Sunday, 8 April 2018

عوام کیلئے ؟

تھری ان ون ،   بلاول بھٹو زرداری ، آج  فرماتے ہیں کہ پاکستان تحریک انصاف ہو  یا مسلم لیگ (ن ). ان دونوں کے پاس عوام  کو دینے کیلئے کچھ بھی نہیں ؟   جناب نے یہ نہیں بتایا کہ ان کے پاس پاکستان کے عوام خاص طور پر سندھ کے عوام کو دینے کیلئے کیا ہے ؟   انکی جماعت کی حکومت نے پچھلے 10،  سالوں میں سندھ کے عوام کو کیا دیا ہے ؟   
تھر میں اسی طرح غریبوں کے بچے بھوک اور بیماریوں سے مر رہے ہیں . جیسے 2012،  میں مر رہے تھے . پورے سندھ میں اور خاص طور پر کراچی میں پینے کا صاف پانی میسر نہیں . ملک کا سب سے بڑا شہر ، جو کبھی عروس البلاد کہلاتا تھا .  آج کچرا کنڈی بن چکا ہے . تعلیم اور صحت کا برا حال ہے . آخر انکی جماعت نے سندھ کے عوام کیلئے کیا خاص کیا ہے کہ وہ پنجاب میں بھی وہی کچھ کرنا چاہتے ہیں ؟؟؟؟
پاکستان تحریک انصاف نے خبیر پختونخوا میں کیا کار ہاۓ نمایاں سر انجام دئیے ہیں . اس کا فیصلہ وہاں کے عوام آیندہ عام انتخابات میں کر دیں گے . لیکن اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ تحریک انصاف نے عمران خان کی  قیادت میں کرپشن کو پاکستان کا سب سے بڑا مسلہ بنا دیا ہے !!!!  پہلے کوئی بھی اس مسلے پر بات نہیں کرتا تھا . اگر کرپشن پر بات بھی کی جاتی تو کہا جاتا کہ  کرپشن تو سب ہی کرتے ہیں . کرپشن سے چھٹکارا ممکن نہیں . کون اس لعنت کو ختم کرۓ گا ؟  تحریک انصاف کی جہد مسلسل نے پاکستان میں یہ امید پیدا کر دی ہے کہ نہ صرف ملک سے کرپشن کو ختم کیا جا سکتا ہے . بلکہ کرپٹ لوگوں کو سزا بھی دلوائی جا سکتی ہے . اس کا کریڈٹ تحریک انصاف کے کارکنوں اور عمران خان سے کوئی نہیں چھین سکتا !!!! 
یہ ایک ایسی تبدیلی ہے جس پر ہمیں فخر ہے !!!!!    بقول عمران خان تبدیلی آ نہیں رہی ،   تبدیلی آ گئی ہے !!!!!         پاکستان زندہ باد !

Monday, 2 April 2018

!!اخلاقی ذمہ داری

روس  کے علاقے(کیمرووو  ) کے گورنر   نے آج اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا . 25 مارچ کو ایک شاپنگ مال میں لگنے والی آگ کی وجہ سے 60،   سے زائد افراد ہلاک ہوۓ تھے . گورنر نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ ان کے پاس استعفیٰ دینے کے علاوہ اور کوئی چارہ   کارنہ تھا . 
انھوں نے مزید کہا کہ اتنے جانی نقصان کے بعد ،   ان کے لیے اخلاقی طور پر ممکن نہ تھا کہ وہ اپنے عہدے پر کام کر سکیں .... 
گو گورنر صاحب اس حادثے کے ذاتی طور پر ذمہ دار نہ تھے . لیکن کیونکہ وہ انتظامیہ کے سربراہ تھے . لوگوں کے جان و مال کے تحفظ کی ذمہ داری ان کا فرض تھا . جو وہ با طریق احسن انجام دینے میں نا کام رہے . اس لیے انھوں نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا !!!!! 
اب ذرا   صوبہ پنجاب کے وزیر آ علی کے  طرز عمل پر غور فرمائیے . ماڈل ٹاؤن لاہور میں 14،  افراد 
کو گولیاں مار کر قتل کیا جاتا ہے . 85،   افراد پولیس کی گولیوں سے زخمی کیے جاتے ہیں . 
وزیر ا  علی صاحب فرماتے ہیں کہ انھیں کوئی علم نہیں کہ  انکے گھر کے قریب پولیس کاروائی ہو رہی ہے .  پھر پینترا بدلتے ہیں کہ میں نے ٹی -وی پر دیکھا اور میں نے پولیس کو کاروائی روکنے کا حکم دیا .  پھر ایک پریس کانفرنس کرتے ہوۓ ایک عدالتی کیمشن قائم کرتے ہیں اور   وعدہ کرتے ہیں 
کہ اگر   رپورٹ میں  ان پر انگلی بھی اٹھائی گئی تو ایک منٹ   میں اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیں گے . لیکن جب رپورٹ آتی ہے تو اسے سالوں تک دباۓ رکھا جاتا ہے . جب عدالت کے حکم پر رپورٹ جاری ہوتی ہے . تو کہتے ہیں اس رپورٹ میں میرا تو نام ہی نہیں ؟   حضور صوبے کے انتظامی سربراہ  آپ تھے . عوام کے جان و مال کے تحفظ کی ذمہ داری آپ پر تھی . اور آپ اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں نا کام رہے ؟  آپ اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرنے میں تو نا کام رہے  .
کاش آپ اپنی اخلاقی ذمہ داری ہی پوری کرتے ؟؟؟؟؟؟   
لیکن اخلاق کا پاکستانی سیاست میں کیا کام !!!!   آل شریف اور اخلاق   شائد دو متضاد چیزیں ہیں !!

Monday, 26 March 2018

! عالمی طاقتیں ، اہل دین اور اقتدار

نواب شاہ میں باب السلام کانفرنس سے خطاب کرتے ہوۓ . (مولوی ) فضل الرحمٰن نے فرمایا کہ   پاکستان میں عالمی طاقتوں کا ایجنڈا (اہل دین )  کو اقتدار سے دور رکھنا ہے . یہ انکی تقریر کا سب سے اہم جملہ تھا . اور ہمارا اس  مضمون کا موضوع بھی ،   عالمی طاقتیں ،  اہل دین  اور اقتدار ہے . 
عالمی طاقتوں سے مراد عام طور پر امریکہ اور یورپ لیا جاتا ہے . یا اسے حرف عام میں مغرب کہا جاتا ہے .مولوی صاحب نے یہ وضاحت    نہیں کی کے عالمی طاقتیں انھیں اقتدار سے کیوں دور رکھنا چاہتی ہیں . آخر انھوں نے کونسا ایسا کام کیا ہے کہ امریکہ و یورپ انکے خلاف ہیں ؟   زمینی حقائق تو یہ ہیں کہ سوویت یونین کے خلاف افغانستان میں انکی جماعت اور جماعت اسلامی نے امریکہ کے ہراول دستے کا کردار ادا کیا ہے . خاص طور پر طالبان تو انکی جماعت کے  زیر نگرانی چلنے والے مدرسوں سے تیار ہوۓ تھے . طالبان کے امیر ملا عمر  بھی  کراچی میں قائم جمیعت کے مدرسے سے فارغ التحصیل تھے ....  آپ اور آپ جیسے دوسرے، پاکستان میں عالمی طاقتوں کا سرمایہ ہیں . آپ کو وہ اقتدار سے کیسے دور رکھ سکتے ہیں ؟؟
جہاں تک مولوی صاحب کی اس بات کا تعلق ہے کہ وہ (اہل دین ) ہیں . اس کو ہم پاکستانی تاریخ کا سب سے بڑا   مذاق قرار دے سکتے ہیں . ان سے گزارش ہے کہ وہ اہل مذہب ہیں . ان کا دین سے کوئی تعلق نہیں . دین میں فرقوں کی کوئی گنجائش نہیں . جبکہ مذہب کی بنیاد ہی فرقے ہیں . دین میں سب انسان برابر ہیں جبکہ مذہب کا دارومدار حسب نسب پر ہے !!!!! 
قرآن کریم میں الله رب العزت کا فرمان ہے . 
تم سب ملکر الله کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور دیکھنا فرقہ بندی نہ کرنا .  آل عمران - 103
تم لوگ ہر گز ان لوگوں میں سے نہ ہونا . جنھوں نےفرقہ  بندی کی اور باہم اختلاف میں پڑ گۓ . جبکہ روشن سچائی ان کے پاس آ چکی تھی . ایسے لوگوں کیلئے سخت سزا تیار ہے ...آل عمران -105
دین انسانیات کو جوڑتا ہے .. جبکہ مذہب تفرقہ پیدا کرتا ہے . 
شیعہ ، سنی   اور بر صغیر میں بریلوی ،   دیو بندی ،  اہل حدیث ،  یہ فرقے نہیں تو اور کیا ہیں ؟؟؟؟؟
جہاں تک اقتدار کا تعلق ہے . آپ اس سے دور رہ ہی نہیں سکتے . پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ حکومت پیپلز پارٹی کی ہو ،   (ن ) لیگ کی   یا   (ق ) لیگ کی ،  آپ اقتدار میں اپنا حصہ لینا جانتے ہیں . جس طرح مچھلی پانی سے  باہر   نہیں رہ سکتی . اسی طرح آپ اقتدار سے باہر نہیں رہ سکتے !!!!!!

Friday, 23 March 2018

میاں گوبلز شریف

جوزف گوبلز کو بیسویں صدی کا سب سے بڑا پراپگنڈہ  ماسٹر مانا جاتا ہے . گوبلز نازی جرمنی کا وزیر پراپگنڈہ اور جرمن چانسلر ہٹلر کا قریبی ساتھی تھا . اس سے منسوب کیا جاتا ہے کہ ایک مرتبہ اس نے کہا تھا . ( اگر ایک مرتبہ جھوٹ بولا جاۓ تو وہ جھوٹ ہی رہتا ہے لیکن اگر ایک جھوٹ ہزار مرتبہ بولا جاۓ تو وہ سچ بن جاتا ہے )....
سپریم کورٹ سے نا اہلی کے بعد لگتا ہے کہ بڑے میاں  صاحب میں جوزف گوبلزکی روح حلول کر گئی ہے . میاں صاحب اتنی صفائی اور تواتر سے جھوٹ بول رہے ہیں کہ اکثر لوگوں کو سچ کا گمان ہونے لگا ہے . صرف میاں صاحب ہی نہیں بلکہ ان کی ہونہار بیٹی ،   انکے مشیر ،   حکومتی وزیر ،   صحافیوں اور دانشوروں کی ایک ٹیم بھی تواتر سے جھوٹ کی گردان کرتے نظر آتے ہیں ....
مثال کے طور پر میاں صاحب اینڈ کمپنی ،   یہ کہتے ہیں کہ کیس پانامہ سے شروع ہوا   اور انھیں اقامہ پر نکال دیا گیا ... حقیقت یہ ہے کہ میاں صاحب کو اقامہ پر نہیں نکالا گیا .  دستاویزی ثبوت کے مطابق انھوں نے مارکیٹنگ منیجر کی حیثیت سے 6،   مرتبہ تنخواہ وصول کی . جبکہ انھوں نے اس آمدنی کو اپنے گوشواروں میں ظاہر نہیں کیا .... اثاثے چھپانے کے جرم میں انھیں نا اہل قرار دیا گیا ....اور جہاں تک لندن فلیٹس کا تعلق ہے وہ کیس احتساب عدالت میں چل رہا ہے .  
میاں صاحب کا بیانیہ یہ ہے کہ انھیں بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر نا اہل قرار دے دیا گیا ...جبکہ سچ یہ ہے کہ میاں صاحب وزیر اعظم پاکستان ہوتے ہوۓ ،   اپنے بیٹے کی فرم میں مارکیٹنگ منیجر کی نوکری بھی کر رہے تھے اور تنخواہ بھی وصول کرتےرہے ....اس  کے ثبوت  بھی موجود ہیں کہ اسی کمپنی سے ان کے بیٹے نے نواز شریف کو ایک ارب بیس کروڑ روپے ٹرانسفر کیے ..... کیا وزیر اعظم پاکستان کو یہ زیب دیتا ہے کہ وہ دبئی میں ملازمت کرۓ ؟    کیا یہ ووٹ کی حرمت  اور تقدس ہے کہ بیس کروڑ لوگوں کے ملک کا وزیر اعظم دبئی میں ملازمت کرتا ہو ؟؟؟؟؟
میاں صاحب کی بیٹی بھی جھوٹ بولنے میں کسی سے کم نہیں . محترمہ پہلے کہتی تھیں . میری تو پاکستان میں بھی کوئی پراپرٹی نہیں ، میں اپنے والد کے ساتھ رہتی ہوں . پتا نہیں لوگ کہاں سے لندن میں ہماری پراپرٹی نکال کر لے آۓ ہیں ... اب کہتی ہیں اثاثے بنانا کوئی جرم تو نہیں !!
حکومت نے جب تیل کی قیمت میں اضافہ کیا تو میاں  صاحب نے فرمایا کہ   اس کی وجہ عدالت کا فیصلہ ہے .جبکہ ان کا نامزد کردہ وزیر اعظم پاکستان کہتا ہے کہ بین الاقوامی منڈی میں تیل کی قیمت بڑھنے کی وجہ سے ملک میں  تیل کی قیمت بڑھانی پڑی ...    آج میاں صاحب نے فرمایا کہ روپے کی قدر میں کمی کی وجہ بھی عدالتی فیصلہ ہے . اگر انھیں نہ نکالا جاتا تو روپے کی قدر میں کمی نہ ہوتی ... جبکہ مشیر خزانہ فرماتے ہیں کہ ملکی برآمدات بڑھانے کیلئے روپے کی قدر میں کمی کی گئی .....
کون سچ بول رہا ہےاور کون جھوٹ ، اس کا فیصلہ ہم پاکستان کے عوام پر چھوڑتے ہیں ... ووٹ کی حرمت اور تقدس کیلئے   آخر عوام نے بھی کچھ کرنا ہے یا نہیں ؟؟؟؟؟؟

Wednesday, 21 March 2018

!!حکمرانی یہاں ، علاج وہاں

مسلم لیگ (سابقہ ن اور حال ش ) کے صدر اور پنجاب کے خادم اعلی جناب شہباز شریف علاج  کیغرض سے لندن روانہ  چکے ہیں . اگر پنجاب کے عوام کی یاداشت کمزور نہیں تو انھیں یاد ہو گا کہ پچھلی مرتبہ جب شہباز شریف لندن گے تھے تو ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوۓ جناب نے فرمایا تھا کہ پنجاب میں اسٹیٹ آف دی آرٹ ہسپتال قائم کر دئیے گے ہیں . جہاں علاج کی بہترین سہولیات موجود ہیں . لیکن جناب خود علاج کیلئے لندن جاتے ہیں ؟؟؟
اس سے ایک بات تو  واضح ہوتی ہیں کہ جناب کو پنجاب میں ڈاکٹروں پر اعتماد نہیں اور دوسرا پنجاب میں ہسپتالوں کی حالت بھی کچھ ایسی شاندار نہیں . اگر ایسا نہ ہوتا تو جناب خود علاج کیلئے لندن نہ جاتے ؟؟؟؟؟
یا ہو سکتا ہے کہ پنجاب میں جناب نے عوام کیلئے ہسپتال بناۓ ہیں . خواص کیلئے ابھی کوئی ان کے شایان شان ہسپتال نہیں بنایا جا سکا . اس لیے وہ دکھی دل کے ساتھ ملک سے باہر علاج کیلئے جاتے ہیں ...
یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہاں جناب صرف حکمرانی کرنے آتے ہیں  . علاج وہ اس خطے کے سابقہ حکمرانوں کے دیس سے کراتے ہیں . آخر عوام اور (حکمران ) خاندان میں کچھ تو فرق ہونا چاہیے !!!!!

Monday, 19 March 2018

!!!!امید اور تاریخ انسانی

 نا مساعد حالات میں پر امید ہونا ،  بے وقوفانہ نرگسیت نہیں .  اس پر امیدی کی بنیاد وہ حقائق ہیں جو تاریخ کے صفحات میں جگمگا رہے ہیں . کہ انسانی تاریخ صرف ظلم و بربریت ،   نا انصافی اور قتل و غارت گری کی داستان نہیں بلکہ قربانی ،  حوصلے ،  ہمدردی ، رحم دلی ، بھائی چارے اور رواداری کی بھی داستان ہے !!!!
غورفرمائیے    اور کچھ کر گزرنے کا حوصلہ کیجئے . 

Monday, 5 March 2018

ہنگامہ ہے کیوں برپا ؟

سابق وزیر اعظم فرماتے ہیں کہ عوام کو فخر ہونا چاہیے کہ ان پر (نواز شریف ) کرپشن کا کوئی الزام نہیں  اور ساتھ ہی پھلجھڑی چھوڑتے ہیں کہ انھوں نے موٹر وے بنائی اگر تھوڑی سی کرپشن کر بھی لی تو کیا ہوا ! اس سے پہلے بھی جناب ایک محفل میں فرما چکے ہیں کہ اگر میرے اثاثے ،   آمدن سے زائد ہیں تو بھائی تمہیں کیا ؟
اگر کسی مہذب جمہوری ملک میں کوئی سیاسی لیڈر ایسے بیانات دیتا تو اس کا سیاسی کردار ختم ہو جاتا ،  اسکی اپنی سیاسی جماعت اسے قیادت سے ہٹا دیتی .  ہم عجیب معاشرہ ہیں ،   جہاں سیاسی لیڈر برملا کہتے ہیں کہ انھوں نے یہ کام کیے . وہ کام کیے . اگر ان میں تھوڑی کرپشن بھی کر لی تو کیا ہوا .  انکے اثاثہ جات کے بارے میں سوال کیا جاۓ . تو کوئی تسلی بخش جواب دینے کے بجاۓ ،  کہتے ہیں کہ ہم صرف عوام کو جواب دہ ہیں . کوئی عدالت ہم سے کیسے پوچھ سکتی ہے . اور پارلیمنٹ وہ کس کھیت کی مولی ہے ؟؟؟؟      
یہ کیسی ووٹ کی حرمت و تقدس ہے کہ   ہمارے خون پسینے کی کمائی سے کام ہوتے ہیں اور پھر احسان بھی ہمیں پر دھرا جاتا ہے . یوسف رضا گیلانی کو کہا جاتا تھا .  سپریم کورٹ حکم دے اور تم اس کا حکم نہ مانو . ہم ایسا نہیں ہونے دینگے .  یہ انسانوں کی بستی ہے ہم اسے حیوانوں کی بستی نہیں بننے دینگے .... آج نہ صرف خود سپریم کورٹ کا حکم ماننے سے انکاری ہیں بلکہ عوام کو بھی سپریم کورٹ کے خلاف اور خاص طور پر ان پانچ محترم جسٹس صاحبان پر حملوں پر اکسا رہے ہیں جنھوں نے ان کو نااہل قرار دیا ہے ....
ہمارا جناب سابق وزیر اعظم سے سوال ہے کہ اگر عوام نے ہی جواب لینا ہے . تو پھر پارلیمنٹ کی بھی کوئی ضرورت نہیں . اور نہ عدالتوں کی کوئی ضرورت ہے . جو بھی مقدمہ ہو ، بڑا یا    چھوٹا ؟   جس کے پاس عددی اکثریت ہو گی . فیصلہ اسکے حق میں ہو جاۓ گا .  اس طرح جنگل کا قانون ہو گا ..
نواز شریف صاحب ووٹ کی عزت ،  حرمت اور تقدس کی جو بات کرتے ہیں . ان کا ماضی گواہ ہے کہ انھوں نے خود  کبھی بھی ووٹ کی عزت و حرمت کا خیال نہیں کیا .  جونیجو مرحوم ،   محترمہ بے نظیر مرحومہ  اور یوسف رضا گیلانی   جب وزرا اعظم پاکستان تھے . ان کو ملنے والے ووٹوں کی کیا کوئی عزت نہیں تھی ؟  آپ ان سب کے خلاف 
ہر سازش کی قیادت کرتے رہے ہیں . انھیں تو آپ آئین ،   قانون  اور عدالتی فیصلوں کے احترام کا بھاشن دیتے رہے . کیا صرف اسی ووٹ کی حرمت ہے جو آپ کے حق میں پڑے ؟؟؟؟؟؟ 
اکبر الہ آ بادی  کے ایک شعر کو معذرت کے ساتھ تھوڑا سا تبدیل کرتے ہوۓ . ہم یہ کہہ  سکتے ہیں کہ 
 ہنگامہ ہے کیوں برپا تھوڑی سی کرپشن ہی تو کی ہے
ڈاکا ہی تو ڈالا ہے چوری تو نہیں کی ہے !!!!!!!