پاکستان کے خوشامند پسند اور فرمابردار میڈیا میں وزیر اعظم شہباز شریف کی ایک ٹویٹ کو لیکرمبارک سلامت کا شور برپا ہے . جس میں شہباز شریف نے یہ کہا ہے کہ پاکستان ، ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کیلئے مذاکرات کی حمایت کرتا ہے اور اس میں اپنا کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہے . اس ٹویٹ میں وزیر اعظم نے امریکی صدر اور ایرانی وزیر خارجہ کو بھی ((ٹیگ ) کیا تھا . امریکی صدر نے تو اس ٹویٹ کا خیر مقدم کیا اور اسے ری ٹویٹ بھی کیا . لیکن ابھی تک ایرانی وزیر خارجہ کی طرف سے کسی رد عمل کا اظہار نہیں کیا گیا .
وزیر اعظم نے ایک اور بھی ٹویٹ کی . جس میں کہا کہ انھوں نے سعودی والی عہد سے بات کی ہے اور انھیں پاکستان کی غیر مشروط حمایت کا یقین دلایا ہے اور اسکے ساتھ ساتھ سعودی عرب پر حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت بھی کی . وزیر اعظم نے یہ نہیں کہا کہ سعودی عرب یر حملے کس ملک نے کئیے . اور نہ انھوں نے ایران پر امریکی اور اسرائیلی بلا جواز حملوں کی کوئی مذمت کی .
یہ سوچنے کی بات ہے کہ ایک طرف آپ سعودی عرب پر ایرانی حملوں کی مذمت کر رہے ہیں . اور سعودی حکومت کو اپنی حمایت کا یقین دلا رہے ہیں . ایران کو دھمکی لگا رہے ہیں کہ ہمارا سعودی عرب کے ساتھ دفاھی معا یدہ ہے . دوسری طرف امن مذاکرات کیلئے اپنی خدمات بھی پیش کر رہے ہیں . کیا یہ تضاد نہیں ؟
جنگ بندی کیلئے مذاکرات کوئی غیر جانبدار ملک ہی کروا سکتا ہے . پاکستان اس جنگ میں غیر جانبدار نہیں . یوں محسوس ہوتا ہے کہ مذاکرات کی آڑ میں ایران کے خلاف بلوچستان کی طرف سے ایک نیا محاز کھولنے کی تیاری کی جا رہی ہے .
عراقی کردوں کے انکار کے بعد ، سعودی پاک دفاہی معاہدے کو بنیاد بنا کر کوئی کاروائی کی جا سکتی ہے . ہو سکتا ہے کہ پاکستان اپنی فوج استعمال نہ کرے . بلکہ امریکی میرین ایک طرف گلف میں موجود ایرانی جزیروں پر حملہ کریں اور دوسری طرف بلوچستان سے ایران کی سرحد پر حملہ کیا جاۓ . اور ایران مخالف بلوچوں کو ساتھ ملا کر ایران کے اندر افراتفری اور خانہ جنگی کروانے کی کوشش کی جاۓ . الله نہ کرے کہ ایسا ہو . لیکن موجودہ رجیم سے کچھ بھی باید نہیں. یہ اپنا اقتدار بچانے کیلئے کچھ بھی کر سکتے ہیں .
No comments:
Post a Comment