کیلئے کوئی مناسب لفظ موجود نہیں . اسکا ترجمہ ، جھوٹا الزام ، جھوٹا حملہ ، خفیہ کاروائی ، فریبی جھنڈا وغیرہ کیا جاتا ہے .بنیادی طور پر اسکا مطلب کوئی ایسی کاروائی ہے .  جس کا الزام اپنے مخالفین پر ڈال کر ، اپنے  فوجی یا سیاسی مقاصد حاصل کیے جا سکیں .
"فالس فلیگ " کی اصطلاح ابتدا میں اس حربے کیلئے استعمال ہوتی تھی .جب بحری جہاز دھوکہ دینے کیلئے . دشمن کا جھنڈا اپنے جہازوں پر لہراتے تھے .
سمندری قزاق اور نو آبادیاتی طاقتوں کے بحری جہاز  ،اکثر دشمن کے قریب پہنچنے کیلئے .جعلی پرچم استعمال کرتی تھیں .
جبکہ روایتی بحری اصول کے مطابق ، حملے سے پہلے ،اصل پرچم بلند کرنا ضروری سمجھا جاتا تھا .
اس وقت یہ بحری جنگ کی فریب کاری تھی .ابھی اسکا جدید سیاسی مفہوم وجود میں نہیں آیا تھا .
"فالس فلیگ " آپریشن عموما "پانچ بنیادی مقاصد کیلئے استعمال ہوتے ہیں .
جنگ کو جواز فراہم کرنا .
جبر و استبداد کو جائز ٹہرانا .
عوامی رضا مندی یا حمایت پیدا کرنا .
دشمن کو شدید رد عمل پر اکسانا .
اور بیانیہ پر کنٹرول حاصل کرنا .
پچھلے دو ،اڑھائی سو سال میں یہ مقاصد زیادہ نہیں بدلے .صرف طریقہ کار بدلتے گۓ .

Sunday, 26 April 2026

پاکستان: نظام ٹوٹ نہیں رہا—خاموشی سے بکھر رہا ہے



پاکستان میں جس طرح کے حالات پیدا ہو چکے ہیں . یہ ماضی قریب کے اقدامات کا کیا دہرا نہیں . بلکہ دہائیوں کی اندرونی اور بیرونی  مداخلت کا نتیجہ ہیں . اندرونی طور پر فوج کی غیر ضروری مداخلت اور بیرونی طور پر امریکہ کی اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے مداخلت .
حالات جس نہج پر آ چکے ہیں .اب بھی اگر مقتدر حلقے یہ سمجھتے ہیں کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ حالات خود بخود بہتر ہو جائیں گے . اور نظام "مستحکم " ہو جاۓ گا . یہ محض ایک خوش فہمی ہے . جو کچھ سامنے آ رہا ہے . وہ خاموش مگر بہت زیادہ خطرناک ہے .یہ ایک دھیمی جلتی ہوئی کیفیت ہے کہ  جس میں امیر اور غریب کے درمیان خلیج بڑھتی جا رہی ہے . اور اکثریت معاشی دباؤ ،سہنے کے  قابل نہیں رہی .
مہنگائی نے صرف قیمتیں ہی نہیں بڑھائیں . اس نے سماجی معائدہ ہی بدل دیا ہے . عام آدمی کیلئے زندگی مشکل سے مشکل تر ہوتی جا رہی ہے . خوراک ، بجلی ،گیس ، پیٹرول ، ڈیزل اور کراۓ . ... سب  کچھ دسترس سے باہر ہوتا جا رہا ہے . دوسری طرف ، اشرافیہ کیلئے نظام اب بھی کام کر رہا ہے . "محفوظ اثاثے "،پالیسی تک رسائی ، آمدنی میں بے تحاشا اضافہ اور بڑے جھٹکوں سے بچاؤ ". یہ تضاد اب چھپا ہوا نہیں .
بلکہ یہ روز مرہ کی ایک حقیقت ہے . اور یہی چیز اسے سیاسی طور پر زیادہ خطرناک بناتی ہے .
ایسے حالات کا نتیجہ فوری افرا تفری نہیں ہوتا . اور نہ اس سے ملک کی جغرافیائی سرحدوں کو  کوئی خطرہ ہو سکتا ہے .  اب تک تو نظام اندرونی دباؤ کو جذب کر  رہا ہے . ایسا اس وقت  تک رہے گا . جب تک کہ نظام  کئی  جگہوں سے رسنا نہ شروع  کر دے . جو کچھ ہم اس وقت دیکھ رہے ہیں .یہ "استحکام "نہیں . بلکہ ایک انتہائی ظالمانہ اور بے رحم کنٹرول کے ذریعے حاصل کیا گیا  وقتی توازن ہے .
لیکن یہ توازن کمزور ہے . کیونکہ یہ ایک ایسی چیز پر قائم ہے . جو تیزی سے ختم ہو رہی ہے . اور  وہ ہے " اعتماد ".
اگر حالات میں کوئی مثبت تبدیلی نہیں آتی .تو آنے والے مہینوں میں ایک منظر  بار بار دہرایا جاۓ گا . احتجاج ہونگے اور جلد دباۓ جائیں گے .معاشی مسائل سڑکوں پر آئیں گے .مگر نظام کو گرانے کی حد تک نہیں   پہنچیں گے . ریاست ہر حال میں انتظامی طاقت کے زریعے حالات کو قابو میں رکھنے کی کوشش کرے گی .راولپنڈی اور اسلام آباد میں بے چینی کو سختی سے کنٹرول کیا جاۓ گا .لاہور سیاسی دباؤ کا مرکز بنا رہے گا . جبکہ کراچی میں یہ دباؤ معاشی سرگرمیوں ، ہڑتالوں اور کاروباری رکاوٹوں ،کی صورت میں ظاہر ہو گا . 
آج کا سیاسی نظام ایک بنیادی عدم توازن کا شکار ہے .کوئی بھی بڑا فریق ایسا نہیں ہے . جس کے پاس  بیک وقت ، ادارہ جاتی طاقت اور  عوامی حمایت دونوں ہوں . عمران خان کے پاس اب بھی عوامی مقبولیت موجود ہے .لیکن ان کیلئے سیاسی گنجائش محدود کر دی گئی ہے . حکومتی ڈھانچہ اختیار تو رکھتا ہے .مگر عوامی اعتماد کھو چکا ہے . خاص طور پر جب مہنگائی روز مرہ زندگی کو متاثر کر رہی ہو . عدلیہ بھی ایک غیر جانب دار ثا لث کے بجاۓ . ایک فریق کے طور پر دیکھی جا رہی ہو . ان سب کا نتیجہ ایک ایسا نظام ہے . جو تناز عات کو سنبھال تو رہا ہے .لیکن ان کو حل کرنے سے قاصر ہے .
پاکستان میں حالات خطرناک حد تک قابو سے باہر ہو سکتے ہیں . جب تین چیزیں بیک وقت ہو جائیں . پہلی :  جب معاشی دباؤ صرف غریب تک محدود نہ رہے . بلکہ متوسط طبقہ ، تاجر ، تنخواہ دار افراد بھی پوری شدت سے متاثر ہوں .  دوسری : جب سیاسی نظام لوگوں کو تبدیلی کا کوئی قابل اعتماد راستہ نہ دے . جب  انتخابات ، عدالتیں اور ادارے ، بے معنی محسوس ہونے لگیں .اور تیسری : جب خود طاقت وار حلقوں کے اندر اختلافات کھل کر سامنے آنے لگیں اور یکسوئی ختم ہو جاۓ .
اگر یہ تینوں عوامل اکھٹے ہو جائیں . جیسا کہ نظر آ رہا ہے کہ ہو رہے ہیں . تو ملک ایک طویل عدم  استحکام کے دور میں داخل ہو سکتا ہے . اس حکومت کے پاس ملک کے مسائل کا کوئی حل نہیں .ان کے پاس ریاست کی طاقت ہے جسے یہ اب تک بے دریغ استعمال کرتے آ رہے ہیں .  آگے بھی یہ ایسا ہی کریں گے . جس سے ملک میں بد امنی مزید بڑے گی .
ایک دوسرا راستہ بھی موجود ہے . مگر اس کیلئے جو چیز درکار ہے . وہ کم نظر آ رہی ہے . یعنی ایک سنجیدہ تبدیلی : سیاسی تناؤ کو کم کرنا .قابل اعتماد انتخابات  اور اشرافیہ کی جانب سے واضح قربانی ....یہ سب عوامی غصے میں کمی لا سکتے ہیں .معمولی اقدامات بھی اعتماد کو کچھ حد تک بحال کر سکتے ہیں اور عدم  استحکام کے اس چکر کو سست کر سکتے ہیں .
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کا نظام بحرانوں کو    سنبھا لنے کیلئے بنایا گیا ہے . حل کرنے کیلئے نہیں .یہ ماڈل تب تک چلتا ہے .جب تک معاشی دباؤ قابل برداشت ہو  اور نظام پر اعتماد باقی ہو . آج دونوں چیزیں کمزور پڑ چکی ہیں .
نظر تو یہی آتا ہے کہ بے چینی بڑھے  گی .  مگر ایک ہی لہر کی صورت میں نہیں .یہ وقفے وقفے سے آۓ  گی اور ہر بار نظام کو پہلے سے کمزور کرتی جاۓ گی . اصل سوال یہ نہیں کہ پاکستان کو مشکلات کا سامنا ہو گا یا نہیں . اصل سوال یہ ہے کہ کیا اقتدار میں بیٹھے لوگ بر وقت یہ سمجھ پائیں گے کہ صرف کنٹرول کافی نہیں .اور یہ کہ ایک قابل اعتبار نیا توازن پیدا کیے بغیر ، نظام پر دباؤ بڑھتا ہی جاۓ گا .
نظام اچانک نہیں ٹوٹتے . 
بلکہ وہ ، آ ہستہ آ ہستہ دباؤ برداشت کرنے کی صلاحیت کھو دیتے ہیں .

Thursday, 23 April 2026

!اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا

امریکہ اور اسرائیل نے  جب ایران کے خلاف یہ جنگ شروع کی تو انکے چار بنیادی مقاصد تھے .
ایران کے  نیوکلیر انرچمنٹ پروگرام کو مکمل ختم کرنا .
مشرق وسطیٰ میں ایرانی اتحادیوں کیلئے . ایران کی حمایت کو ختم کرنا .
ایران کی میزائل بنانے اور انکو لانچ کرنے کی صلاحیت کو تباہ کرنا .  
اور 
ایران میں حکومت کی تبدیلی .
اب تک کی صورت حال کا اگر جائزہ لیا جاۓ . تو یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ امریکہ اور اسرائیل ابھی تک   ان چار مقاصد میں سے  کوئی ایک بھی حاصل کرنے میں نا کام رہے ہیں . اگرچہ ایرانیوں کو شدید نقصانات کا سامنا کرنا پڑا .  علی خامنائی کے ساتھ ساتھ بڑی تعداد میں انکے فوجی اور سیاسی رہنما شہید کر دئیے گے . لیکن اتنے  بڑے نقصان کے با وجود ، ایرانیوں نے بڑی ثابت قدمی اور جرات کا مظاہرہ کیا .  ایرانی قوم انتشار کا شکار ہونے کی بجاۓ . متحد ہو گئی .
امریکہ اور اسرائیل کا خیال تھا کہ لیڈر شپ کے مارے جانے کے بعد ، ایران میں معاشی مشکلات سے تنگ  عوام سڑکوں پر نکل آئی گی . اسطرح انھیں ایران میں خانہ جنگی کروانے کا موقعہ مل جاۓ گا  . جس طرح انھوں نے عراق، شام ، لیبیا ،سوڈان ، صومالیہ اور یمن کا حال کیا . اسی طرح ایران کو بھی مختلف ، ایک دوسرے سے باہم دست و گریبان گروپ ، تقسیم کر دیں گے .
ایرانی قوم کے اتحاد اور جذبہ حب الوطنی نے  ، امریکہ اور اسرائیل کا یہ منصوبہ بھی نا کام بنا دیا .
ابناۓہرمز  ابھی تک بند ہے .  امریکی صدر اپنی تمام تر طاقت اور اشتعال انگیز دھمکیوں کے با وجود ، اس سمندری راستے کو کھلوانے میں نا کام ہیں . ایک طرف اسرائیل ہے .جو ہر صورت اس جنگ کو طول دینے چاہتا ہے .  دوسری طرف اقتصادی حقائق ہیں .جو جنگ بندی کا تقاضا کرتے ہیں .  امریکی قیادت ، اسرائیل اور ساری دنیا کو در پیش اقتصادی مشکلات میں کوئی توازن قائم کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہے .یہی امریکی پالیسی کا وہ تضاد ہے . جو جنگ بندی میں رکاوٹ بنا ہوا ہے .
ایران کی دس نکاتی تجویز جو اسلام آباد مذاکرات کے پہلے راؤنڈ سے پہلے پیش کی گئیں . مزید مذاکرات کی بنیاد ہیں .لیکن یہ دس نکات ، کئی ایسی شرائط پر مشتمل ہیں جن کو امریکہ بار بار مسترد کر چکا ہے . ایران کا  مطالبہ ہے کہ ، ایران پر لگی تمام ، بنیادی اور ثانوی پابندیاں ختم کی جائیں . آبناۓ ہرمز پر ایرانی کنٹرول تسلیم کیا جاۓ . مشرق وسطیٰ سے امریکی فوجی اڈوں کا خاتمہ ، ایران اور اسکے اتحادیوں پر حملوں کا روکنا ، ایران کے سو بلین سے زائد منجمد اثاثوں کو واگزار کرنا اور کسی بھی معائدے کیلئے ،اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار داد ، یہ گارنٹی دے کہ آئندہ ، ایران پر حملہ نہیں کیا جاۓ گا .
اب یہ ٹرمپ انتظامیہ پر منحصر ہے کہ کیا وہ ایران کو یہ رعایتیں دینے پر تیار ہے ؟  پھر اسرائیل کا کیا کردار ہو گا . جس نے ایران پر دوبارہ حملے شروع کرنے کی دھمکی دی ہے .ایران نے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ جب تک چاہیں ، آبناۓ ہرمز کو بند رکھ سکتے ہیں .عالمی معیشت جو پہلے ہی دباؤ کا شکار ہے  اور کتنا عرصہ برداشت کر سکتی ہے .امریکہ کی سب سے زیادہ ذمہ داری ہے کہ وہ اسکا حل نکالے  . اس سے پہلے کہ ایک عالمی معاشی بحران جنم لے .
امریکی صدر نے ایک بار پھر جنگ بندی میں تو سیع کر دی ہے . اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکی صدر اس بحران سے نکلنا چاہتے ہیں . لیکن وہ ایک ایسی ڈیل چاہتے ہیں کہ جس میں انھیں یہ کہنے کا موقعہ مل سکے کہ انہوں نے اپنے مقاصد حاصل کر لیے ہیں .
ایرانی، امریکی صدر پر کسی صورت اعتبار کرنے کو تیار نہیں . پاکستانی اسٹبلشمنٹ کے پاس ایسی کوئی صلاحیت نہیں کہ وہ ایران کو کوئی مضبوط گارنٹی دے سکیں . اسکے لیے ضروری ہے کہ روس ، چین ، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے ملکر کوئی ایسا   منصوبہ پیش کریں .کہ اگر اس پر اتفاق ہو جاۓ . تو ایران کو یہ گارنٹی ہو کہ پھر اس پر امریکہ اور اسرائیل حملہ نہیں کریں گے اور جو بھی معائدہ ہو اس پر عمل درآمد کیا جاۓ گا . 
اب تک کی صورت حال کے مطابق ایران کا پلا بھاری ہے . امریکہ اور اسرائیل اپنے وہ مقاصد حاصل کرنے میں نا کام رہے . جن کو بنیاد بنا کر انھوں نے یہ جارحیت کی تھی . ایران میں اسلامی حکومت قائم ہے . ملک میں کوئی افراتفری نہیں . ایران کی دفاہی صلاحیت برقرار ہے . اور سب سے بڑھ کر ایرانی قوم پہلے سے زیادہ متحد ہو چکی ہے .
امریکہ اور ایران ،دونوں یہ چاہتے ہیں کہ جنگ ختم ہو .  اب دیکھنا یہ ہے کہ دونوں فریق ایک دوسرے کو کیا رعایتیں دے سکتے ہیں . فیصلہ کچھ لو . کچھ دو کی بنیاد  پر ہو گا . اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ جو کچھ ایرانی سنتالیس سالوں میں مذاکرات سے حاصل نہیں کر سکے .وہ انھوں نے اس جنگ سےتقریبآ  حاصل کر لیا ہے . اگر امریکہ ایرانی ایٹمی انرچمنٹ پروگرام کو محدود کرنا چاہتا ہے .تو اسے ایران پر سے اقتصادی پابندیاں ہٹانا ہونگی . اگر ایرانی اور کچھ بھی  حاصل نہ کر سکیں .صرف اقتصادی پابندیوں کا خاتمہ ہو جاۓ . یہ  بھی ایران کی ایک  بہت بڑی کامیابی ہو گی !!!!

Wednesday, 22 April 2026

!کپڑے بیچ کر


انتیس مئی ، 2022، کو اس وقت کے وزیر اعظم شہباز شریف ، جو خیر سے آج بھی وزیر اعظم پاکستان ہیں . نے کہا تھا کہ وہ اپنے کپڑے بیچ کر عوام کو سستے آٹے کی فراہمی یقینی  بنائیں  گے . یہ وہی صاحب ہیں جو کہتے تھے کہ وہ زر بابا کو ، لاہور ، کراچی کی سڑکوں پرگسیٹیں گے اور انکا پیٹ پھاڑ کر  غریبوں کی  لوٹی ہوئی دولت نکال کر عوام کے قدموں میں ڈھیر کر دیں گے .
پھر چشم فلق نے ایک عجیب نظارہ دیکھا . کہ جن کو سڑکوں پر گھسیٹنا اور جن کے پیٹ پھاڑ کر عوام کی لوٹی ہوئی دولت واپس لانی تھی . انھیں کے ساتھ مل کر عوام کے منڈیٹ پر ڈاکا ڈالا . اور انھیں طاقتوں کے قدموں میں بیٹھ گۓ . جنھیں پاکستان کی تباہی اور بربادی کا ذمہ دار  ٹھراتے تھے . 
بجلی ، گیس ، پیٹرول ،ڈیزل ،ٹرانسپورٹ اور خوراک ،غرض  ہر چیز عوام کی دسترس سے دور  ہو چکی ہے .  جتنی بجلی ہم استعمال کرتے ہیں . اس کی قیمت سے زیادہ بل میں ٹیکس شامل ہوتا ہے .میرا اس مہینے کا بل 2293، روپے ہے . جبکہ جو بجلی استعمال ہوئی .اسکی قیمت 1106، روپے اور باقی 1187، روپے ٹیکس ہے .ہر گھر کا بل اسی طرح کا ہے .  یہی حال گیس کا ہے .  
وزیر اعظم صاحب نے اپنے کپڑے بیچ کر غریب عوام کی مدد کرنے کا دعوا کیا تھا . لیکن انھوں نے تو غریب عوام کے ہی کپڑے اتروا دئیے ہیں .  اور ساتھ میں عوام سے مزید قربانی کے تقاضے بھی کیے جا رہے ہیں . کیا ملک کیلئے قربانی دینا صرف عوام کا فرض ہے ؟

Friday, 17 April 2026

.اقتدار حاصل کر لیا ۔ساکھ کھودی

"کیا ان سے بھی غلطی ہو سکتی ہے ؟"
پاکستان میں  طاقت کے ایوانوں  میں یہ سوال شاذ و نادر ہی اتنی سنجیدگی سے پوچھا جاتا ہے۔ اور اکثر اوقات، ان کے فیصلوں کا جو نتیجہ سامنے آتا ہے . وہ ثابت کرتا ہے کہ ایسا کیوں ہونا چاہیے تھا۔یعنی انھیں اپنے ماضی کے فیصلوں سے یہ سیکھنا چاہئیے تھا .کہ ان سے بھی غلطی ہو سکتی ہے .وہ عقل کل نہیں ہیں .

عمران خان کی برطرفی، جو فوجی اسٹیبلشمنٹ اور پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے اتحاد سے کی گئی.نظام کو دوبارہ ترتیب دینے کیلئے تھی . اس کا مقصد اپنی قوت و طاقت کا اظہار کرنا . اپنی حکمرانی کو مستحکم کرنا اور ایک ایسی عوامی قوت کے پروں کو کاٹنا تھا . جو اب فوجی اسٹیبلشمنٹ ، نوکر شاہی اور سیاسی اشرافیہ کیلئے تکلیف دہ بنتی جا رہی تھی .

انھوں نے عمران حکومت کو تو تبدیل کر لیا . لیکن اس اقدام نے ایک ایسے عوامی رد عمل کو جنم دیا .جس کے بارے میں انھوں نے سوچا بھی نہیں تھا . اور جسے تمام تر ظلم و جبر کے یہ ابھی تک مکمل قابو کرنے میں نا کام رہے ہیں .

انکی پہلی غلطی قانونی حثیت تھی . جو کچھ آئینی طور پر قابل دفاع ہو سکتا تھا .وہ عوامی قبولیت میں تبدیل نہیں ہوا .سیاست صرف قانونی شقوں سے  طےنہیں ہوتی .بلکہ تصور میں طےہوتی ہے . جو تاثر غالب آیا .وہ بہت سادہ اور خطرناک تھا : کہ عوام کی کوئی حثیت نہیں .نظام پر تو قابو پا لیا گیا .اور ایک ایسے رہنما کو ہٹا دیا .جو عوامی حمایت رکھتا تھا .اقتدار پر قابض ٹولہ اپنی تمام تر کوشش کے با وجود ابھی تک عمران خان کی عوامی حمایت میں کمی لانے سے قاصر ہے .

صرف یہ تصور ہی کہ عمران خان ابھی تک ڈٹ کے کھڑا ہے . نے عمران خان کو جد و جہد اور استقامت کا ایک  استعارہ بنا دیا . ایک ہی جھٹکے میں ، پاکستان تحریک انصاف مزاحمت کی علامت میں تبدیل ہو گئی .کہانی الٹ گئی . احتساب قربانی میں بدل گیا .مخالفت بغاوت میں بدل گئی .
یہ سیاست کا سب سے پرانا تضاد ہے: 

دباؤ، جب غلط لاگو کیا جاتا  ہے، تو وہ مزاحمت کو کچلتا نہیں—بلکہ اسے مزید تقویت دیتا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کو توڑنے کی ہر  ممکن  کوشش ہوئی .بہت سے رہنما توبہ تائب ہو کر سیاست کو خیر باد کہہ گۓ .لیکن اسکی عوامی حمایت کی بنیاد مزید مضبوط ہوئی .ڈیجیٹل جگہیں مزاحمت کے بازگشت خانوں میں بدل گئیں    .
اسے محدود کرنے کی کوشش نے اسے مزید  بڑھاوا دیا۔ اسٹیبلشمنٹ  نے صرف ایک سیاسی مخالف پیدا  نہیں کیا .اس نے ایک تحریک کی تیاری میں بھی مدد کی .

اس دوران جن لوگوں نے اقتدار سنبھالا . انھوں نے ایک ایسا نظام وراثت میں پایا . جس کے  پاس کوئی عوامی ، قانونی اور اخلاقی اختیار نہیں تھا . ظلم و جبر کی سیاست ، معاشی زوال ، آئی -ایم -ایف کے محدودات --ان میں سے کوئی بھی فیصلہ کن حکمرانی کی اجازت نہیں دیتا .جو کچھ ہوا وہ متوقع تھا: 

ہچکچاہٹ، ناپسندیدہ فیصلے، اور عوامی مزاج سے بڑھتی ہوئی دوری۔ طاقت محفوظ کر لی گئی.لیکن اختیار حاصل نہ ہو سکا .اور اس سب کے نیچے ایک گہری قیمت چھپی ہوئی ہے : ادارہ جاتی ساکھ کی !!!!!

جب غیر سیاسی عناصر ،سیاسی انجینئرنگ کرتے ہیں . تو طویل المدتی نقصان    نازک ، لیکن شدید ہوتا ہے .اعتماد ختم ہو جاتا ہے .غیر جانبداری مشکوک ہو جاتی ہے .ہر آئندہ حرکت کی قدر ،کریڈٹ کی بنیاد پر نہیں . بلکہ نیت کی بنیاد پر کی جاتی ہے .یہی وہ مقام ہے .جہاں "کیا غلط ہو سکتا ہے ". صرف ایک جملہ نہیں رہتا - بلکہ ایک نمونہ بن جاتا ہے .کیونکہ اصل نا کامی یہاں حکمت عملی کی نہیں .انکی حکمت عملی کامیاب ہوئی . حکومت ہٹا دی گئی .کنٹرول دوبارہ قائم ہو گیا . لیکن سیاست شطرنج نہیں ہے .آپ ایک ٹکڑا پکڑ کر نہیں جیتتے ؟آپ بساط کنٹرول کر کے  جیتتے ہیں .....

اس معاملے میں ،بساط بدل گئی . جو غلط ہوا . وہ عمل نہیں تھا . بلکہ یہ مفروضہ تھا کہ طاقت بغیر - نتائج کے دوبارہ ترتیب دی جاسکتی ہے . عوامی جذبات کو قابو میں رکھا جا سکتا ہے ؟ بیانیہ کو قبولیت دلائی جا سکتی ہے .ایک ایسے دور میں جب وہ مسلسل زیر بحث ہے . انھوں نے اقتدار تو جیت لیا .لیکن وہ اپنی ساکھ ہار بیٹھے !

 سیاست ہو یا زندگی کا کوئی بھی شعبہ ، کوئی فرد واحد ہو یا ادارہ "ساکھ "کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا !!

Thursday, 16 April 2026

They Won the Move, But Lost the Moment

“What could go wrong?” In Pakistan’s power corridors, that question is rarely asked with enough seriousness. And more often than not, what follows proves why it should have been.

The removal of Imran Khan, engineered through a convergence of the military establishment and the Pakistan Democratic Movement, was meant to reset the system. It was supposed to restore order, stabilize governance, and clip the wings of a populist force that had become inconvenient.

Instead, it triggered a chain reaction no one fully controlled.

The first miscalculation was legitimacy. What may have been constitutionally defensible did not translate into public acceptance. Politics is not decided in legal clauses alone—it is decided in perception. And the perception that took hold was simple and dangerous: the system was manipulated to remove a leader who still commanded mass support.

That perception didn’t weaken Imran Khan—it weaponized him.

In one stroke, he transformed from a contested incumbent into a symbol of resistance. The narrative flipped. Accountability turned into victimhood. Opposition turned into insurgency. This is the oldest paradox in politics: pressure, when misapplied, doesn’t crush—it concentrates.

Then came the mobilization. Instead of fragmentation, his support base hardened. Street power grew. Digital spaces became echo chambers of defiance. The attempt to contain him ended up amplifying him. The establishment didn’t just create a political opponent—it helped manufacture a movement.

Meanwhile, those who took power inherited a system without owning its mandate. Coalition politics, economic freefall, IMF constraints—none of it allowed for decisive governance. What followed was predictable: hesitation, unpopular decisions, and a growing disconnect with the public mood. Power was secured, but authority remained elusive.

And beneath all this lies a deeper cost: institutional credibility. When non-political actors are seen as political engineers, the long-term damage is subtle but severe. Trust erodes. Neutrality becomes suspect. Every future move is judged not on merit, but on motive.

This is where “what could go wrong” becomes more than a phrase—it becomes a pattern.

Because the real failure here is not tactical. The move itself worked. The government was removed. Control was reasserted.

But politics is not chess. You don’t win by capturing a single piece.

You win by controlling the board—and in this case, the board shifted.

What went wrong was not the action, but the assumption behind it: that power could be rearranged without consequences, that public sentiment could be managed, that narratives could be dictated in an age where they are constantly contested.

They won the move.

But they lost the moment—and in politics, moments have a way of defining everything that comes after.