سابق امریکی جنرل ویسلے کلارک اپنے ایک انٹرویو میں کہتے ہیں کہ 9/11 کے بعد وہ پنٹاگون گۓ . وہاں پر انکی ملاقات ایک جونیر افسر سے ہوئی جو انکے ساتھ کام کر چکا تھا . جنرل کہتے ہیں کہ میں نے اس افسر سے پوچھا کہ کیا معاملات چل رہے ہیں .اس نے جواب دیا کہ ہم عراق پر حملہ کرنے جا رہے ہیں .
وہ کہتے ہیں کہ چند ہفتوں بعد میں دوبارہ پینٹاگون میں گیا تو وہاں پر اسی افسر سے ملاقات ہوئی .اس وقت تک افغانستان پر حملہ شروع ہو چکا تھا . میں نے اس سے پوچھا کہ کیا عراق پر بھی حملہ کیا جا رہا ہے . تو اس افسر نے ایک کاغذ میرے ہاتھ میں دیتے ہوۓ کہا کہ بات اس سے کہیں آگے بڑھ چکی ہے . اس کاغذ پر لکھا تھا کہ اگلے پانچ سالوں میں امریکہ نے سات ممالک میں حکومتوں کو تبدیل کرنا ہے . اس منصوبے کی ابتدا عراق سے کی جاۓ گی .اسکے بعد شام ، لبنان ،لیبیا ،صومالیہ ،سوڈان اور آخر میں ایران میں حکومت کی تندیلی عمل میں لائی جاۓ گی .آج جو کچھ ایران کے ہو رہا ہے .وہ اسی منصوبے کی آخری کڑی ہے . جو منصوبہ 2001, میں شروع کیا گیا .اسے 2026, میں مکمل کرنے کی کوشش جاری ہے . ایران کے خلاف اس امریکی اور اسرائیلی کاروائی میں خلیج کے عرب ممالک کی مکمل مدد اور رضامندی شامل ہے . امریکی اخبار ،واشنگٹن پوسٹ کی حالیہ خبر بھی اسکی تائید کر رہی ہے .جس میں یہ دعوا کیا گیا ہیں کہ سعودی والی عہد محمد بن سلمان بھی امریکی صدر ٹرمپ پر ایران کے خلاف کاروائی پر زور دیتے رہے .
خلیج کے تمام ممالک میں امریکی فوجی اڈے موجود ہیں . دلچسپ بات یہ ہے کہ دنیا کے جن ممالک میں امریکی فوجی اڈے ہیں .ان ممالک کو امریکہ ان اڈوں کے پیسے دیتا ہے .لیکن خلیجی ممالک امریکہ سے کچھ لینے کے بجاۓ . امریکہ کو اپنے پلے سے نہ صرف پیسے دیتے ہیں بلکہ ان اڈوں کیلئے زمین بھی فری میں دی ہے .اور انکوبنانے کیلئے سرمایہ بھی خود فراہم کیا ہے . اس کے ساتھ ساتھ یہ ممالک ہر تھوڑے عرصے بعد امریکہ کو خوش رکھنے کیلئے اس سے اربوں ڈالر کا اسلحہ بھی خریدتے ہیں . ان سب کا مقصد صرف یہ ہے کہ امریکہ انکی خاندانی حکومتوں کو قائم رکھنے میں انکی مدد اور حمایت جاری رکھے .
ایران کے خلاف اس امریکی اور اسرائیلی کاروائی کا کیا نتیجہ نکلتا ہے .اسکے بارے میں کوئی حتمی بات نہیں کی جا سکتی . منصوبہ تو انکا یہی ہے کہ ایران میں موجود حکومت کا تختہ الٹ دیا جاۓ .اور ایران میں ایک ایسی حکومت قائم کی جاۓ .جو امریکی مفادات کا تحفظ کرے اور اسرائیل کے ساتھ دوستانہ مراسم قائم کر سکے .
امریکہ اور اسرائیل صرف جہازوں اور میزائلوں کے ذریعے ایران میں حکومت تبدیل نہیں کر سکتے . اس کیلئے انھیں ایران کے اندر سے مدد درکار ہو گی . جس طرح شام میں خانہ جنگی کروائی گئی .اسی طرح ایران میں بھی ہو سکتا ہے .شام میں کرد ،عرب ،سنی ،علوی اور دروز اس مقصد کیلئے استعمال کیے گۓ . گو تمام تر امریکی ،اسرائیلی ،ترکی اور خلیجی عرب ممالک کی امداد کے باوجود شام میں بشارالاسد حکومت کو ہٹانے میں 15, سال سے زیادہ کا عرصہ لگا .
ایران میں بھی کرد ،آزری ،عرب اور سیستان (ایرانی بلوچستان )میں کافی تعداد میں بلوچ آباد ہیں . امریکہ ان سب کو ایران کی حکومت کے خلاف
استعمال کر سکتا ہے . ایران کے ساتھ ایک مسلہ یہ بھی ہے کہ اسکے تمام ہمسایہ ممالک ،اس کی مدد کرنے سے قاصر ہیں . ترکی اور پاکستان اس قابل ہیں کہ ایران کی مدد کر سکیں . لیکن ان دونوں ممالک کی حکومتیں امریکہ کی ناراضگی مول لینے سے ڈرتی ہیں .پاکستان میں تو حکومت کی اپنی بقا امریکہ کی مرہون منت ہے .
پاکستان اور ترکی کو یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اگر ایران میں حکومت کمزور ہوتی ہے اور حالات خانہ جنگی کی طرف جاتے ہیں تو سب سے زیادہ خطرہ ان دو ممالک کو ہو گا . ترکی میں کردوں کی اچھی خاصی تعداد آباد ہے . ترکی کو پہلے ہی کردوں سے بہت سے مسائل ہیں . پاکستانی حکومت کو بھی بلوچستان میں کافی عرصے سے مشکلات کا سامنا ہے .اگر ایرانی بلوچستان میں حالات خراب ہوتے ہیں تو اس کا اثر پاکستان میں بھی ہو گا .
اوپر جو نقشہ دیا گیا ہے .اس پر غور کریں . یہ پاکستان کیلئے امریکی منصوبہ ہے . اس کا ایک مقصد خلیج کے پانیوں تک چینی رسائی کا راستہ روکنا ہے . اور دوسرا پاکستان کو توڑنا ہے . اگر ہمارے حکمران (سیاسی و فوجی ) اس خوش فہمی کا شکار ہیں کہ امریکہ کا دست شفقت ہمیشہ انکے سر پر رہے گا . اور ایران کی تباہی کے بعد راوی چین ہی چین لکھے گا . ایسا نہیں ہو گا . امریکہ طوطے کی طرح آنکھیں بدل لے گا . نہ صرف آپکا ایٹمی پروگرام آپکے ہاتھ سے نکل جاۓ گا . بلکہ آدھا ملک بھی آپکے ہاتھ سے نکل جاۓ گا . الله نہ کرے کہ کبھی ایسی نوبت آۓ . کہتے ہیں کہ جو تاریخ سے سبق نہیں سیکھتے . انکا انجام کچھ اچھا نہیں ہوتا !
عرض ہے کہ اگر ہمسایے کے گھر میں آگ لگی ہو تو آرام سے بیٹھنے کی بجاۓ اسکی مدد کرنی چاہیے .کیونکہ وہ آگ آپکے گھر تک بھی آ سکتی ہے .
No comments:
Post a Comment