ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی حملے کے بعد ، ایران نے جب جوابی کاروائی شروع کی تو اسرائیل کے ساتھ ساتھ انھوں نے کویت ، بحرین ، قطر ، متحدہ عرب امارات ، سعودی عرب اور اردن میں موجود امریکی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا . ایرانی افواج نے ان اڈوں پر نصب ریڈار اور انٹی میزائل بیٹریوں کو بھی نشانہ بنایا . ان اڈوں پر موجود ان انٹی میزائل سسٹم کا سب سے اہم مقصد ایران کی طرف سے اسرائیل کی طرح فائر کئیے جانے والے میزائلوں کو ٹریک کرنا اور انھیں راستے ہی میں تباہ کرنا تھا . پچھلے سال جون میں ہونے والی ایران ، اسرائیل جنگ کے دوران بھی امریکی ان اڈوں یر نصب ان ریڈار سسٹم اور انٹی میزائل بیٹریوں سے یہی کام لیتے رہے .
پچھلے سال تو ایرانیوں نے ان امریکی اڈوں یر کوئی حملہ نہیں کیا . لیکن 28, فروری کو جب امریکہ اور اسرائیل نے ملکر ایران پر حملہ کیا . تو جنگ شروع ہونے کے تین دن کے اندر ہی ، ایرانیوں نے ان تمام امریکی اڈوں پر نصب ریڈار سسٹم کو مکمل طور پر تباہ کر دیا . انھوں نے کچھ انٹی میزائل بیٹریوں کو بھی نا کارہ بنا دیا . جو بیٹریاں بچ گئیں . وہ امریکی ان اڈوں سے اٹھا کر اسرائیل لے گۓ . تاکہ وہاں سے اسرائیل کا دفاع کیا جا سکے . اس پر ان ممالک نے بڑا واویلا کیا کہ ہم نے یہ اڈے اپنی حفاظت کیلئے امریکہ کو دئیے تھے . لیکن یہ ہماری حفاظت کیا کرتے . الٹا ہم ان کی حفاظت کر رہے ہیں . اس امریکی دھوکے بازی پر ہوش کے ناخن لینے کی بجاۓ . یہ عرب ممالک ایران پر گرج برس رہے ہیں . امریکہ اور اسرائیل کے بلا جواز حملے کی مذمت کرنے کی بجاۓ وہ ایران کو دھمکیاں لگا رہے ہیں .
دو دن پہلے امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ ، کویت ، متحدہ عرب امارات اور اردن کو 17, ارب ڈالر کا اسلحہ فروخت کرۓ گا . یہ اسلحہ امریکہ زبردستی ان ممالک کو فروخت کر رہا ہے . اس میں ریڈار اور پٹریاٹ انٹی میزائل بیٹریاں شامل ہیں . جو پہلے بھی ایران ان امریکی اڈوں پر تباہ کر چکا ہے . امریکہ اپنا نقصان اب ان عرب ممالک کے خزانے سے پورا کرنا چاہتا ہے . یہ شاہی خاندان ہنسی خوشی اپنا خزانہ لٹانے کو تیار بیٹھے ہیں .
7, ارب ڈالر متحدہ عرب امارات ، 8, ارب ڈالر کویت اور 80, ملین ڈالر اردن ادا کرۓ گا . یہ خطیر رقم امریکہ گن پوئنٹ پر وصول کر رہا ہے . اسکے علاوہ سعودی عرب ، قطر اور بحرین سے بھی خراج وصول کیا جاۓ گا .چند دنوں یا ہفتوں کے بعد ان ممالک کو بھی اسی طرح کا اسلحہ خریدنے کا حکم دیا جاۓ گا . ان ممالک کو اتنا اسلحہ نہ پہلے ضرورت تھا نہ اب ہے. لیکن امریکہ کو خوش رکھنا انکی مجبوری ہے . ورنہ انکی خاندانی حکومتیں قائم نہیں رہ سکتیں .
No comments:
Post a Comment