Thursday, 19 March 2026

!ایران کے خلاف امریکی ،اسرائیلی جارحیت اور خلیجی ممالک

 سابق امریکی سیکٹری آف اسٹیٹ ،ہنری کسنجر نے ایک مرتبہ کہا تھا .  کہ امریکہ سے دشمنی آپکے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے .جبکہ امریکہ سے دوستی آپ کیلئے مہلک !
ایسا ہی کچھ خلیج کے عرب ممالک اور اردن کے ساتھ ہو رہا ہے . ان تمام ممالک نے امریکہ کو فوجی اڈے اس مقصد کیلئے دئیے تھے کہ اس دوستی کے عوض امریکہ انکی حفاظت کرے گا . لیکن جو کچھ ان ممالک کے ساتھ ہو رہا ہے . وہ اسکے بر عکس ہے . یعنی امریکہ کی  دوستی ان ممالک کیلئے مہلک ثابت ہو رہی ہے . اب تو ان ممالک کے حکومتی نمائیندے برملا یہ کہہ رہے ہیں کہ ہم نے یہ اڈے امریکہ کو اپنی حفاظت کیلئے دئیے تھے . لیکن یہ ہماری حفاظت کیا کرتے ،، الٹا ہم انکی حفاظت کر رہے ہیں . 
ایران نے جوابی کاروائی کرتے ہوۓ . جب ان اڈوں پر حملہ کیا تو عرب ممالک اور پاکستان میں انکے تنخوا داروں نے یہ واویلا کرنا شروع کر دیا کہ ایران ان ممالک کے ساتھ زیادتی کر رہا ہے . یہ اڈے ایران کے خلاف تو استعمال نہیں ہو رہے . جبکہ یہ حقیقت ہے کہ ان اڈوں سے امریکہ نے ایران کے خلاف فوجی کاروائی کی اور اب بھی ان اڈوں کو امریکہ ایران کے خلاف استعمال کر رہا ہے . دو دن پہلے ایران نے سعودی عرب میں ایک امریکی اڈے پر موجود فضا میں (ری فیولنگ) کیلئے استعمال ہونے والے پانچ جہاز تباہ کیے . جو ایران پر حملہ کرنے والے ایف تھرٹی فائیو جہازوں کو فضا میں  (ری فیولنگ) کی سہولت فراہم کرتے تھے . امریکی اخبار بھی اسکی تصدیق کر رہے ہیں کہ سعودی عرب میں موجود ان اڈوں کو ایران کے خلاف کاروائی کیلئے استعمال کیا جا  رہا ہے . 
خلیجی ممالک میں موجود ان اڈوں پر جو ریڈار سسٹم اور انٹر سپٹر نصب تھے . انکا مقصد صرف یہ تھا کہ ایران کی طرف سے اسرائیل پر جو میزائل داغے جائیں . انھیں راستے ہی میں تباہ کیا جا سکے . جب ایران نے ان امریکی اڈوں پر ریڈار سسٹم تباہ کر دئیے . تو امریکی تمام انٹر سپٹر میزائل ان اڈوں سے اٹھا کر اسرائیل لے گۓ . تاکہ اسرائیل کی حفاظت کی جا سکے . اسی سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ امریکہ کا اولین مقصد اسرائیل کی حفاظت تھا . اور یہی وجہ ہے کہ اب یہ عرب ممالک  دہائی دے رہے ہیں کہ امریکہ نے ہمیں بے یارو مدد گار چھوڑ دیا ہے اور ہم امریکی اڈوں کی حفاظت کرر رہے ہیں . 
ان تمام خلیجی ممالک میں جو خاندان مسند شاہی پر قابض ہیں . وہ وہی ہیں جن کے آباؤ اجداد کو انگریز مسلط کر کے گیا تھا . اس وقت بھی وہ انگریز کے وفا دار تھے اور آج انکی اولادیں بھی امریکہ اور برطانیہ کی وفادار ہیں . امریکہ اور برطانیہ کو خوش رکھنے کیلئے یہ سب اپنی تیل کی دولت ان ملکوں میں رکھتے ہیں . ان کو اپنے ملکوں میں فوجی اڈے بھی اپنے پیسوں سے بنا کردئیے ہیں . اور پھر ہر کچھ عرصے کے بعد ان سے اربوں ڈالر کا اسلحہ بھی خریدتے ہیں . ان عرب حکمرانوں کا مقصد صرف یہ ہے کہ امریکہ اور برطانیہ انکی شاہی حکومتوں کو برقرار رکھنے کیلئے انکی مدد کرتے رہیں . اسرائیل کے ساتھ بھی ان سب کے اچھے تعلقات ہیں . فلسطین کے مظلوم عوام کے ساتھ انہیں کوئی ہمدردی نہیں . ایران کو بھی یہ اسلئیے پسند نہیں کرتے کہ وہ فلسطین کی آزادی کی بات کرتےہیں . جب عمران خان وزیر اعظم تھے اور وہ ہر بین الاقوامی فورم یر کشمیر اور فلسطین کی بات کرتے تھے . تو ان ممالک کے حکمران عمران خان کو بھی کہتے تھے کہ فلسطین کے معاملے پر بات نہ کیا کریں .
ایران کے رہنماؤں اور عوام کی جرات ، ثابت قدمی اور استقامت نے اسرائیل اور امریکہ کے نا قابل شکست  ہونے کا تصور پاش پاش کر دیا ہے . ایرانیوں نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ دفاع کیلئے صرف اسلحہ ہی ضروری نہیں . بلکہ ہمت ، استقامت اور اپنی صلاحیتوں پر اعتماد بھی ضروری ہوتا ہے . ایک فون کال پر ڈھیر ہو جانے والے شائد یہ 
سمجھنے سے قاصر ہیں .


No comments:

Post a Comment