Saturday, 17 October 2026

جبر و استبداد کی تاریخ


تاریخ کا سب سے بڑا سچ یہ ہے کہ تاریخ سے کوئی سبق نہیں سیکھتا .کہا بہت  کچھ جاتا ہے . صاحبان عقل و شعور اکثر یاد دہانی بھی کرا تے رہتے ہیں . لیکن طاقتوروں کے کانوں پر جوں تک نہیں  رینگتی .یہ صرف طاقتوروں کا مسلہ نہیں ہے . ہر خاص و عام - میں نہ مانوں والا رویہ رکھتا ہے .لیکن جب حالات قابو سے باہر ہو جاتے ہیں تو رونا دھونا ، چیخ و پکار ،دہایاں ،عقل سے کام لیں ، صبر کریں ،ملک کی سلامتی کو خطرے میں نہ ڈالیں ، ہم سب بھائی بھائی ہیں .اتفاق میں برکت ہے. جیسی آوازیں اٹھنی شروع ہو جاتی ہیں . 
جب ظلم کا بازار گرم کیا جا رہا ہوتا ہے . اس وقت طاقت کے نشے میں دھت لوگوں کو نہ ملک کی سلامتی کا خیال آتا ہے .نہ انسانی حقوق کی کوئی پروہ کی جاتی ہے . نہ عوام کو اپنا بھائی بند تصور کیا جاتا ہے .نہ اتفاق و اتحاد کی انکی نظر میں کوئی وقعت ہوتی ہے .وہ صرف ڈنڈے کے زور پر اپنا مطلب نکالنے پر بضد ہوتے ہیں . انکا خیال ہوتا ہے کہ انکے تمام مسائل کا حل ڈنڈا ہے . کسی بات چیت کی ضرورت نہیں . عوام -کیڑے مکوڑے ہیں .اور انہیں سیدھا رکھنے کیلئے . طاقت ہی واحد حل ہے .
پاکستان بننے سے آج تک اس طرز عمل میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی . انگریز نے اپنے اقتدار کو مضبوط بنانے کیلئے . جاگیر داروں ،نوابوں ،پیروں ،سرداروں ، نوکر شاہی ،پولیس ،نیم فوجی دستوں کو منظم کیا .اسکے ساتھ ساتھ ایک باقاعدہ فوج بھی قائم کی .جس میں ہندوستان میں رہنے والی تمام قومیتوں کے لوگ شامل تھے .مسلم ،ہندو اور سکھوں کی ایک بڑی تعداد بھی اس انگریزی فوج کا حصہ تھی .لیکن اس فوج کا ایک بڑا حصہ متحدہ پنجاب کے لوگوں پر مشتمل تھا .اس میں مسلم ،ہندو اور سکھ سب شامل تھے . اس مقامی فوج کو انگریز نے نہ صرف ہندوستان میں اپنے اقتدار کو قائم رکھنے کیلئے استعمال کیا .بلکہ  پہلی اور دوسری جنگ عظیم میں ساوتھ اشیا ، افریقہ ،مشرق وسطیٰ اور یورپ میں بھی اس ہندوستانی فوج کو استعمال کیا گیا . گو اس فوج کی اکثریت مقامی تھی . لیکن اسکی قیادت تمام کی تمام  انگریز افسروں پر مشتمل تھی .بعد میں کچھ مقامی افراد کو بھی ترقی دیکر افسر بنایا گیا . یہ  ایک نوآبادیاتی  فوج تھی . بھرتی کا طریقہ کار ، تربیت ،ماحول اور انکی نفسیاتی سوچ کو انگریز نے ایک خاص مقصد کیلئے بنایا تھا . وہ تھا تاج برطانیہ سے وفاداری ! یہ فوج  اپنے قیام سے لیکر  آزادی کے وقت تک پوری تندہی سے یہ فرض ادا کرتی رہی .
پاکستان بننے کے بعد ، اس رائل انڈین آرمی کا  ایک حصہ پاکستان آرمی قرار پایا .لیکن انگریز نے اسکی جن خطوط پر تربیت کی تھی . ان میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی .پہلے یہ انگریز کی غلام تھی . آزادی کے بعد یہ فوج اپنے افسروں کی غلام بن گئی. انگریز افسروں کے جانے کے بعد مقامی افسر انگریز بن بیٹھے .انھوں نے اس  آزاد ملک کو  بھی نوآبادیاتی کالونی کی طرح چلانے کی کوشش شروع کر دی .اور آج تک انکے طرز عمل میں کوئی تبدیلی نہیں آئی .
 بھارت میں انکی سیاسی قیادت نے آزادی ملنے کے ساتھ ہی تمام کنٹونمنٹ ختم کر دئیے .انگریز نے جو زمینے اپنی فوج کیلئے مختص کی تھیں .وہ تمام قومی ملکیت میں لے لیں .لیکن پاکستان میں فوج نے ایسا نہیں ہونے دیا .یہاں پر کنٹونمنٹ ختم کیا ہوتے .انھوں نے مزید کنٹونمنٹ بناۓ .  بلکہ اب تو یہ پاکستان میں سب سے بڑے پراپرٹی ڈیلر بن چکے ہیں .
آج بھی انکی سوچ وہی ہے جو انگریز انکے ڈی -این -اے میں شامل کر گیا ہے . کہ یہ عوام سے افضل ہیں .یہ زیادہ پڑھے لکھے ہیں .انکے بغیر کوئی اس ملک کو سنبھال نہیں سکتا .یہ عقل کل ہیں .اور ملک کی کیا سمت ہو گی .یہ فیصلہ کریں گے .
حقیقت یہ ہے کہ ،ایوب خان ، یحییٰ خان ،ضیاء الحق ، پرویز مشرف ،اور اب عاصم منیر -ان سب نے پاکستان کا آئین توڑا. عوام کے حقوق سلب کے .عوام کے ووٹ کو کبھی بھی کوئی اہمیت نہیں دی .اور  اپنے ہی ملک کے لوگوں کے ساتھ ایسا سلوک کیا جو انگریز ایک سو نوے سالوں تک ہندوستان کے باشندوں سے کرتا رہا . ایوب خان نے 56,کا آئین ،جو پارلیمانی جمہوری تھا .اس کو ختم کر کے اپنا صدارتی آئین پاکستان پر مسلط کیا .ملک میں بنیادی جمہوریتوں کا نظام  نافذ  کیا اور اس کے تحت دھونس ،دھاندلی ،دباؤ اور لالچ کے زریعہ ،محترمہ فاطمہ جناح کو انتخابات میں شکست سے دوچار کیا .جب اقتدار چھوڑنے کا وقت آیا .تو اپنے ہی بناۓ ہوۓ آئین پرر عمل درآمد نہ کر سکا .62،کے آئین کے تحت اگر صدر کسی وجہ سے اپنے فرائض ادا کرنے سے قاصر ہو جاۓ . تو سپیکر قومی اسمبلی صدر کا عہدہ سنبھال   لے گا .آئین
پا کستان کی اسکی نظر کوئی اہمیت نہیں تھی . اسلئے ایوب خان نے اقتدار یحییٰ خان کے حوالے کیا .
یحییٰ خان نے جو گل کھلاۓ .اس کا نتیجہ پاکستان  ٹوٹنے کی صورت میں سامنے آیا . 70,کے انتخابات میں  عوامی لیگ نے سب سے زیادہ  ووٹ حاصل کیے . جمہوری اصول کے مطابق اقتدار انھیں ملنا چاہئیے تھا . لیکن فوج کی اعلی قیادت بنگالیوں کو اقتدار سوپنے کے حق میں نہ تھی .صدیق سالک ، اپنی کتاب -میں نے  ڈھاکہ ڈوبتے  دیکھا -میں لکھتے ہیں کہ یحییٰ خان کے ایک متمد  جنرل دسمبر میں مشرقی پاکستان آۓ . ایک تقریب کے دوران انھوں نے کہا ، کہ آپ فکر نہ کریں ----" ہم ان کالے حرامیوں کو اپنے اوپر ہر گز حکومت نہیں کرنے دیں گے ."اسی فوجی سوچ نے پاکستان توڑنے میں سب سے اہم کردار ادا کیا .
صدیق سالک لکھتے ہیں کہ جنرل نیازی  - 10 ، اپریل کو ڈھاکہ پہنچے اور اگلی صبح کمانڈر ایسٹرن کمان کے عہدے کا چارج سنبھال لیا . وہ لکھتے ہیں کہ جنرل خادم نے انھیں بتایا کہ جب وہ فوج کی کمان ان کے سپرد کر چکے . تو جنرل نیازی نے پوچھا 
"اپنی داشتاؤں کا چارج کب دو گے : پورے مشرقی پاکستان میں جنگ کی آگ لگی ہوئی ہے .اور کمانڈر صاحب کی سوچ کیا ہے .اسی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ انکی نظر میں اپنے ہم وطنوں کی کیا حثیت تھی اور آج بھی کیا ہے ؟
اب ضیاالحق کا دور آتا ہے . اس نے بھی آئین پاکستان کے ساتھ جو سلوک کیا . وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں .اس نے کہا تھا کہ آئین ایک چھوٹی سی کتاب ہے . میں جب چاہوں اسے اٹھا کر پھینک سکتا ہوں .پاکستان میں کلاشنکوف کلچر ،منشیات،  مذہبی منافرات  اور فرقوں کے درمیان لڑائی کو اس نے فروغ دیا .روس کے خلاف امریکی جنگ کو پاکستان کی سرحدوں کے اندر لانے والا ضیاالحق ہی تھا .اس جنگ کا خمیازہ ہم آج تک بگھت رہے ہیں .
پرویز مشرف نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ آئین کاغذ کا ایک ٹکڑا ہے .اسے ردی کی ٹوکری میں پھینک دینا چاہیے .
فوجی جرنلوں نے آئین پاکستان کو ہمیشہ کاغذ کا ایک ٹکڑا ہی سمجھا . حالانکہ وہ اسی آئین کے تحت یہ حلف لیتے ہیں کہ وہ آئین پاکستان کی پاسداری کریں گے اور سیاست میں حصہ نہیں لیں گے .خود کو کمانڈو کہنے والا ،ایک امریکی دھمکی کے سامنے لیٹ گیا .افغانستان پر امریکی حملے میں انکی معاونت کی .اس ایک فیصلے سے پاکستان میں جو تباہی و بربادی ہوئی . وہ اب تاریخ کا حصہ ہے .
موجودہ چیف صاحب نے آئین پاکستان کا جو حشر کیا . اسکی مثال پاکستان کی تاریخ میں نہیں ملتی .عوام کے حقوق پر ڈاکا ڈالنے کے ساتھ ساتھ ،پاکستان میں زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہیں جس میں یہ مداخلت نہیں کر رہے .لیکن دعویٰ یہ ہے کہ ہمارا سیاست سے کوئی تعلق نہیں .انکی ذاتی آنا اور خواہشات ہی انکا آئین ہے .اسکے لئیے وہ اپنے سامنے آنے والی ہر رکاوٹ کو روند ڈالتے ہیں .چاہے ملک تباہ و برباد ہی کیوں نہ ہوجاۓ .

No comments:

Post a Comment