Friday, 17 April 2026

.اقتدار حاصل کر لیا ۔ساکھ کھودی

"کیا ان سے بھی غلطی ہو سکتی ہے ؟"
پاکستان میں  طاقت کے ایوانوں  میں یہ سوال شاذ و نادر ہی اتنی سنجیدگی سے پوچھا جاتا ہے۔ اور اکثر اوقات، ان کے فیصلوں کا جو نتیجہ سامنے آتا ہے . وہ ثابت کرتا ہے کہ ایسا کیوں ہونا چاہیے تھا۔یعنی انھیں اپنے ماضی کے فیصلوں سے یہ سیکھنا چاہئیے تھا .کہ ان سے بھی غلطی ہو سکتی ہے .وہ عقل کل نہیں ہیں .

عمران خان کی برطرفی، جو فوجی اسٹیبلشمنٹ اور پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے اتحاد سے کی گئی.نظام کو دوبارہ ترتیب دینے کیلئے تھی . اس کا مقصد اپنی قوت و طاقت کا اظہار کرنا . اپنی حکمرانی کو مستحکم کرنا اور ایک ایسی عوامی قوت کے پروں کو کاٹنا تھا . جو اب فوجی اسٹیبلشمنٹ ، نوکر شاہی اور سیاسی اشرافیہ کیلئے تکلیف دہ بنتی جا رہی تھی .

انھوں نے عمران حکومت کو تو تبدیل کر لیا . لیکن اس اقدام نے ایک ایسے عوامی رد عمل کو جنم دیا .جس کے بارے میں انھوں نے سوچا بھی نہیں تھا . اور جسے تمام تر ظلم و جبر کے یہ ابھی تک مکمل قابو کرنے میں نا کام رہے ہیں .

انکی پہلی غلطی قانونی حثیت تھی . جو کچھ آئینی طور پر قابل دفاع ہو سکتا تھا .وہ عوامی قبولیت میں تبدیل نہیں ہوا .سیاست صرف قانونی شقوں سے  طےنہیں ہوتی .بلکہ تصور میں طےہوتی ہے . جو تاثر غالب آیا .وہ بہت سادہ اور خطرناک تھا : کہ عوام کی کوئی حثیت نہیں .نظام پر تو قابو پا لیا گیا .اور ایک ایسے رہنما کو ہٹا دیا .جو عوامی حمایت رکھتا تھا .اقتدار پر قابض ٹولہ اپنی تمام تر کوشش کے با وجود ابھی تک عمران خان کی عوامی حمایت میں کمی لانے سے قاصر ہے .

صرف یہ تصور ہی کہ عمران خان ابھی تک ڈٹ کے کھڑا ہے . نے عمران خان کو جد و جہد اور استقامت کا ایک  استعارہ بنا دیا . ایک ہی جھٹکے میں ، پاکستان تحریک انصاف مزاحمت کی علامت میں تبدیل ہو گئی .کہانی الٹ گئی . احتساب قربانی میں بدل گیا .مخالفت بغاوت میں بدل گئی .
یہ سیاست کا سب سے پرانا تضاد ہے: 

دباؤ، جب غلط لاگو کیا جاتا  ہے، تو وہ مزاحمت کو کچلتا نہیں—بلکہ اسے مزید تقویت دیتا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کو توڑنے کی ہر  ممکن  کوشش ہوئی .بہت سے رہنما توبہ تائب ہو کر سیاست کو خیر باد کہہ گۓ .لیکن اسکی عوامی حمایت کی بنیاد مزید مضبوط ہوئی .ڈیجیٹل جگہیں مزاحمت کے بازگشت خانوں میں بدل گئیں    .
اسے محدود کرنے کی کوشش نے اسے مزید  بڑھاوا دیا۔ اسٹیبلشمنٹ  نے صرف ایک سیاسی مخالف پیدا  نہیں کیا .اس نے ایک تحریک کی تیاری میں بھی مدد کی .

اس دوران جن لوگوں نے اقتدار سنبھالا . انھوں نے ایک ایسا نظام وراثت میں پایا . جس کے  پاس کوئی عوامی ، قانونی اور اخلاقی اختیار نہیں تھا . ظلم و جبر کی سیاست ، معاشی زوال ، آئی -ایم -ایف کے محدودات --ان میں سے کوئی بھی فیصلہ کن حکمرانی کی اجازت نہیں دیتا .جو کچھ ہوا وہ متوقع تھا: 

ہچکچاہٹ، ناپسندیدہ فیصلے، اور عوامی مزاج سے بڑھتی ہوئی دوری۔ طاقت محفوظ کر لی گئی.لیکن اختیار حاصل نہ ہو سکا .اور اس سب کے نیچے ایک گہری قیمت چھپی ہوئی ہے : ادارہ جاتی ساکھ کی !!!!!

جب غیر سیاسی عناصر ،سیاسی انجینئرنگ کرتے ہیں . تو طویل المدتی نقصان    نازک ، لیکن شدید ہوتا ہے .اعتماد ختم ہو جاتا ہے .غیر جانبداری مشکوک ہو جاتی ہے .ہر آئندہ حرکت کی قدر ،کریڈٹ کی بنیاد پر نہیں . بلکہ نیت کی بنیاد پر کی جاتی ہے .یہی وہ مقام ہے .جہاں "کیا غلط ہو سکتا ہے ". صرف ایک جملہ نہیں رہتا - بلکہ ایک نمونہ بن جاتا ہے .کیونکہ اصل نا کامی یہاں حکمت عملی کی نہیں .انکی حکمت عملی کامیاب ہوئی . حکومت ہٹا دی گئی .کنٹرول دوبارہ قائم ہو گیا . لیکن سیاست شطرنج نہیں ہے .آپ ایک ٹکڑا پکڑ کر نہیں جیتتے ؟آپ بساط کنٹرول کر کے  جیتتے ہیں .....

اس معاملے میں ،بساط بدل گئی . جو غلط ہوا . وہ عمل نہیں تھا . بلکہ یہ مفروضہ تھا کہ طاقت بغیر - نتائج کے دوبارہ ترتیب دی جاسکتی ہے . عوامی جذبات کو قابو میں رکھا جا سکتا ہے ؟ بیانیہ کو قبولیت دلائی جا سکتی ہے .ایک ایسے دور میں جب وہ مسلسل زیر بحث ہے . انھوں نے اقتدار تو جیت لیا .لیکن وہ اپنی ساکھ ہار بیٹھے !

 سیاست ہو یا زندگی کا کوئی بھی شعبہ ، کوئی فرد واحد ہو یا ادارہ "ساکھ "کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا !!

Thursday, 16 April 2026

They Won the Move, But Lost the Moment

“What could go wrong?” In Pakistan’s power corridors, that question is rarely asked with enough seriousness. And more often than not, what follows proves why it should have been.

The removal of Imran Khan, engineered through a convergence of the military establishment and the Pakistan Democratic Movement, was meant to reset the system. It was supposed to restore order, stabilize governance, and clip the wings of a populist force that had become inconvenient.

Instead, it triggered a chain reaction no one fully controlled.

The first miscalculation was legitimacy. What may have been constitutionally defensible did not translate into public acceptance. Politics is not decided in legal clauses alone—it is decided in perception. And the perception that took hold was simple and dangerous: the system was manipulated to remove a leader who still commanded mass support.

That perception didn’t weaken Imran Khan—it weaponized him.

In one stroke, he transformed from a contested incumbent into a symbol of resistance. The narrative flipped. Accountability turned into victimhood. Opposition turned into insurgency. This is the oldest paradox in politics: pressure, when misapplied, doesn’t crush—it concentrates.

Then came the mobilization. Instead of fragmentation, his support base hardened. Street power grew. Digital spaces became echo chambers of defiance. The attempt to contain him ended up amplifying him. The establishment didn’t just create a political opponent—it helped manufacture a movement.

Meanwhile, those who took power inherited a system without owning its mandate. Coalition politics, economic freefall, IMF constraints—none of it allowed for decisive governance. What followed was predictable: hesitation, unpopular decisions, and a growing disconnect with the public mood. Power was secured, but authority remained elusive.

And beneath all this lies a deeper cost: institutional credibility. When non-political actors are seen as political engineers, the long-term damage is subtle but severe. Trust erodes. Neutrality becomes suspect. Every future move is judged not on merit, but on motive.

This is where “what could go wrong” becomes more than a phrase—it becomes a pattern.

Because the real failure here is not tactical. The move itself worked. The government was removed. Control was reasserted.

But politics is not chess. You don’t win by capturing a single piece.

You win by controlling the board—and in this case, the board shifted.

What went wrong was not the action, but the assumption behind it: that power could be rearranged without consequences, that public sentiment could be managed, that narratives could be dictated in an age where they are constantly contested.

They won the move.

But they lost the moment—and in politics, moments have a way of defining everything that comes after.

Saturday, 11 April 2026

.امن اور اسرائیل - دونوں ایک ساتھ نہیں چل سکتے

ایران ،امریکہ اور اسرائیل کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی کا اعلان سات اپریل کو ہوا .  پاکستانی حکومت کے مطابق ، لبنان بھی اس جنگ بندی کا حصہ ہے . لیکن اسرائیلی وزیر اعظم  اس بات سے انکاری ہیں. یہی وجہ ہے کہ اس جنگ بندی کا اعلان ہونے کے ایک ہی دن بعد اسرائیل نے لبنان پر حملہ کر دیا . جس میں اب تک سنیکڑوں افراد ہلاک اور ہزروں زخمی ہو چکے ہیں .  حقیقت اے ہے کہ اسرائیل کسی بھی قسم کی جنگ بندی کے حق میں نہیں . وہ ایران کی مکمل تباہی چاہتے ہیں .  دھائیوں سے اسرائیل کا رویہ یہی ہے کہ جب دباؤ پڑے تو جنگ بندی کیلئے تیار ہو جاتے ہیں . اور پھر جب موقع ملتا ہے . جنگ شروع کر دیتے ہیں . امن اسرائیل کیلئے اس وقت تک قابل قبول نہیں . جب تک وہ اپنے اس پاس کے تمام ممالک کو  تباہ و برباد نہیں کردیتے . 
یہی وجہ ہے کہ اسرائیل لبنان پر حملوں کے ذریعۓ اس جنگ بندی کو نا کام بنانا چاہتا ہے . 
مشرق وسطیٰ میں امن اور اسرائیل دونوں ایک ساتھ نہیں رہ سکتے  — دنیا کو دونوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہو گا ۔ اسرائیل ایک نسل پرست   ریاست ہے ۔جس کا پورا وجود مشرق وسطیٰ میں مسلسل تشدد اور زیادتی کی حکمت عملی پر مبنی ہے۔ جب تک یہ حالت اپنی موجودہ شکل میں موجود ہے، امن کبھی حاصل نہیں ہو سکتا۔

!گھر عذاب اور باہر ثواب

اسلام آباد میں ، ایران ،امریکی ،اسرائیلی جنگ کے خاتمےاور  خطے میں امن کی بحالی کیلئے ،مذاکرات کل یعنی ہفتے کی صبح ، شروع ہونے ہیں . ان مذاکرات میں ، امریکہ کے نائب صدر اپنے ملک کی نمائیندگی کریں گے . انکے ساتھ ، سٹیو وٹکاف اور امریکی صدر کے داماد جرڈ کشنر بھی مذاکراتی ٹیم کا حصہ ہونگے . جبکہ ایران کی طرف سے ، ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر،محمد غالباف  اور وزیر خارجہ ، عباس  عراقچی ان مذاکرات میں شریک ہونگے .  مذاکرات دو ہفتے تک جاری رہ سکتے ہیں . ان مذاکرات کا کیا نتیجہ نکلے گا . اس کے بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا . بعض مبصرین کا خیال ہے کہ جب تک اسرائیل ، لبنان پر حملے نہیں روکتا . ان مذاکرات کا کوئی مثبت نتیجہ نہیں نکلے گا . 
پاکستان کی طرف سے جنگ بندی کی کوششوں کو ساری دنیا میں سراہا جا رہا ہے .  ہمیں بھی خوشی ہے کہ کسی مثبت کام میں پاکستان کا نام لیا جا رہا ہے . لیکن دوسری طرف اس ہائی بریڈ نظام نے ملک کے اندر جو تباہی مچائی ہے . اسکا بھی کوئی ذکر ہونا چاہئیے . معیشت وگرگوں ہے . غربت کی شرح میں بے تحاشا اضافہ ہو رہا ہے .ملک کے اندر انسانی حقوق کی سر عام خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں . انصاف کا نظام مکمل تباہی کا شکار ہے . ہزاروں سیاسی کارکن جیلوں میں بند ہیں .ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ اور سابق وزیر اعظم کے بنیادی انسانی حقوق کو بوٹوں تلے روندا جا رہا ہے .ملک میں پر امن احتجاج کی اجازت نہیں .کم از کم ملکی میڈیا کو تو اس پر بات کرنی چاہئیے . 
دنیا میں امن کیلئے کوشش کرنا اچھی بات ہے . لیکن ملک میں انسانی حقوق ، انصاف ، غریب عوام کیلئے اسانیاں پیدا کرنا کس کا کام ہے ؟    ملک سے باہر  ،مذاکرات سے جھگڑوں کا حل اور ملک کے اندر ، لاٹھی ،گولی کی سرکار !!!!
یہ مذاکرات اسلام آباد کے ایک مخصوص علاقے میں ہونگے  . لیکن جمعہ کے دن سے جڑواں شہروں کو مکمل بند کر دیا گیا ہے . اسلام آباد سبزی منڈی بند ہے . پشاور روڈ پر تمام کاروبار اور ہوٹل بھی  بند ہیں .  کیا سیکورٹی کا یہ ہی طریقہ ہے کہ لاکھوں لوگوں کے کاروبار بند کر دئیے جائیں . مذاکرات سرینا ہوٹل اسلام آباد میں ہونگے . کیا اس ہوٹل کے آس پاس کا علاقہ بند کرنا کافی نہ تھا ؟ 
اکیسویں صدی میں انیسویں صدی کے طریقے اختیار کرنا کوئی عقل مندی کی بات نہیں . یہ تو گھر عذاب- اور باہر ثواب والی بات ہے .

Thursday, 9 April 2026

!تہذیب یافتہ کون

جو بھی ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی بات سنتا ہے، اور ان کی ذہین، معقول، غور و فکر سے بھرپور، استدلال اور  حقیقت پر مبنی تقریروں اور سوالات کے مسکرا کر جوابات  دینے  کا موازنہ ٹرمپ،   ہیگزیٹ  اور نیتن یاہو جیسے لوگوں کے  پاگل پن   اور غیر اخلاقی بیانات سے کرتا ہے -    وہ با آسانی یہ دیکھ سکتا ہے کہ ایران موجودہ تنازع میں مہذب فریق ہے-
جبکہ دوسری  طرف منہ سے جھاگ اڑاتے  اور شعلے اگلتی ہوئے وحشی پاگلوں کی قیادت  ہے۔ یہ اس مغربی تہذیب کے چہرے  پر  ایک تھپڑ ہے.جو خود کو   اخلاقیات کے ا علی ترین مقام پر فائز سمجھتی ہے . اس حقیقت سے  انکار ممکن نہیں کہ امریکی، جو خود کو انسانی تہذیب کی چوٹی سمجھتے ہیں، احمق، بُرے، اور انتہائی غیر مہذب بن چکے ہیں۔  وہ پاگل ،پتھریلے دور کے گوشت خور انسانوں کے مترادف ہیں جوچنگاڑتے ہوۓ  درندوں   کی ماننداپنی رہ میں آنے والی ہر رکاوٹ کو روند نے کی کوشش میں ہیں .
اور   ایک انتہائی مہذب ، تہذیب یافتہ اور پڑھے لکھے لوگوں پر حملہ آور ہیں . تاکہ انہیں چاک کر کے ان کا گوشت نوچ سکیں. صرف اور صرف اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے .
دنیا کے مہذب لوگ خود فیصلہ کر سکتے ہیں کہ ایران پر مسلط کی جانے والی اس بلا جواز اور نا  جائز جنگ میں کون حق پر ہے .اور کون سا فریق وحشیانہ درندگی کا مظاہرہ کر رہا ہے ؟
ہزاروں سال پرانی تہذیب و ثقافت کو مٹانے کی دھمکیاں دینے والے ، تہذیب یافتہ کہلانے کے حق دار نہیں ہو سکتے !!!!

Monday, 6 April 2026

!حکمت

 سقراط نےکہا تھا کہ ، (حکمت )     ایک عظیم مساوات پیدا کرنے والی چیز ہے۔ جبکہ حرص اور بےوقوفی عظیم اور  طاقتورترین  سلطنتوں کو گرانے میں ہمیشہ اہم کردار ادا کرتی    ہیں   .   حکمت ایک چھوٹے شہر سے ایک عظیم ریاست بنا سکتی ہے۔اس کی ایک بہترین مثال وہ ریاست کہ  جسے تاریخ  ریاست مدینہ کے نام سے یاد کرتی ہے . الله کے قانون (قرآن ) اور محمد رسول الله کی حکمت اور جہد مسلسل نے ، اس چھوٹی سی (سٹی اسٹیٹ )کو دس سالوں میں ایک عظیم ریاست میں تبدیل کر دیا .
ایسا کسی زور زبردستی ، دھونس دھاندلی ، ظلم و ستم  اور طاقت کے زور پرنہیں ہوا . بلکہ اس آفاقی نظریے کی بنیاد پر کیا گیا . کہ تمام انسان برابر ہیں . کسی انسان کو دوسروں پر حکمرانی کرنے کا کوئی حق نہیں . حق حکمرانی صرف الله کی ذات کا ہے . حکومت صرف اور صرف الله کے قانون (قرآن ) کے مطابق چلائی جاۓ گی . 
تاریخ انسانی میں بہت سی عظیم و شان سلطنتوں کا ذکر موجود ہے .  جو بام عروج پر پہنچی اور پھر زوال کا شکار ہو کر تاریخ کے صفحات میں گم ہو گئیں . 
جب  بے وقوفوں کو ذمہ داری سونپ دی جاتی ہے .   چاپلوس  انکے مدد گار بن جاتے ہیں . اور  قابل لوگ بزدلی 
  کی وجہ سے سچ بولنے سے ڈرتے ہیں . تو عظیم و شان سلطنتیں زوال کا شکار ہو جاتی ہیں . اسکی ایک بہترین مثال 
ہمارے سامنے امریکہ کی شکل میں موجود ہے . جہاں پر بے وقوفوں اور چاپلوسوں کا ایک گروہ نہ صرف امریکہ بلکہ ساری دنیا کیلئے . تباہی اور بربادی کا سبب بن رہا ہے .

Friday, 3 April 2026

!ایک تو یہ پڑھے لکھے نہیں

موجودہ حکمران ٹولے کے بارے میں عمران خان نے ایک مرتبہ کہا تھا. کہ ایک تو یہ پڑھے ،لکھے نہیں اور دوسرا یہ کوشش بھی نہیں کرتے . فارم (47), کے بل بوتے پر اقتدار میں آنے کے بعد ، ہر ہر موقع پر انھوں نے عمران خان کی اس بات کو سو فیصد درست ثابت کیا ہے . 
عوام حکمرانوں کے قول و فعل دونوں کو دیکھتی ہے . صرف بلند و بانگ دعوؤں کو نہیں . جب سے یہ شکست خوردہ ٹولہ اقتدار میں آیا ہے انھوں نے اپنی کارکردگی صرف اشتہاروں میں دکھانے کی کوشش کی . اربوں روپے کے اشتہارات ، اخبارات ، ٹی - وی اور بینروں ، بل بورڈز پر لگاۓ گۓ . اس سے کچھ لوگوں نے تو خوب مال بنایا . لیکن عوام کو کچھ بھی حاصل نہ ہوا . بلکہ حکمرانوں کے خلاف نفرت میں اضافہ ہی ہوا . 
عوام کی مشکلات بڑھ رہی ہیں جبکہ حکمران اور انکے بڑے ڈیڈی اپنے لیے نۓ جہاز خرید رہے ہیں . اسکے ساتھ ساتھ انتظامی مشینری اور ججوں کیلئے کروڑوں کی گاڑیاں لی جا رہی ہیں . وزیر اعظم ، پاکستان کے مسائل حل کرنے کی بجاۓ . دنیا کی فکر میں سارے عالم کے چکر لگا رہے ہیں . اور ساتھ ہی عوام کو قناعت پسندی کا درس بھی دے رہے ہیں . اسے کہتے ہیں . زخموں پر نمک چھڑکنا ! 
لیکن کیا کریں . یہ پڑھے لکھے جو نہیں .
ملک میں کرکٹ ہو رہی ہے . لیکن عوام کو گراؤنڈ میں جا کر میچ دیکھنے کی اجازت نہیں .
پاکستان کی عوام کے تمام مسائل حل کرنے کے بعد اب یہ امریکہ ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ بند کروانے میں اپنی ساری توانائیاں خرچ کر رہے ہیں . پہلے اسلام آباد میں چار ملکوں کی ایک کانفرنس بلائی . جس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا . پھر ڈپٹی وزیر اعظم اور وزیر خارجہ بھاگے بھاگے چین گۓ . وہاں سے ایک پانچ نکاتی اعلامیہ جاری ہوا . جن میں ان نکات کا کوئی ذکر نہیں . جو جنگ بندی کیلئے ایران نے پیش کیے . 
امن کیلئے مذاکرات وہی کروا سکتا ہے . جو غیر جانبدار ہو . پاکستان کی حکومت غیر جانبدار نہیں . کیونکہ چین سے جو اعلامیہ جاری کیا گیا . اس میں یہ ذکر ہی نہیں کہ جنگ کس نے شروع کی . نہ امریکہ اور اسرائیل کی ، ایران پر بلا جواز حملے کی مذامت کی گئی . جب آپ میں اتنی جرات نہیں کہ غلط کو غلط کہہ سکیں . تو آپ کیسے امن کیلئے تینوں فریقوں کو میز پر بٹھا سکتے ہیں . 
یہ صرف اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کی ایک کوشش ہے . اور حکومت اس کام کا کریڈٹ لینے پر بضد ہے . جو اسکے بس میں ہے ہی نہیں . 
بات پھر ادھر ہی ختم ہوتی ہے . جو مرشد نے کہی تھی . ایک تو یہ پڑھے .لکھے نہیں اور دوسرا یہ کوشش بھی نہیں کرتے !!!!!

Saturday, 28 March 2026

!شائقین کے بغیر کرکٹ

پی- ایس -ایل کے تمام میچ صرف دو شہروں ، لاہور اور کراچی میں کرواۓ جا رہے ہیں . پہلے یہ میچ چھ شہروں میں ہونے تھے . اور طرفہ تماشہ یہ ہے کہ شائقین کو گراؤنڈ میں آنے کی اجازت نہیں . 
اس کی وجہ یہ بیان کی جا رہی ہے کہ امریکہ ، اسرائیل ، ایران کی جنگ سے ملک میں سیکورٹی کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں . اگر سیکورٹی کا مسلہ اتنا شدید ہے تو میچ کرانے کی کیا ضرورت ہے؟  شائقین کے بغیر ،خالی اسٹیڈیم جب ساری دنیا میں دکھاۓ جائیں گے . تو پاکستان کا کیسا امیج دنیا کے سامنے جاۓ گا . کسی بھی کھیل کا اصل لطف شائقین کے جوش و جذبے کا مرہون منت ہوتا ہے . اگر کھلاڑیوں کو گراؤنڈ میں داد و تحسین دینے والا کوئی نہ ہو . تو وہ کیا کارکردگی دکھائیں گے .
ایسا لگتا ہے کہ سیکورٹی صرف بہانہ ہے . حکمرانوں کو اصل مسلہ شائقین سے ہے . انہیں ایک ڈر یہ  ہے کہ لوگ انکے خلاف کہیں نعرے بازی نہ کریں . حکومت مخالف اور عمران خان کے حق میں لگاۓ جانے والے نعروں سے بچنے کیلئے . اور دوسرا ایران کے حق میں اور اسرائیل و امریکہ کے خلاف نعروں کا اندیشہ تھا . یہی وجہ ہے کہ محسن نقوی نے شائقین کرکٹ کو اسٹیڈیم سے باہر رکھنے کا فیصلہ کیا ہے . 
اس گناہ بے لذت کا پاکستان کے بارے میں کوئی اچھا امیج دنیا میں نہیں جاۓ گا ....

Wednesday, 25 March 2026

!دال میں کچھ کالا ہے

 پاکستان کے خوشامند پسند اور فرمابردار میڈیا میں وزیر اعظم شہباز شریف کی ایک ٹویٹ کو لیکرمبارک سلامت کا شور برپا ہے .  جس میں شہباز شریف نے یہ کہا ہے کہ پاکستان ، ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کیلئے مذاکرات کی حمایت کرتا ہے اور اس میں اپنا کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہے . اس ٹویٹ میں وزیر اعظم نے امریکی صدر اور ایرانی وزیر خارجہ کو بھی ((ٹیگ ) کیا تھا . امریکی صدر نے تو اس ٹویٹ کا خیر مقدم کیا اور اسے ری ٹویٹ بھی کیا . لیکن ابھی تک ایرانی وزیر خارجہ کی طرف سے کسی رد عمل کا اظہار نہیں کیا گیا .
 وزیر اعظم نے ایک اور بھی ٹویٹ کی . جس میں کہا کہ انھوں نے سعودی والی عہد سے بات کی ہے اور انھیں پاکستان کی غیر مشروط حمایت کا یقین دلایا ہے اور اسکے ساتھ ساتھ سعودی عرب پر حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت بھی کی . وزیر اعظم نے یہ نہیں کہا کہ سعودی عرب یر حملے کس ملک نے کئیے . اور نہ انھوں نے ایران پر امریکی اور اسرائیلی بلا جواز حملوں کی کوئی مذمت کی .
یہ سوچنے کی بات ہے کہ ایک طرف آپ سعودی عرب پر ایرانی حملوں کی مذمت کر رہے ہیں . اور سعودی حکومت کو اپنی حمایت کا یقین دلا رہے ہیں . ایران کو دھمکی لگا رہے ہیں کہ ہمارا سعودی عرب کے ساتھ دفاھی معا یدہ ہے . دوسری طرف امن مذاکرات کیلئے اپنی خدمات بھی پیش کر رہے ہیں . کیا یہ تضاد نہیں ؟
جنگ بندی کیلئے مذاکرات کوئی غیر جانبدار ملک ہی کروا سکتا ہے . پاکستان اس جنگ میں غیر جانبدار نہیں . یوں محسوس ہوتا ہے کہ مذاکرات کی آڑ میں ایران کے خلاف بلوچستان کی طرف سے ایک نیا محاز کھولنے کی تیاری کی جا رہی ہے .
 عراقی کردوں کے انکار کے بعد ، سعودی پاک دفاہی معاہدے کو بنیاد بنا کر کوئی کاروائی کی جا سکتی ہے . ہو سکتا ہے کہ پاکستان اپنی فوج استعمال نہ کرے . بلکہ امریکی میرین ایک طرف گلف میں موجود ایرانی جزیروں پر حملہ کریں اور دوسری طرف بلوچستان سے ایران کی سرحد پر حملہ کیا جاۓ . اور ایران مخالف  بلوچوں کو ساتھ ملا کر ایران کے اندر افراتفری اور خانہ جنگی کروانے کی کوشش کی جاۓ  . الله نہ کرے کہ ایسا ہو . لیکن موجودہ رجیم سے کچھ بھی باید نہیں.  یہ اپنا اقتدار بچانے کیلئے کچھ بھی کر سکتے ہیں .

Sunday, 22 March 2026

!مکمل لوٹ مار پروگرام

ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی حملے کے بعد ، ایران نے جب جوابی کاروائی شروع کی تو اسرائیل کے ساتھ ساتھ انھوں نے کویت ، بحرین ، قطر ، متحدہ عرب امارات ، سعودی عرب اور اردن میں موجود امریکی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا . ایرانی افواج نے ان اڈوں پر نصب ریڈار اور انٹی میزائل بیٹریوں کو بھی نشانہ بنایا . ان اڈوں پر موجود ان انٹی میزائل سسٹم کا سب سے اہم مقصد ایران کی طرف سے اسرائیل کی طرح فائر کئیے جانے والے میزائلوں کو ٹریک کرنا اور انھیں راستے ہی میں تباہ کرنا تھا .  پچھلے سال جون میں ہونے والی ایران ، اسرائیل جنگ کے دوران بھی امریکی ان اڈوں یر نصب ان ریڈار سسٹم اور انٹی میزائل بیٹریوں سے  یہی کام لیتے رہے . 
پچھلے سال تو ایرانیوں نے ان امریکی اڈوں یر کوئی حملہ نہیں کیا . لیکن 28, فروری کو جب امریکہ اور اسرائیل نے ملکر ایران پر حملہ کیا . تو جنگ شروع ہونے کے تین دن کے اندر ہی ، ایرانیوں نے ان تمام امریکی اڈوں پر نصب ریڈار سسٹم کو مکمل طور پر تباہ کر دیا . انھوں نے کچھ انٹی میزائل بیٹریوں کو بھی نا کارہ بنا دیا . جو بیٹریاں بچ گئیں . وہ امریکی ان اڈوں سے اٹھا کر اسرائیل لے گۓ . تاکہ وہاں سے اسرائیل کا دفاع کیا جا سکے . اس پر ان ممالک نے بڑا واویلا کیا کہ ہم نے یہ اڈے اپنی حفاظت کیلئے امریکہ کو دئیے تھے . لیکن یہ ہماری حفاظت کیا کرتے . الٹا ہم ان کی حفاظت کر رہے ہیں . اس امریکی دھوکے بازی پر ہوش کے ناخن لینے کی بجاۓ . یہ عرب ممالک ایران پر گرج برس رہے ہیں . امریکہ اور اسرائیل کے بلا جواز حملے کی مذمت کرنے کی بجاۓ وہ ایران کو دھمکیاں لگا رہے ہیں . 
دو دن پہلے امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ ، کویت ، متحدہ عرب امارات اور اردن کو 17, ارب ڈالر کا اسلحہ فروخت کرۓ گا . یہ اسلحہ امریکہ زبردستی ان ممالک کو فروخت کر رہا ہے . اس میں ریڈار اور پٹریاٹ انٹی میزائل بیٹریاں شامل ہیں . جو پہلے بھی  ایران ان امریکی اڈوں پر تباہ کر چکا ہے . امریکہ اپنا نقصان اب ان عرب ممالک کے خزانے سے پورا کرنا چاہتا ہے . یہ شاہی خاندان ہنسی خوشی اپنا خزانہ لٹانے کو تیار بیٹھے ہیں . 
7, ارب ڈالر متحدہ عرب امارات ، 8, ارب ڈالر کویت اور 80, ملین ڈالر اردن ادا کرۓ گا . یہ خطیر رقم امریکہ گن پوئنٹ پر وصول کر رہا ہے .   اسکے علاوہ سعودی عرب ، قطر اور بحرین سے بھی خراج وصول کیا جاۓ گا .چند دنوں یا ہفتوں کے بعد ان ممالک کو بھی اسی طرح کا اسلحہ خریدنے کا حکم دیا جاۓ گا . ان ممالک کو اتنا اسلحہ نہ پہلے ضرورت تھا نہ اب ہے. لیکن امریکہ کو خوش رکھنا انکی مجبوری ہے . ورنہ انکی خاندانی حکومتیں قائم نہیں رہ سکتیں .
ایک عمانی صحافی کے مطابق امریکی صدر نے جی -سی -سی کے ممالک سے کہا ہے کہ اگر وہ چاہتے ہیں کہ امریکہ ، ایران کے خلاف جنگ جاری رکھے . تو وہ امریکہ کو 5, کھرب ڈالر ادا کریں . اور اگر وہ یہ چاہتے ہیں کہ جنگ روک دی جاۓ . تو پھر انھیں 2.5, کھرب ڈالر دینے ہونگے . یعنی مینوں نوٹ وکھا ، میرا موڈ بنے!!!!! 
امریکی صدر ان عرب ممالک کو کنگال کر کے چھوڑے گا .

Friday, 20 March 2026

!امریکی صدر نا قابل اعتبار ہیں

امریکی صدر نے اپنے (ٹروتھ سوشل ) اکاونٹ پر ایک لمبی چوڑی ٹویٹ کی ہے . جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اسرائیل نے ایران کی پارس گیس فیلڈ پر جو حملہ کیا ہے . اسکا امریکہ کو کوئی علم نہیں تھا . انھوں نے ایران سے اپیل کی ہے وہ قطر کی گیس فیلڈ پر مزید حملے نہ کریں . اب اسرائیل ، ایران کی گیس فیلڈ پر کوئی حملہ نہیں کرۓ  گا . قطری بڑے معصوم ہیں . انھیں تو اس اسرائیلی حملے کا کوئی علم نہیں تھا . اسلئیے ایران ان پر کوئی حملہ نہ کرۓ . اسکے ساتھ ساتھ انھوں نے ایران کو یہ دھمکی بھی لگائی کہ اگر ایران نے قطر پر مزید حملے کیے . تو امریکہ ایران پر ایسا حملہ کرۓ گا .  جو ایران کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہو گا . دوسری طرف امریکی یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ انھوں نے اب تک ایران پر نو ہزار حملے کیے ہیں اور ایران کی اینٹ سے اینٹ بجا دی ہے . اب کوئی ان سے پوچھے کہ اگر اپ نے ایران کو تباہ و برباد کر دیا ہے تو پھر اور کون سا ایسا ہتھیار رہ گیا ہے جو آپ استعمال کریں گے . یا پھر وہ ایران کو ایٹمی حملے کی دھمکی لگا رہے ہیں ؟
سعودی عرب میں بارہ مسلم ممالک کے  وزرا خارجہ کا  ایک اجلاس اٹھارہ مارچ کو ہوا . اس اجلاس میں ایران کی جانب سے خلیجی ممالک کے آئل اور گیس فیلڈ پر کیے جانے والے حملوں یر غور کیا گیا . یاد رہے کہ یہ حملے ، اسرائیل کی طرف سے ایران کی پارس گیس فیلڈ پر 
کیے جانے والے حملہ کے بعد کیے گۓ . اس اجلاس کے بعد ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا . جس میں ایران کی طرف سے قطر ، متحدہ عرب امارات ، کویت ، بحرین اور سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات یر حملے کی مذمّت کی گئی اور ایران سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ ان عرب ممالک پر حملے بند کرۓ. اس خطے میں اپنے حمایتی (حزب الله اور یمنی حو تیوں ) کی امداد بند کرۓ . آبناۓ ہرمز کی بندش ختم کرۓ . اور باب المندب کو بند کرنے کی دھمکیاں دینا بھی بند کرۓ . اسکے ساتھ ساتھ یہ دھمکی بھی لگائی کہ یہ ممالک ایران کے خلاف جوابی کاروائی کا حق رکھتے ہیں . 
ان سب ممالک کے وزرا خارجہ کو امریکہ اور اسرائیل کے خلاف ایک لفظ کہنے کی ہمت نہ ہوئی . جنھوں نے ایران پر بلا جواز حملہ کیا . جس کی وجہ سے یہ خطہ جنگ کی لپیٹ میں آیا ہوا ہے .
امریکی ڈاریکٹر آف نیشنل انٹلیجنس ، تلسی گبرڈ نے سینٹ کی انٹیلی جنس  کمیٹی کے ایک اجلاس میں ، روس ، چین ، شمالی کوریا ، ایران کے ساتھ ساتھ پاکستان کے میزائل پروگرام کو بھی امریکہ کیلئے خطرہ قرار دیا ہے . جب کہ اس رپورٹ میں بھارت کا کوئی ذکر نہیں ہے . جس کے میزائلوں کی رینج ، پاکستان کے میزائلوں سے زیادہ ہے . امریکی صدر کے پسندیدہ فیلڈ مارشل اور چہیتے شہباز شریف کا اس بارے میں ابھی تک کوئی بیان سامنے نہیں آیا . کیا ابھی بھی ٹرمپ کو نوبل امن ملنا چاہئیے ؟ 
ہمارے حکمرانوں کو یہ بات پلے باندھ لینی چاہئیے کہ امریکہ کسی کا دوست نہیں . اسکی خارجہ پالیسی ہمیشہ اپنے مفادات کے تابع ہوتی ہے .
ابھی تو صرف پاکستان کے میزائل پروگرام پر بات ہوئی ہے . کچھ عرصہ کے بعد پاکستان کا اٹیمی پروگرام بھی زیر بحث آ سکتا ہے .

Thursday, 19 March 2026

!ایران کے خلاف امریکی ،اسرائیلی جارحیت اور خلیجی ممالک

 سابق امریکی سیکٹری آف اسٹیٹ ،ہنری کسنجر نے ایک مرتبہ کہا تھا .  کہ امریکہ سے دشمنی آپکے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے .جبکہ امریکہ سے دوستی آپ کیلئے مہلک !
ایسا ہی کچھ خلیج کے عرب ممالک اور اردن کے ساتھ ہو رہا ہے . ان تمام ممالک نے امریکہ کو فوجی اڈے اس مقصد کیلئے دئیے تھے کہ اس دوستی کے عوض امریکہ انکی حفاظت کرے گا . لیکن جو کچھ ان ممالک کے ساتھ ہو رہا ہے . وہ اسکے بر عکس ہے . یعنی امریکہ کی  دوستی ان ممالک کیلئے مہلک ثابت ہو رہی ہے . اب تو ان ممالک کے حکومتی نمائیندے برملا یہ کہہ رہے ہیں کہ ہم نے یہ اڈے امریکہ کو اپنی حفاظت کیلئے دئیے تھے . لیکن یہ ہماری حفاظت کیا کرتے ،، الٹا ہم انکی حفاظت کر رہے ہیں . 
ایران نے جوابی کاروائی کرتے ہوۓ . جب ان اڈوں پر حملہ کیا تو عرب ممالک اور پاکستان میں انکے تنخوا داروں نے یہ واویلا کرنا شروع کر دیا کہ ایران ان ممالک کے ساتھ زیادتی کر رہا ہے . یہ اڈے ایران کے خلاف تو استعمال نہیں ہو رہے . جبکہ یہ حقیقت ہے کہ ان اڈوں سے امریکہ نے ایران کے خلاف فوجی کاروائی کی اور اب بھی ان اڈوں کو امریکہ ایران کے خلاف استعمال کر رہا ہے . دو دن پہلے ایران نے سعودی عرب میں ایک امریکی اڈے پر موجود فضا میں (ری فیولنگ) کیلئے استعمال ہونے والے پانچ جہاز تباہ کیے . جو ایران پر حملہ کرنے والے ایف تھرٹی فائیو جہازوں کو فضا میں  (ری فیولنگ) کی سہولت فراہم کرتے تھے . امریکی اخبار بھی اسکی تصدیق کر رہے ہیں کہ سعودی عرب میں موجود ان اڈوں کو ایران کے خلاف کاروائی کیلئے استعمال کیا جا  رہا ہے . 
خلیجی ممالک میں موجود ان اڈوں پر جو ریڈار سسٹم اور انٹر سپٹر نصب تھے . انکا مقصد صرف یہ تھا کہ ایران کی طرف سے اسرائیل پر جو میزائل داغے جائیں . انھیں راستے ہی میں تباہ کیا جا سکے . جب ایران نے ان امریکی اڈوں پر ریڈار سسٹم تباہ کر دئیے . تو امریکی تمام انٹر سپٹر میزائل ان اڈوں سے اٹھا کر اسرائیل لے گۓ . تاکہ اسرائیل کی حفاظت کی جا سکے . اسی سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ امریکہ کا اولین مقصد اسرائیل کی حفاظت تھا . اور یہی وجہ ہے کہ اب یہ عرب ممالک  دہائی دے رہے ہیں کہ امریکہ نے ہمیں بے یارو مدد گار چھوڑ دیا ہے اور ہم امریکی اڈوں کی حفاظت کرر رہے ہیں . 
ان تمام خلیجی ممالک میں جو خاندان مسند شاہی پر قابض ہیں . وہ وہی ہیں جن کے آباؤ اجداد کو انگریز مسلط کر کے گیا تھا . اس وقت بھی وہ انگریز کے وفا دار تھے اور آج انکی اولادیں بھی امریکہ اور برطانیہ کی وفادار ہیں . امریکہ اور برطانیہ کو خوش رکھنے کیلئے یہ سب اپنی تیل کی دولت ان ملکوں میں رکھتے ہیں . ان کو اپنے ملکوں میں فوجی اڈے بھی اپنے پیسوں سے بنا کردئیے ہیں . اور پھر ہر کچھ عرصے کے بعد ان سے اربوں ڈالر کا اسلحہ بھی خریدتے ہیں . ان عرب حکمرانوں کا مقصد صرف یہ ہے کہ امریکہ اور برطانیہ انکی شاہی حکومتوں کو برقرار رکھنے کیلئے انکی مدد کرتے رہیں . اسرائیل کے ساتھ بھی ان سب کے اچھے تعلقات ہیں . فلسطین کے مظلوم عوام کے ساتھ انہیں کوئی ہمدردی نہیں . ایران کو بھی یہ اسلئیے پسند نہیں کرتے کہ وہ فلسطین کی آزادی کی بات کرتےہیں . جب عمران خان وزیر اعظم تھے اور وہ ہر بین الاقوامی فورم یر کشمیر اور فلسطین کی بات کرتے تھے . تو ان ممالک کے حکمران عمران خان کو بھی کہتے تھے کہ فلسطین کے معاملے پر بات نہ کیا کریں .
ایران کے رہنماؤں اور عوام کی جرات ، ثابت قدمی اور استقامت نے اسرائیل اور امریکہ کے نا قابل شکست  ہونے کا تصور پاش پاش کر دیا ہے . ایرانیوں نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ دفاع کیلئے صرف اسلحہ ہی ضروری نہیں . بلکہ ہمت ، استقامت اور اپنی صلاحیتوں پر اعتماد بھی ضروری ہوتا ہے . ایک فون کال پر ڈھیر ہو جانے والے شائد یہ 
سمجھنے سے قاصر ہیں .


Wednesday, 11 March 2026

! حیران کن ایرانی کاروائیاں

 جس طرح ایران نے امریکی اور اسرائیلی حملے کا جواب دیا ہے .اسکی توقع دنیا میں کسی کو بھی نہیں تھی . امریکی صدر یہ اعلان کر رہے تھے کہ ایران چار دن بھی امریکہ اور اسرائیل کے سامنے نہیں ٹک سکے گا . ایرانی آعلی ،سیاسی اور فوجی قیادت کے ہلاک ہو جانے کے بعد ، ایرانی عوام اپنی حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکل آئیں گے اور ایرانی فوج ہتھیار پھینک کر امریکہ کے سامنے گھٹنے ٹیک دے گی .
لیکن بھاری نقصان اٹھانے کے باوجود جس طرح ایران نے جوابی کاروائی کا آغاز کیا . اس نے نہ صرف ساری دنیا کو حیران کیا .بلکہ امریکی صدر کو بھی حواس باختہ کر دیا . جنگ کو تین ،چار دن میں ختم کرنے کا دعویٰ کرنے والے . اب چار ہفتوں اور پھر جب تک ہمارے مقاصد پورے نہیں ہو جاتے .اس وقت تک جاری رکھنے کا اعلان کر رہے ہیں .
ایران کی سب سے اہم جوابی کاروائی ، ان امریکی ریڈار کی تباہی تھی . جو کویت ، قطر اور اردن میں نصب تھے . قطر میں موجود ایک امریکی ریڈار اے .این .ایس - ایف . پی . ایس - 132- تھا . اس ریڈار کی قیمت 1.1, بلین ڈالر تھی . یہ ریڈار پانچ ہزار میل کے دائرے میں ہر سمت سے آنے والے میزائلوں کو ٹریک کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا . اسکے علاوہ اردن میں موجود (تہاڈ ) (THAAD) انٹی میزائل سسٹم جو کے ایران سے آنے والے میزائلوں کو ٹریک کرنے اور انھیں اسرائیل تک جانے سے روکنے کیلئے نصب کیا گیا تھا ، اسے بھی تباہ کر دیا . اس سسٹم کی قیمت تین سو ملین ڈالر تھی .
اسکے ساتھ ساتھ ایران نے بحرین میں موجود پانچویں امریکی بحری بیڑے کے  ہیڈ کواٹر کو بھی نشانہ بنایا . یہ بیس اس خطے میں امریکی بحریہ کا سب سے بڑا اور ایک اہم ترین بحری اڈا تھا .
خلیج کے ممالک میں موجود تمام امریکی اڈوں کو بھی ایران نے ڈرونز اور میزائلوں کے ذریعے نشانہ بنایا . ان میں کویت ، قطر ، متحدہ عرب امارات ، سعودی عرب اور عراق میں امریکی فضائی اڈے شامل ہیں . اسکے ساتھ ساتھ اردن اور اسرائیل کو بھی نشانہ بنایا گیا . شروع میں تو امریکہ نے اپنے ان اڈوں کو بچانے کیلئے یہاں پر نصب انٹی میزائل انٹر سپٹر استعمال کیے . لیکن جب ایران نے اسرائیل پر ڈرونز اور میزائلوں کی بارش کی تو امریکہ نے خلیج کے ممالک میں موجود اپنے اڈوں سے یہ تمام انٹی میزائل انٹر سپٹر اسرائیل منتقل کر دئیے اور ان ممالک کو بے یارو مدد گار چھوڑ دیا . خلیج کے یہ ممالک اب یہ واویلا کر رہے ہیں کہ ہم نے امریکہ کو یہ اڈے اپنی حفاظت کیلئے دئیے تھے . جبکہ یہ ہماری حفاظت تو کیا کرتے . ہم انکی حفاظت کر رہے ہیں .
مغربی میڈیا ہمیشہ کی طرح جانبداری کا مظاہرہ کرتے ہوۓ . امریکی اور اسرائیلی کاروائیوں کو بڑھا چڑھا کر بیان کر رہا ہے . لیکن جس طرح اسرائیلی حکومت  نے ملک میں مکمل سنسر شپ عائد کی ہے . اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ ایرانی حملے کافی حد تک کار گر ثابت ہو رہے ہیں . 
اس میں شک نہیں کہ امریکہ ایک سپر پاور ہے اور اسرائیل کے ساتھ ملکر انکی طاقت ایران سے کئی گنا زیادہ ہے . ایران کے ہمساۓ میں کوئی بھی ملک اس قابل نہیں کہ وہ امریکہ اور اسرائیل کے مقابلے میں اسکی مدد کر سکے . اسکے باوجود جس طرح ایرانی افواج اور عوام اس جارحیت کا مقابلہ کر رہے ہیں . وہ بھی ایک انوکھی مثال ہے .
ایرانی یہ ثابت کر رہے ہیں کہ جنگ لڑنے کیلئے  صرف اسلحہ ہی کافی نہیں . بلکہ جرات ، بہادری ، ثابت قدمی ، صبر و استقامت اور مناسب حکمت عملی بھی ضروری ہے . ایرانی افواج اور قوم میں ان کی کوئی کمی نہیں . 
امریکی رعونت ، تکبر ، غرور اور نا قابل شکست ہونے کا گھمنڈ ، ایرانیوں نے پاش پاش کر دیا ہے . نہ صرف اس خطے بلکہ ساری دنیا میں  اس کے دوررس نتائج ہونگے !!!!!

Wednesday, 4 March 2026

ایران پر ایٹمی حملے کا خطرہ

 جب سے امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا ہے .ہر دن اس حملے کے بارے میں ایک نئی وضاحت سامنے آ رہی ہے . آج ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوۓ .امریکی صدر فرما رہے تھے کہ ہم نے ایران پر حملہ اس لیے کیا ہے کہ ہمیں یہ اطلاع ملی تھی کہ ایران ،امریکہ اور خلیج میں موجود امریکی اڈوں پر حملہ کرنے والا ہے . جب کے اسی دوران ایک دوسری تقریب میں ،امریکی ڈیفنس منسٹر (جنھیں آج کل منسٹر آف وار ) کہا جاتا ہے . یہ کہتے ہیں کہ کیونکہ اسرائیل نے ایران پر پہلے ہی حملہ کر دیا تھا . اور ہمیں یہ ڈر تھا کہ اب ایران امریکی اڈوں پر جوابی حملہ کر سکتا ہے . اسلئیے ہم نے بھی ایران پر حملہ کر دیا . اب ان دونوں میں سے کون سچ بول رہا ہے .اس کا فیصلہ آپ خود کر سکتے ہیں .
اس میں اب شک کی کوئی گنجائش نہیں کہ امریکہ اور اسرائیل نے پہلے ہی ایران پر حملہ کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا . مذاکرات کا ڈونگ صرف اسلئیے رچایا جا رہا  تھا کہ ایران کو بے خبری میں دبوچ لیا جاۓ . اس منصوبے میں (جی -سی -سی )کے عرب ممالک بھی پوری طرح شامل تھے .
خلیجی ممالک اب یہ واویلا کر رہے ہیں کہ ایران ہم پر کیوں حملہ آور ہے . امریکہ ہمارے ملکوں  میں موجود اڈوں سے تو کوئی کاروائی نہیں کر رہا . حالانکہ امریکہ ان  اڈوں میں موجود اپنے انٹی میزائل سسٹم سے اسرائیل کی طرف جانے والے ایرانی ڈرون اور میزائل گرانے کی پوری کوشش کر رہا ہے . اسکے علاوہ پچھلے سال ہونے والی ایران ،اسرائیل جنگ کے دوران ان امریکی اڈوں سے ،امریکی اور برطانوی ٹینکر جہاز ،اسرائیلی جہازوں کو فضا میں (ری فیول )کرتے رہے ہیں . اسکے بارے میں بینالاقوامی میڈیا میں تصویروں کے ساتھ خبریں چھپ چکی ہیں .اور ان عرب ممالک نے ان خبروں کی کبھی تردید نہیں کی .
امریکی اخبار (واشنگٹن پوسٹ )میں یہ خبر بھی چھپ چکی ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم کے ساتھ ساتھ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان بھی امریکی صدر پر ایران پر فوری حملہ کرنے کیلئے دباؤ ڈالتے رہے ہیں .
بہت سے امریکی سابق فوجی اور( سی -ائی -اے) کے سابق عہدیدار یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ امریکی صدر اور اسرائیلی وزیر اعظم کو اس حملے سے جو توقعات تھیں وہ اب تک پوری نہیں ہوئیں . انکا خیال تھا کہ سپریم لیڈر اور اعلی فوجی قیادت کے مارے جانے کے بعد ،ایرانی ہتھیار ڈال دیں گے اور کوئی ایسی قیادت سامنے آ جاۓ گی .جو امریکہ اور اسرائیل کے آگے سر تسلیم خم کر دے گی . ایسا ہونے کا ابھی تک کوئی امکان نظر نہیں آ رہا .  ایران ،اسرائیل اور امریکی اڈوں کو کامیابی سے نشانہ بنا رہا ہے . آبناۓ ہورمز کی بندش سے دنیا کو تیل اور گیس کی فراہمی بھی ایران نے معطل کر دی ہے . جس سے یورپ ،جاپان ،چین اور ایشا کے بہت سے ممالک میں نہ صرف تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے بلکہ انھیں یہ پریشانی بھی ہے کہ اگر یہ بندش زیادہ دیر قائم رہتی ہے تو انکی معیشت بری طرف متاثر ہو سکتی ہے .
اسرائیلی وزیر اعظم پیچھلے تیس سالوں سے اس کوشش میں مصروف تھے کہ کسی طرح امریکی مدد سے ایران  کی انقلابی حکومت کا خاتمہ کیا جاۓ . انھوں نے پچھلے سال جون میں بھی یہ کوشش کی . بارہ دنوں کی اس جنگ کے دوران بھی وہ یہ کوشش کرتے رہے کہ امریکہ بھی اس جنگ میں شامل ہو جاۓ . گو اس وقت امریکہ جنگ میں شامل تو نہ ہوا . لیکن امریکہ نے ایران پر ایک حملہ ضرور کیا . اس فضائی حملے کے بعد امریکی صدر نے یہ دعوه بھی کیا کہ انھوں نے ایران کا ایٹمی پروگرام مکمل طور پر تباہ و برباد کر دیا ہے . اب پھر کہہ رہے ہیں کہ امریکہ ایرانی ایٹمی پروگرام کو ضرور تباہ کرۓ  گا . جھوٹ اور ہٹ دھرمی کا اندازہ لگائیں کہ اگر پچھلے سال جون میں آپ نے ایک کام کر دیا تھا . تو پھر اب وہی کام دوبارہ کریں گے . اسکا مطلب یہ ہے کہ آپ نے پہلے بھی جھوٹ بولا اور آج پھر جھوٹ بول رہے ہیں .
کچھ امریکی تجزیہ نگار یہ کہ رہے ہیں کہ اگر امریکہ اور اسرائیل اس جنگ میں بھی وہ نتائج نہ حاصل کر سکے .جو وہ چاہتے ہیں . تو اسرائیلی وزیر اعظم ایران کے خلاف ایٹمی ہتھیار بھی استعمال کر سکتے ہیں . انکے بقول اسرائیلی وزیر اعظم پاگل ہو چکے ہیں . وہ اس مرتبہ ایران کی مکمل تباہی چاہتے ہیں . اگر کسی نے انکا ہاتھ نہ روکا تو وہ آخری حد تک جا سکتے ہیں . ان میں صداقت کتنی ہے .اسکے بارے میں ہم یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتے . لیکن ٹرمپ اور نیتن یاہو سے کچھ بھی بعید نہیں . وہ پاگل پن میں کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں .  

Monday, 2 March 2026

مستقبل کا نقشہ

 
سابق امریکی جنرل ویسلے کلارک اپنے ایک انٹرویو میں کہتے ہیں کہ 9/11 کے بعد وہ  پنٹاگون گۓ . وہاں پر انکی ملاقات ایک جونیر افسر سے ہوئی جو انکے ساتھ کام کر چکا تھا . جنرل کہتے ہیں کہ میں نے اس افسر سے پوچھا کہ کیا معاملات چل رہے ہیں .اس نے جواب دیا کہ ہم عراق پر حملہ کرنے جا رہے ہیں .
وہ کہتے ہیں کہ چند ہفتوں بعد میں دوبارہ پینٹاگون میں گیا تو وہاں پر اسی افسر سے ملاقات ہوئی .اس وقت تک افغانستان پر حملہ شروع ہو چکا تھا . میں نے اس سے پوچھا کہ کیا عراق پر بھی حملہ کیا جا رہا ہے . تو اس افسر نے ایک کاغذ میرے ہاتھ میں دیتے ہوۓ کہا کہ بات اس سے کہیں آگے بڑھ چکی ہے . اس کاغذ پر لکھا تھا کہ اگلے پانچ سالوں میں امریکہ نے سات ممالک میں حکومتوں کو تبدیل کرنا ہے . اس منصوبے کی ابتدا عراق سے کی جاۓ گی .اسکے بعد شام ، لبنان ،لیبیا ،صومالیہ ،سوڈان اور آخر میں ایران میں حکومت کی تندیلی عمل میں لائی جاۓ گی .آج جو کچھ ایران کے ہو رہا ہے .وہ اسی منصوبے کی آخری کڑی ہے . جو منصوبہ 2001, میں شروع کیا گیا .اسے 2026, میں مکمل کرنے کی کوشش جاری ہے . ایران کے خلاف اس امریکی اور اسرائیلی کاروائی میں خلیج کے عرب ممالک کی مکمل مدد اور رضامندی شامل ہے . امریکی اخبار ،واشنگٹن پوسٹ کی حالیہ خبر بھی اسکی تائید کر رہی ہے .جس میں یہ دعوا کیا گیا ہیں کہ سعودی والی عہد محمد بن سلمان بھی امریکی صدر ٹرمپ پر ایران کے خلاف کاروائی پر زور دیتے رہے .
خلیج کے تمام ممالک میں امریکی فوجی اڈے موجود ہیں . دلچسپ بات یہ ہے کہ دنیا کے جن ممالک میں امریکی فوجی اڈے ہیں .ان ممالک کو امریکہ ان اڈوں کے پیسے دیتا ہے .لیکن خلیجی ممالک امریکہ سے کچھ لینے کے بجاۓ . امریکہ کو اپنے پلے سے نہ صرف پیسے دیتے ہیں بلکہ ان اڈوں کیلئے زمین بھی فری میں دی ہے .اور انکوبنانے کیلئے سرمایہ بھی خود فراہم کیا ہے . اس کے ساتھ ساتھ یہ ممالک ہر تھوڑے عرصے بعد امریکہ کو خوش رکھنے کیلئے اس سے اربوں ڈالر کا اسلحہ بھی خریدتے ہیں . ان سب کا مقصد صرف یہ ہے کہ امریکہ انکی خاندانی حکومتوں کو قائم رکھنے میں انکی مدد اور حمایت جاری رکھے .
ایران کے خلاف اس امریکی اور اسرائیلی کاروائی کا کیا نتیجہ نکلتا ہے .اسکے بارے میں کوئی حتمی بات نہیں کی جا سکتی . منصوبہ تو انکا یہی ہے کہ ایران میں موجود حکومت کا تختہ الٹ دیا جاۓ .اور ایران میں ایک ایسی حکومت قائم کی جاۓ .جو امریکی مفادات کا تحفظ کرے اور اسرائیل کے ساتھ دوستانہ مراسم قائم کر سکے . 
امریکہ اور اسرائیل صرف جہازوں اور میزائلوں کے ذریعے ایران میں حکومت تبدیل نہیں کر سکتے . اس کیلئے انھیں ایران کے اندر سے مدد درکار ہو گی . جس طرح شام میں خانہ جنگی کروائی گئی .اسی طرح ایران میں بھی ہو سکتا ہے .شام میں کرد ،عرب ،سنی ،علوی اور دروز اس مقصد کیلئے استعمال کیے گۓ . گو تمام تر امریکی ،اسرائیلی ،ترکی اور خلیجی عرب ممالک کی امداد کے باوجود شام میں بشارالاسد حکومت کو ہٹانے میں 15, سال سے زیادہ کا عرصہ لگا .
ایران میں بھی کرد ،آزری ،عرب اور سیستان (ایرانی بلوچستان )میں کافی تعداد میں بلوچ آباد ہیں . امریکہ ان سب کو ایران کی حکومت کے خلاف 
استعمال کر سکتا ہے . ایران کے ساتھ ایک مسلہ یہ بھی ہے کہ اسکے تمام ہمسایہ ممالک ،اس کی مدد کرنے سے قاصر ہیں . ترکی اور پاکستان اس قابل ہیں کہ ایران کی مدد کر سکیں . لیکن ان دونوں ممالک کی حکومتیں امریکہ کی ناراضگی مول لینے سے ڈرتی ہیں .پاکستان میں تو حکومت کی اپنی بقا  امریکہ کی مرہون منت ہے . 
پاکستان اور ترکی کو یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اگر ایران میں حکومت کمزور ہوتی ہے اور حالات خانہ جنگی کی طرف جاتے ہیں تو سب سے زیادہ خطرہ ان دو ممالک کو ہو گا . ترکی میں کردوں کی اچھی خاصی تعداد آباد ہے . ترکی کو پہلے ہی کردوں سے بہت سے مسائل ہیں . پاکستانی حکومت کو بھی بلوچستان میں کافی عرصے سے مشکلات کا سامنا ہے .اگر ایرانی بلوچستان میں حالات خراب ہوتے ہیں تو اس کا اثر پاکستان میں بھی ہو گا . 
اوپر جو نقشہ دیا گیا ہے .اس پر غور کریں . یہ پاکستان کیلئے امریکی منصوبہ ہے . اس کا ایک مقصد خلیج کے پانیوں تک چینی رسائی کا راستہ روکنا ہے . اور دوسرا پاکستان کو توڑنا ہے . اگر ہمارے حکمران  (سیاسی و فوجی ) اس خوش فہمی کا شکار ہیں کہ امریکہ کا دست شفقت ہمیشہ انکے سر پر رہے گا . اور ایران  کی تباہی کے بعد راوی چین ہی چین لکھے گا . ایسا نہیں ہو گا . امریکہ طوطے کی طرح آنکھیں بدل لے گا . نہ صرف آپکا ایٹمی پروگرام آپکے ہاتھ سے نکل جاۓ گا . بلکہ آدھا ملک بھی آپکے ہاتھ سے نکل جاۓ گا . الله نہ کرے کہ کبھی ایسی نوبت آۓ .  کہتے ہیں  کہ جو تاریخ سے سبق نہیں سیکھتے . انکا انجام کچھ اچھا نہیں ہوتا !
عرض ہے کہ اگر ہمسایے کے گھر میں آگ لگی ہو تو آرام سے بیٹھنے کی بجاۓ اسکی مدد کرنی چاہیے .کیونکہ وہ آگ آپکے گھر تک بھی آ سکتی ہے .

 

Tuesday, 6 January 2026

!بس کے دشوار ہے

چینی دانشور اور فوجی حکمت عملی کے ماہر -سن زو - نے کہا تھا کہ جنگ کی بہترین حکمت عملی یہ ہے کہ دشمن کو بغیر لڑے .زیر کر لیا جاۓ .اور دوسرا یہ کہ اس طریقہ کار کو دوبارہ نہ دہرائیں .جس سے آپ نے ایک دفعہ فتح حاصل کی ہو .اپنی حکمت عملی حالات کے مطابق تبدیل کرتے رہیں .
پاکستان میں جاری کشمکش .دو دشمنوں کے درمیان جنگ نہیں .اور نہ کسی کی فتح اور شکست کا معاملہ ہے .یہ آئین ،قانون،انصاف اور بنیادی انسانی حقوق کا مسلہ ہے .اوپر بیان کردہ ،چینی دانشور کے قول کو آپ یہاں بھی دانشمندی سے استعمال کر سکتے ہیں .یعنی ڈنڈے کے زور پر نہیں .بلکہ خلوص نیت سے آپ عوام کے بنیادی حقوق دے کر .ان کے دل جیت سکتے ہیں .
ایوب خان کے مارشل لاء سے لیکر ، آج کے دوغلے نظام کا جائزہ لیں .تو یہ حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے کہ ہمارے خود ساختہ ریاستی ستون ،اسی  فرسودہ طریقہ کار پر عمل پیرا ہیں .جو بار بار ناکام ثابت ہو چکا ہے.
 اس وقت پاکستان میں جو کچھ ہو رہا ہے . یہ کسی ریاستی ادارے یا خدا نا خواستہ ،ریاست کے خلاف کوئی جنگ نہیں  .یہ عوام کی اپنے حقوق کیلئے جدوجہد ہے .عوام اپنے جائز حقوق مانگ رہے ہیں .اسکو ریاست مخالف یا کسی ریاستی ادارے کے خلاف قرار دینا .عوام کے شعور کی توہین ہے . 
پاکستان کے مقتدر حلقے ،جن میں سیاستدان ،نوکر شاہی اور فوجی جرنیل سب شامل ہیں .اس وقت اپنی
 نا قص کارکردگی کو ،ریاست ، اسلام اور حب الوطنی کے گھسے پٹے نعروں کے پیچھے نہیں چھپا سکتے .آپ کو سچ بولنا ہو گا .
عوام کا آپ پر اعتماد صرف اس صورت بحال ہو سکتا ہے .جب آپ اپنی باتوں سے نہیں بلکہ عمل سے ثابت کریں کہ آپ واقعی پاکستان کے پچیس کروڑ لوگوں کے ہمدرد ہیں .اس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ عوام کا مینڈیٹ انھیں واپس کریں .اور آپ وہ کریں جس کے آپ ماہر ہیں .
مرزا غالب کا ایک شعر ہے .
بس کے دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا 
آدمی کو بھی میسر نہیں انسان ہونا !

Monday, 5 January 2026

When Power Panics, the Story Is Already Slipping Away

 The panic triggered by “IT IS OVER” by Zorain Nizamani is not about the text itself; it is about what the text represents. States that are confident in their legitimacy do not fear essays. They rebut them, ignore them, or debate them. Panic, by contrast, is the reflex of power that no longer trusts its own story.

The reaction suggests an establishment that senses its narrative authority weakening. For decades, control in Pakistan rested not only on institutions but on the ability to define reality—what counted as patriotism, dissent, and national interest. That control is now under strain. When a piece of writing provokes anxiety rather than argument, it signals fear of resonance: the realization that the words articulate what many already feel but had not seen so plainly expressed.

Instead of persuasion, the instinct appears to be suppression. This shift is revealing. Strong narratives invite scrutiny because they expect to survive it. Weak narratives avoid scrutiny because exposure risks collapse. By reacting defensively, the establishment inadvertently confirms the critique it seeks to silence: that it relies increasingly on coercion rather than conviction.

Ironically, such responses often amplify the message. In the digital age, suppression validates dissent. It tells the public that something here is dangerous not because it is false, but because it rings true. Every attempt to silence reinforces the perception of insecurity.

This is not an admission of defeat, but it is an admission of doubt. The establishment may still control the state, but moments like this suggest it is losing confidence in its ability to control belief. And when power begins to fear words, it is usually because the story it tells no longer explains the reality people are living.