Friday, 22 May 2026

تھیوسیڈائڈز ٹریپ اور پاکستان: کیا ریاست ایک نئی سیاسی قوت سے خوفزدہ ہے؟


یونانی مفکر (Thucydides) کی مشہور (Thucydides Trap)“تھیوسیڈائڈز ٹریپ” تھیوری بنیادی طور پر عالمی سیاست کو سمجھنے کے لیے پیش کی گئی تھی۔ اس کا مرکزی خیال یہ ہے کہ جب ایک نئی طاقت ابھر رہی ہوتی ہے تو پہلے سے موجود طاقت اسے اپنے اقتدار کے لیے خطرہ سمجھنے لگتی ہے۔ یہی خوف اکثر تصادم کو جنم دیتا ہے۔ تھیوسیڈائڈز نے اس تصور کو سپارٹا اور ایتھنز کی جنگ کے تناظر میں بیان کیا تھا، مگر وقت کے ساتھ یہ نظریہ صرف بین الاقوامی تعلقات تک محدود نہیں رہا۔ آج اسے داخلی سیاست، ریاستی طاقت اور سماجی تبدیلیوں کو سمجھنے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔
اگر اس تھیوری کو پاکستان کے موجودہ سیاسی حالات پر منطبق کیا جائے، تو ایک دلچسپ اور کسی حد تک تشویشناک تصویر سامنے آتی ہے۔
پاکستان میں اصل تنازع شاید صرف ایک سیاسی جماعت یا ایک فرد کا نہیں رہا، بلکہ یہ پرانے طاقت کے ڈھانچے اور ابھرتی ہوئی نئی سیاسی حقیقت کے درمیان کشمکش بنتا جا رہا ہے۔ ایک طرف وہ روایتی نظام ہے جو دہائیوں سے اقتدار، اداروں، سیاسی بیانیے اور ریاستی طاقت پر اثر اندازہوتا  رہا ہے۔ بلکہ اس وقت تو اپنی پوری جابرانہ طاقت سے ریاست کے پورے ڈھانچے کو گرفت میں لے چکا ہے۔دوسری طرف عمران خان   اور اس کے گرد جمع ہونے والی نوجوان نسل ہے، جو نہ صرف پرانے سیاسی طریقۂ کار کو چیلنج کر رہی ہے بلکہ ریاست اور سیاست کے درمیان تعلق کی نئی تعریف بھی پیش کر رہی ہے۔
یہ معاملہ صرف ایک مقبول لیڈر تک محدود نہیں رہا ۔ اصل تبدیلی سماجی اور آبادیاتی ہے۔  جو پاکستان میں خاموشی سے ایک نئی سیاسی طاقت پیدا کرچکی ہے۔ پاکستان کی اکثریت نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ یہ نسل روایتی میڈیا سے زیادہ سوشل میڈیا سے متاثر ہوتی ہے،  ریاستی بیانیے کو بغیر سوال قبول نہیں کرتی، اور سیاست میں اپنی براہِ راست شمولیت چاہتی ہے۔سیاسی معلومات تک براہِ راست رسائی رکھتی ہے، اور پرانی سیاسی وفاداریوں سے کم وابستہ ہے۔ یہی تبدیلی موجودہ طاقت کے مراکز کے لیے سب سے بڑا چیلنج بنتی دکھائی دیتی ہے۔
ایسے ماحول میں جب اقتدار پر قابض حلقے یہ محسوس کرتے ہیں کہ آزاد سیاسی عمل ان کی گرفت کمزور کر سکتا ہے، تو وہ اکثر “سیاسی بقا” کے موڈ میں چلے جاتے ہیں۔  یہی وہ مرحلہ ہوتا ہے جہاں سیاسی انجینئرنگ، قانونی رکاوٹیں، میڈیا کنٹرول، مخالف قیادت کی گرفتاری، اور انتخابی قواعد میں تبدیلی جیسے اقدامات سامنے آتے ہیں۔ اگر واقعی ووٹنگ کی عمر بڑھانے جیسے خیالات زیرِ غور آرہے  ہیں، تو یہ محض ایک انتظامی تبدیلی نہیں بلکہ اس خوف کا اظہار  ہے  کہ نوجوان ووٹرز سیاسی طاقت کا توازن بدل سکتے ہیں۔
یہی مقام ہے جہاں پاکستان کا موجودہ بحران “تھیوسیڈائڈز ٹریپ” سے مشابہ نظر آتا ہے۔ کیونکہ یہاں بھی بنیادی عنصر طاقت نہیں بلکہ خوف ہے — اقتدار کھونے کا خوف، بیانیہ ٹوٹنے کا خوف، اور ایک نئی سیاسی حقیقت کو قبول نہ کر پانے کا خوف۔ہماری تاریخ میں ایسا پہلے بھی ہو چکا ہے . مشرقی پاکستان کی علیحدگی بھی  اس وقت اقتدار پر قابض گروہ کے اسی خوف کا نتیجہ تھی ۔
تاہم داخلی سیاست میں اس “ٹریپ” کا نتیجہ ہمیشہ روایتی جنگ نہیں ہوتا۔ یہاں تصادم کی شکل مختلف ہوتی ہے۔ ادارے کمزور ہوتے ہیں، سیاسی تقسیم بڑھتی ہے، معیشت غیر یقینی کا شکار ہوتی ہے، اور سب سے خطرناک بات یہ کہ عوام کا نظام پر اعتماد آہستہ آہستہ ختم ہونے لگتا ہے۔ ریاست بظاہر چلتی رہتی ہے، مگر اس کی جائز ، قانونی اور اخلاقی  حیثیت  مسلسل کمزور ہوتی جاتی ہے  ۔
تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ کوئی بھی ریاست صرف طاقت کے ذریعے طویل عرصے تک بدلتے ہوئے سماجی رجحانات کو نہیں روک سکتی۔ اگر ایک نئی سیاسی لہر صرف کسی ایک شخصیت پر نہیں بلکہ آبادیاتی، معاشی،سیاسی  اور فکری تبدیلیوں پر کھڑی ہو، تو اسے دبانے کی ہر کوشش وقتی ثابت ہو سکتی ہے۔ طاقت وقتی خاموشی تو پیدا کر سکتی ہے، مستقل اتفاق و اتحاد  اور یکجہتی  پیدا نہیں کر سکتی ۔اور نہ معاشی ترقی کو ممکن بنایا جا سکتا ہے  ۔
پاکستان شاید اسی دوراہے پر کھڑا ہے۔ سوال صرف یہ نہیں کہ آج اقتدار کس کے پاس ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا موجودہ نظام نئی نسل کی سیاسی خواہشات کو اپنے اندر جذب کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، یا وہ ہر ابھرتی ہوئی عوامی طاقت کواپنی بقا کیلئے خطرہ   سمجھ کر اس کے خلاف مزاحمت کرتا رہے گا؟
کیونکہ جب ریاستیں اپنے ہی عوام ،خاص طور پر نوجوانوں سے خوفزدہ ہونے لگیں، تو مسئلہ صرف سیاست کا نہیں رہتا — یہ مستقبل کے بحران کی علامت بن جاتا ہے۔ پاکستان میں کچھ ایسا ہی ہوتا نظر آ رہا ہے  ۔

No comments:

Post a Comment