تاریخ کا سب سے بڑا سچ یہ ہے کہ تاریخ سے کوئی سبق نہیں سیکھتا .کہا بہت کچھ جاتا ہے . صاحبان عقل و شعور اکثر یاد دہانی بھی کرا تے رہتے ہیں . لیکن طاقتوروں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی .یہ صرف طاقتوروں کا مسلہ نہیں ہے . ہر خاص و عام - میں نہ مانوں والا رویہ رکھتا ہے .لیکن جب حالات قابو سے باہر ہو جاتے ہیں تو رونا دھونا ، چیخ و پکار ،دہایاں ،عقل سے کام لیں ، صبر کریں ،ملک کی سلامتی کو خطرے میں نہ ڈالیں ، ہم سب بھائی بھائی ہیں .اتفاق میں برکت ہے. جیسی آوازیں اٹھنی شروع ہو جاتی ہیں .
Saturday, 17 October 2026
جبر و استبداد کی تاریخ
تاریخ کا سب سے بڑا سچ یہ ہے کہ تاریخ سے کوئی سبق نہیں سیکھتا .کہا بہت کچھ جاتا ہے . صاحبان عقل و شعور اکثر یاد دہانی بھی کرا تے رہتے ہیں . لیکن طاقتوروں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی .یہ صرف طاقتوروں کا مسلہ نہیں ہے . ہر خاص و عام - میں نہ مانوں والا رویہ رکھتا ہے .لیکن جب حالات قابو سے باہر ہو جاتے ہیں تو رونا دھونا ، چیخ و پکار ،دہایاں ،عقل سے کام لیں ، صبر کریں ،ملک کی سلامتی کو خطرے میں نہ ڈالیں ، ہم سب بھائی بھائی ہیں .اتفاق میں برکت ہے. جیسی آوازیں اٹھنی شروع ہو جاتی ہیں .
Tuesday, 13 October 2026
طاقت کا نشہ: کیا پاکستان کے حکمران زمینی حقائق بھول چکے ہیں؟
پاکستان میں جو کچھ اس وقت ہو رہا ہے، اسے محض سیاسی کشمکش کہہ کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ملک کے طاقتور حلقوں
Thursday, 8 October 2026
سب اچھا ہے؟
Monday, 5 October 2026
تاریخ سے سبق کیوں نہیں سیکھتے؟
اور پھر ایک اور سوال کا جواب بھی انھیں دینا ہو گا کہ کیا انکا طرز عمل کہیں نوآبادیاتی ذہنیت کا تسلسل تو نہیں ؟
برطانوی راج میں عوام رعایا تھے۔ ریاست کا مقصد ان پر حکومت کرنا تھا، ان سے اجازت لینا نہیں۔ آزادی کے بعد یہ ذہنیت ختم ہونی چاہیے تھی۔ مگر اگر آج بھی ریاستی ادارے یہ سمجھتے ہیں کہ عوام کو صرف نظم و ضبط سکھانا ہے، ان کی آواز سننا ضروری نہیں، تو پھر ہمیں تسلیم کرنا ہوگا کہ آزادی کے بعد بھی حکمرانی کا ایک حصہ نوآبادیاتی ذہن سے آزاد نہیں ہوا۔مسئلہ صرف فوج کا بھی نہیں۔سیاسی جماعتیں بھی ذمہ دار ہیں۔ سول حکومتیں بھی ذمہ دار ہیں۔ عدلیہ، پارلیمان، بیوروکریسی اور میڈیا—سب نے کسی نہ کسی مرحلے پر اس نظام کو سہارا دیا ہے جس میں طاقتور کو قانون سے بالاتر سمجھنے کا رجحان پیدا ہوا۔
فوجی اسٹیبلشمنٹ کو پاکستان میں غیر معمولی اثر و رسوخ حاصل ہے .اس لیے سوال بھی اسی سے زیادہ سخت ہونا چاہیے:
آپ نے ١٩٧١، سے کیا سیکھا ؟کیا آپ نے یہ سیکھا کہ عوام کو زیادہ طاقت سے دبانا چاہیے؟
یا یہ سیکھا کہ عوام کے مینڈیٹ کو تسلیم کرنا چاہیے؟
اگر پہلا جواب ہے تو پھر تاریخ دوبارہ ہمارے دروازے پر کھڑی ہے۔
1971 میں ملک جغرافیائی طور پر ٹوٹا تھا۔ آج خطرہ شاید مختلف نوعیت کا ہے۔ ملک نقشے پر ایک ہو سکتا ہے، مگر اگر اس کے شہری ریاست پر اعتماد کھو دیں، اگر صوبوں کو یہ محسوس ہو کہ ان کی آواز نہیں سنی جارہی، اگر نوجوان نسل یہ سمجھنے لگے کہ ووٹ سے کچھ نہیں بدلتا. تو پھر ریاست کی ظاہری یکجہتی کے اندر سے اسکی بنیادیں کھوکھلی ہونا شروع ہو جاتی ہیں .پاکستان کو آج مزید طاقت کی نہیں، مزید سیاسی بصیرت کی ضرورت ہے .
اگر حکمران طبقہ یہ سمجھتا ہے کہ عوام کو ہمیشہ طاقت کے ذریعے قابو میں رکھا جاسکتا ہے تو اسے 1971 کی تاریخ دوبارہ پڑھنی چاہیے۔کیونکہ تاریخ کا فیصلہ بہت بے رحم ہوتا ہے۔ عوام کو ایک بار دھوکہ دیا جا سکتا ہے ،دوسری بار ڈرایا جا سکتا ہے اور شاہد تیسری بار دبایا بھی جا سکتا ہے .لیکن ہمیشہ کیلئے خاموش نہیں کیا جا سکتا .اور اگر ریاست نے عوام کے ووٹ کو بے معنی کردیا، تو پھر اسے یہ سوال بھی سننا ہوگا: آخر ایک شہری ریاست سے وفاداری کیوں رکھے ،اگر ریاست اسکی آواز سے وفاداری نہ کرے .1971, ہمیں متنبہ کرچکا ۔اب فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے:
ہم تاریخ سے سبق سیکھیں گے، یا تاریخ کو ایک بار پھر ہمیں سبق سکھانا پڑے گا؟
Sunday, 4 October 2026
!تقسیم کرو اور حکومت کرو
ا نسانی تاریخ گواہ ہے کہ حکمرانوں ،بادشاہوں نے ہمیشہ اکثریت پر حکمرانی کرنے کیلئے انھیں مختلف گروہوں اور طبقوں میں تقسیم کیا ہے .یہ تقسیم مذہبی ، سماجی ،اقتصادی کے ساتھ ساتھ لسانی اور رنگ و نسل کی بنیاد پر بھی ہوتی تھی .جب لوگوں کو مختلف طبقوں میں بانٹ دیا جاۓ . تو لوگوں کے درمیان اتحاد اور یک جہتی کمزور پڑ جاتی ہے . اسکا فائدہ حکمران بادشاہوں کو ہوتا تھا اور آج بھی ہو رہا ہے .اس مقصد کیلئے حکمرانوں کو دو طبقوں نے ہمیشہ مدد فراہم کی ہے . ایک مذہبی پیشوایت اور دوسرا مالدار طبقہ . یہ ایک ایسی تکون ہے جس نے زمانہ قدیم سے آج تک انسانیت کو تقسیم کر رکھا ہے .
-
کہتے ہیں کہ کہیں پر جنگ ہو رہی تھی .اس جنگ میں کافی سارے فوجی ہلاک ہو گۓ .تو اس فوج کے افسر ا علی نے اپنے ایک ماتحت کو ساتھ والے گاؤں بیجا ...
-
Pakistan’s establishment is chasing a fantasy. The idea that the country can move forward by erasing Imran Khan from politics is not strate...
-
جیو کے ایک ملازم کے ساتھ کینیڈا ہونے والے واقعہ پر پاکستان میں زلزلہ آیا ہوا ہے .کرپٹ حکمران ٹولہ اور انکے حمایتی (صحافی )ساون کے مینڈکوں...


