جب سے امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا ہے .ہر دن اس حملے کے بارے میں ایک نئی وضاحت سامنے آ رہی ہے . آج ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوۓ .امریکی صدر فرما رہے تھے کہ ہم نے ایران پر حملہ اس لیے کیا ہے کہ ہمیں یہ اطلاع ملی تھی کہ ایران ،امریکہ اور خلیج میں موجود امریکی اڈوں پر حملہ کرنے والا ہے . جب کے اسی دوران ایک دوسری تقریب میں ،امریکی ڈیفنس منسٹر (جنھیں آج کل منسٹر آف وار ) کہا جاتا ہے . یہ کہتے ہیں کہ کیونکہ اسرائیل نے ایران پر پہلے ہی حملہ کر دیا تھا . اور ہمیں یہ ڈر تھا کہ اب ایران امریکی اڈوں پر جوابی حملہ کر سکتا ہے . اسلئیے ہم نے بھی ایران پر حملہ کر دیا . اب ان دونوں میں سے کون سچ بول رہا ہے .اس کا فیصلہ آپ خود کر سکتے ہیں .
اس میں اب شک کی کوئی گنجائش نہیں کہ امریکہ اور اسرائیل نے پہلے ہی ایران پر حملہ کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا . مذاکرات کا ڈونگ صرف اسلئیے رچایا جا رہا تھا کہ ایران کو بے خبری میں دبوچ لیا جاۓ . اس منصوبے میں (جی -سی -سی )کے عرب ممالک بھی پوری طرح شامل تھے .
خلیجی ممالک اب یہ واویلا کر رہے ہیں کہ ایران ہم پر کیوں حملہ آور ہے . امریکہ ہمارے ملکوں میں موجود اڈوں سے تو کوئی کاروائی نہیں کر رہا . حالانکہ امریکہ ان اڈوں میں موجود اپنے انٹی میزائل سسٹم سے اسرائیل کی طرف جانے والے ایرانی ڈرون اور میزائل گرانے کی پوری کوشش کر رہا ہے . اسکے علاوہ پچھلے سال ہونے والی ایران ،اسرائیل جنگ کے دوران ان امریکی اڈوں سے ،امریکی اور برطانوی ٹینکر جہاز ،اسرائیلی جہازوں کو فضا میں (ری فیول )کرتے رہے ہیں . اسکے بارے میں بینالاقوامی میڈیا میں تصویروں کے ساتھ خبریں چھپ چکی ہیں .اور ان عرب ممالک نے ان خبروں کی کبھی تردید نہیں کی .
امریکی اخبار (واشنگٹن پوسٹ )میں یہ خبر بھی چھپ چکی ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم کے ساتھ ساتھ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان بھی امریکی صدر پر ایران پر فوری حملہ کرنے کیلئے دباؤ ڈالتے رہے ہیں .
بہت سے امریکی سابق فوجی اور( سی -ائی -اے) کے سابق عہدیدار یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ امریکی صدر اور اسرائیلی وزیر اعظم کو اس حملے سے جو توقعات تھیں وہ اب تک پوری نہیں ہوئیں . انکا خیال تھا کہ سپریم لیڈر اور اعلی فوجی قیادت کے مارے جانے کے بعد ،ایرانی ہتھیار ڈال دیں گے اور کوئی ایسی قیادت سامنے آ جاۓ گی .جو امریکہ اور اسرائیل کے آگے سر تسلیم خم کر دے گی . ایسا ہونے کا ابھی تک کوئی امکان نظر نہیں آ رہا . ایران ،اسرائیل اور امریکی اڈوں کو کامیابی سے نشانہ بنا رہا ہے . آبناۓ ہورمز کی بندش سے دنیا کو تیل اور گیس کی فراہمی بھی ایران نے معطل کر دی ہے . جس سے یورپ ،جاپان ،چین اور ایشا کے بہت سے ممالک میں نہ صرف تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے بلکہ انھیں یہ پریشانی بھی ہے کہ اگر یہ بندش زیادہ دیر قائم رہتی ہے تو انکی معیشت بری طرف متاثر ہو سکتی ہے .
اسرائیلی وزیر اعظم پیچھلے تیس سالوں سے اس کوشش میں مصروف تھے کہ کسی طرح امریکی مدد سے ایران کی انقلابی حکومت کا خاتمہ کیا جاۓ . انھوں نے پچھلے سال جون میں بھی یہ کوشش کی . بارہ دنوں کی اس جنگ کے دوران بھی وہ یہ کوشش کرتے رہے کہ امریکہ بھی اس جنگ میں شامل ہو جاۓ . گو اس وقت امریکہ جنگ میں شامل تو نہ ہوا . لیکن امریکہ نے ایران پر ایک حملہ ضرور کیا . اس فضائی حملے کے بعد امریکی صدر نے یہ دعوه بھی کیا کہ انھوں نے ایران کا ایٹمی پروگرام مکمل طور پر تباہ و برباد کر دیا ہے . اب پھر کہہ رہے ہیں کہ امریکہ ایرانی ایٹمی پروگرام کو ضرور تباہ کرۓ گا . جھوٹ اور ہٹ دھرمی کا اندازہ لگائیں کہ اگر پچھلے سال جون میں آپ نے ایک کام کر دیا تھا . تو پھر اب وہی کام دوبارہ کریں گے . اسکا مطلب یہ ہے کہ آپ نے پہلے بھی جھوٹ بولا اور آج پھر جھوٹ بول رہے ہیں .
کچھ امریکی تجزیہ نگار یہ کہ رہے ہیں کہ اگر امریکہ اور اسرائیل اس جنگ میں بھی وہ نتائج نہ حاصل کر سکے .جو وہ چاہتے ہیں . تو اسرائیلی وزیر اعظم ایران کے خلاف ایٹمی ہتھیار بھی استعمال کر سکتے ہیں . انکے بقول اسرائیلی وزیر اعظم پاگل ہو چکے ہیں . وہ اس مرتبہ ایران کی مکمل تباہی چاہتے ہیں . اگر کسی نے انکا ہاتھ نہ روکا تو وہ آخری حد تک جا سکتے ہیں . ان میں صداقت کتنی ہے .اسکے بارے میں ہم یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتے . لیکن ٹرمپ اور نیتن یاہو سے کچھ بھی بعید نہیں . وہ پاگل پن میں کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں .
No comments:
Post a Comment