Friday, 20 March 2026

!امریکی صدر نا قابل اعتبار ہیں

امریکی صدر نے اپنے (ٹروتھ سوشل ) اکاونٹ پر ایک لمبی چوڑی ٹویٹ کی ہے . جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اسرائیل نے ایران کی پارس گیس فیلڈ پر جو حملہ کیا ہے . اسکا امریکہ کو کوئی علم نہیں تھا . انھوں نے ایران سے اپیل کی ہے وہ قطر کی گیس فیلڈ پر مزید حملے نہ کریں . اب اسرائیل ، ایران کی گیس فیلڈ پر کوئی حملہ نہیں کرۓ  گا . قطری بڑے معصوم ہیں . انھیں تو اس اسرائیلی حملے کا کوئی علم نہیں تھا . اسلئیے ایران ان پر کوئی حملہ نہ کرۓ . اسکے ساتھ ساتھ انھوں نے ایران کو یہ دھمکی بھی لگائی کہ اگر ایران نے قطر پر مزید حملے کیے . تو امریکہ ایران پر ایسا حملہ کرۓ گا .  جو ایران کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہو گا . دوسری طرف امریکی یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ انھوں نے اب تک ایران پر نو ہزار حملے کیے ہیں اور ایران کی اینٹ سے اینٹ بجا دی ہے . اب کوئی ان سے پوچھے کہ اگر اپ نے ایران کو تباہ و برباد کر دیا ہے تو پھر اور کون سا ایسا ہتھیار رہ گیا ہے جو آپ استعمال کریں گے . یا پھر وہ ایران کو ایٹمی حملے کی دھمکی لگا رہے ہیں ؟
سعودی عرب میں بارہ مسلم ممالک کے  وزرا خارجہ کا  ایک اجلاس اٹھارہ مارچ کو ہوا . اس اجلاس میں ایران کی جانب سے خلیجی ممالک کے آئل اور گیس فیلڈ پر کیے جانے والے حملوں یر غور کیا گیا . یاد رہے کہ یہ حملے ، اسرائیل کی طرف سے ایران کی پارس گیس فیلڈ پر 
کیے جانے والے حملہ کے بعد کیے گۓ . اس اجلاس کے بعد ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا . جس میں ایران کی طرف سے قطر ، متحدہ عرب امارات ، کویت ، بحرین اور سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات یر حملے کی مذمّت کی گئی اور ایران سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ ان عرب ممالک پر حملے بند کرۓ. اس خطے میں اپنے حمایتی (حزب الله اور یمنی حو تیوں ) کی امداد بند کرۓ . آبناۓ ہرمز کی بندش ختم کرۓ . اور باب المندب کو بند کرنے کی دھمکیاں دینا بھی بند کرۓ . اسکے ساتھ ساتھ یہ دھمکی بھی لگائی کہ یہ ممالک ایران کے خلاف جوابی کاروائی کا حق رکھتے ہیں . 
ان سب ممالک کے وزرا خارجہ کو امریکہ اور اسرائیل کے خلاف ایک لفظ کہنے کی ہمت نہ ہوئی . جنھوں نے ایران پر بلا جواز حملہ کیا . جس کی وجہ سے یہ خطہ جنگ کی لپیٹ میں آیا ہوا ہے .
امریکی ڈاریکٹر آف نیشنل انٹلیجنس ، تلسی گبرڈ نے سینٹ کی انٹیلی جنس  کمیٹی کے ایک اجلاس میں ، روس ، چین ، شمالی کوریا ، ایران کے ساتھ ساتھ پاکستان کے میزائل پروگرام کو بھی امریکہ کیلئے خطرہ قرار دیا ہے . جب کہ اس رپورٹ میں بھارت کا کوئی ذکر نہیں ہے . جس کے میزائلوں کی رینج ، پاکستان کے میزائلوں سے زیادہ ہے . امریکی صدر کے پسندیدہ فیلڈ مارشل اور چہیتے شہباز شریف کا اس بارے میں ابھی تک کوئی بیان سامنے نہیں آیا . کیا ابھی بھی ٹرمپ کو نوبل امن ملنا چاہئیے ؟ 
ہمارے حکمرانوں کو یہ بات پلے باندھ لینی چاہئیے کہ امریکہ کسی کا دوست نہیں . اسکی خارجہ پالیسی ہمیشہ اپنے مفادات کے تابع ہوتی ہے .
ابھی تو صرف پاکستان کے میزائل پروگرام پر بات ہوئی ہے . کچھ عرصہ کے بعد پاکستان کا اٹیمی پروگرام بھی زیر بحث آ سکتا ہے .

No comments:

Post a Comment