Wednesday, 21 August 2019

!! کرسٹل نائٹ

9, 10 نومبر 1938،   جرمنی میں یہودیوں کے خلاف مظاہرے ہوتے ہیں . لاکھوں یہودیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے . ایک ہزار سے زائد یہودیوں کی عبادت گاہیں اور ساڑھے سات ہزار سے زائد دکانیں اور کاروباری مراکز تباہ کر دئیے جاتے ہیں . تیس ہزار سے زائد یہودیوں کو گرفتار کیا جاتا ہے . یہ جرمنی میں یہودیوں کے خلاف سرکاری سر پرستی میں ظلم و ستم کی ابتدا ہوتی ہے . پہلی جنگ عظیم میں جرمنی کی شکست اور جنگ کے بعد کی معاشی مشکلات کا الزام یہودیوں پر لگا کر ایک ایسا    ظالمانہ  نظام قائم کیا جاتا ہے . جس کی زد میں آ کر لاکھوں بے گناہ مارے جاتے ہیں . 
ایک  منفرد اعلی  و عرفہ ،  خالص آریائی جرمن نسل کا نظریہ نہ صرف لاکھوں یہودیوں کی ہلاکت کا سبب بنتا ہے بلکہ لاکھوں یوروپی خانہ بدوش بھی اس نظریے کی بھینٹ چڑ جاتے ہیں . پانچ سال تک قتل و غارت گری کا وہ بازار گرم ہوتا ہے . جسکی اس سے پہلے انسانی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی ؟؟؟؟؟
اس جنگ میں نہ صرف جرمنی تباہ ہوا . بلکہ سارا یورپ (مغربی اور مشرقی )،   روس ،   مشرق وسطیٰ ،  چین ،  کوریا اور جاپان میں بھی تباہی ہوئی . جاپان کے خلاف امریکہ نے ایٹم بم بھی اسی جنگ میں استعمال کیا !
گو دوسری جنگ عظیم کی اور بھی بہت سی وجوہات تھیں . لیکن ان میں سے ایک اہم وجہ ہٹلر کی ایک خالص آریائی جرمن قوم کا نظریہ بھی تھا ......
یہودیوں کے خلاف اس کاروائی میں( SA) جرمن نازی پارٹی کی پیرا ملٹری فورس اور ہٹلر یوتھ ونگ نے نمایاں حصہ لیا . اس کاروائی کو   جرمن میں (Kristallnacht) انگریزی میں (Crystal Night) یا (Night of broken glass) کے نام سے یاد کیا جاتا ہے . اردو میں ہم اسے ٹوٹے ہوۓ شیشوں کی رات کہہ سکتے ہیں .............
جو کچھ 1938،   میں جرمنی میں ہوا . وہی سب بھارتی وزیر اعظم نریندرا مودی 2019،  میں کرنے کی کوشش کر رہا ہے .. بھارتی وزیر اعظم کا نظریہ بھی وہی ہے جو جرمنی میں ہٹلر کا تھا . یعنی بھارت صرف ہندووں کا ہے . مسلمان اور دوسری اقلیتیں بھارت سے نکل جائیں اور اگر وہ بھارت میں رہنا چاہتے ہیں تو پھر ہندو بن جائیں ،،،،،،،،،،،،،،،     دلت اگرچہ ہندو ہی ہیں . لیکن انھیں ہندووں کی چار ذاتوں میں شمار نہیں کیا جاتا . انھیں  سب سے گھٹیا   ذات  سمجھا جاتا ہے.   یہ اچھوت ہیں .  مسلمانوں اور عیسائیوں   کے ساتھ ساتھ دلت بھی نریندرا مودی اور اسکے دائیں بازو کے مذہبی انتہا پسندوں کو قبول نہیں ....
بھارت کے بانی مہاتما گا ندھی بھی اسی مذہبی انتہا پسندی کا نشانہ بنے تھے . اسی سوچ نے 1947،   میں مسلمانوں کا قتل عام کروایا . مودی جب گجرات کے وزیر اعلی تھے . انھوں نے مسلمانوں کے خلاف نفرت کو مزید ہوا دی . گجرات میں مسلمانوں کا قتل عام ان ہی کے دور اقتدار میں ہوا . انہی فسادات کی وجہ سے مودی کو گجرات کے قصائی کا نام دیا گیا .  2014،   میں بھارت کے وزیر اعظم بننے کے بعد مودی نے اسی مسلم اور پاکستان دشمن   پالیسی کو آگے بڑھایا . جو ہندو مذہبی انتہا پسند پاکستان بننے سے پہلے کے اختیار کیے ہوۓ تھے  .... 
کشمیر میں مودی حکومت نے جو کیا ہے . اور جو آئندہ کرۓ گی . اس کا لازمی نتیجہ مزید مسلم کشی ہو گا . کشمیر میں شدید رد عمل آنا ہے . بھارتی فوج کے مظالم کے خلاف مقبوضہ کشمیر میں مسلح جدوجہد شروع ہو گی . جس کے رد عمل کے طور پر بھارت کے دوسرے علاقوں میں مسلمانوں کے خلاف کاروائیوں میں مزید اضافہ ہو گا .  مودی کے اس اقدام سے انھیں وقتی فائدہ تو ہو گا . لیکن مستقبل میں اس سے بھارت کیلئے مشکلات بڑھیں گی .  
سات دہائیوں سے بھارتیوں نے ،   دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ،   سیکولر ،   آزاد ، پر امن بھارت کا جو امیج ساری دنیا میں بنایا تھا . مودی حکومت کے اس اقدام نے اس پر کالک مل دی ہے . اور ابھی مذہبی انتہا پسند اور کالک ملیں گے !!!!!   مودی نے بھارت کو ایک درد ناک انجام کے راستے پر ڈال دیا ہے . اس کے شعلے ہماری طرف بھی آئیں گے . ہمیں صبر اور استقامت کے ساتھ ڈٹے رہنا ہے !!!!!

Sunday, 18 August 2019

! لفافہ مارکہ ماہر

پاکستانی الیکٹرانک میڈیا اینکرز کی ایک اچھی خاصی تعداد  ایک سال گزرنے کے باوجود عمران خان حکومت کے خلاف محاذ بناۓ ہوۓ ہے . یہ (Jack of all trades) اگرچہ کسی بھی شعبے کے ماہر نہیں ہیں . لیکن ٹی وی پر ،پروگرام  ایسے کرتے ہیں جیسے ، سیاست ،  معیشت ،  مذہب ،  اخلاقیات ،   خارجہ امور اور انتظامی معاملات کے یہ ہی ماہر ہیں . 
ایسے ہی ایک (master of none) کامران خان ہیں . دنیا ٹی وی پر کل رات اپنے پروگرام میں موصوف پاکستان کی معاشی صورت حال پر خاصے پریشان تھے . آپ کے انداز سے ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے قرب قیامت کا سماں ہے . اور اس (حشر ) کی  ذمہ دار عمران خان حکومت ہے . اور پاکستان کے ساتھ جو بھی برا ہوا ہے وہ پچھلے ایک سال میں ہوا ہے؟
اپنے دلائل میں وزن پیدا کرنے کیلئے جناب نے چند اعدادو شمار بھی پیش کیے . پاکستان کا موازنہ جرمنی ،  برطانیہ ،   اسرائیل اور ملائشیا سے کیا !!!!!   سارا زور اس بات پر  تھا کہ دیکھیں ان ممالک کا رقبہ اور آبادی پاکستان سے کہیں کم ہے . لیکن پھر بھی وہ ہر شعبے میں پاکستان سے آگے ہیں اور انکے زر مبادلہ کے ذخائر بھی پاکستان سے زیادہ ہیں !!!!!
کوئی معمولی فہم رکھنے والا شخص بھی پاکستان کا موازنہ کم از کم جرمنی ،  برطانیہ اور اسرائیل سے نہیں کرۓ گا .جرمنی اور برطانیہ وہ ممالک ہیں جہاں سے صنعتی انقلاب کی ابتدا ہوئی . دونوں ملک کسی کے غلام نہیں رہے .
جہاں تک اسرائیل کا تعلق ہے . اسے ہر سال امریکہ تین ارب ڈالر گرانٹ(قرض نہیں ) دیتا ہے . اسکے علاوہ سارا یورپ انکی امداد کرتا ہے . اسرائیل کی آبادی تقریبا " 90 لاکھ ہے . جس میں 65لاکھ یہودی ہیں .
تین ارب ڈالر کا مطلب ہے ، 20,000 ہزار ڈالر ہر اسرائیلی یہودی کے حصے میں آتے ہیں .
اب آتے ہیں ملائشیا کی طرف !!
اگر کامران خان اپنی آنکھوں پر سے لفافہ  ہٹا کر دیکھتے تو انھیں پاکستانی اور ملائشیا کی لیڈر شپ کا فرق ضرور نظر آ جاتا .    کہاں مہاتیر محمد  اور کہاں ضیاالحق ،   بے نظیر ،   نواز شریف ،   یوسف رضا گیلانی ،   آصف زرداری ،   اور شاہد خاقان عباسی ؟؟؟؟؟
دھائیوں بعد پاکستان کو ایک ایسی قیادت ملی ہے . جن کیلئے اول آخر پاکستان ہے . پچاس ساٹھ سالوں کا گند ایک سال میں صاف کرنا ممکن نہیں . قوم اگر صبر اور استقامت کے ساتھ عمران خان کے ساتھ کھڑی رہی تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان ترقی یافتہ قوموں کی صف میں شامل ہو گا ......
کامران خان اور ان جیسے اور (prophets of doom) ہیں . انہیں پاکستان میں کچھ بھی اچھا نظر نہیں آۓ  گا !!!!!

Friday, 16 August 2019

! پاکستان کو دانشوروں سے بچاؤ

فرانسیسی مفکر والٹیئر کا ایک قول ہے کہ خدا مجھے میرے دوستوں سے بچاۓ . اپنے دشمنوں سے میں خود نپٹ لوں گا .......
کچھ یہی حال اس وقت پاکستان اور حکومت پاکستان کا ہے . اگر قدرت  حکومت پاکستان کو پاکستانی دانشوروں سے بچا لے . تو حکومت اپنے اندرونی  مخالفوں اور بیرونی دشمنوں سے با آسانی نپٹ سکتی ہے . جب سے بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی آئینی حثیت ختم کی ہے .  ٹی -وی اینکرز کی اکثریت   جو ہفتے کے سات  دن تماشہ لگاتے ہیں . لیکن خود کو سینئر تجزیہ کار اور دانشور کہلوانا زیادہ پسند کرتے ہیں . واویلا کر رہے ہیں کہ بین الاقوامی برادری   پاکستان کا ساتھ نہیں دے رہی . مسلم امہ بھی کشمیر کے معاملے پر پاکستان کے ساتھ نہیں کھڑی !   حکومت پاکستان سفارتی  محاذ پر نا کام ہو رہی ہے ؟   
 حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ مسلہ کشمیر ساری دنیا میں ایک بار پھر ذرائع ابلاغ کی زینت بن رہا ہے . سی -این -این ،   بی بی سی ،   چائنا ٹی وی ،   جرمن ٹی وی ،   الجزیرہ ،   ترک میڈیا   ،   عرب میڈیا  ، یورپین میڈیا ،   انڈونشیا ،    ملیشیا ،   غرض  ہر جگہ کشمیر اور کشمیر کے رہنے والوں کا ذکر ہو رہا ہے .  آج  اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل میں پاکستان کی درخوا ست پر بھارتی اقدام پر بحث ہو گی . 
کیا یہ کامیابی کم ہے . جہاں تک بین الاقوامی برادری کا اور مسلم امہ کا تعلق ہے . وہ اس وقت ہمارا ساتھ دیں گے . جب ہم ثابت قدمی سے اپنے موقف  پر ڈٹے رہیں گے . ہر ملک کے اپنے مفادات ہیں . اور ہر ملک 
کو اپنے مفادات کے مطابق اپنی خارجہ پالیسی بنانے کا حق حاصل ہے . جس طرح ہم نے سعودی عرب کا ساتھ دینے کا اعلان کیا ہے . لیکن یمن میں اپنی فوج بھیجنے سے انکار کر دیا .  اسی طرح سعودی عرب پاکستان میں بھی سرمایہ کاری کر رہا ہے اور بھارت میں بھی سرمایہ کاری کر رہا ہے . ہم اسے مجبور نہیں کر سکتے کہ وہ بھارت سے کاروبار نہ کرے .
جب افغانستان میں ہمارے اور امریکہ کے مفادات میں مطابقت تھی . امریکہ ہمارا ساتھ دیتا رہا اور ہماری مالی امداد بھی کرتا رہا . جب امریکہ کو ہماری ضرورت نہ رہی اس نے امداد سے ہاتھ روک لیا . اب پھر امریکہ کو افغانستان میں ہماری ضرورت ہے . امریکی صدر جو پہلے ٹویٹ کر کر کے ہمیں کوستے تھے . اب ہماری تعریف کرتے نہیں تھک رہے . ہمارے دانشور شائد  یہ بھول جاتے ہیں کہ بین الاقوامی تعلقات میں ہر ملک صرف اور صرف اپنے قومی مفادات کا تحفظ کرتا ہے اور اس میں کوئی برائی نہیں !
پاکستان کو بھی اپنے قومی مفادات کو اولیت دینی چاہیے . حکومت پاکستان کے اقدامات سے یہی نظر آتا ہے کہ پاکستان کے مفادات سب سے مقدم ہیں . مسلہ کشمیر ایک مرتبہ پھر زندہ ہو چکا ہے . اس کی بنیادی وجہ بھارتی وزیر اعظم کی انتہا پسندانہ پالیسیاں ہیں . مذہبی انتہا پسندی کے جس جن کو مودی نے بوتل سے باہر نکال دیا ہے . وہ قتل و غارت گری اور فساد پھلا ۓ بغیر نہیں رہے گا . اس فساد کا سب سے زیادہ نقصان بھارت کو ہو گا . بھارت کی تباہی مودی کے ہاتھوں لکھی جا چکی ہے . ہمیں صرف انتظار کرنا ہو گا . صبرو تحمل  اور ثابت قدمی کے ساتھ !!!!!!!!!!!!   

Tuesday, 9 July 2019

! جیسی کرنی

ورلڈ کپ 2019 ،   کا پہلا سیمی فائنل آج   9 جولائی کو نیوزی لینڈ اور بھارت کے درمیان کھیلا جاۓ گا . بھارتی ٹیم نے انگلینڈ کے خلاف میچ میں جس طرح   سست روی کا مظاہرہ کیا اور جان بوجھ کر میچ ہارا . اس سے کوئی عقل کا اندھا ہی انکار کر سکتا ہے . سابق بھارتی کپتان گھنگولی اور سابق انگلش کپتان ناصر حسین جو اس میچ کے دوران کمنٹری کر رہے تھے . وہ بھی حیران تھے کہ بھارتی کھلاڑی کیوں میچ جیتنے کی کوشش نہیں کر رہے . صاف نظر آ رہا تھا کہ بھارتی ٹیم یہ میچ ہارنا چاہتی ہے . ان کا مقصد صرف یہ تھا کہ پاکستان کو سیمی فائنل تک رسائی سے روکا جاۓ ؟؟؟؟
اگر انگلینڈ یہ میچ ہار جاتا تو پاکستان کے سیمی فائنل تک رسائی کا امکان پیدا ہو سکتا تھا . اگرچہ رن ریٹ کا مسلہ بھی تھا . لیکن بھارت نے کسی بھی قسم کا کوئی چانس نہیں لیا . انھیں ڈر تھا کہ اگر پاکستان سیمی فائنل تک پہنچ گیا تو پھر ان کا حشر وہی ہو سکتا ہے جو چیمپئنز ٹرافی کے فائنل میں ہوا تھا . جب پاکستان نے بھارت کو شرمناک شکست سے دوچار کیا تھا .....
کہتے ہیں ،   جیسی کرنی ،  ویسی بھرنی ،   جو دوسروں کیلئے گڑھا    کھودتا ہے  وہ خود اس میں گرتا ہے . امریکی کہتے ہیں . (What goes around comes around) .  ہمیں ایسا لگتا ہے کہ اس پہلے سیمی فائنل میں بھی کچھ اسی طرح ہونے والا ہے . جیسا بھارت نے کیا . ان کے ساتھ ویسا ہی ہو گا . انھوں نے سپورٹس مین سپرٹ کا مظاہرہ نہیں کیا . بلکہ چیٹنگ کی !!!!!   اس چیٹنگ کا لازمی نتیجہ بھارت کی شکست اور نیوزی لینڈ کی فتح ہو گا .
انگلینڈ سے شکست کے بعد بھارتی عوام نے خوشی کا اظہار کیا تھا کہ اس طرح پاکستان کا سیمی فائنل تک رسائی کا راستہ بند ہو گیا .  لیکن آج نیوزی لینڈ سے شکست کے بعد بھارت میں فساد ہو گا . دھونی اور ویرات اینڈ کمپنی کی خیر نہیں !!!!  

Saturday, 15 June 2019

!بیڑا غرق کیوں ہے

وزیر اعظم پاکستان  نے اپنی ایک حالیہ تقریر میں جنگ احد میں ہونے والے ایک واقعہ کا حوالہ دیا . جہاں تک اس واقعہ کا تعلق ہے . تاریخی طور پر واقعہ درست ہے . لیکن وزیر اعظم صاحب کا یہ واقعہ بیان کرتے ہوۓ الفاظ کا چناؤ درست نہیں تھا . 
اس جنگ کے دوران جہاں پر رسول الله اور آپ کے ساتھیوں نے پڑاؤ کیا . اس میدان کے پیچھے چند ٹیلے تھے . اور ان کے درمیان ایک درہ تھا . رسول الله نے جب جنگ کیلئے صف بندی کی . تو ایک دستے کو اس درے کی نگرانی کیلئے مقرر کیا . اور انھیں یہ ہدایت کی کہ جنگ کا نتیجہ جو بھی ہو . آپ لوگوں نے اپنی جگہ نہیں چھوڑنی . اس حکمت عملی کا مقصد یہ تھا کہ کہیں دشمن پیچھے سے حملہ نہ کر دے . جب جنگ شروع ہوئی اور اسلامی فوج کا پلڑا بھاری ہونا شروع ہوا . کفار مکہ کے قدم اکھڑنے لگے اور انھوں نے پسپائی اختیار کرنی شروع کی . تو   درے کی حفاظت پر مامور دستے میں سے کچھ افراد نے لڑائی میں شریک ہونے کی خواہش کا اظہار کیا . کچھ نے کہا کہ رسول الله نے کسی بھی صورت میں یہ جگہ نہ چھوڑنے کا حکم دیا ہے . لڑائی میں شریک ہونے کی خواہش رکھنے والوں نے کہا کہ اب تو کفار میدان چھوڑ کر بھاگ رہے ہیں . ہمیں بھی جنگ میں اپنا حصہ ڈالنا چاہیے . اس طرح چند لوگوں کے سوا سب جنگ میں شریک ہو گۓ .  
کفار مکہ کی فوج کا ایک دستہ خالد بن ولید کی قیادت میں اسی موقع کا انتظار کر رہا تھا . ( خالد بن ولید اس وقت تک اسلام نہیں لاۓ تھے ) جب انھوں نے دیکھا کہ درے کی حفاظت پر مامور اکثر اپنی جگہ چھوڑ کر جنگ میں شریک ہو چکے ہیں . انھوں نے پیچھے سے اسلامی فوج پر حملہ کر دیا . درے کی حفاظت کرنے والے چند افراد اس حملے کو روکتے ہوۓ شہید ہو گۓ . کفار مکہ نے جب اپنے ایک دستے کو اسلامی فوج پر پیچھے سے حملہ کرتے دیکھا تو وہ بھی پلٹ کر مسلمانوں پر ٹوٹ پڑے . 
اس جنگ میں اپنے سپہ سالار اور الله کے رسول کے حکم کی نا فرمانی کی وجہ سے اسلامی فوج کا بہت نقصان ہوا ،   رسول الله بھی اس جنگ میں زخمی ہوۓ .
یہ تو تھا جنگ احد کا واقعہ . اب آتے ہیں ہیں وزیر اعظم کے الفاظ کی طرف !!!! وزیر اعظم صاحب نے کہا کہ جب لوٹ مار شروع ہوئی ؟   وزیر اعظم صاحب کا مسلہ یہ ہے کہ وہ انگریزی میڈیم ہیں . انھیں اردو لکھنی اور پڑھنی نہیں آتی . ان سے گذارش ہیں کہ وہ کوئی اچھا قابل تقریر لکھنے والا رکھیں . اور مشق کیا کریں . وہ پاکستان کے وزیر اعظم ہیں .
اب آتے ہیں دانشوروں کی طرف ؟    ایک صاحب ہیں . عبدالباسط ، جناب بھارت میں پاکستانی ہائی کمشنر رہ چکے ہیں . اور آج کل ایک ٹی .وی چینل پر دانشوری فرماتے ہیں . آپ وزیر اعظم پاکستان پر تنقید کرتے ہوۓ فرما رہے تھے کہ عمران خان کو اسلامی تاریخ کا کچھ پتہ نہیں . انھیں تاریخ پر بات نہیں کرنی چاہیے تھی . پھر خود فرماتے ہیں کہ رسول الله نے حضرت خالد بن ولید کو اس درے کی حفاظت پر مامور کیا تھا .
اور حضرت خالد بن ولید اپنے ساتھیوں کو روکتے رہے . لیکن انھوں نے انکی کوئی بات نہ سنی اور درے کی حفاظت چھوڑ کر جنگ میں شریک ہونے کیلئے چل پڑے . 
جس نے بھی سکول میں اسلامیات پڑھی ہے وہ جانتا ہے کہ اس جنگ کے بعد خالد بن ولید نے اسلام قبول کیا . اور خالد بن ولید ہی نے اس درے کی طرف سے مسلم فوج پر حملہ کیا تھا . اس حملے ہی کی وجہ سے اسلامی فوج کو کافی نقصان اٹھانا پڑا تھا . 
وزیر اعظم پاکستان نے تو صرف دو لفظ نا مناسب استعمال کیے . جناب نے تو پورا واقعہ ہی الٹ کر دیا . انھوں نے بھارت میں کس معیار کی سفارت کاری کی ہو گی . اس کا اندازہ اس ایک واقعہ سے با آسانی لگایا جا سکتا ہے . ان جیسے لوگوں نے ہی پاکستان کو اس نہج پر لا کھڑا کیا ہے . کہ ہمارے اندرونی اور بیرونی دشمن ہمیں ایک نا کام ریاست قرار دے رہے ہیں ... ان ہی جیسے اور لوگوں نے پاکستان کا بیڑا غرق کیا ہے . جنھیں کوئی کام نہیں آتا سواۓ چاپلوسی اور خوشامند کے !!!!!

Saturday, 2 March 2019

! تین شیطان ایک بار پھر ناکام

جب آصف علی زرداری پاکستان کے صدر تھے . اس وقت کچھ امریکی سینٹر پاکستان آۓ ،    انھوں نے صدر زرداری سے کہا کہ   اگر پاکستان ، بھارت کو یہ اجازت دے کہ وہ پاکستان میں ایک آدھ فوجی کاروائی  کر لے . تو اس طرح ممبئی حملوں کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال میں بہتری آ جاۓ گی . بھارت کا غصہ بھی ٹھنڈا ہو جاۓ گا . انھوں نے صدر زرداری کو یہ یقین دلایا کہ پاکستان کا کوئی زیادہ نقصان نہیں کیا جاۓ گا . بھارت کسی ویران جگہ پر کاروائی کرۓ گا . صدر زرداری اس پر تیار ہو گۓ . لیکن اس وقت کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی    نے یہ تجویز ماننے سے صاف انکار کر دیا !! اس طرح یہ شیطانی منصوبہ نا کام ہو گیا ....
بھارت کافی عرصہ سے یہ بات کہہ رہا ہے کہ جس طرح امریکہ اور اسرائیل کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ 
(Preemtive Strike)  کرتے ہیں . اسی طرح بھارت کو بھی یہ حق حاصل ہونا چاہیے  کہ وہ پاکستان میں ان لوگوں کے خلاف ایسی کاروائی کر سکے . جو بھارت کے بقول ملک میں اسکے خلاف دہشت گردی کی کاروائی کرتے ہیں . بھارتی وزیر اعظم بھی ماضی میں ایسی دھمکیاں دے چکے ہیں . 
پلوامہ حملے کے بعد بھی بھارتی حکومت نے کسی ثبوت کے بغیر   پاکستان پر الزام لگایا . پھر 26،   فروری کو پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوۓ بالا کوٹ کے  قریب   ایک ویران جگہ پر چند بم گرا کر یہ دعویٰ کیا کہ اس نے جہادی کیمپ پر حملہ کیا ہے اور 300 سے زائد دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا ہے . 
(Michael Kugelman) جو کہ Wilson Center میں  Deputy Director And Senior Associate For South Asia ہیں . کہتے ہیں کہ پلوامہ حملے کے بعد امریکی حکومت کے اعلیٰ عہدیدار اس بات پر متفق تھے کہ بھارت  کو پاکستان کے خلاف فوجی کاروائی کرنی چاہئیے .. ان کے مطابق خاص طور پر امریکی نیشنل سیکورٹی ایڈ ویزر جان بولٹن نے پلوامہ حملے کے بعد بھارتی نیشنل سیکورٹی ایڈ ویزر اجیت دوال سے فون پر بات کی اور انھیں کہا کہ امریکہ ،   بھارت کے سیلف ڈیفنس کے حق کی حمایت کرتا ہے . مائیکل کوگلمین کے مطابق ،  بھارت نے پاکستان کے خلاف جو کاروائی کی اس میں امریکی حکومت کی مکمل رضامندی شامل تھی .. لیکن امریکی حکومت ، پاکستان سے یہ توقع نہیں کر رہے تھے کہ وہ اتنا جلدی اور مربوط جوابی کاروائی کریں گے .  جب پاکستان نے جوابی کاروائی کی تو اس کے بعد امریکی حکومت نے دونوں ممالک سے رابطہ کر کے حالات کو مزید خراب ہونے سے روکنے کی کوشش کی . 
حالانکہ امریکی یہ چاہتے تھے کہ پاکستان کوئی جوابی کاروائی نہ کرۓ !!!!  بھارتی حملے کے بعد پاکستان میں بھی کچھ با خبر حلقوں نے اس شک کا اظہار کیا کہ شائد یہ وہی پرانا سکرپٹ ہے . اسی لیے ہمارے ایئر ڈیفنس نے کوئی کاروائی نہیں کی اور بھارتی جہاز آرام سے واپس چلے گۓ . گو بعدکے  واقعات نے اس تاثر کو غلط ثابت کر دیا ......
برطانوی صحافی رابرٹ فسک نے بھی اپنے ایک مضمون میں لکھا کہ پاکستان میں کی جانے والی بھارتی کاروائی  ، اسی طرح کی ہے جیسے اسرائیل اپنے کمزور ہمسایوں کے خلاف کرتا ہے . اس حملے میں بھی اسرائیل کی مدد شامل تھی . بلکہ بھارت نے جو بم استعمال کیے . وہ بھی اسرائیل ساختہ تھے . 
اس وقت اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ  امریکہ ،  بھارت اور اسرائیل تینوں نے مل کر پاکستان کے خلاف کاروائی کی . امریکی حمایت ،  اسرائیلی اسلحے کے باوجود بھارت اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہو سکا . پاکستانی مسلح افواج نے نہ صرف بھارتی حملہ نا کام بنایا . بلکہ ایک کامیاب جوابی کاروائی کر کے تینوں شیطانوں کے نا پاک ارادوں کو بھی خاک میں ملا دیا .  پاکستان کی بہادر افواج نے اپنی مہارت اور جرات سے یہ بھی ثابت کر دیا ہے کہ بھارت کبھی بھی اس خطے کا پولیس مین نہیں بن سکتا .  پاکستان ، فلسطین ، لبنان اور شام نہیں اور   نہ بھارت ، اسرائیل ہے کہ وہ جب چاہے . پاکستان پر چڑھ دوڑے ؟؟؟؟
مودی سرکار  کو نہ صرف فوجی محاذ پر نا کامی کا منہ دیکھنا پڑا ، بلکہ سیاسی محاز پر بھی وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے ،  مودی کو مات دے دی .... ہمیں یقین ہے کہ مودی اس ہزیمت سے جانبر نہیں ہو سکیں گے . اور بھارتی عوام اگلے انتخابات میں مودی کی انتہا پسندی کا خاتمہ کر دیں گے !!!!

Friday, 15 February 2019

!جھوٹے اور حرام خور

چوری ،ڈاکے ، لوٹ مار میں یکتا (زرداری  نواز گروپ ) اور انکے ساتھی قلم بیچ صحافی ،ہر   روز نت نئی جھوٹی خبریں اڑاتے ہیں . لیکن خبر جھوٹی ثابت ہونے پر نہ شرمندہ ہوتے ہیں اور نہ ہی معذرت کرتے ہیں . اس طرز عمل کو ہم سیاست اور صحافت کا پاگل پن کہہ سکتے ہیں !!!!
سعودی ولی عہد کے دورہ پاکستان سے پہلے کچھ ایسی ہی بے سر و پا خبریں پھیلائی جا رہی ہیں . بعض  چابی کے کھلونے فرما رہے ہیں کہ ولی عہد ورزش کرنے کا اپنا سامان بھی ساتھ لا رہے ہیں . ایسا کیوں ہے کیا وہ عیاشی کرنے پاکستان آ رہے ہیں ؟   دنیا نیوز کے ایک  دانشور فرماتے ہیں کہ عمران خان نے کہا تھا کہ وہ کبھی کسی کرپٹ سے ہاتھ نہیں ملائیں گے . ایک کرپٹ شہزادہ پاکستان آ رہا ہے  . عمران خان ان سے ہاتھ ملائیں گے . تو کیا اب ایک کرپٹ ، دوسرے کرپٹ سے ہاتھ ملاۓ گا ؟   
ایک اور خبر پھیلائی گئی کہ سعودی ولی عہد کا دورہ ، پاکستانی قوم کو 20 کروڑ میں پڑے گا . جب سعودی حکومت نے یہ اعلان کیا کہ اس دورے کے تمام اخراجات سعودی حکومت برداشت کرے گی . تو کسی جھوٹے 
حرام خور کو یہ توفیق نہ ہوئی کہ معذرت ہی کر لیتا .
جہاں تک دنیا نیوز کے جعلی دانشور اور تجزیہ کار کا تعلق ہے.  ہمارا ان سے سوال ہے کہ جب بھارت اور کشمیر میں مسلمانوں کے قاتل مودی ، نواز شریف کی ذاتی دعوت پر لاہور آۓ تھے . کیا اس وقت بھی آپ نے کوئی اعتراض  کیا تھا . مودی کے دورے پر کیا غریب پاکستانی قوم کے روپے خرچ نہیں ہوۓ تھے ؟   جندال کے دورے پر کیا انکے آبا نے اپنی جیب سے پیسے خرچ کیے تھے ؟   
یہ آپ اور دنیا نیوز نہیں بول رہا بلکہ وہ حرام کی دولت بول رہی ہے . جو نواز اور شہباز نے آپکے حلق میں اتاری تھی !!!!!