"مردہ لوگوں کو زندہ لوگوں کی نسبت زیادہ پھول پیش کیے جاتے ہیں . کیونکہ پچھتاوا شکرگزاری سے زیادہ طاقتور ہوتا ہے۔"
یہ بات انسانی فطرت کے ایک تلخ سچ کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ اکثر لوگ کسی کی قدر اُس وقت محسوس کرتے ہیں جب وہ شخص اُن کے درمیان نہیں رہتا۔ جب موقع ختم ہو جاتا ہے، تو دل میں پچھتاوا شکرگزاری سے زیادہ شدت اختیار کر لیتا ہے۔
زندگی میں ہم اکثر ان لمحوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں جن میں محبت کا اظہار ممکن ہوتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ وقت بہت ہے، کہ کل بھی موجود ہے، کہ لوگ ہمیشہ ہمارے آس پاس رہیں گے۔ مگر وقت ایک خاموش چور ہے — وہ لمحے چرا لیتا ہے، اور ہمیں صرف یادیں دے جاتا ہے۔
جب کوئی چلا جاتا ہے، تو ہم پھول لے کر جاتے ہیں، دعائیں کرتے ہیں، اور دل میں ایک بوجھ لیے واپس آتے ہیں۔ وہ پھول دراصل ہمارے پچھتاوے کی علامت ہوتے ہیں — وہ باتیں جو ہم کہہ نہ سکے، وہ احساسات جو ہم چھپا گئے، وہ محبت جو ہم نے وقت پر ظاہر نہ کی۔
اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ ۔ دنیا میں بہت سے لوگ ایسے ہیں جو اپنے پیاروں، دوستوں اور محسنوں کی قدر اُن کی زندگی میں ہی کرتے ہیں، اُن سے محبت، خلوص ،چاہت اور احترام کا اظہار بھی کرتے ہیں۔
شکرگزاری ایک نرم سا احساس ہے، مگر اس کی آواز کمزور ہے۔ ہم زندہ لوگوں کو شکرگزاری کے پھول کم دیتے ہیں، کیونکہ ہمیں لگتا ہے کہ وہ جانتے ہیں ہم ان سے محبت کرتے ہیں۔ مگر محبت کا اظہار خاموشی میں نہیں، عمل میں ہوتا ہے۔
اس لیے اس قول کو ایک حقیقت سے زیادہ ایک تنبیہ سمجھنا چاہیے:
اگر ہم زندہ لوگوں کو وہ پھول دے سکیں جو ہم قبروں پر چڑھاتے ہیں، تو شاید دنیا میں پچھتاوا کم اور سکون زیادہ ہو۔
اس کو ایک اور انداز میں بھی کہا جا سکتا ہے کہ
لوگوں کی قدر اُن کے زندہ ہوتے ہوئے کریں، کہیں ایسا نہ ہو کہ بعد میں صرف پچھتاوا باقی رہ جائے۔
No comments:
Post a Comment