ا نسانی تاریخ گواہ ہے کہ حکمرانوں ،بادشاہوں نے ہمیشہ اکثریت پر حکمرانی کرنے کیلئے انھیں مختلف گروہوں اور طبقوں میں تقسیم کیا ہے .یہ تقسیم مذہبی ، سماجی ،اقتصادی کے ساتھ ساتھ لسانی اور رنگ و نسل کی بنیاد پر بھی ہوتی تھی .جب لوگوں کو مختلف طبقوں میں بانٹ دیا جاۓ . تو لوگوں کے درمیان اتحاد اور یک جہتی کمزور پڑ جاتی ہے . اسکا فائدہ حکمران بادشاہوں کو ہوتا تھا اور آج بھی ہو رہا ہے .اس مقصد کیلئے حکمرانوں کو دو طبقوں نے ہمیشہ مدد فراہم کی ہے . ایک مذہبی پیشوایت اور دوسرا مالدار طبقہ . یہ ایک ایسی تکون ہے جس نے زمانہ قدیم سے آج تک انسانیت کو تقسیم کر رکھا ہے .
یعنی حکمران طبقہ ، مذہب کے ٹھیکیدار اور سرمایہ دار !
ہمیں سکول میں جو تاریخ پڑھائی جاتی تھی . ہندوستان کے بارے میں اسکا لبا لباب یہ تھا کہ انگریز نے تقسیم کرو -اور حکومت کرو .....کی پالیسی کے تحت آ ہستہ آ ہستہ سارے ہندوستان پر قبضہ کر لیا .انگریز نے نہ صرف ہندو ،مسلم کی مذہبی تفریق کو اپنے مقصد کیلئے استعمال کیا بلکہ مختلف راجوں ،مہاراجوں کو ایک دوسرے کے خلاف بھی بڑی کامیابی سے استعمال کیا . مسلمانوں کو مسلمانوں کے خلاف بھی استعمال کیا . مثال کے طور پر بنگال میں سراج الدولہ کے خلاف ،میر جعفر اور ٹیپو سلطان کے خلاف ، میر صادق . نواب حیدر آباد کو بھی ٹیپو سلطان کے خلاف استعمال کیا گیا .
کہتے ہیں کہ بڑی طاقتوں کے نہ تو کوئی دائمی حلیف ہوتے ہیں اور نہ کوئی مستقل دشمن ! بلکہ انکے مفادات ہی دائمی اور مستقل ہوتے ہیں . اسی طرح ہندوستان میں انگریز کے اپنے مفادات ہی دائمی اور مستقل تھے .حالات کے تحت دوست اور دشمن بدلتے گۓ اور آخر کار اس نے سارے ہندوستان پر قبضہ کر لیا .
اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ انگریز نے اس پالیسی کو ساری دنیا میں بڑی کامیابی سے استعمال کیا . اس حکمت عملی کو انگریز نے اپنے ملک میں بھی استعمال کیا . صنعتی ترقی کی ابتدا برطانیہ سے ہوئی . برطانیہ میں کپاس کی صنعت ، صنعتی ترقی کے ابتدائی دور کی ایک اہم مثال ہے . لنکا شائر کے کپاس کے کارخانوں میں بچے بارہ سے سولہ گھنٹے تک روزانہ کام کرتے تھے . کام کرتے کرتے وہ سو جاتے تو جگانے کیلئے انھیں زدو کوب کیا جاتا . اسکے باوجود ان میں سے کئی بیدار نہ ہوتے اور مشینوں میں لڑھک جاتے .جس کی وجہ سے انکے ہاتھ پاؤں کٹ جاتے یا وہ مر جاتے .انکا کوئی پرسان حال نہ تھا .حالت یہ تھی کہ برطانیہ میں (1824)،تک مزدوروں کے حقوق کی انجمن بنانا غیر قانونی تھا . حکومت برطانیہ نے اشتعال دلانے والے اپنے ایجنٹ مزدوروں میں شامل کررکھے تھے .جو مزدوروں سے ایسے افعال سر زد کراتے تھے . جس کے نتیجے میں انھیں یا تو جلا وطن کر دیا جاتا یا پھانسی پر لٹکا دیا جاتا . یعنی (فالس فلیگ ) آپریشن کیے جاتے . مقصد صرف یہ تھا کہ مزدوروں میں انقلابی جذبات پیدا نہ ہوں .....
ہمارے پیارے پاکستان میں بھی آزادی کے دن سے آج تک انگریز کی پالیسی جاری و ساری ہے . انگریز جن خطوط پر یہاں کا نظام استوار کر کے گیا تھا . آج تک اسی پر عمل ہو رہا ہے .انتظامیہ کا ڈھانچہ جو انگریز چھوڑ کر گیا . وہ آج تک قائم ہے .جو سلوک آزادی سے پہلے عام آدمی سے ہوتا تھا . آج کے دور میں اس سے بد تر سلوک دیسی بابو اس ملک کے عوام سے کرتے ہیں . تقسیم کرو اور مزے سے حکومت کرو کی پالیسی آج تک جاری ہے . اس پالیسی نے ملک دو لخت کر دیا .لیکن ارباب اختیار کوئی سبق سیکھنے کیلئے تیار نہیں .
اس چکر کو اب توڑنے کی ضرورت ہے .اور اسکو صرف اور صرف عوام ہی اپنی ہمت ، کوشش اور اتحاد سے توڑ سکتے ہیں .
No comments:
Post a Comment