Sunday, 26 April 2026

پاکستان: نظام ٹوٹ نہیں رہا—خاموشی سے بکھر رہا ہے

پاکستان میں جس طرح کے حالات پیدا ہو چکے ہیں . یہ ماضی قریب کے اقدامات کا کیا دہرا نہیں . بلکہ دہائیوں کی اندرونی اور بیرونی  مداخلت کا نتیجہ ہیں . اندرونی طور پر فوج کی غیر ضروری مداخلت اور بیرونی طور پر امریکہ کی اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے مداخلت .
حالات جس نہج پر آ چکے ہیں .اب بھی اگر مقتدر حلقے یہ سمجھتے ہیں کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ حالات خود بخود بہتر ہو جائیں گے . اور نظام "مستحکم " ہو جاۓ گا . یہ محض ایک خوش فہمی ہے . جو کچھ سامنے آ رہا ہے . وہ خاموش مگر بہت زیادہ خطرناک ہے .یہ ایک دھیمی جلتی ہوئی کیفیت ہے کہ  جس میں امیر اور غریب کے درمیان خلیج بڑھتی جا رہی ہے . اور اکثریت معاشی دباؤ ،سہنے کے  قابل نہیں رہی .
مہنگائی نے صرف قیمتیں ہی نہیں بڑھائیں . اس نے سماجی معائدہ ہی بدل دیا ہے . عام آدمی کیلئے زندگی مشکل سے مشکل تر ہوتی جا رہی ہے . خوراک ، بجلی ،گیس ، پیٹرول ، ڈیزل اور کراۓ . ... سب  کچھ دسترس سے باہر ہوتا جا رہا ہے . دوسری طرف ، اشرافیہ کیلئے نظام اب بھی کام کر رہا ہے . "محفوظ اثاثے "،پالیسی تک رسائی ، آمدنی میں بے تحاشا اضافہ اور بڑے جھٹکوں سے بچاؤ ". یہ تضاد اب چھپا ہوا نہیں .
بلکہ یہ روز مرہ کی ایک حقیقت ہے . اور یہی چیز اسے سیاسی طور پر زیادہ خطرناک بناتی ہے .
ایسے حالات کا نتیجہ فوری افرا تفری نہیں ہوتا . اور نہ اس سے ملک کی جغرافیائی سرحدوں کو  کوئی خطرہ ہو سکتا ہے .  اب تک تو نظام اندرونی دباؤ کو جذب کر  رہا ہے . ایسا اس وقت  تک رہے گا . جب تک کہ نظام  کئی  جگہوں سے رسنا نہ شروع  کر دے . جو کچھ ہم اس وقت دیکھ رہے ہیں .یہ "استحکام "نہیں . بلکہ ایک انتہائی ظالمانہ اور بے رحم کنٹرول کے ذریعے حاصل کیا گیا  وقتی توازن ہے .
لیکن یہ توازن کمزور ہے . کیونکہ یہ ایک ایسی چیز پر قائم ہے . جو تیزی سے ختم ہو رہی ہے . اور  وہ ہے " اعتماد ".
اگر حالات میں کوئی مثبت تبدیلی نہیں آتی .تو آنے والے مہینوں میں ایک منظر  بار بار دہرایا جاۓ گا . احتجاج ہونگے اور جلد دباۓ جائیں گے .معاشی مسائل سڑکوں پر آئیں گے .مگر نظام کو گرانے کی حد تک نہیں   پہنچیں گے . ریاست ہر حال میں انتظامی طاقت کے زریعے حالات کو قابو میں رکھنے کی کوشش کرے گی .راولپنڈی اور اسلام آباد میں بے چینی کو سختی سے کنٹرول کیا جاۓ گا .لاہور سیاسی دباؤ کا مرکز بنا رہے گا . جبکہ کراچی میں یہ دباؤ معاشی سرگرمیوں ، ہڑتالوں اور کاروباری رکاوٹوں ،کی صورت میں ظاہر ہو گا . 
آج کا سیاسی نظام ایک بنیادی عدم توازن کا شکار ہے .کوئی بھی بڑا فریق ایسا نہیں ہے . جس کے پاس  بیک وقت ، ادارہ جاتی طاقت اور  عوامی حمایت دونوں ہوں . عمران خان کے پاس اب بھی عوامی مقبولیت موجود ہے .لیکن ان کیلئے سیاسی گنجائش محدود کر دی گئی ہے . حکومتی ڈھانچہ اختیار تو رکھتا ہے .مگر عوامی اعتماد کھو چکا ہے . خاص طور پر جب مہنگائی روز مرہ زندگی کو متاثر کر رہی ہو . عدلیہ بھی ایک غیر جانب دار ثا لث کے بجاۓ . ایک فریق کے طور پر دیکھی جا رہی ہو . ان سب کا نتیجہ ایک ایسا نظام ہے . جو تناز عات کو سنبھال تو رہا ہے .لیکن ان کو حل کرنے سے قاصر ہے .
پاکستان میں حالات خطرناک حد تک قابو سے باہر ہو سکتے ہیں . جب تین چیزیں بیک وقت ہو جائیں . پہلی :  جب معاشی دباؤ صرف غریب تک محدود نہ رہے . بلکہ متوسط طبقہ ، تاجر ، تنخواہ دار افراد بھی پوری شدت سے متاثر ہوں .  دوسری : جب سیاسی نظام لوگوں کو تبدیلی کا کوئی قابل اعتماد راستہ نہ دے . جب  انتخابات ، عدالتیں اور ادارے ، بے معنی محسوس ہونے لگیں .اور تیسری : جب خود طاقت وار حلقوں کے اندر اختلافات کھل کر سامنے آنے لگیں اور یکسوئی ختم ہو جاۓ .
اگر یہ تینوں عوامل اکھٹے ہو جائیں . جیسا کہ نظر آ رہا ہے کہ ہو رہے ہیں . تو ملک ایک طویل عدم  استحکام کے دور میں داخل ہو سکتا ہے . اس حکومت کے پاس ملک کے مسائل کا کوئی حل نہیں .ان کے پاس ریاست کی طاقت ہے جسے یہ اب تک بے دریغ استعمال کرتے آ رہے ہیں .  آگے بھی یہ ایسا ہی کریں گے . جس سے ملک میں بد امنی مزید بڑے گی .
ایک دوسرا راستہ بھی موجود ہے . مگر اس کیلئے جو چیز درکار ہے . وہ کم نظر آ رہی ہے . یعنی ایک سنجیدہ تبدیلی : سیاسی تناؤ کو کم کرنا .قابل اعتماد انتخابات  اور اشرافیہ کی جانب سے واضح قربانی ....یہ سب عوامی غصے میں کمی لا سکتے ہیں .معمولی اقدامات بھی اعتماد کو کچھ حد تک بحال کر سکتے ہیں اور عدم  استحکام کے اس چکر کو سست کر سکتے ہیں .
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کا نظام بحرانوں کو    سنبھا لنے کیلئے بنایا گیا ہے . حل کرنے کیلئے نہیں .یہ ماڈل تب تک چلتا ہے .جب تک معاشی دباؤ قابل برداشت ہو  اور نظام پر اعتماد باقی ہو . آج دونوں چیزیں کمزور پڑ چکی ہیں .
نظر تو یہی آتا ہے کہ بے چینی بڑھے  گی .  مگر ایک ہی لہر کی صورت میں نہیں .یہ وقفے وقفے سے آۓ  گی اور ہر بار نظام کو پہلے سے کمزور کرتی جاۓ گی . اصل سوال یہ نہیں کہ پاکستان کو مشکلات کا سامنا ہو گا یا نہیں . اصل سوال یہ ہے کہ کیا اقتدار میں بیٹھے لوگ بر وقت یہ سمجھ پائیں گے کہ صرف کنٹرول کافی نہیں .اور یہ کہ ایک قابل اعتبار نیا توازن پیدا کیے بغیر ، نظام پر دباؤ بڑھتا ہی جاۓ گا .
نظام اچانک نہیں ٹوٹتے . 
بلکہ وہ ، آ ہستہ آ ہستہ دباؤ برداشت کرنے کی صلاحیت کھو دیتے ہیں .

No comments:

Post a Comment