“بادشاہوں کا یہ دستور نہیں کہ وہ بادشاہوں کو قتل کریں” —
یہ صرف ایک جملہ نہیں بلکہ اقتدار کے ایک قدیم اصول کی عکاسی کرتا ہے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ حکمران ایک دوسرے سے جنگ کر سکتے ہیں، انہیں قید کر سکتے ہیں، حتیٰ کہ اقتدار سے ہٹا بھی سکتے ہیں، مگر ایک حد کے بعد وہ ایک دوسرے کی سیاسی حرمت برقرار رکھتے ہیں، کیونکہ اس روایت کے ٹوٹنے سے خود اقتدار کی ساکھ کمزور ہو جاتی ہے۔
اگر اس قول کو علامتی طور پر پاکستان کے موجودہ حالات پر لاگو کیا جائے تو بہت سے لوگ یہ محسوس کرتے ہیں کہ عمران خان کے ساتھ جو سلوک ہو رہا ہے، وہ اسی غیر تحریری اصول کے خاتمے کی علامت ہے۔
یہ معاملہ صرف عمران خان کی حمایت یا مخالفت کا نہیں۔ اصل سوال ریاستی اور ادارہ جاتی ہے:
جب ایک سابق منتخب وزیرِ اعظم، جس کے پاس اب بھی بڑی عوامی حمایت موجود ہے ، کو سیاسی حریف کے بجائے ایک ایسے دشمن کی طرح دیکھا جانے لگے جسے مکمل طور پر ختم کرنا ضروری ہو، تو اس کے ریاست پر کیا اثرات مرتب ہوسکتے ہیں؟
اسی لیے بہت سے لوگوں کے نزدیک موجودہ صورتحال محض قانونی یا سیاسی تنازع نہیں بلکہ سیاسی نظام کے مزاج میں تبدیلی کی علامت ہے۔
جب سیاست مقابلے سے نکل کر “بقا کی جنگ” بن جائے تو پھر:
- ادارے اپنی غیر جانبداری کھونے لگتے ہیں،
- قانون انتقام کا تاثر دینے لگتا ہے،
- کارکن اور حامی زیادہ شدت پسند ہو جاتے ہیں،
- اور مفاہمت کے راستے بند ہونے لگتے ہیں۔
ایسا پاکستان میں ہوتا ہوا نظر آ رہا ہے ۔
یہی وجہ ہے کہ صلاح الدین کا یہ قول آج پاکستان میں بہت سے لوگوں کے جذبات کی ترجمانی کرتا دکھائی دیتا ہے۔ اس میں یہ پیغام پوشیدہ ہے کہ اقتدار کو بھی کچھ حدود کا پابند ہونا چاہیے، خاص طور پر سابق حکمرانوں کے معاملے میں، کیونکہ آج کا حکمران کل خود اسی نظام کے رحم و کرم پر ہو سکتا ہے۔
حتیٰ کہ عمران خان کے ناقدین بھی یہ سوال اکثر اٹھا تے ہیں کہ :
اگر ایک سابق وزیرِ اعظم کے خلاف یہ روایت قائم ہو گئی، تو کل یہی طرزِ عمل ہر آنے والے سیاسی رہنما کے خلاف کیوں استعمال نہیں ہوگا؟
جس طرح کا ظالمانہ سلوک عمران خان ،انکی اہلیہ اور تحریک انصاف کے دوسرے رہنماؤں اور کارکنوں کے ساتھ روا رکھا جا رہا ہے .اسکی مثال پاکستان کی تاریخ میں نہیں ملتی ۔پاکستان کے عوام کی اکثریت بجا طور پر یہ سمجھتی ہے کہ عمران خان کو انتقامی کاروائیوں کا نشانہ صرف اسلئیے بنایا جا رہا ہے ۔ کیونکہ وہ جھکنے کیلئے تیار نہیں ۔اور نہ وہ جلا وطنی اختیار کرنے پر راضی ہیں ۔
- حقیقت یہ ہے کہ نظام خود خوف عمران کا شکار ہے .
اس تناظر میں صلاح الدین کا یہ قول پاکستان کی موجودہ صورتحال پر ایک گہرا استعارہ بن جاتا ہے۔
کیونکہ جب ریاست اپنے سابق حکمرانوں کو سیاسی مخالف کے بجائے “نظام سے باہر دشمن” سمجھنے لگے، تو آخرکار نقصان صرف ایک فرد کا نہیں بلکہ پورے نظام کی ساکھ کا ہوتا ہے۔ بلکہ ریاست بھی کمزور ہوتی ہے .
No comments:
Post a Comment