انتیس مئی ، 2022، کو اس وقت کے وزیر اعظم شہباز شریف ، جو خیر سے آج بھی وزیر اعظم پاکستان ہیں . نے کہا تھا کہ وہ اپنے کپڑے بیچ کر عوام کو سستے آٹے کی فراہمی یقینی بنائیں گے . یہ وہی صاحب ہیں جو کہتے تھے کہ وہ زر بابا کو ، لاہور ، کراچی کی سڑکوں پرگسیٹیں گے اور انکا پیٹ پھاڑ کر غریبوں کی لوٹی ہوئی دولت نکال کر عوام کے قدموں میں ڈھیر کر دیں گے .
پھر چشم فلق نے ایک عجیب نظارہ دیکھا . کہ جن کو سڑکوں پر گھسیٹنا اور جن کے پیٹ پھاڑ کر عوام کی لوٹی ہوئی دولت واپس لانی تھی . انھیں کے ساتھ مل کر عوام کے منڈیٹ پر ڈاکا ڈالا . اور انھیں طاقتوں کے قدموں میں بیٹھ گۓ . جنھیں پاکستان کی تباہی اور بربادی کا ذمہ دار ٹھراتے تھے .
بجلی ، گیس ، پیٹرول ،ڈیزل ،ٹرانسپورٹ اور خوراک ،غرض ہر چیز عوام کی دسترس سے دور ہو چکی ہے . جتنی بجلی ہم استعمال کرتے ہیں . اس کی قیمت سے زیادہ بل میں ٹیکس شامل ہوتا ہے .میرا اس مہینے کا بل 2293، روپے ہے . جبکہ جو بجلی استعمال ہوئی .اسکی قیمت 1106، روپے اور باقی 1187، روپے ٹیکس ہے .ہر گھر کا بل اسی طرح کا ہے . یہی حال گیس کا ہے .
وزیر اعظم صاحب نے اپنے کپڑے بیچ کر غریب عوام کی مدد کرنے کا دعوا کیا تھا . لیکن انھوں نے تو غریب عوام کے ہی کپڑے اتروا دئیے ہیں . اور ساتھ میں عوام سے مزید قربانی کے تقاضے بھی کیے جا رہے ہیں . کیا ملک کیلئے قربانی دینا صرف عوام کا فرض ہے ؟

No comments:
Post a Comment