پاکستان کو آزاد ہوئے تقریباً اسی برس ہونے کو ہیں۔ انگریز چلا گیا، پرچم بدل گیا، حکمران بدل گئے۔ مگر ایک سوال آج بھی ہمارے سامنے ہے:
صرف کسی قانون کا پرانا ہونا مسئلہ نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ ایک آزاد اور جمہوری ریاست میں اس اختیار کو کون اور کس طرح استعمال کیا جاتا ہے .پاکستان کا آئین شہریوں کو پُرامن اور غیر مسلح اجتماع کا بنیادی حق دیتا ہے، اگرچہ عوامی نظم و ضبط کے مفاد میں معقول پابندیوں کی اجازت بھی دیتا ہے۔
لہٰذا ریاست کو امن و امان برقرار رکھنے کا اختیار بھی ہے اور شہری کو پُرامن احتجاج کا حق بھی۔ اصل امتحان ان دونوں کے درمیان توازن کا ہے۔
اگر کسی علاقے میں تشدد یا فساد کا حقیقی خطرہ ہو تو ریاست کا مداخلت کرنا ضروری ہو سکتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے:کہ خطرہ کتنا حقیقی ہے ؟ پابندی کتنی ضروری ہے اور کیا اس سے کم بھی کوئی راستہ موجود ہے ؟
دفعہ 144 کسی افسر کی ذاتی مرضی کا لامحدود اختیار نہیں۔ اس کے استعمال کے لیے قانونی بنیاد موجود ہے اور ایسے احکامات عدالتی جانچ سے بالاتر نہیں۔ لیکن پاکستان میں وطیرہ یہ ہے کہ کسی ضلح کا ایک انتظامی آفسر عوامی احتجاج کو حکومت کے خلاف ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے انتظامی اختیار کیلئے بھی خطرہ سمجھنے لگتا ہے . اور شاہ سے زیادہ شاہ کا وفادار بنتے ہوۓ . عوام کے بنیادی آئینی حق کو سلب کر لیتا ہے .
پاکستان میں جب عوام کے سیاسی اجتماعات اور احتجاج کو ایک انتظامی ہنگامی اختیار کو استعمال کرتے ہوۓ روکا جاتا ہے تو پھریہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہےکہ کیا پاکستان میں اشرافیہ نے نہ صرف نوآبادیاتی قوانین ،بلکہ ریاست اور شہری کے درمیان تعلق کی نو آبادیاتی سوچ بھی برقرار رکھی ہوئی ہے ۔برطانوی راج میں ریاست کا بنیادی مسئلہ عوام کی آزادی نہیں بلکہ ریاستی نظم اور اقتدار کا تحفظ تھا۔حکمران اوپر تھا، عوام نیچے۔حکومت حکم دیتی تھی اور ڈنڈے کے زور پر عوام سے اس پر عمل کروایا جاتا تھا ۔آج پاکستان کا آئین ایک بالکل مختلف تصور پیش کرتا ہے۔
آج شہری رعایا نہیں۔ وہ آئینی حقوق رکھنے والا ایک آزاد ملک کا شہری ہے ۔
جمہوریت میں پُرامن احتجاج ریاست کے خلاف جنگ نہیں؛ یہ شہری کے اختلاف کے اظہار کا حق ہے۔
ہم یہ مطالبہ نہیں کر رہے کہ دفعہ 144 کو ختم کیا جاۓ .بلکہ اس کے استعمال کے واضح اصول ہوں، پابندی حقیقی خطرے کی بنیاد پر ہو، مدت محدود ہو، وجوہات واضح ہوں اور شہری کو فوری عدالتی تحفظ حاصل ہو۔
کیونکہ ایک مضبوط جمہوری ریاست کی طاقت صرف اس میں نہیں کہ وہ کتنے لوگوں کو روک سکتی ہے۔ اسکی اصل طاقت اس میں ہے کہ وہ کتنے اختلاف کو برداشت کر سکتی ہے۔ ریاست اور عوام دونوں کےدرمیان تعلق ایسا ہو کہ ریاست عوام سے خوفزدہ نہ ہو، اور عوام کو ریاست سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہ ہو۔ جبکہ یہاں معاملہ یہ ہے کہ ملک تو 1947,میں آزاد ہو گیا تھا ۔ لیکن آج بھی سوال یہ ہے کہ : کیا ہم اس ملک کے شہری بھی آزاد ہوۓ ؟
No comments:
Post a Comment