پاکستان میں جو کچھ اس وقت ہو رہا ہے، اسے محض سیاسی کشمکش کہہ کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ملک کے طاقتور حلقوں
سےہمارا سوال ہے کہ آخروہ چاہتے کیا ہیں؟ جو کچھ وہ ملک میں کر رہے ہیں . کیا یہ اقتدار کا غرور ہے، اپنی طاقت پر حد سے بڑھا ہوا اعتماد، یا پھر زمینی حقائق کو سمجھنے کی آپ میں صلاحیت ہی نہیں ہے ؟
اگر آپ یہ سمجھ رہے ہیں کہ ہر مسئلے کا حل طاقت کے بے دریغ استعمال سے ممکن ہے ، تو آپ ایک بنیادی حقیقت بھول رہے ہیں :کہ طاقت سے لوگوں کو خاموش تو کرایا جا سکتا ہے . لیکن انکے خیالات ،شکایات ،مسائل اور سیاسی خواہشات کو ختم نہیں کیا جا سکتا ۔
پاکستان میں سیاسی اختلاف کو بارہا طاقت، پابندیوں اور انتظامی اقدامات کے ذریعے قابو کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ لیکن کیا ان اقدامات نے سیاسی استحکام پیدا کیا؟ یا انہوں نے ریاست اور عوام کے درمیان فاصلے مزید بڑھائے ہیں؟اقتدار کا سب سے خطرناک مرحلہ وہ ہوتا ہے جب حکمرانوں کو اپنی غلطیوں کی نشاندہی کرنے والی آوازیں سنائی دینا بند ہو جائیں۔ جب اختلاف کو دشمنی، تنقید کو بغاوت اور عوامی مطالبات کو خطرہ سمجھا جانے لگے تو فیصلہ سازی حقیقت کے بجائے خوش فہمیوں کے تابع ہو جاتی ہے۔
یہیں سے غرور سیاسی بصیرت پر غالب آنے لگتا ہے۔
پاکستان کی تاریخ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ریاستی طاقت اور عوامی حمایت ایک چیز نہیں۔ 1970 کے انتخابات کے نتائج کو اقتدار کی منتقلی کی بنیاد نہ بنانے اور اس کے بعد پیدا ہونے والے بحران نے بالآخر ملک کی تقسیم کی راہ ہموار کی۔ تاریخ کا سبق واضح ہے: سیاسی مسائل کا حل سیاسی عمل میں تلاش نہ کیا جائے تو ان کی قیمت پوری قوم کو ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
آج بھی پاکستا ن میں بنیادی سوال یہی ہے: کیا طاقتور حلقے اختلافِ رائے اور عوامی خواہشات کو تسلیم کرتے ہوئے سیاسی راستہ اختیار کریں گے، یا یہ سمجھتے رہیں گے کہ طاقت ہی ہر مسئلے کا آخری حل ہے؟
کسی بھی ریاست کی اصل طاقت صرف اس کے اداروں کے اختیار میں نہیں، بلکہ عوام کے اعتماد، آئین کی بالادستی اور قانون کے سامنے جواب دہی میں ہوتی ہے۔
جب اقتدار کو تنقید، عوامی انتخاب اور ادارہ جاتی نگرانی کے سامنے جواب دہ نہ ہونا پڑے تو غلط فیصلوں کی قیمت صرف وہ لوگ ادا نہیں کرتے جو انہیں کرتے ہیں؛ اس کی قیمت پورے ملک کو ادا کرنی پڑتی ہے . ایسا ہمارے ساتھ پہلے بھی ہو چکا ہے ۔

No comments:
Post a Comment