Saturday, 17 October 2026

جبر و استبداد کی تاریخ


تاریخ کا سب سے بڑا سچ یہ ہے کہ تاریخ سے کوئی سبق نہیں سیکھتا .کہا بہت  کچھ جاتا ہے . صاحبان عقل و شعور اکثر یاد دہانی بھی کرا تے رہتے ہیں . لیکن طاقتوروں کے کانوں پر جوں تک نہیں  رینگتی .یہ صرف طاقتوروں کا مسلہ نہیں ہے . ہر خاص و عام - میں نہ مانوں والا رویہ رکھتا ہے .لیکن جب حالات قابو سے باہر ہو جاتے ہیں تو رونا دھونا ، چیخ و پکار ،دہایاں ،عقل سے کام لیں ، صبر کریں ،ملک کی سلامتی کو خطرے میں نہ ڈالیں ، ہم سب بھائی بھائی ہیں .اتفاق میں برکت ہے. جیسی آوازیں اٹھنی شروع ہو جاتی ہیں . 
جب ظلم کا بازار گرم کیا جا رہا ہوتا ہے . اس وقت طاقت کے نشے میں دھت لوگوں کو نہ ملک کی سلامتی کا خیال آتا ہے .نہ انسانی حقوق کی کوئی پروہ کی جاتی ہے . نہ عوام کو اپنا بھائی بند تصور کیا جاتا ہے .نہ اتفاق و اتحاد کی انکی نظر میں کوئی وقعت ہوتی ہے .وہ صرف ڈنڈے کے زور پر اپنا مطلب نکالنے پر بضد ہوتے ہیں . انکا خیال ہوتا ہے کہ انکے تمام مسائل کا حل ڈنڈا ہے . کسی بات چیت کی ضرورت نہیں . عوام -کیڑے مکوڑے ہیں .اور انہیں سیدھا رکھنے کیلئے . طاقت ہی واحد حل ہے .
پاکستان بننے سے آج تک اس طرز عمل میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی . انگریز نے اپنے اقتدار کو مضبوط بنانے کیلئے . جاگیر داروں ،نوابوں ،پیروں ،سرداروں ، نوکر شاہی ،پولیس ،نیم فوجی دستوں کو منظم کیا .اسکے ساتھ ساتھ ایک باقاعدہ فوج بھی قائم کی .جس میں ہندوستان میں رہنے والی تمام قومیتوں کے لوگ شامل تھے .مسلم ،ہندو اور سکھوں کی ایک بڑی تعداد بھی اس انگریزی فوج کا حصہ تھی .لیکن اس فوج کا ایک بڑا حصہ متحدہ پنجاب کے لوگوں پر مشتمل تھا .اس میں مسلم ،ہندو اور سکھ سب شامل تھے . اس مقامی فوج کو انگریز نے نہ صرف ہندوستان میں اپنے اقتدار کو قائم رکھنے کیلئے استعمال کیا .بلکہ  پہلی اور دوسری جنگ عظیم میں ساوتھ اشیا ، افریقہ ،مشرق وسطیٰ اور یورپ میں بھی اس ہندوستانی فوج کو استعمال کیا گیا . گو اس فوج کی اکثریت مقامی تھی . لیکن اسکی قیادت تمام کی تمام  انگریز افسروں پر مشتمل تھی .بعد میں کچھ مقامی افراد کو بھی ترقی دیکر افسر بنایا گیا . یہ  ایک نوآبادیاتی  فوج تھی . بھرتی کا طریقہ کار ، تربیت ،ماحول اور انکی نفسیاتی سوچ کو انگریز نے ایک خاص مقصد کیلئے بنایا تھا . وہ تھا تاج برطانیہ سے وفاداری ! یہ فوج  اپنے قیام سے لیکر  آزادی کے وقت تک پوری تندہی سے یہ فرض ادا کرتی رہی .
پاکستان بننے کے بعد ، اس رائل انڈین آرمی کا  ایک حصہ پاکستان آرمی قرار پایا .لیکن انگریز نے اسکی جن خطوط پر تربیت کی تھی . ان میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی .پہلے یہ انگریز کی غلام تھی . آزادی کے بعد یہ فوج اپنے افسروں کی غلام بن گئی. انگریز افسروں کے جانے کے بعد مقامی افسر انگریز بن بیٹھے .انھوں نے اس  آزاد ملک کو  بھی نوآبادیاتی کالونی کی طرح چلانے کی کوشش شروع کر دی .اور آج تک انکے طرز عمل میں کوئی تبدیلی نہیں آئی .
 بھارت میں انکی سیاسی قیادت نے آزادی ملنے کے ساتھ ہی تمام کنٹونمنٹ ختم کر دئیے .انگریز نے جو زمینے اپنی فوج کیلئے مختص کی تھیں .وہ تمام قومی ملکیت میں لے لیں .لیکن پاکستان میں فوج نے ایسا نہیں ہونے دیا .یہاں پر کنٹونمنٹ ختم کیا ہوتے .انھوں نے مزید کنٹونمنٹ بناۓ .  بلکہ اب تو یہ پاکستان میں سب سے بڑے پراپرٹی ڈیلر بن چکے ہیں .
آج بھی انکی سوچ وہی ہے جو انگریز انکے ڈی -این -اے میں شامل کر گیا ہے . کہ یہ عوام سے افضل ہیں .یہ زیادہ پڑھے لکھے ہیں .انکے بغیر کوئی اس ملک کو سنبھال نہیں سکتا .یہ عقل کل ہیں .اور ملک کی کیا سمت ہو گی .یہ فیصلہ کریں گے .
حقیقت یہ ہے کہ ،ایوب خان ، یحییٰ خان ،ضیاء الحق ، پرویز مشرف ،اور اب عاصم منیر -ان سب نے پاکستان کا آئین توڑا. عوام کے حقوق سلب کے .عوام کے ووٹ کو کبھی بھی کوئی اہمیت نہیں دی .اور  اپنے ہی ملک کے لوگوں کے ساتھ ایسا سلوک کیا جو انگریز ایک سو نوے سالوں تک ہندوستان کے باشندوں سے کرتا رہا . ایوب خان نے 56,کا آئین ،جو پارلیمانی جمہوری تھا .اس کو ختم کر کے اپنا صدارتی آئین پاکستان پر مسلط کیا .ملک میں بنیادی جمہوریتوں کا نظام  نافذ  کیا اور اس کے تحت دھونس ،دھاندلی ،دباؤ اور لالچ کے زریعہ ،محترمہ فاطمہ جناح کو انتخابات میں شکست سے دوچار کیا .جب اقتدار چھوڑنے کا وقت آیا .تو اپنے ہی بناۓ ہوۓ آئین پرر عمل درآمد نہ کر سکا .62،کے آئین کے تحت اگر صدر کسی وجہ سے اپنے فرائض ادا کرنے سے قاصر ہو جاۓ . تو سپیکر قومی اسمبلی صدر کا عہدہ سنبھال   لے گا .آئین
پا کستان کی اسکی نظر کوئی اہمیت نہیں تھی . اسلئے ایوب خان نے اقتدار یحییٰ خان کے حوالے کیا .
یحییٰ خان نے جو گل کھلاۓ .اس کا نتیجہ پاکستان  ٹوٹنے کی صورت میں سامنے آیا . 70,کے انتخابات میں  عوامی لیگ نے سب سے زیادہ  ووٹ حاصل کیے . جمہوری اصول کے مطابق اقتدار انھیں ملنا چاہئیے تھا . لیکن فوج کی اعلی قیادت بنگالیوں کو اقتدار سوپنے کے حق میں نہ تھی .صدیق سالک ، اپنی کتاب -میں نے  ڈھاکہ ڈوبتے  دیکھا -میں لکھتے ہیں کہ یحییٰ خان کے ایک متمد  جنرل دسمبر میں مشرقی پاکستان آۓ . ایک تقریب کے دوران انھوں نے کہا ، کہ آپ فکر نہ کریں ----" ہم ان کالے حرامیوں کو اپنے اوپر ہر گز حکومت نہیں کرنے دیں گے ."اسی فوجی سوچ نے پاکستان توڑنے میں سب سے اہم کردار ادا کیا .
صدیق سالک لکھتے ہیں کہ جنرل نیازی  - 10 ، اپریل کو ڈھاکہ پہنچے اور اگلی صبح کمانڈر ایسٹرن کمان کے عہدے کا چارج سنبھال لیا . وہ لکھتے ہیں کہ جنرل خادم نے انھیں بتایا کہ جب وہ فوج کی کمان ان کے سپرد کر چکے . تو جنرل نیازی نے پوچھا 
"اپنی داشتاؤں کا چارج کب دو گے : پورے مشرقی پاکستان میں جنگ کی آگ لگی ہوئی ہے .اور کمانڈر صاحب کی سوچ کیا ہے .اسی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ انکی نظر میں اپنے ہم وطنوں کی کیا حثیت تھی اور آج بھی کیا ہے ؟
اب ضیاالحق کا دور آتا ہے . اس نے بھی آئین پاکستان کے ساتھ جو سلوک کیا . وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں .اس نے کہا تھا کہ آئین ایک چھوٹی سی کتاب ہے . میں جب چاہوں اسے اٹھا کر پھینک سکتا ہوں .پاکستان میں کلاشنکوف کلچر ،منشیات،  مذہبی منافرات  اور فرقوں کے درمیان لڑائی کو اس نے فروغ دیا .روس کے خلاف امریکی جنگ کو پاکستان کی سرحدوں کے اندر لانے والا ضیاالحق ہی تھا .اس جنگ کا خمیازہ ہم آج تک بگھت رہے ہیں .
پرویز مشرف نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ آئین کاغذ کا ایک ٹکڑا ہے .اسے ردی کی ٹوکری میں پھینک دینا چاہیے .
فوجی جرنلوں نے آئین پاکستان کو ہمیشہ کاغذ کا ایک ٹکڑا ہی سمجھا . حالانکہ وہ اسی آئین کے تحت یہ حلف لیتے ہیں کہ وہ آئین پاکستان کی پاسداری کریں گے اور سیاست میں حصہ نہیں لیں گے .خود کو کمانڈو کہنے والا ،ایک امریکی دھمکی کے سامنے لیٹ گیا .افغانستان پر امریکی حملے میں انکی معاونت کی .اس ایک فیصلے سے پاکستان میں جو تباہی و بربادی ہوئی . وہ اب تاریخ کا حصہ ہے .
موجودہ چیف صاحب نے آئین پاکستان کا جو حشر کیا . اسکی مثال پاکستان کی تاریخ میں نہیں ملتی .عوام کے حقوق پر ڈاکا ڈالنے کے ساتھ ساتھ ،پاکستان میں زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہیں جس میں یہ مداخلت نہیں کر رہے .لیکن دعویٰ یہ ہے کہ ہمارا سیاست سے کوئی تعلق نہیں .انکی ذاتی آنا اور خواہشات ہی انکا آئین ہے .اسکے لئیے وہ اپنے سامنے آنے والی ہر رکاوٹ کو روند ڈالتے ہیں .چاہے ملک تباہ و برباد ہی کیوں نہ ہوجاۓ .

Tuesday, 13 October 2026

طاقت کا نشہ: کیا پاکستان کے حکمران زمینی حقائق بھول چکے ہیں؟


پاکستان میں جو کچھ اس وقت  ہو رہا ہے، اسے محض سیاسی کشمکش کہہ کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔  ملک کے طاقتور حلقوں
سےہمارا سوال ہے کہ آخروہ  چاہتے کیا ہیں؟ جو کچھ وہ ملک میں کر رہے ہیں . کیا یہ اقتدار کا غرور ہے، اپنی طاقت پر حد سے بڑھا ہوا اعتماد، یا پھر زمینی حقائق کو سمجھنے کی  آپ میں صلاحیت ہی نہیں ہے ؟
اگر آپ یہ سمجھ رہے ہیں کہ  ہر مسئلے کا حل طاقت کے  بے دریغ استعمال سے ممکن ہے ، تو آپ ایک بنیادی حقیقت بھول رہے ہیں :کہ طاقت سے لوگوں کو خاموش تو کرایا جا سکتا ہے . لیکن انکے خیالات ،شکایات ،مسائل اور سیاسی خواہشات کو ختم نہیں کیا جا سکتا ۔
پاکستان میں سیاسی اختلاف کو بارہا طاقت، پابندیوں اور انتظامی اقدامات کے ذریعے قابو کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ لیکن کیا ان اقدامات نے سیاسی استحکام پیدا کیا؟ یا انہوں نے ریاست اور عوام کے درمیان فاصلے مزید بڑھائے ہیں؟اقتدار کا سب سے خطرناک مرحلہ وہ ہوتا ہے جب حکمرانوں کو اپنی غلطیوں کی نشاندہی کرنے والی آوازیں سنائی دینا بند ہو جائیں۔ جب اختلاف کو دشمنی، تنقید کو بغاوت اور عوامی مطالبات کو خطرہ سمجھا جانے لگے تو فیصلہ سازی حقیقت کے بجائے خوش فہمیوں کے تابع ہو جاتی ہے۔
یہیں سے غرور سیاسی بصیرت پر غالب آنے لگتا ہے۔
پاکستان کی تاریخ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ریاستی طاقت اور عوامی حمایت ایک چیز نہیں۔ 1970 کے انتخابات کے نتائج کو اقتدار کی منتقلی کی بنیاد نہ بنانے اور اس کے بعد پیدا ہونے والے بحران نے بالآخر ملک کی تقسیم کی راہ ہموار کی۔ تاریخ کا سبق واضح ہے: سیاسی مسائل کا حل سیاسی عمل میں تلاش نہ کیا جائے تو ان کی قیمت پوری قوم کو ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
آج بھی پاکستا ن  میں بنیادی سوال یہی ہے: کیا طاقتور حلقے اختلافِ رائے اور عوامی خواہشات کو تسلیم کرتے ہوئے سیاسی راستہ اختیار کریں گے، یا یہ سمجھتے رہیں گے کہ طاقت ہی ہر مسئلے کا آخری حل ہے؟
کسی بھی ریاست کی اصل طاقت صرف اس کے اداروں کے اختیار میں نہیں، بلکہ عوام کے اعتماد، آئین کی بالادستی اور قانون کے سامنے جواب دہی میں ہوتی ہے۔
جب اقتدار کو تنقید، عوامی انتخاب اور ادارہ جاتی نگرانی کے سامنے جواب دہ نہ ہونا پڑے تو غلط فیصلوں کی قیمت صرف وہ لوگ ادا نہیں کرتے جو انہیں کرتے ہیں؛ اس کی قیمت پورے ملک کو ادا کرنی پڑتی ہے . ایسا ہمارے ساتھ پہلے بھی ہو چکا ہے ۔

Thursday, 8 October 2026

سب اچھا ہے؟

جب کوئی بے وقوف مسند اقتدار پر  بٹھا دیا جاتا ہے. تو  وہ سب سے پہلا کام یہ کرتا ہے کہ صاحبان عقل کو خاموش کردیتا ہے . اسکے بعد وہ اور بے وقوفوں کو اپنے اردگرد جمع کر لیتا ہے .اسکا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ساری قوم تباہ و برباد ہو جاتی ہے . ہمارے پیارے پاکستان میں ہماری آنکھوں کے سامنے یہ سب کچھ ہو رہا ہے .   بے وقوفوں اور نا اہلوں کا ایک ٹولہ
 (رومن بادشاہ نیرو ) کی طرح چین کی بانسری بجا رہا ہے اور ملک جل رہا ہے .

Monday, 5 October 2026

تاریخ سے سبق کیوں نہیں سیکھتے؟

1971،میں مشرقی پاکستان کی  علیحد گی کی ایک  بنیادی وجہ اس وقت کی فوجی  حکومت کا انتخابات کے نتائج کو تسلیم نہ کرنا تھا . ہماری تاریخ کا سب سے بڑا المیہ شاید یہ نہیں کہ ہم نے غلطیاں کیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم نے اپنی غلطیوں سے سبق نہیں سیکھا۔
1970، کے انتخابات پاکستان کی تاریخ کا ایک فیصلہ کن موڑ تھے۔ عوام کی اکثریت نے شیخ مجیب الرحمن کی جماعت کو مینڈیٹ دیا۔پارلیمانی جمہوریت کا اصول بالکل واضح ہے : جس جماعت کو اکثریت حاصل ہو، اقتدار اسے منتقل کیا جائے۔لیکن اقتدار عوام کے منتخب نمائندوں کے حوالے کرنے کے بجائے سیاسی بحران کو طاقت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی گئی۔ احتجاج بڑھا، ریاست اور عوام کے درمیان فاصلے گہرے ہوئے اور بالآخر 1971، میں پاکستان دو حصوں میں تقسیم ہوگیا۔ 
یقینآ بھارت نے مداخلت کی .بیرونی سازشیں بھی ہوئیں .عالمی طاقتوں کے اپنے مفادات بھی تھے .لیکن یہ سوال اب بھی اپنی جگہ قائم ہے کہ : 
اگر ملک کے اندر سیاسی بحران پیدا ہی نہ ہونے دیا جاتا . تو بیرونی طاقتوں کو مداخلت کا موقع کہاں سے ملتا ؟
اصل مسئلہ کسی ایک سیاسی جماعت یا شخصیت سے کہیں بڑا ہے۔مسئلہ یہ ہے کہ کیا ریاست عوام کے ووٹ کو اپنی طاقت کا سرچشمہ سمجھتی ہے، یا عوامی مینڈیٹ کو اپنے لیے ایک خطرہ؟
یہی وہ سوال ہے جس سے ہم آج بھی بھاگ رہے ہیں۔
2024، میں پاکستانی عوام نے ایک بار پھر اپنا فیصلہ سنایا۔ عمران خان جیل میں تھے، ان کی جماعت شدید ریاستی دباؤ کا سامنا کر رہی تھی، امیدواروں کو مختلف رکاوٹوں کا سامنا تھا—لیکن اس کے باوجود ان کے حمایت یافتہ امیدوار بڑی تعداد میں کامیاب ہوئے۔
پھر نتائج پر سوالات اٹھے۔انتخابی عمل پر اعتراضات سامنے آئے۔ فارم 45 اور فارم 47 کے تضادات پر بحث ہوئی۔ دھاندلی کے الزامات لگے۔ اور سب سے بڑھ کر، عوام کے ایک بڑے حصے میں یہ احساس پیدا ہوا کہ  ان کے ووٹ کو وہ حثیت نہیں دی گئی .جس کا جمہوریت تقاضا کرتی ہے ۔
اگر انتخابات صرف اس وقت معتبر سمجھے جائیں جب نتیجہ طاقتور حلقوں کی خواہش کے مطابق ہو، تو پھر جمہوریت محض ایک رسمی عمل بن کر رہ جاتی ہے۔ اور جب عوام یہ محسوس کرنے لگیں کہ ان کا ووٹ اقتدار کی سمت متعین نہیں کرتا، تو ریاستی اداروں پر اعتماد کم ہونا فطری ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں 1971، کا سایہ دوبارہ نظر آتا ہے۔تاریخ کا سب سے خوفناک سبق یہ ہے کہ ریاست طاقت کے ذریعے عوام کو خاموش تو کرسکتی ہے، مطمئن نہیں ۔
بلوچستان، خیبر پختون خوا اور آزاد کشمیر کے مسائل کو صرف انتظامی یا سکیورٹی کے زاویے سے دیکھنا کافی نہیں۔ ہر خطے کے اپنے سیاسی، معاشی اور سماجی مسائل ہیں۔ ان مسائل کا مستقل حل طاقت کے استعمال سے نہیں بلکہ  سیاسی شمولیت ، آئینی حقوق ،معاشی انصاف اور مسلسل بات چیت سے   نکلتا ہے۔
ریاست کے پاس طاقت ہونا ضروری ہے، لیکن طاقت کا استعمال آخری حل ہونا چاہیے، پہلا نہیں۔ریاست بندوق سے امن تو قائم کر سکتی ہے .لیکن پائیدار امن صرف انصاف اور اعتماد سے قائم ہوتا ہے ۔
یہی فرق ایک مضبوط ریاست اور محض طاقتور ریاست میں ہوتا ہے۔
یہیں ہماری فوجی قیادت کو اپنے آپ سے ایک انتہائی تلخ سوال پوچھنا ہوگا:
کیا ہر سیاسی اختلاف واقعی قومی سلامتی کا مسلہ ہے ؟

اور پھر ایک اور سوال کا جواب بھی انھیں دینا ہو گا کہ کیا انکا طرز عمل کہیں نوآبادیاتی ذہنیت کا تسلسل تو نہیں ؟

برطانوی راج میں عوام رعایا تھے۔ ریاست کا مقصد ان پر حکومت کرنا تھا، ان سے اجازت لینا نہیں۔ آزادی کے بعد یہ ذہنیت ختم ہونی چاہیے تھی۔ مگر اگر آج بھی ریاستی ادارے یہ سمجھتے ہیں کہ عوام کو صرف نظم و ضبط سکھانا ہے، ان کی آواز سننا ضروری نہیں، تو پھر ہمیں تسلیم کرنا ہوگا کہ آزادی کے بعد بھی حکمرانی کا ایک حصہ نوآبادیاتی ذہن سے آزاد نہیں ہوا۔مسئلہ صرف فوج کا بھی نہیں۔سیاسی جماعتیں بھی ذمہ دار ہیں۔ سول حکومتیں بھی ذمہ دار ہیں۔ عدلیہ، پارلیمان، بیوروکریسی اور میڈیا—سب نے کسی نہ کسی مرحلے پر اس نظام کو سہارا دیا ہے جس میں طاقتور کو قانون سے بالاتر سمجھنے کا رجحان پیدا ہوا۔

 فوجی اسٹیبلشمنٹ  کو پاکستان میں  غیر معمولی اثر و رسوخ حاصل ہے .اس لیے سوال بھی اسی سے زیادہ سخت ہونا چاہیے:

آپ نے ١٩٧١، سے کیا سیکھا ؟کیا آپ نے یہ سیکھا کہ عوام کو زیادہ طاقت سے دبانا چاہیے؟

یا یہ سیکھا کہ عوام کے مینڈیٹ کو تسلیم کرنا چاہیے؟

اگر پہلا جواب ہے تو پھر تاریخ دوبارہ ہمارے دروازے پر کھڑی ہے۔

1971 میں ملک جغرافیائی طور پر ٹوٹا تھا۔ آج خطرہ شاید مختلف نوعیت کا ہے۔ ملک نقشے پر ایک ہو سکتا ہے، مگر اگر اس کے شہری ریاست پر اعتماد کھو دیں، اگر صوبوں کو یہ محسوس ہو کہ ان کی آواز نہیں سنی جارہی، اگر نوجوان نسل یہ سمجھنے لگے کہ ووٹ سے کچھ نہیں بدلتا. تو پھر ریاست کی  ظاہری یکجہتی کے اندر سے اسکی بنیادیں کھوکھلی ہونا شروع ہو جاتی ہیں .پاکستان کو آج مزید طاقت کی نہیں،  مزید سیاسی بصیرت کی ضرورت ہے .

اگر حکمران طبقہ یہ سمجھتا ہے کہ عوام کو ہمیشہ طاقت کے ذریعے قابو میں رکھا جاسکتا ہے تو اسے 1971 کی تاریخ دوبارہ پڑھنی چاہیے۔کیونکہ تاریخ کا فیصلہ بہت بے رحم ہوتا ہے۔ عوام کو ایک بار دھوکہ دیا جا سکتا ہے ،دوسری بار ڈرایا جا سکتا ہے اور شاہد تیسری بار دبایا بھی جا سکتا ہے .لیکن ہمیشہ کیلئے خاموش نہیں کیا جا سکتا .اور اگر ریاست نے عوام کے ووٹ کو بے معنی کردیا، تو پھر اسے یہ سوال بھی سننا ہوگا: آخر ایک شہری ریاست سے وفاداری کیوں رکھے ،اگر ریاست اسکی آواز سے وفاداری نہ کرے .1971, ہمیں متنبہ کرچکا ۔اب فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے:

ہم تاریخ سے سبق سیکھیں گے، یا تاریخ کو ایک بار پھر ہمیں سبق سکھانا پڑے گا؟

Sunday, 4 October 2026

!تقسیم کرو اور حکومت کرو


ا نسانی تاریخ گواہ ہے کہ حکمرانوں ،بادشاہوں نے ہمیشہ  اکثریت پر حکمرانی کرنے کیلئے انھیں مختلف گروہوں اور طبقوں میں تقسیم کیا ہے .یہ تقسیم مذہبی ، سماجی ،اقتصادی کے ساتھ ساتھ لسانی اور رنگ و نسل کی بنیاد پر بھی ہوتی تھی .جب لوگوں کو مختلف طبقوں میں بانٹ دیا جاۓ . تو  لوگوں کے درمیان اتحاد اور یک جہتی کمزور پڑ جاتی ہے . اسکا فائدہ حکمران بادشاہوں کو ہوتا تھا اور آج بھی ہو رہا ہے .اس مقصد کیلئے حکمرانوں کو دو طبقوں نے ہمیشہ مدد فراہم کی ہے . ایک مذہبی پیشوایت اور دوسرا  مالدار طبقہ . یہ ایک ایسی تکون ہے جس نے زمانہ قدیم سے آج تک انسانیت کو تقسیم کر رکھا ہے . 
یعنی حکمران طبقہ ، مذہب کے ٹھیکیدار اور سرمایہ دار ! 
ہمیں سکول میں جو تاریخ پڑھائی جاتی تھی . ہندوستان کے بارے میں اسکا لبا لباب یہ تھا کہ انگریز نے تقسیم کرو -اور حکومت کرو .....کی پالیسی کے تحت آ ہستہ آ ہستہ سارے ہندوستان پر قبضہ کر لیا .انگریز نے نہ صرف ہندو ،مسلم کی مذہبی تفریق کو اپنے مقصد کیلئے استعمال کیا بلکہ مختلف راجوں ،مہاراجوں کو ایک دوسرے کے خلاف بھی بڑی کامیابی سے استعمال کیا . مسلمانوں کو مسلمانوں کے خلاف بھی استعمال کیا . مثال کے طور پر بنگال میں سراج الدولہ کے خلاف ،میر جعفر اور ٹیپو سلطان کے خلاف ، میر صادق . نواب حیدر آباد کو بھی ٹیپو سلطان کے خلاف استعمال کیا گیا .
کہتے ہیں کہ بڑی طاقتوں کے نہ تو کوئی دائمی حلیف ہوتے ہیں اور نہ کوئی مستقل دشمن ! بلکہ انکے مفادات ہی دائمی اور مستقل ہوتے ہیں .  اسی طرح ہندوستان میں انگریز کے اپنے مفادات ہی دائمی اور مستقل تھے .حالات کے تحت دوست اور دشمن بدلتے گۓ اور آخر کار اس نے سارے ہندوستان پر قبضہ کر لیا .
اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ انگریز نے اس پالیسی کو ساری دنیا میں بڑی کامیابی سے استعمال کیا . اس حکمت عملی کو انگریز نے اپنے ملک میں بھی استعمال کیا . صنعتی ترقی کی ابتدا برطانیہ سے ہوئی . برطانیہ میں کپاس کی صنعت ، صنعتی ترقی کے ابتدائی دور کی ایک اہم مثال ہے . لنکا شائر کے کپاس کے کارخانوں میں بچے بارہ سے سولہ گھنٹے تک روزانہ کام کرتے تھے . کام کرتے کرتے وہ سو جاتے تو جگانے کیلئے انھیں زدو کوب کیا جاتا . اسکے باوجود ان میں سے کئی  بیدار نہ ہوتے اور مشینوں میں لڑھک جاتے .جس کی وجہ سے انکے ہاتھ پاؤں کٹ جاتے یا وہ مر جاتے .انکا کوئی پرسان حال نہ تھا .حالت یہ تھی کہ برطانیہ میں (1824)،تک مزدوروں کے حقوق کی انجمن بنانا غیر قانونی تھا . حکومت برطانیہ نے اشتعال دلانے والے اپنے ایجنٹ مزدوروں میں شامل کررکھے تھے .جو مزدوروں سے ایسے افعال سر زد کراتے تھے . جس کے نتیجے میں انھیں یا تو جلا وطن کر دیا جاتا یا پھانسی پر لٹکا دیا جاتا . یعنی (فالس فلیگ ) آپریشن کیے جاتے . مقصد صرف یہ تھا کہ مزدوروں میں انقلابی جذبات پیدا  نہ ہوں .....
ہمارے پیارے پاکستان میں بھی آزادی کے دن سے آج تک انگریز کی پالیسی جاری و ساری ہے . انگریز  جن خطوط پر یہاں کا نظام استوار کر کے گیا تھا . آج تک اسی پر عمل ہو رہا ہے .انتظامیہ کا ڈھانچہ جو انگریز چھوڑ کر گیا . وہ آج تک قائم ہے .جو سلوک آزادی سے پہلے عام آدمی سے ہوتا تھا . آج کے دور میں اس سے بد تر سلوک دیسی بابو اس ملک کے عوام سے کرتے ہیں . تقسیم کرو اور مزے سے حکومت کرو کی پالیسی آج تک جاری ہے .  اس پالیسی نے ملک دو لخت کر دیا .لیکن ارباب اختیار کوئی سبق سیکھنے کیلئے تیار نہیں .
اس چکر کو اب توڑنے کی ضرورت ہے .اور اسکو صرف اور صرف عوام ہی اپنی ہمت ، کوشش اور اتحاد سے توڑ سکتے ہیں . 

Monday, 28 September 2026

! ملک آزاد ۔عوام محکوم


پاکستان کو آزاد ہوئے تقریباً اسی برس ہونے کو ہیں۔ انگریز چلا گیا، پرچم بدل گیا، حکمران بدل گئے۔ مگر ایک سوال آج بھی ہمارے سامنے ہے:
کیا ریاست اور شہری کے درمیان تعلق بھی بدلہ کہ نہیں ؟
پاکستان میں آج بھی کئی قوانین ایسے ہیں جن کی بنیاد برطانوی دور میں رکھی گئی تھی۔ ان میں Code of Criminal Procedure, 1898 بھی شامل ہے، جس کی دفعہ 144 بعض حالات میں انتظامیہ کو اجتماعات اور دیگر سرگرمیوں پر پابندی عائد کرنے کا اختیار دیتی ہے۔

صرف کسی قانون کا پرانا ہونا مسئلہ نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ  ایک آزاد اور جمہوری ریاست میں اس اختیار کو کون اور کس طرح استعمال کیا جاتا ہے .پاکستان کا آئین شہریوں کو پُرامن اور غیر مسلح اجتماع کا بنیادی حق دیتا ہے، اگرچہ عوامی نظم و ضبط کے مفاد میں معقول پابندیوں کی اجازت بھی دیتا ہے۔

لہٰذا ریاست کو امن و امان برقرار رکھنے کا اختیار بھی ہے اور شہری کو پُرامن احتجاج کا حق بھی۔ اصل امتحان ان دونوں کے درمیان توازن کا ہے۔

اگر کسی علاقے میں تشدد یا فساد کا حقیقی خطرہ ہو تو ریاست کا مداخلت کرنا ضروری ہو سکتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے:کہ خطرہ کتنا حقیقی ہے ؟ پابندی کتنی ضروری ہے اور کیا اس  سے کم بھی کوئی راستہ موجود ہے ؟

دفعہ 144 کسی افسر کی ذاتی مرضی کا لامحدود اختیار نہیں۔ اس کے استعمال کے لیے قانونی بنیاد موجود ہے اور ایسے احکامات عدالتی جانچ سے بالاتر نہیں۔  لیکن پاکستان میں وطیرہ یہ ہے کہ کسی ضلح کا ایک انتظامی آفسر عوامی احتجاج کو حکومت کے خلاف ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے انتظامی اختیار کیلئے بھی خطرہ سمجھنے لگتا ہے . اور شاہ سے زیادہ شاہ کا وفادار بنتے ہوۓ . عوام کے بنیادی آئینی حق کو سلب کر لیتا ہے .

پاکستان میں جب عوام کے سیاسی اجتماعات اور احتجاج کو ایک انتظامی ہنگامی اختیار کو استعمال کرتے ہوۓ روکا جاتا ہے تو پھریہ سوال  ضرور پیدا ہوتا ہےکہ کیا پاکستان میں اشرافیہ نے نہ صرف نوآبادیاتی قوانین ،بلکہ ریاست اور شہری کے درمیان تعلق کی نو آبادیاتی سوچ بھی برقرار رکھی ہوئی ہے      ۔برطانوی راج میں ریاست کا بنیادی مسئلہ عوام کی آزادی نہیں بلکہ ریاستی نظم اور اقتدار کا تحفظ تھا۔حکمران اوپر تھا، عوام نیچے۔حکومت حکم دیتی تھی اور   ڈنڈے کے زور پر عوام سے  اس پر عمل  کروایا جاتا تھا  ۔آج پاکستان کا آئین ایک بالکل مختلف تصور پیش کرتا ہے۔

آج شہری رعایا نہیں۔ وہ آئینی حقوق رکھنے والا ایک آزاد ملک کا شہری ہے ۔

جمہوریت میں پُرامن احتجاج ریاست کے خلاف جنگ نہیں؛ یہ شہری کے اختلاف کے اظہار کا حق ہے۔

ہم یہ  مطالبہ نہیں کر رہے کہ دفعہ 144  کو ختم کیا جاۓ .بلکہ  اس کے استعمال کے واضح اصول ہوں، پابندی حقیقی خطرے کی بنیاد پر ہو، مدت محدود ہو، وجوہات واضح ہوں اور شہری کو فوری عدالتی تحفظ حاصل ہو۔

کیونکہ ایک مضبوط جمہوری ریاست کی طاقت صرف اس میں نہیں کہ وہ کتنے لوگوں کو روک سکتی ہے۔ اسکی اصل طاقت اس میں ہے کہ وہ کتنے اختلاف کو برداشت کر سکتی ہے۔  ریاست اور عوام دونوں کےدرمیان  تعلق ایسا ہو کہ  ریاست عوام سے خوفزدہ نہ ہو، اور عوام کو ریاست سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہ ہو۔ جبکہ یہاں معاملہ یہ ہے کہ ملک تو  1947,میں آزاد ہو گیا تھا ۔ لیکن آج بھی سوال یہ ہے کہ : کیا ہم اس ملک کے شہری بھی آزاد ہوۓ ؟

Saturday, 13 June 2026

بندوق مسائل کا حل نہیں



پاکستان میں ہمیشہ سے حکومتوں کا وطیرہ یہ رہا ہے کہ عوام کے احتجاج کو کبھی اہمیت نہیں دینی .جب بھی عوام اپنی مشکلات کے حل کیلئے سڑکوں پر آتے ہیں .انکی بات سننے کی بجاۓ انھیں ملک دشمن ، بھارت کا  ایجنٹ ،دہشت گرد قرار دے کر سختی سے نپٹا جاتا ہے . پچھلے چار سالوں میں اس حکومت اور فوجی اسٹیبلشمنٹ نے ظلم کی ہر حد پار کر دی ہے . جس طرح سیاسی کارکنوں کا قتل عام کیا گیا . انکے گھروں کا تقدس پا مال کیا گیا . عورتوں ،بچوں کو جس طرح ہراساں کیا گیا .پاکستان کی تاریخ میں ایسا ظلم پہلے کبھی نہیں ہوا .کیا وجہ ہے کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ اس درجہ ظلم پر اتری ہوئی ہے .عوام کو دبانے سے کیا ملک ترقی کر جاۓ گا . عوام کی آواز دبانے سے کیا ملک میں امن ہو جاۓ گا ؟خبیر پختون خوا ، بلوچستان اور اب کشمیر میں طاقت کے بے جا استعمال سے ملک کے سارے مسائل حل ہو جائیں گے ؟کیا فوجی اسٹیبلشمنٹ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتی، یا طاقت کے استعمال کے علاوہ انھیں کچھ اور آتا ہی نہیں ؟
پاکستان کی تاریخ کا شاید سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ یہاں مسائل کو سمجھنے کے بجائے انہیں دبانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ حکمران بدلتے رہے، حکومتیں آتی جاتی رہیں، لیکن ریاست کا رویہ کم و بیش ایک جیسا ہی رہا۔ جب عوام اپنے مسائل کے حل کے لیے آواز بلند کرتے ہیں، جب نوجوان اپنے مستقبل کے بارے میں سوال کرتے ہیں، جب سیاسی کارکن اپنے حقوق کا مطالبہ کرتے ہیں، تو ان کی بات سننے کے بجائے انہیں مشکوک نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے۔ کبھی انہیں ملک دشمن کہا جاتا ہے، کبھی غیر ملکی ایجنٹ اور کبھی امن و امان کے لیے خطرہ قرار دے دیا جاتا ہے۔
تاریخ کا ایک سبق یہ بھی ہے کہ بندوق لوگوں کو خاموش تو کر سکتی ہے، مطمئن نہیں کر سکتی۔ طاقت خوف پیدا کر سکتی ہے، وفاداری نہیں۔ اگر مسائل کا حل صرف طاقت کے استعمال میں ہوتا تو دنیا کی کوئی ریاست کبھی بحران کا شکار نہ ہوتی۔ لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ جن معاشروں نے اپنے شہریوں کی آواز کو دبایا، وہاں بے چینی مزید بڑھی۔ اور جنہوں نے مکالمے، انصاف اور سیاسی شمولیت کا راستہ اختیار کیا، وہ زیادہ مستحکم اور ترقی یافتہ بنے۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں اب بھی یہ تصور غالب دکھائی دیتا ہے کہ عوام کو دبانے سے استحکام آ جائے گا اور اختلاف کو ختم کرنے سے امن قائم ہو جائے گا۔ لیکن استحکام اور امن قبرستان کی خاموشی کا نام نہیں۔ حقیقی امن وہ ہوتا ہے جہاں شہری خود کو محفوظ، باعزت اور بااختیار محسوس کریں۔ جہاں اختلافِ رائے کو برداشت کیا جائے اور جہاں ریاست اپنے عوام کی آواز سننے کا حوصلہ رکھتی ہو۔

پاکستان آج جن مشکلات کا شکار ہے، ان کا حل مزید گرفتاریوں، مزید پابندیوں اور مزید طاقت کے استعمال میں نہیں۔ ان کا حل سیاسی بصیرت، جمہوری رویوں اور انصاف پر مبنی نظام میں ہے۔ ریاستوں کی طاقت ان کے ہتھیاروں سے نہیں بلکہ ان کے شہریوں کے اعتماد سے ناپی جاتی ہے۔ اور اعتماد وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں خوف نہیں، انصاف حکمرانی کرتا ہو۔

شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم خود سے ایک بنیادی سوال پوچھیں: کیا ہم مسائل کا حل تلاش کرنا چاہتے ہیں یا صرف عوام   کی آواز کو دبانا چاہتے ہیں؟ کیونکہ تاریخ بتاتی ہے کہ دبائی ہوئی آوازیں خاموش نہیں ہوتیں، وہ  زیادہ گہری اور زیادہ طاقتور ہو  کر ابھرتی  ہیں۔

قومیں خوف سے نہیں، اعتماد سے بنتی ہیں



پاکستان اس وقت ایک گہرے سیاسی، معاشی اور سماجی بحران سے گزر رہا ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری، گرتی ہوئی معیشت، کمزور ہوتے ادارے اور عوامی بے چینی ملک کے ہر حصے میں محسوس کی جا سکتی ہے۔ ایسے حالات میں ریاست اور حکومت کی اولین ذمہ داری یہ ہونی چاہیے کہ وہ عوام کی آواز سنے، ان کے مسائل کو سمجھے اور ان کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کرے۔ لیکن افسوس کہ پاکستان میں ہمیشہ سے ایک مختلف روایت رہی ہے۔ جب بھی عوام اپنے حقوق کے لیے سڑکوں پر نکلتے ہیں، ان کے مطالبات پر غور کرنے کے بجائے اکثر انہیں ریاست مخالف، غیر ملکی ایجنٹ یا امن و امان کے لیے خطرہ قرار دے کر دبانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

گزشتہ چند برسوں کے دوران یہ رویہ پہلے سے کہیں زیادہ نمایاں ہوا ہے۔ سیاسی کارکنوں کی گرفتاریاں، سیاسی سرگرمیوں پر پابندیاں، گھروں پر چھاپے، خاندانوں کو ہراساں کرنا اور اختلافی آوازوں کو خاموش کرنے کی کوششیں ایک معمول بنتی چلی گئی ہیں۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں شاید ہی کبھی ریاستی طاقت کا استعمال اس شدت کے ساتھ دیکھنے میں آیا ہو جس کا مشاہدہ حالیہ برسوں میں کیا گیا ہے۔

سوال یہ ہے کہ آخر فوجی اسٹیبلشمنٹ اور ریاستی ادارے اس حد تک سخت رویہ کیوں اختیار کرتے ہیں؟ اس کی ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ وہ سیاسی مسائل کو سیاسی نقطۂ نظر سے دیکھنے کے بجائے سکیورٹی کے مسئلے کے طور پر دیکھتے ہیں۔ جب اختلافِ رائے کو جمہوری حق کے بجائے ریاست کے لیے خطرہ سمجھا جائے تو پھر مکالمے اور مفاہمت کی جگہ طاقت اور جبر لے لیتے ہیں۔ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ طاقت وقتی طور پر خاموشی تو پیدا کر سکتی ہے، دلوں اور ذہنوں کو فتح نہیں کر سکتی۔

دنیا کے بے شمار ممالک کے تجربات یہ ثابت کرتے ہیں کہ ترقی صرف سڑکیں بنانے، عمارتیں کھڑی کرنے یا معاشی اعداد و شمار بہتر کرنے کا نام نہیں۔ حقیقی ترقی اس وقت ممکن ہوتی ہے جب عوام کو انصاف ملے، ان کی رائے کا احترام کیا جائے، قانون سب کے لیے برابر ہو اور ریاست اپنے شہریوں کے اعتماد پر کھڑی ہو۔ جس معاشرے میں خوف حکمرانی کرے، وہاں استحکام عارضی اور کمزور ہوتا ہے۔

یہی حقیقت پاکستان کے مختلف خطوں پر بھی لاگو ہوتی ہے۔ خیبر پختونخوا، بلوچستان اور کشمیر جیسے حساس علاقوں میں اگر عوام کے سیاسی، معاشی اور سماجی تحفظات کو نظر انداز کر کے صرف طاقت کے ذریعے مسائل حل کرنے کی کوشش کی جائے تو اس سے وقتی کنٹرول تو حاصل کیا جا سکتا ہے، لیکن پائیدار امن قائم نہیں کیا جا سکتا۔ امن صرف بندوق کی طاقت سے نہیں بلکہ انصاف، شمولیت اور عوامی اعتماد سے قائم ہوتا ہے۔

تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ریاستیں اس وقت مضبوط بنتی ہیں جب وہ اپنے شہریوں کی آواز سننے کا حوصلہ رکھتی ہیں۔ اختلافِ رائے کو دشمنی سمجھنے کے بجائے اسے اصلاح اور بہتری کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ جو ریاستیں اپنے عوام سے خوفزدہ ہو جاتی ہیں، وہ طاقت کے استعمال میں اضافہ تو کر سکتی ہیں، لیکن اس کے نتیجے میں عوام اور ریاست کے درمیان فاصلہ بڑھتا جاتا ہے۔

پاکستان کو آج جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ مزید جبر نہیں بلکہ زیادہ مکالمہ ہے؛ مزید طاقت کا استعمال نہیں بلکہ زیادہ سیاسی بصیرت ہے؛ مزید خاموشی نہیں بلکہ عوام کی آواز سننے کا حوصلہ ہے۔ کیونکہ قومیں طاقت سے نہیں، اعتماد سے متحد رہتی ہیں۔ اور اعتماد وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں انصاف، قانون کی حکمرانی اور عوام کے بنیادی حقوق کا احترام موجود ہو۔

Saturday, 6 June 2026

!وہ سبق جو ہم نے نہیں سیکھا



پاکستان کی تاریخ کا شاید سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ یہاں مسائل سے زیادہ غلط حل پیدا کیے گئے ہیں۔ ہر دور میں قوم کو یہ یقین دلایا گیا کہ بس ایک طاقتور ہاتھ آ جائے، ایک مضبوط ادارہ آگے بڑھ کر معاملات سنبھال لے، تو تمام بحران ختم ہو جائیں گے۔ لیکن سات دہائیوں سے زیادہ کا تجربہ بتاتا ہے کہ مسائل حل ہونے کے بجائے مزید پیچیدہ ہوتے گئے ہیں۔
آج پاکستان جن سیاسی، معاشی اور سماجی بحرانوں میں گھرا ہوا ہے، ان کی ذمہ داری کسی ایک فرد یا ایک ادارے پر نہیں ڈالی جا سکتی۔ تاہم یہ حقیقت نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ فوج، سول بیوروکریسی، جاگیردار اشرافیہ ،سرمایہ دار طبقے  اور مذہبی گروہوں کے درمیان قائم طاقت کا غیر اعلانیہ اتحاد اس نظام کا سب سے طاقتور ستون رہا ہے۔ یہی وہ طبقہ ہے جس نے ریاستی وسائل، پالیسی سازی اور اقتدار کے مراکز پر اپنی گرفت برقرار رکھی، جبکہ عام شہری مسلسل دیوار کے ساتھ  لگایا جاتا رہا۔
مشرقی پاکستان کی علیحدگی بھی اسی طرزِ فکر کا نتیجہ تھی۔ وہاں کے عوام کے سیاسی اور جمہوری مطالبات کو سمجھنے اور ان کا سیاسی حل تلاش کرنے کے بجائے طاقت کے استعمال کو ترجیح دی گئی۔ نوآبادیاتی ذہنیت اور مرکزیت پسند سوچ نے حالات کو اس نہج تک پہنچایا جہاں ملک دو حصوں میں تقسیم ہو گیا۔ تاریخ نے ثابت کیا کہ سیاسی مسائل کا عسکری حل تلاش کرنے کی کوشش بعض اوقات ریاستوں کے لیے ناقابلِ تلافی نقصان کا سبب بنتی ہے۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ بھی اس حقیقت کی گواہ ہے کہ فوج کی بار بار مداخلت نے جمہوری اداروں اور سیاسی جماعتوں کو مضبوط ہونے کا موقع نہیں دیا۔ جب بھی سیاسی عمل اپنی فطری سمت میں آگے بڑھنے لگا، اسے مختلف طریقوں سے روک دیا گیا۔ نتیجتاً سیاسی نظام کمزور اور غیر مستحکم رہا جبکہ غیر منتخب قوتیں زیادہ طاقتور ہوتی گئیں۔
پاکستان میں طاقت کے مراکز آج بھی اکثر سیاسی مسائل کو سیاسی نہیں بلکہ سکیورٹی کے زاویے سے دیکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خیبر پختونخوا کے قبائلی علاقوں سے لے کر بلوچستان تک، کئی پیچیدہ مسائل کا سامنا کرنے کے باوجود ریاست کی اولین ترجیح اکثر طاقت کا استعمال ہی دکھائی دیتی ہے۔ حالانکہ تاریخ گواہ ہے کہ بندوق خوف پیدا کر سکتی ہے،  وقتی اطاعت حاصل کر سکتی ہے، لیکن پائیدار سیاسی اتفاقِ رائے پیدا نہیں کر سکتی۔
آج آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی جو سیاسی فضا تشکیل دی جا رہی ہے اور جس انداز سے عوامی رائے اور اختلافی آوازوں کو محدود کرنے کی کوششیں نظر آتی ہیں، وہ تشویش کا باعث ہیں۔ تاریخ بار بار یہ سبق دیتی ہے کہ عوامی خواہشات اور سیاسی حقائق کو محض انتظامی یا عسکری اقدامات کے ذریعے ہمیشہ کے لیے دبایا نہیں جا سکتا۔ ریاستیں صرف جغرافیہ سے نہیں بلکہ لوگوں کی رضامندی اور اعتماد سے قائم رہتی ہیں۔ جب یہ اعتماد کمزور ہونے لگے تو طاقت کے تمام مظاہر بھی غیر مؤثر ہو جاتے ہیں۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ فوج بحیثیت ادارہ قومی دفاع کے لیے تربیت یافتہ ہوتی ہے۔ اس کی مہارت سرحدوں کے تحفظ اور عسکری امور میں ہوتی ہے، نہ کہ سیاست، معیشت، سماجی نظم و نسق یا ریاستی حکمرانی کے پیچیدہ معاملات میں۔ لیکن جب یہ تصور پیدا ہو جائے کہ ہر سیاسی، مذہبی، معاشی، انتظامی، علاقائی یا بین الاقوامی مسئلے کا حل فوج ہی فراہم کرے گی، تو ادارہ اپنی فطری حدود سے تجاوز کرنے لگتا ہے۔ یہی سوچ ماضی میں بھی پاکستان کو نقصان پہنچا چکی ہے، آج بھی نقصانات کا سبب بن رہی ہے، اور اگر اس میں تبدیلی نہ آئی تو مستقبل میں بھی نتائج مختلف نہیں ہوں گے۔
پاکستان کا تجربہ یہی بتاتا ہے کہ جب بھی کسی ایک ادارے نے اپنی آئینی حدود سے آگے بڑھ کر پورے نظام کو اپنے زیرِ اثر لانے کی کوشش کی، اس کا نقصان ریاست اور عوام دونوں کو اٹھانا پڑا۔ سیاسی جماعتیں کمزور ہوئیں، جمہوری روایات پنپ نہ سکیں، ادارے اپنی اصل ذمہ داریوں سے دور ہوتے گئے اور ملک  ایک بحران سے  دوسرے بحران کی طرف بڑھتا چلا گیا۔
شاید اب وقت آ گیا ہے کہ ہم ایک سادہ مگر بنیادی حقیقت کو تسلیم کریں۔ سیاسی مسائل کا حل سیاست میں، معاشی مسائل کا حل معیشت میں اور انتظامی مسائل کا حل مؤثر حکمرانی میں تلاش کرنا ہوگا۔ کوئی بھی ادارہ، خواہ وہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، تنہا پورے معاشرے کی پیچیدگیوں کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا۔
آخرکار ایک پرانی کہاوت اپنی پوری معنویت کے ساتھ ہمارے سامنے آتی ہے:
"جس کا کام، اسی کو ساجھے۔"
ریاستیں اسی وقت مضبوط ہوتی ہیں جب ان کے ادارے اپنے اپنے دائرۂ اختیار میں رہ کر کام کریں، نہ کہ ایک ادارہ تمام اختیارات اور ذمہ داریوں کو اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کرے۔اور اختلاف راۓ کو ملک دشمنی قرار دے ۔

Friday, 29 May 2026

پاکستان: کیا تبدیلی ممکن ہے؟


پاکستان جس نازک صورت حال سے اس وقت گزر رہا ہے .اس میں قصور وار ، فوجی اسٹیبلشمنٹ ، سول بیورو کریسی ، خاندانی سیاسی جماعتیں ، مذہبی جماعتیں اور وہ  طاقتور گروہ ہیں . جن کے معاشی مفادات غیر جمہوری نظام سے وابستہ ہیں . یہ سب مل کر عوام کو مذہبی ، لسانی اور صوبائی بنیادوں پر تقسیم رکھتے ہیں . تاکہ عوام اکھٹے نہ ہو سکیں . اور انکی اس نظام پر گرفت مضبوط رہے .سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان اسی طرح چلتا رہے گا .یا اس میں کسی تبدیلی کا امکان ہے اور پاکستان کے عوام اس غیر نمائندہ ،ظالم نظام سے چھٹکارا پانے کیلئے کیا کر سکتے ہیں ؟
عوام کے ذہنوں میں بے شمار سوالات جنم لے رہے ہیں۔ مہنگائی، بے روزگاری، سیاسی عدم استحکام، اداروں کے درمیان کشمکش، اظہارِ رائے پر قدغنیں، اور عوامی بے بسی نے ایک ایسی فضا پیدا کر دی ہے جہاں عام آدمی یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ آخر اس صورتِ حال کا ذمہ دار کون ہے؟ اور کیا اس ملک میں کبھی حقیقی تبدیلی آ سکے گی؟
 پاکستان کے موجودہ بحران  کے ذمہ دار، فوجی اسٹیبلشمنٹ، سول بیوروکریسی، خاندانی سیاسی جماعتیں، بعض مذہبی جماعتیں، اور وہ طاقتور معاشی طبقات شامل ہیں جن کے مفادات ایک کمزور اور غیر نمائندہ نظام سے وابستہ رہے ہیں۔ یہ طبقات مختلف ادوار میں ایک دوسرے کے مخالف بھی دکھائی دیے، مگر نظامِ اقتدار کے تحفظ کے معاملے میں اکثر ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے نظر آئے۔
پاکستان کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو محسوس ہوتا ہے کہ عوام کو مذہبی، لسانی، فرقہ وارانہ اور صوبائی بنیادوں پر تقسیم رکھنا اس سیاسی کلچر کا اہم حصہ رہا ہے۔ جب عوام چھوٹے چھوٹے دائروں میں بٹ جائیں تو وہ ایک مشترکہ قومی اور شہری شعور پیدا نہیں کر پاتے۔ نتیجتاً طاقت کا توازن ہمیشہ انہی طبقات کے ہاتھ میں رہتا ہے جو ریاستی اور معاشی وسائل پر پہلے سے قابض ہوتے ہیں۔

لیکن یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے:
کیا پاکستان ہمیشہ اسی طرح چلتا رہے گا؟

تاریخ کا مطالعہ ہمیں یہ بتاتا ہے کہ دنیا میں کوئی بھی سیاسی یا سماجی نظام ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتا۔ طاقت کے بڑے بڑے ڈھانچے وقت کے ساتھ تبدیل ہوئے ہیں۔ آمریتیں ختم ہوئی ہیں، نوآبادیاتی نظام ٹوٹے ہیں، اور عوامی شعور نے کئی معاشروں کی سمت بدل دی ہے۔ اس لیے یہ کہنا درست نہیں کہ پاکستان میں تبدیلی ناممکن ہے۔ 

حقیقی تبدیلی اس وقت جنم لیتی ہے جب معاشرے میں سیاسی شعور بیدار ہونا شروع ہوتا ہے۔ جب لوگ شخصیات کے بجائے اصولوں کی بنیاد پر سوچتے ہیں۔ جب عوام یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ جمہوریت صرف ووٹ ڈالنے کا نام نہیں بلکہ آزاد عدلیہ، آزاد میڈیا، آئین کی بالادستی، شفاف احتساب، اور مضبوط عوامی اداروں کا مجموعہ ہے۔

پاکستان میں ایک بڑی کمزوری یہ بھی رہی ہے کہ عوام کی بڑی تعداد اپنی شناخت کو قومیت، فرقے، زبان یا سیاسی وابستگی تک محدود رکھتی  رہی ہے۔ یہی تقسیم طاقتور طبقات کیلئے فائدہ مند ثابت ہوتی ہے۔ اگر عوام ایک مشترکہ شہری شعور کے تحت متحد ہوں — جہاں انصاف، قانون کی برتری، انسانی حقوق اور معاشی مساوات بنیادی مطالبات بن جائیں — تو طاقت کے موجودہ توازن میں تبدیلی آ سکتی ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ یہ حقیقت بھی اہم ہے کہ پائیدار تبدیلی ہمیشہ پرامن اور آئینی جدوجہد سے آتی ہے۔ دنیا کی تاریخ میں وہی تحریکیں دیرپا ثابت ہوئیں جنہوں نے شعور، تنظیم، مکالمے، اور مسلسل سیاسی جدوجہد کا راستہ اپنایا۔ تشدد، انتشار اور نفرت وقتی غصے کا اظہار تو بن سکتے ہیں، مگر وہ مضبوط اور منصفانہ نظام کی بنیاد نہیں بناتے۔

پاکستان کے عوام اگر اس غیر نمائندہ اور ظالمانہ نظام سے نجات چاہتے ہیں تو انہیں صرف حکمران چہروں کی تبدیلی پر اکتفا نہیں کرنا ہوگا، بلکہ سوچ، سیاسی کلچر اور ادارہ جاتی ڈھانچے کی تبدیلی کیلئے بھی جدوجہد کرنا ہوگی۔ تعلیم، سیاسی آگاہی، شہری حقوق کا شعور، اور اجتماعی اتحاد ہی وہ راستے ہیں جو کسی بھی معاشرے کو مضبوط بناتے ہیں۔

مایوسی کے باوجود امید کی گنجائش ہمیشہ باقی رہتی ہے۔ قومیں صرف طاقتور طبقات کے فیصلوں سے نہیں بلکہ عوامی شعور سے بھی اپنا مستقبل بدلتی ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ تبدیلی ممکن ہے یا نہیں؛ اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستانی عوام ایک ایسی اجتماعی بیداری پیدا کر سکتے ہیں جو ذاتی، جماعتی اور فرقہ وارانہ مفادات سے بالاتر ہو؟

Thursday, 28 May 2026

طاقت کے کھیل میں ہارتا ہوا پاکستان


پاکستان کسی بیرونی جنگ میں شکست نہیں کھا رہا —مگر اندرونی طاقت کی کشمکش  اسے آہستہ آہستہ کمزور کررہی ہے۔

یہاں ہر طاقتور فریق خود کو ریاست کا محافظ کہتا ہے، مگر ریاست کو مضبوط کرنے کے بجائے اپنی اپنی طاقت کے دائرے محفوظ بنانے میں مصروف ہے۔
سیاست دان اقتدار بچا رہے ہیں۔
ادارے اپنی بالادستی برقرار رکھنے کی جنگ لڑ رہے ہیں۔
اشرافیہ اپنے مفادات کے گرد حفاظتی دیواریں کھڑی کر چکی ہے۔
اور عام آدمی؟
وہ صرف مہنگائی، بے یقینی اور ٹوٹتی ہوئی امید کے درمیان زندہ رہنے کی کوشش کر رہا ہے۔

یہی وہ مرحلہ ہوتا ہے جہاں قومیں اچانک نہیں گرتیں — بلکہ اندر سے کھوکھلی ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔

پاکستان کا اصل بحران صرف معیشت نہیں۔اصل بحران یہ ہے کہ یہاں طاقت تو بہت ہے، مگر ذمہ داری کم ہوتی جا رہی ہے۔

جب عوامی مینڈیٹ کمزور کر دیا جائے…
جب فیصلے پارلیمنٹ کے بجائے بند کمروں میں ہوں…
جب قانون طاقتور کے سامنے جھک جائے…
جب احتساب انصاف کے بجائے سیاسی ہتھیار بن جائے…
جب میڈیا معلومات کے بجائے بیانیوں کی جنگ لڑنے لگے…
اور جب ہر اختلاف کو خطرہ سمجھا جانے لگے…
تو پھر ریاست صرف طاقتور دکھائی دیتی ہے، مضبوط نہیں۔

کیونکہ مضبوط ریاستیں خوف سے نہیں، اعتماد سے چلتی ہیں۔

آج پاکستان میں سب سے خوفناک چیز غربت نہیں۔
بلکہ وہ خاموش مایوسی ہے جو پورے معاشرے میں پھیل رہی ہے۔

وہ نوجوان جو ڈگری لینے کے بعد ملک چھوڑنے کو کامیابی سمجھتا ہے۔
وہ تاجر جو سرمایہ پاکستان سے باہر منتقل کرنا چاہتا ہے۔
وہ مزدور جو دن رات کام کے باوجود اپنے بچوں کا مستقبل محفوظ نہیں بنا پا رہا۔
وہ شہری جو  یہ یقین کھو چکا ہے کہ انصاف، قانون اور ووٹ واقعی کوئی معنی رکھتے ہیں۔

یہ صرف معاشی بحران نہیں۔یہ ریاست اور عوام کے درمیان ٹوٹتے ہوئے اعتماد کی کہانی ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ ریاستیں ہمیشہ بیرونی دشمنوں سے تباہ نہیں ہوتیں۔
کئی بار وہ اندرونی طاقت کی لڑائیوں، اداروں کی ضد، سیاسی انتقام، اور اشرافیہ کی خود غرضی سے آہستہ آہستہ بکھر جاتی ہیں۔

ہر طاقتور فریق شاید یہ سمجھ رہا ہے کہ وہ کھیل جیت رہا ہے۔
مگر جب:

  • عوام مایوس ہو جائیں،
  • نوجوان ملک چھوڑنے لگیں،
  • اداروں پر اعتماد ختم ہو جائے،
  • معیشت صرف اشرافیہ کے لیے کام کرے،
  • اور قانون انصاف کے بجائے طاقت کا آلہ  کار بن جائے…

تو ریاست ہار جاتی ہے : اس صورت حال میں  پاکستان شکست و ریخت کا شکار ہو رہا ہے ۔

اور شاید یہی ہمارے وقت کا سب سے بڑا المیہ ہے:طاقت کے اس کھیل میں ہر کھلاڑی اپنی چال چل رہا ہے —مگر شکست پورے ملک کے حصے میں آ رہی ہے۔

تاریخ  کا المیہ یہ ہے کہ تاریخ سے کوئی بھی سبق سیکھنے کیلئے تیار نہیں . خاص طور پر پاکستان کے مقتدر حلقے !

Monday, 25 May 2026

!زوالِ ظرفِ اقتدار

سلطان صلاح الدین ایوبی سے منصوب ایک  قول  ہے کہ —

“بادشاہوں کا  یہ دستور نہیں کہ وہ بادشاہوں کو قتل کریں” —

 یہ صرف ایک جملہ نہیں بلکہ اقتدار کے ایک قدیم اصول کی عکاسی کرتا ہے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ حکمران ایک دوسرے سے جنگ کر سکتے ہیں، انہیں قید کر سکتے ہیں، حتیٰ کہ اقتدار سے ہٹا بھی سکتے ہیں، مگر ایک حد کے بعد وہ ایک دوسرے کی سیاسی حرمت برقرار رکھتے ہیں، کیونکہ اس روایت کے ٹوٹنے سے خود اقتدار کی ساکھ کمزور ہو جاتی ہے۔

اگر اس قول کو علامتی طور پر پاکستان کے موجودہ حالات پر لاگو کیا جائے تو بہت سے لوگ یہ محسوس کرتے ہیں کہ عمران خان کے ساتھ جو سلوک ہو رہا ہے، وہ اسی غیر تحریری اصول کے خاتمے کی علامت ہے۔

یہ معاملہ صرف عمران خان کی حمایت یا مخالفت کا نہیں۔ اصل سوال ریاستی اور ادارہ جاتی ہے:
جب ایک سابق منتخب وزیرِ اعظم، جس کے پاس اب بھی بڑی عوامی حمایت موجود ہے ، کو سیاسی حریف کے بجائے ایک ایسے دشمن کی طرح دیکھا جانے لگے جسے مکمل طور پر ختم کرنا ضروری ہو، تو اس کے ریاست پر کیا اثرات مرتب ہوسکتے  ہیں؟

اسی لیے بہت سے لوگوں کے نزدیک موجودہ صورتحال محض قانونی یا سیاسی تنازع نہیں بلکہ سیاسی نظام کے مزاج میں تبدیلی کی علامت ہے۔

جب سیاست مقابلے سے نکل کر “بقا کی جنگ” بن جائے تو پھر:

  • ادارے اپنی غیر جانبداری کھونے لگتے ہیں،
  • قانون انتقام کا تاثر دینے لگتا ہے،
  • کارکن اور حامی زیادہ شدت پسند ہو جاتے ہیں،
  • اور مفاہمت کے راستے بند ہونے لگتے ہیں۔

ایسا پاکستان میں ہوتا ہوا نظر آ رہا ہے ۔

یہی وجہ ہے کہ صلاح الدین کا یہ قول آج پاکستان میں بہت سے لوگوں کے جذبات کی ترجمانی کرتا دکھائی دیتا ہے۔ اس میں یہ پیغام پوشیدہ ہے کہ اقتدار کو بھی کچھ حدود کا پابند ہونا چاہیے، خاص طور پر سابق حکمرانوں کے معاملے میں، کیونکہ آج کا حکمران کل خود اسی نظام کے رحم و کرم پر ہو سکتا ہے۔

حتیٰ کہ عمران خان کے ناقدین بھی یہ سوال  اکثر اٹھا  تے  ہیں کہ :
اگر ایک سابق وزیرِ اعظم کے خلاف یہ روایت قائم ہو گئی، تو کل یہی طرزِ عمل ہر آنے والے سیاسی رہنما کے خلاف کیوں استعمال نہیں ہوگا؟

جس طرح کا ظالمانہ سلوک عمران خان ،انکی اہلیہ اور تحریک انصاف کے دوسرے رہنماؤں اور کارکنوں کے ساتھ روا رکھا جا رہا ہے .اسکی مثال پاکستان کی تاریخ میں نہیں ملتی  ۔پاکستان کے عوام کی اکثریت    بجا طور پر یہ سمجھتی ہے  کہ عمران خان کو انتقامی  کاروائیوں  کا نشانہ صرف اسلئیے بنایا جا رہا ہے ۔ کیونکہ وہ جھکنے کیلئے تیار نہیں  ۔اور نہ وہ جلا وطنی اختیار کرنے پر راضی ہیں ۔

  • حقیقت یہ ہے کہ نظام خود خوف عمران کا شکار ہے .

اس تناظر میں صلاح الدین کا یہ قول پاکستان کی موجودہ صورتحال پر ایک گہرا استعارہ بن جاتا ہے۔
کیونکہ جب ریاست اپنے سابق حکمرانوں کو سیاسی مخالف کے بجائے “نظام سے باہر دشمن” سمجھنے لگے، تو آخرکار نقصان صرف ایک فرد کا نہیں بلکہ پورے نظام کی ساکھ کا ہوتا ہے۔ بلکہ ریاست بھی کمزور ہوتی ہے .

Friday, 22 May 2026

تھیوسیڈائڈز ٹریپ اور پاکستان: کیا ریاست ایک نئی سیاسی قوت سے خوفزدہ ہے؟


یونانی مفکر (Thucydides) کی مشہور (Thucydides Trap)“تھیوسیڈائڈز ٹریپ” تھیوری بنیادی طور پر عالمی سیاست کو سمجھنے کے لیے پیش کی گئی تھی۔ اس کا مرکزی خیال یہ ہے کہ جب ایک نئی طاقت ابھر رہی ہوتی ہے تو پہلے سے موجود طاقت اسے اپنے اقتدار کے لیے خطرہ سمجھنے لگتی ہے۔ یہی خوف اکثر تصادم کو جنم دیتا ہے۔ تھیوسیڈائڈز نے اس تصور کو سپارٹا اور ایتھنز کی جنگ کے تناظر میں بیان کیا تھا، مگر وقت کے ساتھ یہ نظریہ صرف بین الاقوامی تعلقات تک محدود نہیں رہا۔ آج اسے داخلی سیاست، ریاستی طاقت اور سماجی تبدیلیوں کو سمجھنے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔
اگر اس تھیوری کو پاکستان کے موجودہ سیاسی حالات پر منطبق کیا جائے، تو ایک دلچسپ اور کسی حد تک تشویشناک تصویر سامنے آتی ہے۔
پاکستان میں اصل تنازع شاید صرف ایک سیاسی جماعت یا ایک فرد کا نہیں رہا، بلکہ یہ پرانے طاقت کے ڈھانچے اور ابھرتی ہوئی نئی سیاسی حقیقت کے درمیان کشمکش بنتا جا رہا ہے۔ ایک طرف وہ روایتی نظام ہے جو دہائیوں سے اقتدار، اداروں، سیاسی بیانیے اور ریاستی طاقت پر اثر اندازہوتا  رہا ہے۔ بلکہ اس وقت تو اپنی پوری جابرانہ طاقت سے ریاست کے پورے ڈھانچے کو گرفت میں لے چکا ہے۔دوسری طرف عمران خان   اور اس کے گرد جمع ہونے والی نوجوان نسل ہے، جو نہ صرف پرانے سیاسی طریقۂ کار کو چیلنج کر رہی ہے بلکہ ریاست اور سیاست کے درمیان تعلق کی نئی تعریف بھی پیش کر رہی ہے۔
یہ معاملہ صرف ایک مقبول لیڈر تک محدود نہیں رہا ۔ اصل تبدیلی سماجی اور آبادیاتی ہے۔  جو پاکستان میں خاموشی سے ایک نئی سیاسی طاقت پیدا کرچکی ہے۔ پاکستان کی اکثریت نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ یہ نسل روایتی میڈیا سے زیادہ سوشل میڈیا سے متاثر ہوتی ہے،  ریاستی بیانیے کو بغیر سوال قبول نہیں کرتی، اور سیاست میں اپنی براہِ راست شمولیت چاہتی ہے۔سیاسی معلومات تک براہِ راست رسائی رکھتی ہے، اور پرانی سیاسی وفاداریوں سے کم وابستہ ہے۔ یہی تبدیلی موجودہ طاقت کے مراکز کے لیے سب سے بڑا چیلنج بنتی دکھائی دیتی ہے۔
ایسے ماحول میں جب اقتدار پر قابض حلقے یہ محسوس کرتے ہیں کہ آزاد سیاسی عمل ان کی گرفت کمزور کر سکتا ہے، تو وہ اکثر “سیاسی بقا” کے موڈ میں چلے جاتے ہیں۔  یہی وہ مرحلہ ہوتا ہے جہاں سیاسی انجینئرنگ، قانونی رکاوٹیں، میڈیا کنٹرول، مخالف قیادت کی گرفتاری، اور انتخابی قواعد میں تبدیلی جیسے اقدامات سامنے آتے ہیں۔ اگر واقعی ووٹنگ کی عمر بڑھانے جیسے خیالات زیرِ غور آرہے  ہیں، تو یہ محض ایک انتظامی تبدیلی نہیں بلکہ اس خوف کا اظہار  ہے  کہ نوجوان ووٹرز سیاسی طاقت کا توازن بدل سکتے ہیں۔
یہی مقام ہے جہاں پاکستان کا موجودہ بحران “تھیوسیڈائڈز ٹریپ” سے مشابہ نظر آتا ہے۔ کیونکہ یہاں بھی بنیادی عنصر طاقت نہیں بلکہ خوف ہے — اقتدار کھونے کا خوف، بیانیہ ٹوٹنے کا خوف، اور ایک نئی سیاسی حقیقت کو قبول نہ کر پانے کا خوف۔ہماری تاریخ میں ایسا پہلے بھی ہو چکا ہے . مشرقی پاکستان کی علیحدگی بھی  اس وقت اقتدار پر قابض گروہ کے اسی خوف کا نتیجہ تھی ۔
تاہم داخلی سیاست میں اس “ٹریپ” کا نتیجہ ہمیشہ روایتی جنگ نہیں ہوتا۔ یہاں تصادم کی شکل مختلف ہوتی ہے۔ ادارے کمزور ہوتے ہیں، سیاسی تقسیم بڑھتی ہے، معیشت غیر یقینی کا شکار ہوتی ہے، اور سب سے خطرناک بات یہ کہ عوام کا نظام پر اعتماد آہستہ آہستہ ختم ہونے لگتا ہے۔ ریاست بظاہر چلتی رہتی ہے، مگر اس کی جائز ، قانونی اور اخلاقی  حیثیت  مسلسل کمزور ہوتی جاتی ہے  ۔
تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ کوئی بھی ریاست صرف طاقت کے ذریعے طویل عرصے تک بدلتے ہوئے سماجی رجحانات کو نہیں روک سکتی۔ اگر ایک نئی سیاسی لہر صرف کسی ایک شخصیت پر نہیں بلکہ آبادیاتی، معاشی،سیاسی  اور فکری تبدیلیوں پر کھڑی ہو، تو اسے دبانے کی ہر کوشش وقتی ثابت ہو سکتی ہے۔ طاقت وقتی خاموشی تو پیدا کر سکتی ہے، مستقل اتفاق و اتحاد  اور یکجہتی  پیدا نہیں کر سکتی ۔اور نہ معاشی ترقی کو ممکن بنایا جا سکتا ہے  ۔
پاکستان شاید اسی دوراہے پر کھڑا ہے۔ سوال صرف یہ نہیں کہ آج اقتدار کس کے پاس ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا موجودہ نظام نئی نسل کی سیاسی خواہشات کو اپنے اندر جذب کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، یا وہ ہر ابھرتی ہوئی عوامی طاقت کواپنی بقا کیلئے خطرہ   سمجھ کر اس کے خلاف مزاحمت کرتا رہے گا؟
کیونکہ جب ریاستیں اپنے ہی عوام ،خاص طور پر نوجوانوں سے خوفزدہ ہونے لگیں، تو مسئلہ صرف سیاست کا نہیں رہتا — یہ مستقبل کے بحران کی علامت بن جاتا ہے۔ پاکستان میں کچھ ایسا ہی ہوتا نظر آ رہا ہے  ۔

Monday, 18 May 2026

امریکہ - ایران پر ایک اور حملہ کر سکتا ہے ؟

امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی ایک بار پھر اس سوال کو جنم دے رہی ہے کہ کیا واشنگٹن کسی نئی محدود فوجی کارروائی کی تیاری کر رہا ہے۔ پچھلے سال ایران اور اسرائیل کے درمیان تقریباً بارہ دن جاری رہنے والی جھڑپوں کے بعد امریکہ نے ایرانی ایٹمی تنصیبات پر حملہ کیا اور پھر امریکی صدر (Donald Trump )نے اعلان کیا کہ ایران کا ایٹمی پروگرام تباہ کر دیا گیا ہے، لہٰذا جنگ بند کی جاتی ہے۔ اب ان کے حالیہ بیانات نے دوبارہ اسی حکمت عملی کی یاد تازہ کر دی ہے۔

ایسا دکھائی دیتا ہے کہ امریکہ مکمل جنگ نہیں بلکہ “کنٹرولڈ پریشر” کی پالیسی پر عمل کر رہا ہے۔ یعنی محدود حملہ، طاقت کا مظاہرہ، پھر “مشن مکمل” کا اعلان اور اس کے بعد مذاکرات یا پسپائی۔ یہ حکمت عملی امریکہ کو بیک وقت دو فائدے دیتی ہے: داخلی سیاست میں طاقتور قیادت کا تاثر اور خطے میں طویل جنگ سے بچنا ۔

تاہم ایران عراق یا لیبیا نہیں۔ ایران کے پاس میزائل صلاحیت، علاقائی اتحادی نیٹ ورکس اور آبنائے ہرمز پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت  موجود ہے۔ اسی لیے کسی بھی محدود حملے کے باوجود خطرہ یہ ہے کہ صورتحال قابو سے باہر نکل سکتی ہے۔ ایک حملہ، پھر جوابی کارروائی، پھر مزید ردعمل — اور پورا خطہ ایک بڑی جنگ کی لپیٹ میں آ سکتا  ہے۔جو کسی کو بھی قابل قبول نہیں . خاص طور پر اس خطے میں امریکی اتحادی کسی بھی لمبی جنگ کے حق میں نہیں ۔

اس وقت زیادہ امکان یہی دکھائی دیتا ہے کہ واشنگٹن عسکری دباؤ، معاشی پابندیوں اور نفسیاتی جنگ کے امتزاج کے ذریعے ایران کو نئی ڈیل پر مجبور کرنا چاہتا ہے۔ لیکن امریکہ ، ایران کو کچھ دئیے بغیر کسی بھی قسم کی کوئی ڈیل حاصل نہیں کر سکتا .  ایرانی وزیر خارجہ نے بھارت میں اپنی پریس کانفرنس میں یہ تصدیق کی کہ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات امریکہ کی ہٹ دھرمی اور اپنے مطالبات ہر صورت منوانے کی وجہ سے نا کام ہوۓ . اور دوسری بات یہ ہے کہ پاکستان ،ایران کو کسی بھی طرح کی کوئی گارنٹی دینے کی پوزیشن میں نہیں . ایران کا مطالبہ  یہ  ہے کہ اسے اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل یہ گارنٹی دے کہ اس پر دوبارہ حملہ نہیں کیا جاۓ گا . روس اور چین ملکر کوئی گارنٹی دے سکتے ہیں .لیکن وہ بھی امریکی صدر پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں . کیونکہ امریکی صدر ہر دوسرے لمحے اپنے بیانات بدلتے رہتے ہیں .

امریکی صدر اس جنگ میں اس بری طرح پھنس چکے ہیں کہ انھیں اس سے باہر نکلنے کا کوئی راستہ نظر نہیں آ رہا . ایران اپنے  موقف سے کسی صورت پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں .  ایران  یہ چاہتا ہے کہ کم از کم اس پر سے اقتصادی پابندیاں  ہٹائی  جائیں  .   جو امریکی صدر اس وقت ہٹانے پر تیار نہیں . اپنی تمام تر طاقت کے باوجود امریکہ ،ایران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور نہیں کر سکا اور نہ وہ آبناۓ ہرموز کو کھلوا سکا .  

اب یہ ہو سکتا ہے کہ امریکی صدر ،ایران پر ایک اور فضائی حملہ کرنے کا حکم دیں . اور پھر یہ دعویٰ کریں کہ انھوں نے ایران کے ایٹمی پروگرام کوایک بار پھر  تباہ و برباد کر دیا ہے . لہذا جنگ ختم کی جاتی ہے . کیونکہ امریکہ نے اپنے تمام مقاصد حاصل کر لیے ہیں . اعلان فتح - امریکی بحری بیڑا گھر واپس . 

 امریکی صدر کا کوئی بھروسہ نہیں کہ وہ جی -سی -سی اور دنیا کے دوسرے ممالک سے یہ کہہ دیں کہ ایران کے ساتھ اپنے اپنے معاملات خود حل کر لیں .

Sunday, 17 May 2026

!پچھتاوا اور شکر گزاری

این فرینک  کا ایک قول ہے کہ — 

"مردہ لوگوں کو زندہ لوگوں کی نسبت  زیادہ پھول پیش کیے جاتے ہیں . کیونکہ پچھتاوا شکرگزاری سے زیادہ طاقتور ہوتا ہے۔" 

یہ بات انسانی فطرت کے ایک تلخ سچ کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ اکثر لوگ کسی کی قدر اُس وقت محسوس کرتے ہیں جب وہ شخص اُن کے درمیان نہیں رہتا۔ جب موقع ختم ہو جاتا ہے، تو دل میں پچھتاوا شکرگزاری سے زیادہ شدت اختیار کر لیتا ہے۔

 زندگی میں ہم اکثر ان لمحوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں جن میں محبت کا اظہار ممکن ہوتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ وقت بہت ہے، کہ کل بھی موجود ہے، کہ لوگ ہمیشہ ہمارے آس پاس رہیں گے۔ مگر وقت ایک خاموش چور ہے — وہ لمحے چرا لیتا ہے، اور ہمیں صرف یادیں دے جاتا ہے۔

جب کوئی چلا جاتا ہے، تو ہم پھول لے کر جاتے ہیں، دعائیں کرتے ہیں، اور دل میں ایک بوجھ لیے واپس آتے ہیں۔ وہ پھول دراصل ہمارے پچھتاوے کی علامت ہوتے ہیں — وہ باتیں جو ہم کہہ نہ سکے، وہ احساسات جو ہم چھپا گئے، وہ محبت جو ہم نے وقت پر ظاہر نہ کی۔

اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ ۔ دنیا میں بہت سے لوگ ایسے ہیں جو اپنے پیاروں، دوستوں اور محسنوں کی قدر اُن کی زندگی میں ہی کرتے ہیں، اُن سے محبت، خلوص ،چاہت  اور احترام کا اظہار بھی کرتے ہیں۔

شکرگزاری ایک نرم سا احساس ہے، مگر اس کی آواز کمزور ہے۔ ہم زندہ لوگوں کو شکرگزاری کے پھول کم دیتے ہیں، کیونکہ ہمیں لگتا ہے کہ وہ جانتے ہیں ہم ان سے محبت کرتے ہیں۔ مگر محبت کا اظہار خاموشی میں نہیں، عمل میں ہوتا ہے۔

اس لیے اس قول کو ایک حقیقت سے زیادہ ایک تنبیہ سمجھنا چاہیے:

اگر ہم زندہ لوگوں کو وہ پھول دے سکیں جو ہم قبروں پر چڑھاتے ہیں، تو شاید دنیا میں پچھتاوا کم اور سکون زیادہ ہو۔

اس کو ایک اور انداز میں بھی کہا جا سکتا ہے کہ

لوگوں کی قدر اُن کے زندہ ہوتے ہوئے کریں، کہیں ایسا نہ ہو کہ بعد میں صرف پچھتاوا باقی رہ جائے۔

Saturday, 16 May 2026

پاکستان: ایک ریاست، دو حقیقتیں


ہمارے معاشرے میں ایک خطرناک خلیج پیدا ہو چکی ہے — صرف امیر اور غریب کے درمیان نہیں بلکہ اُن لوگوں کے درمیان جو تکلیف برداشت کر رہے ہیں اور اُن کے درمیان جو حکومت کر رہے ہیں۔

عام پاکستانی معاشی تھکن کے دور سے گزر رہے ہیں۔ مہنگائی نے لوگوں کی قوتِ خرید کو کچل دیا ہے۔ بجلی کے بل ہر مہینے ایک نئے صدمے کی طرح آتے ہیں۔ ڈگری رکھنے والے نوجوانوں کو مستقل روزگار نہیں مل رہا۔ چھوٹے کاروبار خاموشی سے تباہ ہو رہے ہیں۔ خاندان زندہ رہنے کے لیے زیورات، موٹر سائیکلیں، گھریلو سامان — اور بعض اوقات اپنی عزتِ نفس تک — فروخت کرنے پر مجبور ہیں۔

لیکن پاکستان کی طاقتور اشرافیہ  اس حقیقت سے عجیب حد تک محفوظ دکھائی دیتی ہے ۔

سول و عسکری اشرافیہ، خاندانی سیاسی جماعتیں، اور اقتدار کے گرد موجود مضبوط نیٹ ورکس ایک محفوظ دائرے میں زندگی گزار رہے ہیں۔ اُن کی شاہانہ طرزِ زندگی، مراعات، سکیورٹی پروٹوکول، سرکاری سہولتیں، پوش ہاؤسنگ سوسائٹیاں، بیرونِ ملک اثاثے، اور طاقت کے گرد قائم حفاظتی حصار اُنہیں اُن پالیسیوں کے نتائج سے بچاتے ہیں جن کی قیمت پوری قوم ادا کرتی ہے۔

وہ عوام کی تکلیف کو اُسی طرح دیکھتے ہیں جیسے کوئی امیر شخص شدید گرمی یا سردی کو کھڑکی کے پیچھے بیٹھ کر دیکھتا ہے۔

آج پاکستان کا اصل بحران یہی ہے۔

فیصلے کرنے والے اُن لوگوں سے کٹ چکے ہیں جو ان فیصلوں کی اصل قیمت ادا کرتے ہیں۔ایسا نہیں کہ یہ ماضی قریب سے ہونا شروع ہوا ہے . بلکہ یہ اسی انگریزی نظام کا تسلسل ہے .جو تاج برطانیہ نے (1857)، کی جنگ آزادی کے بعد بنایا تھا اور جس پر آج تک عمل کیا جا رہا ہے .

جب پیٹرول مہنگا ہوتا ہے تو غریب کی نقل و حرکت محدود ہو جاتی ہے جبکہ اشرافیہ سرکاری پروٹوکول میں سفر کرتی رہتی ہے۔ جب مہنگائی بڑھتی ہے تو عام لوگ اپنے کھانے کم کرتے ہیں جبکہ ریاستی اخراجات جوں کے توں رہتے ہیں۔ جب ٹیکس بڑھتے ہیں تو تنخواہ دار طبقہ اور چھوٹے کاروبار مزید دباؤ میں آ جاتے ہیں جبکہ طاقتور شعبے رعایتیں، سبسڈیز اور خصوصی سہولتیں حاصل کرتے رہتے ہیں۔

قربانی نیچے والے طبقے سے لی جاتی ہے۔
مراعات اوپر والے طبقے کے پاس محفوظ رہتی ہیں۔

پاکستان تیزی سے ایک ایسے نظام میں تبدیل ہو رہا ہے جہاں کمزوروں سے قربانی مانگی جاتی ہے جبکہ طاقتوروں کا آرام محفوظ رکھا جاتا ہے۔

اور تاریخ گواہ ہے کہ ایسا عدم توازن زیادہ دیر تک قائم نہیں رہتا۔

ایک معاشرہ غربت کے ساتھ طویل عرصہ گزار سکتا ہے، لیکن وہ کھلی ناانصافی زیادہ دیر برداشت نہیں کر سکتا — خاص طور پر جب لوگوں کو محسوس ہونے لگے کہ قانون اور نظام سب کے لیے برابر نہیں رہا۔

پاکستان میں بڑھتا ہوا غصہ صرف معاشی نہیں، نفسیاتی بھی ہے۔

لوگ مشکلات برداشت کر لیتے ہیں اگر اُنہیں یقین ہو کہ نظام منصفانہ ہے، قیادت قابل ہے، اور قربانی عارضی ہے۔ لیکن جب عوام کو یہ محسوس ہونے لگے کہ ایک اشرافیہ طبقہ خود کو ہمیشہ محفوظ رکھے گا جبکہ باقی قوم مسلسل قربانی دیتی رہے گی، تو مایوسی نفرت میں بدلتی ہے، اور نفرت بالآخر سیاسی عدم استحکام کو جنم دیتی ہے۔

آج پاکستان اسی مقام پر کھڑا ہے۔

طاقتور حلقے اب بھی یہ سمجھتے ہیں کہ بیانیہ سازی، سنسرشپ، کنٹرولڈ میڈیا، دباؤ، اور وقتی سیاسی انجینئرنگ کے ذریعے عوامی غصے کو ہمیشہ دبایا جا سکتا ہے۔ لیکن معاشی تکلیف آخرکار ہر پروپیگنڈا توڑ دیتی ہے۔ اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے جدوجہد کرنے والا انسان حقیقت کو ٹی وی مباحثوں یا سرکاری پریس کانفرنسوں سے نہیں سمجھتا۔ وہ حقیقت کو بازار، بجلی کے بل، ہسپتال، اور خالی جیب میں محسوس کرتا ہے۔

اور یہ حقیقت اب چھپانا مشکل ہوتی جا رہی ہے۔

کسی بھی حکمران طبقے کے لیے سب سے خطرناک چیز یہ ہوتی ہے کہ مسلسل تحفظ انہیں حقیقت سے اندھا کر دیتا ہے۔ جب حکمران صرف وفادار لوگوں، بیوروکریسی کے فلٹرز، سکیورٹی حصاروں، اور مراعات یافتہ ماحول میں رہنے لگیں تو وہ معاشرے کی اصل نفسیاتی کیفیت سمجھنا چھوڑ دیتے ہیں۔ وہ خاموشی کو استحکام سمجھ بیٹھتے ہیں۔ خوف کو عوامی حمایت سمجھ لیتے ہیں۔ وقتی کنٹرول کو دائمی طاقت تصور کرنے لگتے ہیں۔

تاریخ بار بار دکھا چکی ہے کہ اس کا انجام کیا ہوتا ہے۔

کوئی نظام ایک دن میں نہیں ٹوٹتا۔ پہلے عوامی تھکن پیدا ہوتی ہے۔ پھر اداروں پر اعتماد ختم ہوتا ہے۔ پھر معاشرتی تقسیم بڑھتی ہے۔ پھر ریاست کی اخلاقی ساکھ آہستہ آہستہ ختم ہونے لگتی ہے۔ اور جب تک حکمران طبقہ عوامی غصے کی گہرائی کو سمجھتا ہے، تب تک بحران اکثر قابو سے باہر ہو چکا ہوتا ہے۔

پاکستان تیزی سے اسی نفسیاتی حد کے قریب پہنچ رہا ہے۔

کوئی ملک زیادہ دیر تک اُس وقت تک نہیں چل سکتا جب ایک طبقہ معاشی پالیسیوں کو صرف نظریہ سمجھے جبکہ دوسرا طبقہ اُنہیں اپنی بقا کا مسئلہ سمجھ کر جئے۔

اصل خطرہ صرف مہنگائی یا سیاسی کشمکش نہیں۔
اصل خطرہ حکمرانوں اور عوام کے درمیان بڑھتا ہوا جذباتی فاصلہ ہے۔

جب ایک قوم کو یہ یقین ہو جائے کہ اُس کی تکلیف اقتدار کے ایوانوں میں نظر ہی نہیں آ رہی، تو پھر ریاست اور عوام کے درمیان موجود سماجی معاہدہ ٹوٹنا شروع ہو جاتا ہے۔ایسا پاکستان میں تیزی سے ہو رہا ہے ۔طوفان سے پہلے کی خاموشی کو استحکام سمجھنے والے حالات کی سنگینی کا درست اندازہ لگانے سے قاصر دکھائی دے رہے ہیں ۔


فالس فلیگ آپریشن

اردو زبان میں (فالس فلیگ )کیلئے کوئی مناسب لفظ موجود نہیں . اسکا ترجمہ ، جھوٹا الزام ، جھوٹا حملہ ، خفیہ کاروائی ، فریبی جھنڈا وغیرہ کیا جاتا ہے .بنیادی طور پر اسکا مطلب کوئی ایسی کاروائی ہے .  جس کا الزام اپنے مخالفین پر ڈال کر ، اپنے  فوجی یا سیاسی مقاصد حاصل کیے جا سکیں .
"فالس فلیگ " کی اصطلاح ابتدا میں اس حربے کیلئے استعمال ہوتی تھی .جب بحری جہاز دھوکہ دینے کیلئے . دشمن کا جھنڈا اپنے جہازوں پر لہراتے تھے .
سمندری قزاق اور نو آبادیاتی طاقتوں کے بحری جہاز  ،اکثر دشمن کے قریب پہنچنے کیلئے .جعلی پرچم استعمال کرتی تھیں .
جبکہ روایتی بحری اصول کے مطابق ، حملے سے پہلے ،اصل پرچم بلند کرنا ضروری سمجھا جاتا تھا .
اس وقت یہ بحری جنگ کی فریب کاری تھی .ابھی اسکا جدید سیاسی مفہوم وجود میں نہیں آیا تھا .
"فالس فلیگ " آپریشن عموما "پانچ بنیادی مقاصد کیلئے استعمال ہوتے ہیں .
جنگ کو جواز فراہم کرنا .
جبر و استبداد کو جائز ٹہرانا .
عوامی رضا مندی یا حمایت پیدا کرنا .
دشمن کو شدید رد عمل پر اکسانا .
اور بیانیہ پر کنٹرول حاصل کرنا .
پچھلے دو ،اڑھائی سو سال میں یہ مقاصد زیادہ نہیں بدلے .صرف طریقہ کار بدلتے گۓ .