Wednesday, 20 August 2014

;وَأَمْرُهُمْ شُورَىٰ بَيْنَهُمْ

;وَأَمْرُهُمْ شُورَىٰ بَيْنَهُمْ -الشوریٰ -آیت ٣٨.
 اور ان کے کام آپس کے مشورے سے طے ہوتے ہیں.
ایمان والوں کے لیے الله رب العزت کا فرمان ہے .کہ ان کے کام باہمی مشورے سے طے ہوتے ہیں .
محمّد رسول الله .کو بھی کہا گیا ،کہ اپنے ساتھیوں سے مشورہ کیاکریں  .اس حکم الہی کا مقصد اس کے سوا اور کچھ نہ تھا .کہ قیامت تک رسول الله کی امت اپنے تمام معاملات باہمی مشورے سے طے کرے گی .تا کہ تفرقہ بازی کا راستہ مکمل طور پر بند ہو جا ے .اور کوئی فرد واحد اپنی مرضی  سب پر مسلط نہ کر سکے .محمّد رسول الله نے 23،سال تک اپنے ساتھیوں کی تربیت کی . مشاورت بھی اس تربیت کا حصہ تھی .
 لَّقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّـهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَن كَانَ يَرْجُو اللَّـهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللَّـهَ كَثِيرًا ..الاحزاب .آیت 21.
یقیناً تمھارے لیے رسول الله کی ذات میں عمدہ نمونہ موجود ہے .ہر اس شخص کیلئے جو الله سے (ملنے )کی اور یوم آخرت کی توقع رکھتا ہے .اور بکثرت الله کو یاد کرتا ہے .
یعنی ہمارے لیے اسوہ رسول بہترین نمونہ ہے .اگر ہم ایمان والے ہیں تو ہمیں رسول الله کا اتباع کرنا ہے .
           اب  ذرا اپنے وطن پاکستان میں          صورت حال کا جائزہ لیتے ہیں . یہاں ہر شعبے میں فرد واحد کا         راج ہے .  صاحب اختیار نہ کسی سے مشاورت کرتے ہیں اور نہ ہی کسی کے سامنے جواب دہ ہیں .سیاسی جماعتوں کے سربراہوں کی بھی کچھ ایسی ہی عادات ہیں .وہ کہتے تو اپنے آپ کو سیاسی ہیں .لیکن در حقیقت ایک آمر کی طرح اپنی جماعتوں کو چلاتے ہیں .پارٹی کے کسی عہدیدار کی یہ جرات نہیں کہ وہ اپنے پارٹی لیڈر کی کسی بات سے اختلاف کر سکیں .اگر ایک سیاسی جماعت کے اندر جمہوریت کا چراغ نہیں جل سکتا ،تو پورے ملک میں کیسے جمہوریت پنپ سکتی ہے .
اس وقت ملک جس قسم کے حالات سے دوچار ہے .اس کا حل اسکے سوا اور کچھ نہیں کہ تمام صاحب عقل مل جل کر باہمی مشاورت سے  ایک قابل قبول حل 
تلاش کریں .ورنہ جو تاریخ سے سبق نہیں سیکھتے وہ ایک ہی غلطی بار بار دہرانے کی لعنت میں گرفتار ہو جاتے ہیں .ہمارا ایک لمبے عرصے سے یہی وطیرہ رہا ہے .طرفہ تماشا یہ ہے کہ ہم اپنی غلطی کبھی بھی تسلیم نہیں کرتے اور جمہوریت کے خلاف سازش کا رونا روتے رہتے ہیں .

Sunday, 17 August 2014

!!!قوم دعا کرے

آج کا بلاگ کچھ ملا ،جلا ہے .یعنی کھیل ،سیاست اور تھوڑا سا مہذب کا تڑکا !!!!!!!
پاکستانی کرکٹ ٹیم جب بھی ملک سے باہر کھیلنے کے لیے جاتی ہے . ٹیم کے کپتان ،ملک سے جانے سے پہلے اپنے انٹرویو میں یہ بات ضرور کہتے ہیں کہ پاکستانی ٹیم اچھی کارکردگی دکھانے کی کوشش کرے گی . قوم انکے لیے دعا  کرے .کوئی بھی اہم میچ ہو ،چا ہے جو بھی کھیل ہو ،دعا  کی  درخواست ضرور کی جاتی ہے . ہمارے کھلاڑیوں کو اس بات کا یقین ہوتا ہے کہ ان سے کچھ نہیں ہونے کا .اگر کچھ ہو گا تو اس مظلوم قوم کی دعاؤں سے ہی ہو گا . ورنہ ان میں اتنی اہلیت اور صلاحیت نہیں کہ وہ اپنے زور بازو سے کوئی  کارنامہ سر انجام دے سکیں .
اس ملک خداداد پاکستان میں سیاستدانوں کا حال بھی کچھ ایسا ہی ہے .وہ بھی ہر کام کیلئے قوم سے دعاؤں کے طلبگار ہوتے ہیں .یعنی انھیں بھی اپنی ،صلاحیت ،منصوبہ بندی ،کام کی لگن اور محنت پر بھروسہ نہیں ہوتا .یا شائد انھیں پتہ ہوتا ہے .کہ انھوں نے وہ نہیں کرنا جو وہ کہہ رہے ہیں . اس لیے اپنے اصل مقاصد پر پردہ ڈالنے کے لیے وہ قوم سے دعا کے لیے کہتے ہیں .اور قوم بھی پچھلے 67 سالوں میں یہ اندازہ نہیں کر سکی کہ دعا کی قبولیت کیلئے .عمل کا تڑکا از بس ضروری ہے . اس کے کے بغیر دنیا میں کوئی بھی کام نہیں ہو سکتا .الله کےآخری  نبی ( محمّد رسول الله  )نے بھی اپنے تمام وسائل اور ساتھیوں کے ساتھ میدان جنگ میں بنفس نفیس جا کر .جنگ کی پوری منصوبہ بندی کرنے کے بعد ، الله کریم سے مدد کی دعا کی تھی . الله نے- رسول الله کا اسوۂ ہمارے لیے بہترین نمونہ قرار دیا ہے .لیکن ہم نے بحثیت قوم یہ قسم اٹھا رکھی ہے کہ ہم نے الله کا حکم نہیں ماننا !!!!!

Friday, 15 August 2014

یوم آزادی.....14اگست یا 15 اگست ؟؟

معلوم نہیں ہمیں حقیقت سے آنکھیں چرانے کی عادت کیوں ہے .اور ہم تاریخ کو اپنی مرضی کے مطابق کیوں موڑنا چاہتے ہیں .جبکہ اس سے ہماری حالت اور دنیا میں ہمارے مقام میں بھی کوئی خاص فرق نہیں پڑتا .یوم آزادی کو لے لیجئے .کیا اس سے آج تک کوئی فرق پڑا کہ ہم آزادی کا دن 14,اگست کو مناتے ہیں . جبکہ حقیقت یہ ہے کہ 1949,تک ہم یوم آزادی 15,اگست کو مناتے تھے .پھر نہ جانے کن وجوہات کی بنا پر اور کن لوگوں کی منشا کے مطابق حکومت پاکستان نے 14,اگست کو آزادی کا دن منانا شروع  کر دیا .
تاج برطانیہ نے 14اور 15,اگست کی درمیانی رات کو اقتدار ،بھارت اور پاکستان کے حوالے کیا .انڈین انڈیپنڈنس ایکٹ ،1947.کے مطابق ,پاکستان اور بھارت کا جنم دن ،15،اگست ہے .
The Indian Independence Act 1947,states;
"As from the fifteenth day of August, nineteen hundred and forty-seven, two independent Dominions shall be set up in India, to be known respectively as India and Pakistan."
Quaid -e-Azam Muhammad Ali Jinnah in his first broadcast to the nation stated;
"August 15 is the birthday of the independent and sovereign state of Pakistan. It marks the fulfillment of the destiny of the Muslim nation which made great sacrifices in the past few years to have its homeland."
Cover of a press release; "Independence Anniversary Series" by the Press Information Department of Pakistan, in 1948 in relation to the country's first independence day which was celebrated on 15 August 1948.
جولائی ،1948,کو جاری کیا گیا .پاکستان کا ڈاک ٹکٹ ، اس پر یوم آزادی ,15,اگست 1947, صاف پڑھا جا سکتا ہے .

Tuesday, 5 August 2014

History- His- story?

History is always about the Greats, not about common people. Common people, who fought, gave their lives and suffered all along to make their Kings Great. Volumes upon volumes have been written about the exploits of Darius the Great, Alexander the Great, Catherine the Great, Peter the Great, Frederick the Great, and other self-styled "greats" whose major accomplishments were the forceful exploitation and suppression of toiling populations. Very few ever recorded how the course of history was changed by the women and men who created the crafts and generated the skills of civilization.
Here is a poem, " Questions from a Worker Who Reads". by Bertolt Brecht, which says it all!!!

 Who built the seven gates of Thebes?
The books are filled with names of Kings.
Was it kings who hauled the craggy loads of stones?
And Babylon, so many times destroyed,
Who raised that city up each time?
In which of Lima,s houses, glittering with gold, lived those who built it?
On the evening that the Wall of China was finished
where did the masons go?
Philip of Spain wept when his fleet went down,
Was there no one else who wept?
Frederick the Great won the Seven Years War,
Who won it with him?
A victory on every page
who cooked the victory feast?
A great man every ten years,
Who paid the costs?.....           

(From the book, History as Mystery by Michael Parenti).

Dear friends, read, reflect and share!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!

Tuesday, 29 July 2014

! جشن نزول قرآن

رمضان وہ مہینہ ہے .جس میں الله کریم نے اپنی لا محدود رحمت سے ،انسانیت کی فلاح اور ہدایت کے لیے قرآن نازل فرمایا .اس ماہ صیام کے ختم ہونے پر ،الله کریم کا شکر ادا کرنے کے لیے جشن کا اہتمام کیا جاتا ہے .جسے ہم عید کہتے ہیں .پورا مہینہ ایک خاص تربیت حاصل کرنے کے بعد ،اس تربیت کی تکمیل کی خوشی منائی جاتی ہے .اس خصوصی تربیت کا مقصد الله کریم نے یہ بیان کیا ہے ،کہ ہم دنیا میں الله کی کبریائی قائم کرنے کے قابل ہو سکیں .
میرا ان تمام لوگوں سے سوال ہے.جو اپنے آپ کو مسلم کہتےہیں . کہ  جس طرح ہم (مسلمان )رمضان گزارتے ہیں.جس طرح پورا مہینہ ہم افراتفری کا ماحول پیدا کرتے ہیں  .جس طرح منافع خوری کی جاتی ہے .جس طرح ہم ذرا ذرا سی بات پر ایک دوسرے پر ٹوٹ پڑتے ہیں .جس طرح ہم بسیار خوری کرتے ہیں .اور کام چوری کرتے ہیں .کیا اس کے بعد ہمیں یہ زیب دیتا ہے ،کہ ہم نزول قرآن کی خوشی منائیں .اور سب سے اہم سوال یہ ہے ،کہ  کیا پورا مہینہ بھوکا رہنے کے بعد ہم اس قابل ہو جاتے ہیں کہ دنیا میں الله کی کبریائی قائم کر سکیں .
اگر آپ کا جواب نفی میں ہے .تو ہمیں غور کرنا ہو گا .کہ غلطی کہاں پر ہے .اگر ہم الله کریم کی نعمتوں ،رحمتوں سے سرفراز ہونا چاہتے ہیں اور دنیا میں ایک با عزت مقام حاصل کرنے کے خوائش مند ہیں .تو ہمیں اپنے طرز عمل میں تبدیلی لانی ہو گی .ورنہ صرف بھوکا رہنے سے ہمیں کچھ بھی حاصل نہ ہو گا .
ہمیں دنیا میں اپنی حالت پر غور کرنا چاہیے .ایک ارب پچاس کروڑ لوگوں کی کوئی عزت نہیں .جس کا جی چاہتا ہے ،ہماری عزت و ناموس ،جان و مال سے کھیلتا ہے .اور کوئی ظالم کا ہاتھ روکنے والا نہیں .غزہ میں جو کچھ نہتے فلسطینی مسلمانوں کے ساتھ ہو رہا ہے .صرف یہی ایک مثال ہماری بے بسی کو ظاھر کرنے کے لیے کافی ہے .ہمارے حکمران اپنی اپنی کرسیاں بچانے میں مصروف ہیں اور عوام کو مذہبی مافیا نے تفرقہ بازی کی نظر کر دیا ہے ؟

Monday, 28 July 2014

نوٹس ،کمیٹی اور کمیشن ؟

پاکستان وباؤں کے لیے .کافی زرخیز زمین ہے .ہر قسم کی وبا .اس ملک میں ایسے پھلتی ،پھولتی ہے .جیسے جنگل کی آگ پھیلتی ہے .مثال کے طور پر .....جہالت کی وبا -غربت کی وبا -ملاوٹ کی وبا -ذخیرہ اندوزی کی وبا -جعلی ادویات کی وبا -بجلی اور گیس چوری کی وبا -قومی وسائل کے لوٹ مار کی وبا -رشوت خوری کی وبا -اپنے اختیارات سے تجاوز کی وبا -تفرقہ بازی اور مذہبی منافرت کی وبا -قابل علاج بیماریوں کی وبا -وغیرہ وغیرہ .............
ان تمام وباؤں کے تدارک کی بھی ایک وبا چلتی ہے .اس ملک خداداد پاکستان میں !!!!!!!!
اس وبا کا نام آپ نوٹس لینا ،کمیٹی بنانا یا کمیشن قائم کرنا رکھ سکتے ہیں .جو ہر چھوٹا ،بڑا سرکاری اہلکار -سیاست دان -حکومتی نمائندے -وزرا اعلی ،وزیر اعظم،صدر مملکت اور گورنر صاحبان اور  چیف جسٹس صاحب ، وقتاً فوقتاً لیتے رہتے ہیں .ملک میں کوئی بھی  مسلۂ ہو . اس کا حل ہو نہ ہو .اس کا نوٹس ضرور لیا جاتا ہے .جیسے پنجاب کے خادم اعلی ہر دن کسی نہ کسی معاملے پر نوٹس لیتے رہتے ہیں .حالانکہ تاریخ گواہ ہے .کبھی بھی اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا .آج کی تازہ خبر ہے .کہ سندھ حکومت کے سینئر وزیر ،جناب نثار کھوڑو نے کراچی میں بجلی کی طویل بندش کا نوٹس لے لیا .اب کراچی کے لوگوں کو یہ امید رکھنی چاہیے کہ ان کا مسلۂ حل ہو
 جا ے گا .حالانکہ سینئر وزیر اس معاملے میں کوئی تکنیکی مدد کرنے سے قاصر ہیں .لیکن خبروں میں رہنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے .کہ ہر متعلقہ یا غیر متعلقہ معاملے کا نوٹس ضرور لیا جا ے .سابق چیف جسٹس جناب افتخار چودھری صاحب بھی اکثر نوٹس لیتے رہتے تھے .جنھیں قانون کی زبان میں سو موٹو کہا جاتا ہے .حالانکہ انکے سو موٹو نے بھی اس ملک و قوم سے کبھی وفا نہ کی .کمیٹیوں اور کمیشنوں کی بھی کچھ ایسی ہی صورت حال رہی ہے .ملک کی تاریخ میں کسی بھی کمیٹی نے کوئی قابل ذکر فیصلہ نہیں کیا اور نہ کسی کمیشن کی کوئی رپورٹ اس مظلوم قوم کی حالت میں بہتری لا سکی .
15 جولائی  1099 میں صلیبیوں نے بیت المقدس پر قبضہ کیا . اس شہر سے جان بچا کر کچھ لوگ دمشق  پہنچے اور پھر وہاں سے ایک وفد کی صورت میں بغداد ،خلیفہ وقت کے دربار میں حاضر ہوے .خلیفہ کو تمام صورت حال سے آگاہ کیا اور اپنے اوپر ہونے والے مظالم کی تفصیل بیان کی . خلیفہ وقت نے آنسو بہانے کے بعد ،اپنے درباریوں میں سے سات معزز ترین افراد پر مشتمل ایک کمیٹی قائم کی .کہ ان اسباب کا جائزہ لیا جا ے ،جن کی وجہ سے یہ سانحہ رونما ہوا . تاریخ آج تک اس کمیٹی کی رپورٹ سے بے خبر ہے ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

Friday, 25 July 2014

!!! غزہ لہو لہو

غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت میں اب تک  788فلسطینی شہید ہو چکے ہیں .جبکہ 1500سے زائد زخمی ہوے ہیں . جاں بحق ہونے والوں میں ایک بڑی تعداد بچوں کی ہے . یورپ ،امریکہ ،کینیڈا اور آسٹریلیا کے حکمران جس طرح آنکھیں بند کر کے اسرائیلی بربریت کی حمایت کر رہے ہیں .اس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کے وہ یہودی لابی سے کتنا خوف زدہ ہیں .دنیا کے سب سے طاقتور ملک کا صدر بارک ابامہ بھی مظلوموں کے حق میں ایک لفظ نہیں بول سکتا .موصوف فرماتے ہیں کہ اسرائیل کو اپنے عوام کے دفاح کا پورا حق حاصل ہے .لیکن وہ حماس کو یہ حق دینے کے لیے تیار نہیں .یعنی   طاقتور کو تو یہ حق ہے کہ جب چا ہے کمزور پر چڑھ  دوڑے .لیکن کمزور کو اس کا ہاتھ روکنے کا کوئی حق نہیں .
علامہ اقبال نے کیا خوب کہا تھا .
ہے جرم ضیفی کی سزا مرگ مفاجات !!!!!!
57 مسلم ممالک   خاص طور پر عرب لیگ کے ممبر  ممالک کی مجرمانہ خا موشی ،اسرائیل کی بربریت کو ہوا دے  رہی ہے .عملی مدد تو درکنار ،مسلم ممالک زبانی کلامی بھی اپنے مظلوم بھائیوں کی امداد کرنے کے قابل نہیں .الله کے خوف کے بجاے .مسلم حکمرانوں پر امریکہ کا خوف سوار ہے .حیران کن بات یہ ہے کہ ،یورپ اور امریکہ میں تو مظلوم فلسطینیوں کے حق میں عام لوگ آواز اٹھا رہے ہیں ،جبکہ مسلم ممالک میں ابھی تک کوئی قابل ذکر جلوس نہیں نکالا جا سکا .ہاں رویت کے مطابق دعا  ضرور مانگی جا رہی ہے .لیکن ہم یہ بھول رہے ہیں کہ    دعا کے ساتھ عمل کا تڑکا ،اس کی قبولیت کے لیے اولین شرط ہے .
اسرائیلی حکومت اور فوج کے ساتھ ساتھ ،مغربی میڈیا بھی غزہ کے رہنے والوں کو یہ حکم دے رہے ہیں ،کہ وہ اپنے گھر بار چھوڑ کر کہیں اور منتقل ہو جائیں .لیکن کوئی یہ نہیں بتا رہا کے کہاں جائیں .نقشہ دیکھیں ،ایک طرف سمندر ،دو اطراف اسرائیل اور ایک طرف مصر .....اب آپ خود بتائیں کہ غزہ کے رہائشی کہاں جائیں .اسرائیل وہ جا نہیں سکتے ،مصر کے فیلڈ مارشل نے راستہ پہلے ہی بند کر رکھا ہے .اب مظلوموں کے پاس اس کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں کہ وہ سمندر میں کود جائیں .ہاں ایک باعزت راستہ انھوں نے اختیار کر رکھا ہے وہ ہے ،مقابلہ !!! جدید ترین امریکی  اسلحہ سے لیس یہودی فوج کے ساتھ عزم و ہمت ،جرات اور بہادری کے ساتھ مقابلہ ....