چینی دانشور اور فوجی حکمت عملی کے ماہر -سن زو - نے کہا تھا کہ جنگ کی بہترین حکمت عملی یہ ہے کہ دشمن کو بغیر لڑے .زیر کر لیا جاۓ .اور دوسرا یہ کہ اس طریقہ کار کو دوبارہ نہ دہرائیں .جس سے آپ نے ایک دفعہ فتح حاصل کی ہو .اپنی حکمت عملی حالات کے مطابق تبدیل کرتے رہیں .
پاکستان میں جاری کشمکش .دو دشمنوں کے درمیان جنگ نہیں .اور نہ کسی کی فتح اور شکست کا معاملہ ہے .یہ آئین ،قانون،انصاف اور بنیادی انسانی حقوق کا مسلہ ہے .اوپر بیان کردہ ،چینی دانشور کے قول کو آپ یہاں بھی دانشمندی سے استعمال کر سکتے ہیں .یعنی ڈنڈے کے زور پر نہیں .بلکہ خلوص نیت سے آپ عوام کے بنیادی حقوق دے کر .ان کے دل جیت سکتے ہیں .
ایوب خان کے مارشل لاء سے لیکر ، آج کے دوغلے نظام کا جائزہ لیں .تو یہ حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے کہ ہمارے خود ساختہ ریاستی ستون ،اسی فرسودہ طریقہ کار پر عمل پیرا ہیں .جو بار بار ناکام ثابت ہو چکا ہے.
اس وقت پاکستان میں جو کچھ ہو رہا ہے . یہ کسی ریاستی ادارے یا خدا نا خواستہ ،ریاست کے خلاف کوئی جنگ نہیں .یہ عوام کی اپنے حقوق کیلئے جدوجہد ہے .عوام اپنے جائز حقوق مانگ رہے ہیں .اسکو ریاست مخالف یا کسی ریاستی ادارے کے خلاف قرار دینا .عوام کے شعور کی توہین ہے .
پاکستان کے مقتدر حلقے ،جن میں سیاستدان ،نوکر شاہی اور فوجی جرنیل سب شامل ہیں .اس وقت اپنی
نا قص کارکردگی کو ،ریاست ، اسلام اور حب الوطنی کے گھسے پٹے نعروں کے پیچھے نہیں چھپا سکتے .آپ کو سچ بولنا ہو گا .
عوام کا آپ پر اعتماد صرف اس صورت بحال ہو سکتا ہے .جب آپ اپنی باتوں سے نہیں بلکہ عمل سے ثابت کریں کہ آپ واقعی پاکستان کے پچیس کروڑ لوگوں کے ہمدرد ہیں .اس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ عوام کا مینڈیٹ انھیں واپس کریں .اور آپ وہ کریں جس کے آپ ماہر ہیں .
مرزا غالب کا ایک شعر ہے .
بس کے دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا
آدمی کو بھی میسر نہیں انسان ہونا !
No comments:
Post a Comment