Monday, 5 October 2026

تاریخ سے سبق کیوں نہیں سیکھتے؟

1971،میں مشرقی پاکستان کی  علیحد گی کی ایک  بنیادی وجہ اس وقت کی فوجی  حکومت کا انتخابات کے نتائج کو تسلیم نہ کرنا تھا . ہماری تاریخ کا سب سے بڑا المیہ شاید یہ نہیں کہ ہم نے غلطیاں کیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم نے اپنی غلطیوں سے سبق نہیں سیکھا۔
1970، کے انتخابات پاکستان کی تاریخ کا ایک فیصلہ کن موڑ تھے۔ عوام کی اکثریت نے شیخ مجیب الرحمن کی جماعت کو مینڈیٹ دیا۔پارلیمانی جمہوریت کا اصول بالکل واضح تھا: جس جماعت کو اکثریت حاصل ہو، اقتدار اسے منتقل کیا جائے۔لیکن اقتدار عوام کے منتخب نمائندوں کے حوالے کرنے کے بجائے سیاسی بحران کو طاقت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی گئی۔ احتجاج بڑھا، ریاست اور عوام کے درمیان فاصلے گہرے ہوئے اور بالآخر 1971، میں پاکستان دو حصوں میں تقسیم ہوگیا۔ 
یقینآ بھارت نے مداخلت کی .بیرونی سازشیں بھی ہوئیں .عالمی طاقتوں کے اپنے مفادات بھی تھے .لیکن یہ سوال اب بھی اپنی جگہ قائم ہے کہ : 
اگر ملک کے اندر سیاسی بحران پیدا ہی نہ ہونے دیا جاتا . تو بیرونی طاقتوں کو مداخلت کا موقع کہاں سے ملتا ؟
اصل مسئلہ کسی ایک سیاسی جماعت یا شخصیت سے کہیں بڑا ہے۔مسئلہ یہ ہے کہ کیا ریاست عوام کے ووٹ کو اپنی طاقت کا سرچشمہ سمجھتی ہے، یا عوامی مینڈیٹ کو اپنے لیے ایک خطرہ؟
یہی وہ سوال ہے جس سے ہم آج بھی بھاگ رہے ہیں۔
2024، میں پاکستانی عوام نے ایک بار پھر اپنا فیصلہ سنایا۔ عمران خان جیل میں تھے، ان کی جماعت شدید ریاستی دباؤ کا سامنا کر رہی تھی، امیدواروں کو مختلف رکاوٹوں کا سامنا تھا—لیکن اس کے باوجود ان کے حمایت یافتہ امیدوار بڑی تعداد میں کامیاب ہوئے۔
پھر نتائج پر سوالات اٹھے۔انتخابی عمل پر اعتراضات سامنے آئے۔ فارم 45 اور فارم 47 کے تضادات پر بحث ہوئی۔ دھاندلی کے الزامات لگے۔ اور سب سے بڑھ کر، عوام کے ایک بڑے حصے میں یہ احساس پیدا ہوا کہ  ان کے ووٹ کو وہ حثیت نہیں دی گئی .جس کا جمہوریت تقاضا کرتی ہے ۔
اگر انتخابات صرف اس وقت معتبر سمجھے جائیں جب نتیجہ طاقتور حلقوں کی خواہش کے مطابق ہو، تو پھر جمہوریت محض ایک رسمی عمل بن کر رہ جاتی ہے۔ اور جب عوام یہ محسوس کرنے لگیں کہ ان کا ووٹ اقتدار کی سمت متعین نہیں کرتا، تو ریاستی اداروں پر اعتماد کم ہونا فطری ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں 1971، کا سایہ دوبارہ نظر آتا ہے۔تاریخ کا سب سے خوفناک سبق یہ ہے کہ ریاست طاقت کے ذریعے عوام کو خاموش تو کرسکتی ہے، مطمئن نہیں ۔
بلوچستان، خیبر پختون خوا اور آزاد کشمیر کے مسائل کو صرف انتظامی یا سکیورٹی کے زاویے سے دیکھنا کافی نہیں۔ ہر خطے کے اپنے سیاسی، معاشی اور سماجی مسائل ہیں۔ ان مسائل کا مستقل حل طاقت کے استعمال سے نہیں بلکہ  سیاسی شمولیت ، آئینی حقوق ،معاشی انصاف اور مسلسل بات چیت سے   نکلتا ہے۔
ریاست کے پاس طاقت ہونا ضروری ہے، لیکن طاقت کا استعمال آخری حل ہونا چاہیے، پہلا نہیں۔ریاست بندوق سے امن تو قائم کر سکتی ہے .لیکن پائیدار امن صرف انصاف اور اعتماد سے قائم ہوتا ہے ۔
یہی فرق ایک مضبوط ریاست اور محض طاقتور ریاست میں ہوتا ہے۔
یہیں ہماری فوجی قیادت کو اپنے آپ سے ایک انتہائی تلخ سوال پوچھنا ہوگا:
کیا ہر سیاسی اختلاف واقعی قومی سلامتی کا مسلہ ہے ؟

اور پھر ایک اور سوال کا جواب بھی انھیں دینا ہو گا کہ کیا انکا طرز عمل کہیں نوآبادیاتی ذہنیت کا تسلسل تو نہیں ؟

برطانوی راج میں عوام رعایا تھے۔ ریاست کا مقصد ان پر حکومت کرنا تھا، ان سے اجازت لینا نہیں۔ آزادی کے بعد یہ ذہنیت ختم ہونی چاہیے تھی۔ مگر اگر آج بھی ریاستی ادارے یہ سمجھتے ہیں کہ عوام کو صرف نظم و ضبط سکھانا ہے، ان کی آواز سننا ضروری نہیں، تو پھر ہمیں تسلیم کرنا ہوگا کہ آزادی کے بعد بھی حکمرانی کا ایک حصہ نوآبادیاتی ذہن سے آزاد نہیں ہوا۔مسئلہ صرف فوج کا بھی نہیں۔سیاسی جماعتیں بھی ذمہ دار ہیں۔ سول حکومتیں بھی ذمہ دار ہیں۔ عدلیہ، پارلیمان، بیوروکریسی اور میڈیا—سب نے کسی نہ کسی مرحلے پر اس نظام کو سہارا دیا ہے جس میں طاقتور کو قانون سے بالاتر سمجھنے کا رجحان پیدا ہوا۔

 فوجی اسٹیبلشمنٹ  کو پاکستان میں  غیر معمولی اثر و رسوخ حاصل ہے .اس لیے سوال بھی اسی سے زیادہ سخت ہونا چاہیے:

آپ نے ١٩٧١، سے کیا سیکھا ؟کیا آپ نے یہ سیکھا کہ عوام کو زیادہ طاقت سے دبانا چاہیے؟

یا یہ سیکھا کہ عوام کے مینڈیٹ کو تسلیم کرنا چاہیے؟

اگر پہلا جواب ہے تو پھر تاریخ دوبارہ ہمارے دروازے پر کھڑی ہے۔

1971 میں ملک جغرافیائی طور پر ٹوٹا تھا۔ آج خطرہ شاید مختلف نوعیت کا ہے۔ ملک نقشے پر ایک ہو سکتا ہے، مگر اگر اس کے شہری ریاست پر اعتماد کھو دیں، اگر صوبوں کو یہ محسوس ہو کہ ان کی آواز نہیں سنی جارہی، اگر نوجوان نسل یہ سمجھنے لگے کہ ووٹ سے کچھ نہیں بدلتا. تو پھر ریاست کی  ظاہری یکجہتی کے اندر سے اسکی بنیادیں کھوکھلی ہونا شروع ہو جاتی ہیں .پاکستان کو آج مزید طاقت کی نہیں،  مزید سیاسی بصیرت کی ضرورت ہے .

اگر حکمران طبقہ یہ سمجھتا ہے کہ عوام کو ہمیشہ طاقت کے ذریعے قابو میں رکھا جاسکتا ہے تو اسے 1971 کی تاریخ دوبارہ پڑھنی چاہیے۔کیونکہ تاریخ کا فیصلہ بہت بے رحم ہوتا ہے۔ عوام کو ایک بار دھوکہ دیا جا سکتا ہے ،دوسری بار ڈرایا جا سکتا ہے اور شاہد تیسری بار دبایا بھی جا سکتا ہے .لیکن ہمیشہ کیلئے خاموش نہیں کیا جا سکتا .اور اگر ریاست نے عوام کے ووٹ کو بے معنی کردیا، تو پھر اسے یہ سوال بھی سننا ہوگا: آخر ایک شہری ریاست سے وفاداری کیوں رکھے ،اگر ریاست اسکی آواز سے وفاداری نہ کرے .1971, ہمیں متنبہ کرچکا ۔اب فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے:

ہم تاریخ سے سبق سیکھیں گے، یا تاریخ کو ایک بار پھر ہمیں سبق سکھانا پڑے گا؟

No comments:

Post a Comment