Saturday, 13 June 2026

قومیں خوف سے نہیں، اعتماد سے بنتی ہیں



پاکستان اس وقت ایک گہرے سیاسی، معاشی اور سماجی بحران سے گزر رہا ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری، گرتی ہوئی معیشت، کمزور ہوتے ادارے اور عوامی بے چینی ملک کے ہر حصے میں محسوس کی جا سکتی ہے۔ ایسے حالات میں ریاست اور حکومت کی اولین ذمہ داری یہ ہونی چاہیے کہ وہ عوام کی آواز سنے، ان کے مسائل کو سمجھے اور ان کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کرے۔ لیکن افسوس کہ پاکستان میں ہمیشہ سے ایک مختلف روایت رہی ہے۔ جب بھی عوام اپنے حقوق کے لیے سڑکوں پر نکلتے ہیں، ان کے مطالبات پر غور کرنے کے بجائے اکثر انہیں ریاست مخالف، غیر ملکی ایجنٹ یا امن و امان کے لیے خطرہ قرار دے کر دبانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

گزشتہ چند برسوں کے دوران یہ رویہ پہلے سے کہیں زیادہ نمایاں ہوا ہے۔ سیاسی کارکنوں کی گرفتاریاں، سیاسی سرگرمیوں پر پابندیاں، گھروں پر چھاپے، خاندانوں کو ہراساں کرنا اور اختلافی آوازوں کو خاموش کرنے کی کوششیں ایک معمول بنتی چلی گئی ہیں۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں شاید ہی کبھی ریاستی طاقت کا استعمال اس شدت کے ساتھ دیکھنے میں آیا ہو جس کا مشاہدہ حالیہ برسوں میں کیا گیا ہے۔

سوال یہ ہے کہ آخر فوجی اسٹیبلشمنٹ اور ریاستی ادارے اس حد تک سخت رویہ کیوں اختیار کرتے ہیں؟ اس کی ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ وہ سیاسی مسائل کو سیاسی نقطۂ نظر سے دیکھنے کے بجائے سکیورٹی کے مسئلے کے طور پر دیکھتے ہیں۔ جب اختلافِ رائے کو جمہوری حق کے بجائے ریاست کے لیے خطرہ سمجھا جائے تو پھر مکالمے اور مفاہمت کی جگہ طاقت اور جبر لے لیتے ہیں۔ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ طاقت وقتی طور پر خاموشی تو پیدا کر سکتی ہے، دلوں اور ذہنوں کو فتح نہیں کر سکتی۔

دنیا کے بے شمار ممالک کے تجربات یہ ثابت کرتے ہیں کہ ترقی صرف سڑکیں بنانے، عمارتیں کھڑی کرنے یا معاشی اعداد و شمار بہتر کرنے کا نام نہیں۔ حقیقی ترقی اس وقت ممکن ہوتی ہے جب عوام کو انصاف ملے، ان کی رائے کا احترام کیا جائے، قانون سب کے لیے برابر ہو اور ریاست اپنے شہریوں کے اعتماد پر کھڑی ہو۔ جس معاشرے میں خوف حکمرانی کرے، وہاں استحکام عارضی اور کمزور ہوتا ہے۔

یہی حقیقت پاکستان کے مختلف خطوں پر بھی لاگو ہوتی ہے۔ خیبر پختونخوا، بلوچستان اور کشمیر جیسے حساس علاقوں میں اگر عوام کے سیاسی، معاشی اور سماجی تحفظات کو نظر انداز کر کے صرف طاقت کے ذریعے مسائل حل کرنے کی کوشش کی جائے تو اس سے وقتی کنٹرول تو حاصل کیا جا سکتا ہے، لیکن پائیدار امن قائم نہیں کیا جا سکتا۔ امن صرف بندوق کی طاقت سے نہیں بلکہ انصاف، شمولیت اور عوامی اعتماد سے قائم ہوتا ہے۔

تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ریاستیں اس وقت مضبوط بنتی ہیں جب وہ اپنے شہریوں کی آواز سننے کا حوصلہ رکھتی ہیں۔ اختلافِ رائے کو دشمنی سمجھنے کے بجائے اسے اصلاح اور بہتری کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ جو ریاستیں اپنے عوام سے خوفزدہ ہو جاتی ہیں، وہ طاقت کے استعمال میں اضافہ تو کر سکتی ہیں، لیکن اس کے نتیجے میں عوام اور ریاست کے درمیان فاصلہ بڑھتا جاتا ہے۔

پاکستان کو آج جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ مزید جبر نہیں بلکہ زیادہ مکالمہ ہے؛ مزید طاقت کا استعمال نہیں بلکہ زیادہ سیاسی بصیرت ہے؛ مزید خاموشی نہیں بلکہ عوام کی آواز سننے کا حوصلہ ہے۔ کیونکہ قومیں طاقت سے نہیں، اعتماد سے متحد رہتی ہیں۔ اور اعتماد وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں انصاف، قانون کی حکمرانی اور عوام کے بنیادی حقوق کا احترام موجود ہو۔

No comments:

Post a Comment