امریکہ اور اسرائیل نے جب ایران کے خلاف یہ جنگ شروع کی تو انکے چار بنیادی مقاصد تھے .
ایران کے نیوکلیر انرچمنٹ پروگرام کو مکمل ختم کرنا .
مشرق وسطیٰ میں ایرانی اتحادیوں کیلئے . ایران کی حمایت کو ختم کرنا .
ایران کی میزائل بنانے اور انکو لانچ کرنے کی صلاحیت کو تباہ کرنا .
اور
ایران میں حکومت کی تبدیلی .
اب تک کی صورت حال کا اگر جائزہ لیا جاۓ . تو یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ امریکہ اور اسرائیل ابھی تک ان چار مقاصد میں سے کوئی ایک بھی حاصل کرنے میں نا کام رہے ہیں . اگرچہ ایرانیوں کو شدید نقصانات کا سامنا کرنا پڑا . علی خامنائی کے ساتھ ساتھ بڑی تعداد میں انکے فوجی اور سیاسی رہنما شہید کر دئیے گے . لیکن اتنے بڑے نقصان کے با وجود ، ایرانیوں نے بڑی ثابت قدمی اور جرات کا مظاہرہ کیا . ایرانی قوم انتشار کا شکار ہونے کی بجاۓ . متحد ہو گئی .
امریکہ اور اسرائیل کا خیال تھا کہ لیڈر شپ کے مارے جانے کے بعد ، ایران میں معاشی مشکلات سے تنگ عوام سڑکوں پر نکل آئی گی . اسطرح انھیں ایران میں خانہ جنگی کروانے کا موقعہ مل جاۓ گا . جس طرح انھوں نے عراق، شام ، لیبیا ،سوڈان ، صومالیہ اور یمن کا حال کیا . اسی طرح ایران کو بھی مختلف ، ایک دوسرے سے باہم دست و گریبان گروپ ، تقسیم کر دیں گے .
ایرانی قوم کے اتحاد اور جذبہ حب الوطنی نے ، امریکہ اور اسرائیل کا یہ منصوبہ بھی نا کام بنا دیا .
ابناۓہرمز ابھی تک بند ہے . امریکی صدر اپنی تمام تر طاقت اور اشتعال انگیز دھمکیوں کے با وجود ، اس سمندری راستے کو کھلوانے میں نا کام ہیں . ایک طرف اسرائیل ہے .جو ہر صورت اس جنگ کو طول دینے چاہتا ہے . دوسری طرف اقتصادی حقائق ہیں .جو جنگ بندی کا تقاضا کرتے ہیں . امریکی قیادت ، اسرائیل اور ساری دنیا کو در پیش اقتصادی مشکلات میں کوئی توازن قائم کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہے .یہی امریکی پالیسی کا وہ تضاد ہے . جو جنگ بندی میں رکاوٹ بنا ہوا ہے .
ایران کی دس نکاتی تجویز جو اسلام آباد مذاکرات کے پہلے راؤنڈ سے پہلے پیش کی گئیں . مزید مذاکرات کی بنیاد ہیں .لیکن یہ دس نکات ، کئی ایسی شرائط پر مشتمل ہیں جن کو امریکہ بار بار مسترد کر چکا ہے . ایران کا مطالبہ ہے کہ ، ایران پر لگی تمام ، بنیادی اور ثانوی پابندیاں ختم کی جائیں . آبناۓ ہرمز پر ایرانی کنٹرول تسلیم کیا جاۓ . مشرق وسطیٰ سے امریکی فوجی اڈوں کا خاتمہ ، ایران اور اسکے اتحادیوں پر حملوں کا روکنا ، ایران کے سو بلین سے زائد منجمد اثاثوں کو واگزار کرنا اور کسی بھی معائدے کیلئے ،اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار داد ، یہ گارنٹی دے کہ آئندہ ، ایران پر حملہ نہیں کیا جاۓ گا .
اب یہ ٹرمپ انتظامیہ پر منحصر ہے کہ کیا وہ ایران کو یہ رعایتیں دینے پر تیار ہے ؟ پھر اسرائیل کا کیا کردار ہو گا . جس نے ایران پر دوبارہ حملے شروع کرنے کی دھمکی دی ہے .ایران نے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ جب تک چاہیں ، آبناۓ ہرمز کو بند رکھ سکتے ہیں .عالمی معیشت جو پہلے ہی دباؤ کا شکار ہے اور کتنا عرصہ برداشت کر سکتی ہے .امریکہ کی سب سے زیادہ ذمہ داری ہے کہ وہ اسکا حل نکالے . اس سے پہلے کہ ایک عالمی معاشی بحران جنم لے .
امریکی صدر نے ایک بار پھر جنگ بندی میں تو سیع کر دی ہے . اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکی صدر اس بحران سے نکلنا چاہتے ہیں . لیکن وہ ایک ایسی ڈیل چاہتے ہیں کہ جس میں انھیں یہ کہنے کا موقعہ مل سکے کہ انہوں نے اپنے مقاصد حاصل کر لیے ہیں .
ایرانی، امریکی صدر پر کسی صورت اعتبار کرنے کو تیار نہیں . پاکستانی اسٹبلشمنٹ کے پاس ایسی کوئی صلاحیت نہیں کہ وہ ایران کو کوئی مضبوط گارنٹی دے سکیں . اسکے لیے ضروری ہے کہ روس ، چین ، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے ملکر کوئی ایسا منصوبہ پیش کریں .کہ اگر اس پر اتفاق ہو جاۓ . تو ایران کو یہ گارنٹی ہو کہ پھر اس پر امریکہ اور اسرائیل حملہ نہیں کریں گے اور جو بھی معائدہ ہو اس پر عمل درآمد کیا جاۓ گا .
اب تک کی صورت حال کے مطابق ایران کا پلا بھاری ہے . امریکہ اور اسرائیل اپنے وہ مقاصد حاصل کرنے میں نا کام رہے . جن کو بنیاد بنا کر انھوں نے یہ جارحیت کی تھی . ایران میں اسلامی حکومت قائم ہے . ملک میں کوئی افراتفری نہیں . ایران کی دفاہی صلاحیت برقرار ہے . اور سب سے بڑھ کر ایرانی قوم پہلے سے زیادہ متحد ہو چکی ہے .
امریکہ اور ایران ،دونوں یہ چاہتے ہیں کہ جنگ ختم ہو . اب دیکھنا یہ ہے کہ دونوں فریق ایک دوسرے کو کیا رعایتیں دے سکتے ہیں . فیصلہ کچھ لو . کچھ دو کی بنیاد پر ہو گا . اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ جو کچھ ایرانی سنتالیس سالوں میں مذاکرات سے حاصل نہیں کر سکے .وہ انھوں نے اس جنگ سےتقریبآ حاصل کر لیا ہے . اگر امریکہ ایرانی ایٹمی انرچمنٹ پروگرام کو محدود کرنا چاہتا ہے .تو اسے ایران پر سے اقتصادی پابندیاں ہٹانا ہونگی . اگر ایرانی اور کچھ بھی حاصل نہ کر سکیں .صرف اقتصادی پابندیوں کا خاتمہ ہو جاۓ . یہ بھی ایران کی ایک بہت بڑی کامیابی ہو گی !!!!
No comments:
Post a Comment